نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں: مالی اور انتظامی تنازعات کیسے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو لے ڈوبے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں: مالی اور انتظامی تنازعات کیسے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو لے ڈوبے۔

تنویر احمد

postImg

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں: مالی اور انتظامی تنازعات کیسے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو لے ڈوبے۔

تنویر احمد

غزالہ پروین کو روزانہ 22 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے۔

وہ لاہور کے ہوائی اڈے کے قریب واقع بھٹہ چوک کے پاس رہتی ہیں اور پڑھائی کرنے کے لئے ہر روز کلمہ چوک نامی علاقے میں جاتی ہیں۔ اپنے گھر سے رکشا میں بیٹھ کر وہ میٹرو بس کے سٹاپ پر آتی ہیں، وہاں سے بس کے ذریعے کلمہ چوک پہنچتی ہیں جہاں سے ایک مرتبہ پھر رکشا پر سوار ہو کر وہ اپنی درس گاہ تک جاتی ہیں۔ گھر واپسی کے لیے وہ یہی عمل الٹی سمت میں دہراتی ہیں۔

چند ماہ پہلے جب وہ پنجاب یونیورسٹی سے شماریات کے مضمون میں بی ایس آنرز کر رہی تھیں تو میٹرو بس کے سٹاپ پر آنے جانے کے لیے رکشا کے بجائے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیرِانتظام چلائی جانے والی ائرکنڈیشنڈ بس میں سفر کرتی تھیں۔ لیکن دسمبر 2019 سے لاہور کے 19 روٹوں پر چلنے والی ایسی 400 بسیں بند ہو چکی ہیں۔

ان کی بندش سے مسافروں کو کئی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

مثال کے طور پر اس کمپنی کی بی-36 بس شمالی لاہور کے محلے سلامت پورہ سے لے کر لگ بھگ 24 کلومیٹر جنوب میں واقع چونگی امر سدھو  نامی جگہ تک چلتی تھی۔ لیکن اب کوئی ایسی بس موجود نہیں جو اِن دو مقامات کو براہِ راست جوڑتی ہو۔ اگر کسی کو سلامت پورہ سے چونگی امر سدھو جانا ہو تو اسے ایک سے زیادہ آٹو رکشوں یا موٹر سائیکل رکشوں پر سفر  کرنا ہو گا۔

اسی طرح مرکزی ریلوے سٹیشن سے جنوبی لاہور میں واقع مسیحی بستی یوحنا آباد جانے والے لوگوں کو پہلے بی-12 بس مِل جاتی تھی لیکن اب انہیں صرف آٹو رکشا دستیاب ہیں جن کے ڈرائیوروں نے اس 20 کلومیٹر لمبے روٹ کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ رکھا ہے جس کے نتیجے میں مسافروں کو ایک سے زیادہ بار رکشا بدلنے پڑتے ہیں۔ 

غزالہ پروین جیسے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کو شکایت ہے کہ اس خواری کے ساتھ ساتھ ان کا کرائے پر خرچہ بھی تین گنا بڑھ گیا ہے۔ بعض صورتوں میں تو اِس میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

مثال کے طور پر مینارِ پاکستان کے پاس واقع لاری اڈے سے ملتان روڈ پر واقع مراکہ نامی جگہ تک جانے کے لئے پہلے بی-2 بس چلتی تھی جس میں اس 35 کلومیٹر لمبے سفر کا فی مسافر کرایہ صرف 40 روپے تھا لیکن اب یہی فاصلہ طے کرنے کے لیے آٹو رکشا والے کم از کم پانچ سو روپے طلب کرتے ہیں۔ اس روٹ کے لیے آن لائن ٹیکسی سروس، کریم یا اوبر کا کرایہ بھی کئی سو روپے ہے۔ 

جن مسافروں کے پاس رکشا یا ٹیکسی کے پیسے نہیں ہوتے وہ لاری اڈے سے مراکہ جانے کے لیے ملتان، ساہی وال ،اوکاڑہ اور پتوکی جانے والی نِجی بسوں پر سفر کرتے ہیں جو نہ تو کسی ٹائم ٹیبل کی پابند ہیں اور نہ ہی ان میں ائر کنڈیشنر کی سہولت ہوتی ہے۔ 

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے مینجر پلاننگ عثمان ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کمپنی کی بسوں کی بندش سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہ ہے اس لئے اس نے متبادل سفری سہولیات مہیا کرنے کے لیے 500 نِجی ویگنوں اور چھوٹی بسوں کو شہر کی مختلف سڑکوں پر چلانے کے اجازت نامے جاری کئے ہیں۔ 

کمپنی راج

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کا قیام 2009 میں عمل میں آیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب حکومت کی ملکیت اس کمپنی کا مقصد شہر کے لوگوں کو اعلیٰ معیار کی محفوظ، موثر، ماحول دوست اور سستی سفری سہولیات مہیا کرنا تھا۔ 

اگلے دو سال میں لاہور ٹرانسپورٹ  کمپنی نے سی این جی پر چلنے والی 482 بسیں چین سے برآمد کیں۔ 2011 اور 2013 کے درمیان مختلف نِجی کمپنیوں کو ان میں سے 400 بسیں چلانے کے ٹھیکے دیے گئے۔ ان میں سے ترکی کی البیراک نامی کمپنی نے 172 بسیں چلانا تھیں جبکہ 228 بسیں چلانے کے ٹھیکے دیگر مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کو دیے گئے۔

یہ بسیں مجموعی طور پر ایک سال میں پانچ کروڑ 60 لاکھ مسافروں کو لاہور کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی تھیں۔ ان کے کرائے کو مسافروں کی پہنچ میں رکھنے کے لئے پنجاب حکومت ہر سال لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو خصوصی مالی امداد مہیا کرتی تھی جس کے نتیجے میں ہزاروں طلبا کو رعایتی سفر کی سہولت دی گئی تھی جبکہ چھ ہزار پانچ سو معذور افراد اور 47 ہزار بوڑھے لوگوں کو مفت سفر کرنے کے لئے خصوصی کارڈ جاری کیے گئے تھے۔

ابتدائی طور پر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ٹھیکیدار کمپنیوں کو پانچ سال تک بسیں چلانے کی اجازت دی۔ اس مدت کے مکمل ہونے کے بعد نئے پانچ سالہ ٹھیکے کے لیے بولی ہونا تھی لیکن نئی بولی کرانے کے بجائے حکومت نے انہی ٹھیکے داروں کو مزید تین سال بسیں چلانے کی اجازت دے دی۔ 

تاہم اس اضافی مدت کے خاتمے سے پہلے پنجاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت آ گئی جس نے نہ تو اس میں مزید اضافہ کیا اور نہ ہی نئے سرے سے ٹھیکے دینے کا راستہ اپنایا۔ جس کے باعث بسیں چلانے والی کمپنیوں نے پہلے اپنا کام معطل کیا اور دسمبر 2019 میں بالکل بند کر دیا۔ 

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر شاہد صدیق کہتے ہیں کہ ٹھیکوں کی مدت میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ، ان کے مطابق، ٹھیکیدار کمپنیوں نے ٹھیکے کی شرائط پوری نہیں کی تھیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ البیراک نے لاہور میں بسوں کی مرمت کے لیے دو جدید ورکشاپیں بنانا تھیں جو اس نے نہیں بنائیں۔

فروری 2020 میں نیوز میڈیا میں یہ خبریں بھی آئیں کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں لاہور کے علاقے مصری شاہ میں کباڑ کے بھاؤ فروخت ہو رہی تھیں۔ ان خبروں میں الزام لگایا گیا کہ ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ایک بس سات لاکھ سے آٹھ لاکھ روپے میں بیچی جا رہی تھی۔ 

اس الزام کی بنا پر پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ بسوں کی فروخت پر قومی احتساب بیورو تحقیق کرے اور اس کے ذمہ دار افراد کو سزا دے۔ 

لیکن اسی جماعت کے رہنما اور لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے سابقہ چیئرمین خواجہ احمد حسان کا کہنا ہے کہ مصری شاہ میں فروخت ہونے والی بسیں البیراک نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی سے خرید لی تھیں۔ ان کے مطابق اس کمپنی کو نیا ٹھیکہ نہ ملنے کے باعث یہ بسیں کھڑی کھڑی ناکارہ ہو رہی تھیں چنانچہ اس نے انہیں کباڑ کے طور پر فروخت کر دیا۔

سیاسی اختلافات اور مالی تنازعات

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے پہلے چیئرمین خواجہ احمد حسان اور پہلے وائس چیئرمین مہر اشتیاق احمد کا تعلق اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے ہے۔ اس کے پہلے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکینِ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی شامل تھے۔ 

لیکن 2018 کے انتخابات کے بعد پنجاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت بنی تو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنی جماعت کے بانی رکن ڈاکٹر شاہد صدیق خان کو کمپنی کا چیئرمین مقرر کر دیا جس کے بعد اس کی انتظامیہ میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔ 

ڈاکٹر شاہد صدیق کے مطابق ان اختلافات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ "لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی میں سارے لوگ پاکستان مسلم لیگ نواز کے بھرتی کیے ہوئے تھے جنہوں نے مجھے ایک قدم نہیں چلنے دیا"۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ "میرے دفتر میں خفیہ آلات لگے ہوئے تھے جن کی مدد سے میری ہر بات ریکارڈ کی جاتی تھی"۔

اسی دوران لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مریم خاور نے صوبائی محتسب کے پاس یہ شکایت بھی درج کرائی کہ ڈاکٹر شاہد صدیق کے ساتھ وائس چیئرمین کے طور پر کام کرنے والے خالد محمود نے انہیں ہراساں کیا ہے۔ (تاہم مریم خاور اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتیں جبکہ خالد محمود کا انتقال ہو چکا ہے-)

شاہد صدیق کا یہ بھی کہنا ہے کہ "مجھے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ بلانے سے روکنے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں دی گئیں"۔ نومبر 2020 میں ان کے مریم خاور کے ساتھ اختلافات اس قدر شدید ہو گئے کہ کمپنی کے اجلاسوں میں جھگڑوں کی خبریں سامنے آنے لگیں جن کی وجہ سے دسمبر 2020 میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں  کمپنی کے ڈائریکٹرز کا بورڈ تحلیل کر دیا گیا۔

ان تنازعات کے بارے میں خواجہ احمد حسان کا کہنا ہے کہ ان کی بنیاد سیاسی نہیں ہے۔ ان کے مطابق مریم خاور پاکستان مسلم لیگ نواز کے زمانے میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی چیف فنانشل آفیسر لگائی گئی تھیں اگرچہ بعد میں انہیں عارضی طور پر چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی بنایا گیا تھا لیکن ان کی "بطور چیف ایگزیکٹو مستقل تعیناتی تو پاکستان تحریکِ انصاف کے اپنے دورِ حکومت میں ہوئی"۔ 

اسی دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2012 اور 2019 کے درمیان لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کےسالانہ اخراجات میں سات کروڑ 82 لاکھ 65 ہزار نو سو 75 روپے کا اضافہ ہو چکا تھا۔ سب سے نمایاں تبدیلی ملازمین کی تنخواہوں میں دیکھنے میں آئی تھی جو سات سالوں میں 97 فیصد بڑھ گئیں۔

اسی عرصے میں کمپنی کے اثاثوں کی مالیت دو ارب 13 کروڑ 38 لاکھ 13 ہزار 9 سو 74 روپے سے کم ہو کر ایک ارب 38 کروڑ 34 لاکھ 26 ہزار 73 روپے رہ گئی جبکہ اسے پنجاب حکومت کی جانب سے دی جانے والی سالانہ امداد ایک کروڑ 42 لاکھ 74 ہزار دو سو 43 روپے سے بڑھ کر 21 کروڑ 69 لاکھ 83 ہزار ایک سو 91 روپے ہو گئی۔

ڈاکٹر شاہد صدیق کا کہنا ہے کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ کمپنی کے مالی معاملات کا شفاف نہ ہونا تھا۔ ان کے مطابق ان سے پہلے والے چیئرمین ترکی اور چین کے دورے کرتے رہے جن کے اخرجات کمپنی نے ادا کیے۔ اس کے علاوہ "چیئرمین اور دیگر افسران کی گاڑیوں کے پٹرول اور ان کی مرمت کے اخراجات بھی  کمپنی ادا کرتی تھی"۔

ان کا یہ بھی الزام ہے کہ کمپنی نے "ڈیڑھ سو سے زیادہ ٹریفک وارڈن رکھے ہوئے تھے لیکن ان میں سے ڈیوٹی پر صرف تیس کے قریب ہی آتے تھے"۔ اسی طرح، ان کے مطابق،  کئی لوگ "اپنی اہلیت کے مطابق ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے متعلقہ شعبے سے ہٹ کر کام کر رہے تھے"۔

خواجہ احمد حسان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی بد انتظامی چھپانے کے لیے سیاسی بھرتیوں کی بات کر رہی ہے ورنہ "ہم نے جو شخص جس عہدے پر متعین کیا وہ اس کی اہلیت کے معیار اور ضرورت پر پورا اترتا تھا"۔ 

تاہم پنجاب حکومت نے ان انتظامی تنازعات اور مالی مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے 8 جولائی 2021 کو لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی میں تبدیل کر دیا جس کا مقصد صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کی نگرانی کرنا ہے۔

اس نئی کمپنی نے پچھلے ماہ پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کیلئے ساڑھے تین ارب روپے دیے جائیں۔ عثمان ملک کے مطابق اس پیسے سے لاہور میں نئی سرکاری بسیں چلائی جائیں گی جن میں بجلی سے چلنے والی بسیں بھی شامِل ہوں گی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 13 اگست 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 18 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔