نیا کسٹم نظام: خنجراب پاس تو کھل گیا لیکن گلگت بلتستان کے مقامی تاجروں کی قسمت پر تالا پڑ گیا

postImg

زبیر خان

postImg

نیا کسٹم نظام: خنجراب پاس تو کھل گیا لیکن گلگت بلتستان کے مقامی تاجروں کی قسمت پر تالا پڑ گیا

زبیر خان

"خنجراب پاس کھلا تو میرے رکے ہوئے پانچ کنٹینر بھی آ گئے جس سے میں سو فیصد گھاٹے سے بچ گیا۔ البتہ حکومت نے اب جو نیا نظام متعارف کروایا ہے اس کے بعد میں تو چین سے مزید مال نہیں منگواؤں گا"۔

یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کے تاجر سرفراز حسین کا جو کئی برسوں سے چین سے مال منگوا رہے ہیں۔

خنجراب پاس سے منسلک سست ڈرائی پورٹ کے حکام کے مطابق پورٹ سے مال کلیئر کروانے کے لیے نئے نظام کے تحت پاکستانی تاجروں کو چین میں تمام ادائیگیاں بینک کے ذریعے کرنا ہوں گی اور پورٹ سے ان کا مال اسی صورت میں کلیئر ہو پائے گا جب وہ الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) پُر کر کے بینک سے ادائیگی کی رسید ساتھ لف کریں گے۔

ناصر حسین گلگت بلتستان چیمبر آف کامرس کے صدر ہیں۔ ان کے مطابق چیمبر میں دس ہزار چھوٹے بڑے تاجر رجسٹر ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ تجارت کا روایتی انداز بالکل مختلف رہا ہے اور نیا نظام اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔

"پہلے گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے تاجروں کے درمیان مال کے بدلے مال کی تجارت ہوتی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں لین دین کرنسی میں ہونے لگا۔ سنکیانگ کا تاجر گلگت بلتستان آتا تو وہ پاکستانی روپے میں خریداری کرتا تھا اور گلگت بلتستان کا تاجر سنکیانگ جاتا تو وہ چین کی کرنسی میں تجارت کرتا تھا۔ اس میں ڈالر یا کسی اور کرنسی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔"

حال میں لاگو ہونے والے نئے نظام کے تحت تاجر مال کی خریداری رسید دے گا اور تمام ادائیگیاں بینکوں کے ذریعے کرے گا۔

نئے نظام کے تحت کیونکہ لین دین دو ملکوں کے بینکوں کے ذریعے ہو گا اس لیے لامحالہ ڈالر درمیان میں آ جائے گا۔ گویا پہلے پاکستانی بینک گلگت بلتستان کے تاجروں کے روپوں کو ڈالروں میں تبدیل کر کے انہیں چینی بینک کو ادا کرے گا جو اسے سنکیانگ کے تاجر کو چینی کرنسی یوان میں بدل کر ادا کرے گا۔

تاجروں کو اس ادل بدل میں نقصان دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں اتارچڑھاؤ اب روز کا معمول ہے اور یہ اتارچڑھاؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ منافع کے کسی بھی تخمینے کو حقیقی نقصان میں بدل سکتا ہے۔

ناصر سمجھتے ہیں کہ اس نظام کے تحت مقامی تاجروں کے لیے کاروبار کرنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہاں کا تاجر کسی فیکڑی سے نہیں بلکہ کاشغر یا کسی اور شہر کی ہول سیل مارکیٹ سے مال خریدتا ہےاور ادائیگی موقع پر نقد کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں فیکٹریاں ہیں ہی نہیں بلکہ ہول سیل مارکیٹ ہے۔ "ایک تاجر پورے کنٹینر کا مال بھی نہیں خریدتا۔ ایک کنٹینر دو، تین تاجروں کے مال پر مشتمل ہوتا ہے۔ سنکیانگ کا ہول سیل تاجر بینک سے ادائیگی قبول نہیں کرتا۔ اسے نقد رقم چاہیے۔"

"جب تجارت مقامی کرنسیوں میں نقد پر ہوتی ہے، بینک سے ادائیگی نہیں ہوتی، اور اس میں ڈالر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے تو تاجر کس طرح ای آئی ایف ڈیجیٹل فارم پر ڈالر میں خریداری کی تفصیل اور بینکنگ چینل کا ثبوت مہیا کر سکتا ہے۔"

ناصر حسین نے بتایا کہ ماضی میں خصوصی انتظام کے تحت گلگت بلتستان اور سنکیانگ کے رہائشی تاجروں کو ویزہ کی بجائے خصوصی پاس جاری کیے جاتے تھے۔ اب بھی دونوں ممالک میں اس سے ملتا جلتا نظام رائج ہے جس کے مطابق سنکیانگ جانے پر گلگت بلتستان کے تاجر کو چیمبر آف کامرس کے کارڈ کی بنیاد پر پاس یا اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے۔ سنکیانگ میں بھی اسی طرح کا عمل ہوتا ہے۔

نئے نظام میں ٹیکس یا کسٹم کا تخمینہ بھی خرید کی رسیدوں کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ سرفراز حسین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے یا ٹیکس سے بچنا چاہتے ہیں۔ میں نے سال 2019ء میں 51 لاکھ ٹیکس دیا تھا۔ سرکار نے سال 2019ء میں خنجراب پاس سے 856 ملین ڈالر کی تجارت کا جو تخمینہ لگایا ہے اس پر ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی پالیسی کو نافذ رکھا گیا تو خنجراب پاس سے مقامی تجارت کا دوبارہ شروع ہونا ممکن نہیں ہوگا۔

آسمان سے گرا، کجھور میں اٹکا

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2018-19ء میں خنجراب پاس سے 1611 کنٹینر آئے۔ اگلے برس یہ تعداد بڑھ کر 1882 ہو گئی۔ لیکن اس سے اگلے برس کووڈ کی وبا نے بین الاقومی آمدورفت کو مکمل طور پر بند کر دیا۔

یہ بندش تین سال جاری رہی۔ ان تین سالوں کے دوران خنجراب پاس صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی کھولا جاتا تھا۔ 2021ء میں یہاں چین سے صرف 65 کنٹینر آئے جبکہ 2022ء میں یہ تعداد 221 رہی۔ رواں برس 830 کنٹینر آ چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر پہلے سے پھنسے ہوئے کنٹینر ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اوائل سے پاس کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کی مقامی معیشت میں خنجراب پاس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور چین کو ملانے والی شاہراہ قراقرم پر واقع یہ دنیا کی بلند ترین پختہ بارڈر کراسنگ ہے۔ دونوں ممالک کی مال بردار گاڑیاں پہاڑوں میں گھری اس راہ گزر سے گزرتی ہیں اور کسٹم کلیرنس کے لیے سست ڈرائی پورٹ پر آتی ہیں۔

طفیل محمد علی کسٹم کلیئرنگ ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خنجراب پاس کا کھلنا بہت ہی اچھی خبر ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ اس کے بعد پرانے پھنسے ہوئے کنٹینر تو گزر رہے ہیں مگر نیا مال اور کنٹینر نہیں آ رہے۔

ان کے مطابق کووڈ سے پہلے یہاں 40 کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کام کرتے تھے۔ اب کم ہو کر 15 رہ گئے ہیں۔ جب کوئی پھنسا ہوا پرانا کنٹینر آتا ہے تو ان میں سے کسی ایک دو کا کام چل پڑتا ہے جبکہ دیگر انتظار کرتے ہیں۔

طفیل کہتے ہیں کہ ہمارے اندازے کے مطابق بندش سے قبل خنجراب پاس پر کاروبار سے دو لاکھ لوگوں کو براہ راست روزگار میسر آتا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہے۔

چیمبر آف کامرس کے ناصر حسین کہتے ہیں کہ چیمبر میں رجسٹرڈ دس ہزار تاجروں میں سے ہر ایک کے پاس کم از کم دو لوگ تو ملازمت کرتے ہی تھے جبکہ بڑے تاجروں کے پاس یہ تعداد پچاس سے بھی زیادہ تھی۔

سرفراز حسین جن کے پھنسے ہوئے پانچ کنٹینر ابھی پہنچے ہیں کہتے ہیں کہ کووڈ سے پہلے ان کے پاس 15 افراد کا سٹاف تھا۔ اب ان میں سے صرف تین لوگ باقی ہیں۔

اس تجارت سے گلگت بلتستان میں ٹرانسپورٹر، دیہاڑی دار مزدور، ریسٹورنٹ والے اور دکان دار منسلک تھے۔ لیکن اب تاجروں نے اپنا بیشتر سٹاف فارغ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

افغانستان میں طالبان کے آنے سے طورخم بارڈر کے آر پار لوگوں اور تجارتی سامان کی آمدورفت شدید مشکلات کا شکار۔

ذیشان سست میں واقع گڈز اڈے میں منشی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اب وہ دو سال سے ہنزہ میں دیہاڑی پر مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "کووڈ کی وجہ سے کام انتہائی کم ہوا۔ ہمارے اڈے پر کئی کئی دن مال نہیں آتا تھا۔ مجھ سمیت اڈے پر کام کرنے والے چھ لوگوں کو فارغ کر دیا گیا۔ اب میں دیہاڑی پر کام کرتا ہوں جو کبھی ملتی ہے اور کبھی نہیں۔"

گل حسین کووڈ سے پہلے ناصر حسین کے گوداموں کی رکھوالی کرتے تھے۔ اب یہ گلگت میں کام کی تلاش میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں "جب چین سے مال آنا بند ہوا تو گوداموں میں مال ہی نہیں ہوتا تھا جس کی رکھوالی کی جاتی۔کچھ عرصے بعد ناصر صاحب نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ کام دوبارہ شروع ہو گا تو واپس بلا لیں گے۔"

خنجراب پاس کھلنے کے باوجود گلگت بلتستان کے تاجر پرانی رونقوں کی واپسی کے بارے پُرامید نہیں ہیں۔ وہ نئے نظام سے مایوس ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے تحت ان کے لیے چین سے تجارت کرنا ممکن نہیں جس کے باعث مقامی معیشت کے بحال ہونے کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 8 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد زبیر خان کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ بی بی سی کے علاوہ مختلف بین الاقومی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام پاکستان کے سرحدی اور دور دراز علاقوں میں ہے۔ جہاں سے یہ انسانی زندگیوں کی کہانیوں پر کام کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.