کنگ ایڈورڈ میں انتظامی ہراس کے بڑھتے الزامات
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کنگ ایڈورڈ میں انتظامی ہراس کے بڑھتے الزامات

عروج اورنگزیب

postImg

کنگ ایڈورڈ میں انتظامی ہراس کے بڑھتے الزامات

عروج اورنگزیب

ڈاکٹر بشریٰ بشیر کو خدشہ ہے کہ وہ کبھی اپنی پی ایچ ڈی مکمل نہیں کر پائیں گی۔

وہ لاہور کے میو ہسپتال میں سینئر رجسٹرار کے طور پر کام کر رہی ہیں اور 2013 سے کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ ڈرماٹالوجی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جولائی 2019 میں جب یونیورسٹی انتظامیہ نے شعبہ بائیو کیمسٹری کے سربراہ ڈاکٹر نخشب چوہدری کو اس لیبارٹری کا انتظام سنبھالنے پر مامور کیا جہاں وہ تحقیق کر رہی تھیں تو اس وقت تک وہ تمام درسی امتحانات پاس کرچکی تھیں۔

ڈاکٹر نخشب نے آتے ہی ڈاکٹر بشریٰ کو لیبارٹری میں کام کرنے سے روک دیا اور انہیں کچھ دستاویزات پیش کرنے کا کہا۔ وہ کہتی ہیں: "کبھی مجھ سے تحقیقی جائزے کے لئے درکار مشینری کی خریداری کے لئے جاری کیے گئے حکم نامے منگوائے گئے اور کبھی میری تحقیق کا 2016 میں منظور شدہ خاکہ طلب کیا گیا"۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ یہ سارے کاغذات پیش کرنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ لیبارٹری استعمال کرنے کے لئے انہیں نئے سرے سے درخواست دینا ہو گی کیونکہ اس سے متعلقہ قواعد و ضوابط تبدیل کردیے گئے ہیں۔ اس طرح کی دستاویزی ضروریات پوری کرنے میں ڈاکٹر بشریٰ کو تین ماہ لگ گئے لیکن پھر بھی انہیں لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت نہ ملی۔

ستمبر 2019 میں وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل  کے پاس شکایت لے کر گئیں کہ ان کے کام میں بلاوجہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے ان کے تحقیقی نمونے خراب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق وائس چانسلر نے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ 

جب فروری 2020 تک صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو ڈاکٹر بشریٰ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک تحریری شکایت پیش کی جس میں انہوں نے ڈاکٹر نخشب کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی کیونکہ، ڈاکٹر بشریٰ کے بقول، وہ اپنے عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کر کے ان کی تحقیق کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

میڈیکل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ میں بد انتظامی: 'پی ایم سی نے ہزاروں طلبا کا مستقبل داؤ پر لگا دیا'۔

ان کی شکایت پر یونیورسٹی نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی لیکن ڈاکٹر بشریٰ کا کہناٰ ہے کہ اس کمیٹی نے نہ تو ان کا موقف سنا اور نہ ہی کسی قسم کی تحقیق کی بلکہ اس کے بجائے فیصلہ دیا کہ ان کے تحقیقی کام کی تکمیل کے لیے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

اسی سے متعلق 

اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں ہفتے میں تین دن لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت تو مل گئی لیکن اس کے لئے جو اوقات مختص کیے گئے وہ ان کے لئے قابلِ عمل نہیں تھے۔ انہوں نے ان اوقات میں تبدیلی کے لئے متعدد درخواستیں دی لیکن ان کی بات نہ سنی گئی۔ مارچ 2020 میں انہوں نے بالآخر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت لے لی لیکن کورونا وبا کے باعث یہ لیبارٹری بھی بند کر دی گئی جس کی وجہ سے وہ اپنا تحقیقی کام ابھی تک مکمل نہیں کر پائیں۔ 

اس دوران، ڈاکٹر بشریٰ کے بقول، نہ صرف کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی لیبارٹری میں موجود ان کا تحقیقی ڈیٹا اور اس کے نتائج انہیں دینے سے انکار کر دیا گیا بلکہ ڈاکٹر نخشب انہیں "مسلسل دھمکاتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ میرا تحقیقی کام بالآخر انہیں کے پاس جمع ہونا ہے کیونکہ وہ ڈاکٹریٹ پروگرام کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ اس لئے اگر میں نے اپنی تحقیق کہیں مکمل کر بھی لی تو اس کا آڈٹ کرنے میں وہ مجھے پکڑ لیں گے"۔ 

انتظامی ہراس

جولائی 2020 میں ڈاکٹر بشریٰ نے ڈاکٹر نخشب کے خلاف کام کی جگہ پر ہونے والے ہراس کے قانون کے تحت بنائی گئی پنجاب کی خاتون محتسب کی عدالت میں انتظامی ہراس اور بد سلوکی کی شکایت درج کرائی۔
پہلی دو پیشیوں میں ڈاکٹر نخشب غیر حاضر رہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں ہفتے میں تین دن لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت تو مل گئی لیکن اس کے لئے جو اوقات مختص کیے گئے وہ ان کے لئے قابلِ عمل نہیں تھے۔ انہوں نے ان اوقات میں تبدیلی کے لئے متعدد درخواستیں دی لیکن ان کی بات نہ سنی گئی۔ مارچ 2020 میں انہوں نے بالآخر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت لے لی لیکن کورونا وبا کے باعث یہ لیبارٹری بھی بند کر دی گئی جس کی وجہ سے وہ اپنا تحقیقی کام ابھی تک مکمل نہیں کر پائیں۔ 

اس دوران، ڈاکٹر بشریٰ کے بقول، نہ صرف کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی لیبارٹری میں موجود ان کا تحقیقی ڈیٹا اور اس کے نتائج انہیں دینے سے انکار کر دیا گیا بلکہ ڈاکٹر نخشب انہیں "مسلسل دھمکاتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ میرا تحقیقی کام بالآخر انہیں کے پاس جمع ہونا ہے کیونکہ وہ ڈاکٹریٹ پروگرام کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ اس لئے اگر میں نے اپنی تحقیق کہیں مکمل کر بھی لی تو اس کا آڈٹ کرنے میں وہ مجھے پکڑ لیں گے"۔ 

انتظامی ہراس

جولائی 2020 میں ڈاکٹر بشریٰ نے ڈاکٹر نخشب کے خلاف کام کی جگہ پر ہونے والے ہراس کے قانون کے تحت بنائی گئی پنجاب کی خاتون محتسب کی عدالت میں انتظامی ہراس اور بد سلوکی کی شکایت درج کرائی۔

پہلی دو پیشیوں میں ڈاکٹر نخشب غیر حاضر رہے۔

ہراس کے قانون کی شق 8(2) کے تحت شکایت رجسٹرڈ ہونے کے بعد پانچ دنوں کے اندر ملزم نے اپنا تحریری جواب جمع کرانا ہوتا ہے۔ اگر کسی مناسب وجہ کی عدم موجودگی میں وہ جواب جمع نہ کرائے تو محتسب اس کے خلاف یک طرفہ کاروائی کر سکتی ہیں لیکن ڈاکٹر نخشب نے مقررہ مدت کے اندر جواب جمع کرانے کے بجائے عدالت کو لکھ بھیجا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر بشریٰ کی شکایت یونیورسٹی کی ہراس کمیٹی میں بھی سنی جا رہی ہے لہٰذا اس پر محتسب کا دائرہ کار لاگو نہیں ہوتا۔

دوسری طرف ڈاکٹر بشریٰ کا موقف تھا کہ نہ تو انہوں نے کبھی یونیورسٹی کی ہراس کمیٹی کے سامنے کوئی شکایت پیش کی اور نہ ہی انہیں کبھی بتایا گیا کہ ان کی کسی شکایت پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں محتسب کے پاس اس لئے گئی تھی کہ میری شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے یونیورسٹی اپنی ہی تحقیقی کمیٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کرا سکی تھی‘‘۔ 

محتسب نے 8 ستمبر 2020 کو بالآخر فیصلہ دیا کہ "یونیورسٹی کی کمیٹی ہراس کی شکایت کا جائزہ نہیں لے رہی اس لئے ڈاکٹر نخشب کا اعتراض رد کیا جاتا ہے"۔ 

اس فیصلے کے باوجود ڈاکٹر نخشب محتسب کے سامنے پیش نہیں ہوئے بلکہ 18 نومبر کو انہوں نے دوبارہ محتسب کو بتایا کہ یونیورسٹی کی ہراس کمیٹی کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ 27 نومبر کو یونیورسٹی کی جانب سے کمیٹی کی کارروائی کی تفصیلات بھی محتسب کو جمع کرائی گئیں جن میں درج تھا کہ ڈاکٹر بشریٰ کی شکایت قانون میں دی گئی ہراس کی تعریف پر پورا نہیں اترتی کیونکہ قانون میں جنسی ہراس کا ذکر ہے نہ کہ انتظامی ہراس کا۔ 

ان تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے یہ فیصلہ 10 اکتوبر 2020 کو دیا حالانکہ اس کے کئی دِن بعد 13 نومبر کو یونیورسٹی کے سینئر لا افسر نے محتسب کو بتایا کہ کمیٹی نے ڈاکٹر نخشب کے خلاف انتظامی ہراس کی شکایت پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ 

اسی طرح ان تفصیلات میں جن چار افراد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ کمیٹی کی کارروائی میں موجود تھے ان میں سے کم از کم ایک کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کا نام ڈاکٹر عائشہ شوکت ہے اور وہ یونیورسٹی میں سرجری کے شعبے کی پروفیسر ہیں۔ سجاگ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو کسی ڈاکٹر بشریٰ کو جانتی ہیں اور نہ ہی وہ جنسی ہراس پر بنی کسی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ 

میڈیسن کے شعبے کے پروفیسر ڈاکٹر عادل اقبال کمیٹی کی کارروائی میں اپنی موجودگی تسلیم تو کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نخشب کے خلاف شکایت پر تحقیق کا آغاز اکتوبر میں نہیں بلکہ دسمبر میں ہوا۔ 

اس کے باوجود محتسب کا فیصلہ ڈاکٹر نخشب کے حق میں آیا۔ 

ڈاکٹر بشریٰ کہتی ہیں کہ وہ یکم فروری 2021 کو ہونے والی سماعت کا انتظار کر رہی تھیں جب محتسب کی عدالت کے قانونی مشیر محمد اسلم نے 11 جنوری کو انہیں عدالتی فیصلہ واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ: ’کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی ہراس پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی اس کیس میں فیصلہ سنا چکی ہے اس لیے (محتسب کی عدالت) میں اس شکایت پر دوبارہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں البتہ اگر درخواست گزار چاہیں تو وہ یونیورسٹی کی کمیٹی کی کارروائی کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں"۔ 

ڈاکٹر بشریٰ کا کہنا ہے کہ چونکہ انہوں نے یونیورسٹی کی کمیٹی کو ہراس کے بارے میں شکایت ہی نہیں کی اور نہ ہی انہیں کبھی اس کی کسی کارروائی میں باقاعدہ طور پر بلایا گیا تو وہ اس کے فیصلے کو کیوں تسلیم کریں۔ ان کا موقف ہے کہ محتسب کی عدالت کو خود ان کی شکایت پر تحقیقات کرنا چاہیے تھی۔

لہٰذا انہوں نے محتسب کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے گورنر پنجاب کو اپیل کی لیکن گورنر نے یہ اپیل اس تکنیکی بنیاد پر رد کر دی کہ محتسب نے ان کی شکایت پر ملزم کے خلاف یا اس کے حق میں کسی ایسی کارروائی کا حکم نہیں دیا تھا جس پر نظرِ ثانی کی جا سکے۔ 

متنازعہ شخصیت؟

ڈاکٹر نخشب کے خلاف اکتوبر 2020 میں محتسب کی عدالت میں ایک اور شکایت بھی درج کرائی گئی جس میں ان پر انتظامی ہراس، اختیار اور عہدے کے غلط استعمال اور کام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ 

یہ شکایت ڈاکٹر فائزہ رشید نے درج کرائی جو 2016 سے کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ بائیوکیمسٹری میں ایم فل کی طالبہ ہیں۔ ڈاکٹر نخشب ان کے تحقیقی کام کے نگران تھے۔

جنوبی پنجاب کے ضلعے لودھراں کی رہائشی ڈاکٹر فائزہ کا کہنا ہے کہ 2017 میں ان کے دو آپریشن ہوئے جس کی وجہ سے وہ اپنی پڑھائی باقاعدگی سے نہ کر پائیں لیکن ان کی بیماری سے آگاہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر نخشب نے اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہ کی بلکہ ڈاکٹر نخشب نے انہیں اس ڈیٹا کے نتائج دینے بھی سے انکار کر دیا جو انہوں نے اپنی تحقیق کے دوران اکٹھا کیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر ڈاکٹر فائزہ کا تحقیقی مقالہ بھی یونیورسٹی کے شعبہِ امتحانات کو نہ بھیجا۔ 

وہ کہتی ہیں کہ اس دوران انہیں ڈاکٹر نخشب کی جانب سے مسلسل بد سلوکی، دھمکیوں اور تذلیل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ ڈاکٹر بشریٰ کی طرح انہوں نے بھی یونیورسٹی کی ہراس پر بنی کمیٹی کے پاس اس بارے میں شکایت درج نہیں کرائی تھی لیکن نومبر 2020 میں یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انہیں خط بھیجا کہ یہ کمیٹی ان کی شکایت کا جائزہ لی رہی ہے۔ کمیٹی نے بعد ازاں وہی فیصلہ صادر کیا جو وہ ڈاکٹر بشریٰ کے کیس میں کر چکی تھی کہ ان کی شکایت جنسی ہراس کے قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ 

اسی فیصلے کی بنیاد پر محتسب کی عدالت نے بھی ڈاکٹر فائزہ کو بتایا کہ ان کی شکایت پر کارروائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ یونیورسٹی کی کمیٹی اس پر پہلے ہی کارروائی کر چکی ہے۔ 

کچھ دوسرے طلبا نے ڈاکٹر نخشب کے بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی شکایات بھیجییں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ ان میں سے ایک طارق رحمانی ہیں۔ وہ 2012 سے کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ پیتھالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے لیکن اپریل 2016 میں انہوں نے پڑھائی چھوڑ دی اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو خط لکھ کر بتایا کہ وہ پانچ بار ڈاکٹر نخشب کو اپنی تحقیق کا خاکہ جمع کرا چکے ہیں اس کے باوجود ان کا داخلہ اس وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ خاکہ جمع نہیں کرایا۔

ان الزامات کے حوالے سے ڈاکٹر نخشب کا کہنا ہے کہ ’’ڈاکٹروں کی پی ایچ ڈی کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں ہر کسی کو ڈگریاں بانٹتا پھروں"۔ سجاگ سے بات کرتے ہوئے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے رویے کے شاکی طالب علم در اصل "اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے ان پر الزامات لگا دیتے ہیں‘‘۔ 

تاہم ان الزامات کے علاوہ ڈاکٹر نخشب کو پنجاب کے صوبائِی محکمہِ صحت کی طرف سے انضباطی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔

کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے 6 اگست 2015 کو ہونے والے ایک اجلاس میں ان کی طرف سے جمع کرائے گئے پیشہ وارانہ تجربے کے سرٹیفیکیٹ کے اصلی ہونے پر سوال اٹھایا گیا جس پر سنڈیکیٹ نے کہا کہ ان کی بطور پروفیسر تقرری کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک مجاز اتھارٹی ان کے سرٹیفیکیٹ کی حیثیت واضح نہیں کر دیتی۔ 

اس فیصلے پر عمل درآمد کے لئے محکمہِ صحت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جس نے ان کے سرٹیفیکیٹ کو جعلی قرار دیا اور تجویز کیا کہ ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ایکٹ (2006) کے تحت کارروائی کی جائے۔ ڈان اخبار میں چھپی ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق بعد ازاں محکمہِ صحت نے اس معاملے کی چھان بیں کے لئے ایک اور کمیٹی بنائی جس نے پہلی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے تجویز کیا کہ ڈاکٹر نخشب کو نوکری سے نکال دیا جائے کیونکہ انہوں نے اپنے تجربے کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ 

ڈاکٹر نخشب کا کہنا ہے کہ محکمہِ صحت ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز نہیں کیونکہ وہ کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ملازم ہیں جو ایک خود مختار ادارہ ہے اور محکمے کے دائرہِ اختیار سے باہر ہے۔ تاہم ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ جعلی سرٹیفیکیٹ پیش کرتے وقت وہ محکمہِ صحت ہی کے ملازم تھے اس لئے ان پر صوبائی قوانین کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ 

اس معاملے میں حتمی فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے کرنا ہے جہاں اس پر عدالتی کارروائی مختلف مراحل سے گزر رہی ہے۔

لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے سنگین الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر نخشب کے پاس کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایک نہیں متعدد اہم عہدے ہیں۔ وہ شعبہ بائیو کیمسٹری کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹریٹ پروگرام کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اور ان کے پاس یونیورسٹی کے مالی وسائل سے رقوم نکالنے اور انہیں خرچ کرنے کا بھی اختیار ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ بائیو میڈیکل سائنسز کی لیبارٹری کی نگرانی بھی ان کی اضافی ذمہ داری ہے۔ 

ڈاکٹر بشریٰ کا کہنا ہے کہ اس قدر با اختیار شخص کے خلاف ان کی شکایات پر انہیں کبھی بھی انصاف نہیں مِل پائے گا بلکہ الٹا ان کا اپنا تحقیقی کام اور پیشہ وارانہ کیرئر ہی متاثر ہوگا۔ اس کے باوجود وہ ہر اس ادارے میں جانے کا ارادہ رکھتی ہیں جہاں وہ ڈاکٹر نخشب کے مبینہ رویے کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 17  مارچ 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 21 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔