'پنجاں پانیاں اچ دتی زہر رلا': فیصل آباد کی صنعتوں سے نکلنے والا گندا مواد زیرِ زمیں پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'پنجاں پانیاں اچ دتی زہر رلا': فیصل آباد کی صنعتوں سے نکلنے والا گندا مواد زیرِ زمیں پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

نعیم احمد

postImg

'پنجاں پانیاں اچ دتی زہر رلا': فیصل آباد کی صنعتوں سے نکلنے والا گندا مواد زیرِ زمیں پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

نعیم احمد

خواتین کے ملبوسات کے کئی معروف برانڈز میں استعمال ہونے والے کپڑَے کی رنگائی (ڈائینگ) اور اس پر ڈیزائنوں کی چھپائی (پرنٹنگ) فیصل آباد کی دو مشہور شاہراہوں -- سمندری روڈ اور مقبول روڈ -- کے درمیان واقع علاقے میں کی جاتی ہے۔ یہاں مِلوں کے بڑے بڑے بند دروازوں کے پیچھے ہزاروں گز کپڑا روزانہ تیار ہوتا ہے جس کے جاذبِ نظر رنگ اور ڈیزائن جب ملبوسات کی بڑی بڑی دکانوں کے صاف شفاف شیشوں کے پیچھے سے جھلکتے ہیں تو خریداروں کے قدم خود بخود ان کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔

لیکن اس کپڑے کی رنگینی اور خوبصورتی کے دِلدادہ لوگوں کو شاید ہی معلوم ہو کہ ان کے پسندیدہ لباسوں کی تیاری ایک پورے شہر – بلکہ ایک پورے خطے – کے زیرِ زمین پانی کو انسانوں کے لئے ناقابلِ استعمال بنا رہی ہے۔  

فیصل آباد کے جس علاقے میں کپڑا بنانے کی یہ مِلیں واقع ہیں وہاں کی سڑکیں کئی مقامات پر اس آلودہ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جو کپڑے کی رنگائی اور چھپائی کے دوران مِلوں سے خارج ہوتا ہے۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کا عملہ ایک مقامی پمپنگ سٹیشن چلا کر اس پانی کی نکاسی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے لیکن ملوں سے آلودہ پانی کا اخراج پمپنگ سٹیشن کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔

یہاں موجود کسی بھی مِل میں اس پانی کو صاف کرنے کے لئے کوئی پلانٹ موجود نہیں ہے اس لئے مِل مالکان کئی سالوں سے یہ زہریلا پانی براہِ راست واسا کی سیوریج لائنوں اور بارشی پانی کی نکاسی کے لئے بنائے گئے نالوں میں ڈال رہے ہیں۔ 

اس علاقے کے مکین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ مِلوں کے مالکان آلودہ پانی کو کھلے عام چھوڑنے سے پہلے اس کے مضرِ صحت اثرات کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔ انہیں اس بات پر بھی غصہ ہے کہ واسا کے حکام اس سنگین مسئلے کا کوئی پائیدار حل نہیں کر رہے۔

مِلوں کا گندا پانی نہ صرف فیصل آباد کے اندر انسانی بستیوں کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے شہر کے اندر اور اس کے ارد گرد موجود پانی کے زیرِ زمین زخائر اور جنگلی اور آبی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

شہر کے اندر بچھی سیوریج لائنوں اور بارشی پانی کی نکاسی کے لئے سڑکوں کے ساتھ ساتھ بنائے گئے نالوں میں سے گذرتا ہوا یہ آلودہ پانی اندرونِ شہر سے پانچ کلومیٹر دور ایک بڑے گندے نالے میں شامل ہو جاتا ہے جسے چینل فور کہا جاتا ہے جہاں سے چند کلومیٹر آگے گلزار کالونی کے علاقے میں کپڑے کی کئی اور ملیں واقع ہیں۔ یہ ملیں بھی اپنا آلودہ پانی براہِ راست چینل فور میں ڈالتی ہیں۔ اس مقام پر نالے سے ملحقہ سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کی سطح پر تیزی سے ایسے نمکیات جمع ہو رہے ہیں جو اسے ناقابلِ کاشت بنا رہے ہیں۔

مقبول روڈ کے علاقے میں سڑکوں پر فیکٹریوں کا آلودہ پانی جمع ہے۔

میٹھا پانی زہرآلود کیسے ہوا؟

ایک صدی قبل اس وقت کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر سر جیمزلائل کو لاہور سے جھنگ جاتے ہوئے دریائے چناب اور دریائے راوی کے درمیان واقع علاقے – جسے اس وقت ساندل بار کہا جاتا تھا -- میں وسیع پیمانے پر زرخیز زمین اور میٹھے پانی کے کنوئیں ملے۔ اس دریافت کے بعد اس نے یہاں ایک نیا شہر بسانے کا فیصلہ کر لیا۔

اس مقصد کے لئے دریاؤں سے دو نہریں نکال کر زرعی زمینوں کی آبپاشی کا انتظام کیا گیا اور چناب کالونی کے نام سے ایک بستی آباد کر کے نئے شہر لائل پور کی بنیاد رکھی گئی جو اب فیصل آباد کہلاتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ میٹھے پانی کی موجودگی کی وجہ سے بننے والے اس شہر میں زمینی پانی آج نہ میٹھا  ہے اور نہ ہی انسانی استعمال کے قابل۔ اس کا  بنیادی سبب صنعتوں سے خارج ہونے والا آلودہ فضلہ ہے جو چینل فور جیسے گندے نالوں کے ذریعے زمین میں جذب ہو رہا ہے اور یوں زیرِ زمین  آبی ذخائر کو بھی آلودہ کر رہا ہے۔

یہ نالے در حقیقت بارشوں کا پانی جمع کر کے اسے دریائے چناب اور دریائے روای میں ڈالنے کے لئے بنائے گئے تھے لیکن گزشتہ کئی دہائیوں سے انہیں سیوریج اور صنعتی فضلے کی شہر سے باہر منتقلی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ نالے شہر کےجنوب مشرقی حصے  کا آلودہ پانی مدھوآنہ ڈرین کے ذریعے دریائے راوی میں لے جاتے ہیں جبکہ شمال مغربی آبادیوں کا آلودہ پانی پہاڑنگ ڈرین کے ذریعے دریائے چناب میں جاتا ہے۔
 
پہاڑنگ ڈرین کے ذریعے دریائے چناب میں شامل ہونے والے سیوریج اور فیکٹریوں کے کیمیکل نے دریا کا پانی بھی آلودہ کر دیا ہے۔

پہاڑنگ ڈرین میں بہنے والے فضلے میں سے 20 ملین گیلن پانی ہر روز چکیرہ کے مقام پر واسا کی طرف سے بنائے گئے تین بڑے تالابوں سے گذارا جاتا ہے جہاں اس میں شامل ٹھوس فضلہ تالابوں کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے جبکہ بقیہ پانی ایک بار پھر ڈرین میں شامل ہو کر دریائے چناب میں چلا جاتا ہے۔

فیصل آباد میں متعین محکمۂِ تحفظِ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فرحت عباس کموکا تالابوں کے اس نظام کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تو یہ نظام ڈرین میں سے گزرنے والے تمام پانی کو صاف نہیں کرتا، دوسرے یہ کہ اس کے ذریعے پانی میں شامل کیمیائی اجزا ختم نہیں ہوتے اور تیسرے یہ کہ صاف شدہ پانی پھر ڈرین کے آلودہ پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔

ڈرین کے پانی میں آلودگی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس مقام پر یہ پانی دریا میں شامل ہوتا ہے وہاں دریا کا مٹیالا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس جگہ پر دریا کے پاٹ کے خشک حصوں پر جابجا کاٹھ کباڑ، ہسپتالوں کا کچرا اور دیگر کوڑا کرکٹ بکھرا ہوا ہے اور ہر طرف ایک ایسی بو پھیلی ہوئی ہے جو عام طور پر کیمیائی اجزا کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔  

اس مقام پر دور دور تک کوئی انسانی آبادی موجود نہیں۔ یہاں پرندے بھی بہت کم تعداد میں دکھائی دیتے ہیں اور دریا کے پانی میں مچھلی یا دیگر آبی حیات کے کوئی اثار نظر نہیں آتے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نام ایک سرکاری ادارے کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں اس صورتحال کو  انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے جبکہ جنگلی حیات کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق فیصل آباد سے آنے والا آلودہ پانی اور صنعتی فضلہ دریائے چناب اور دریائے راوی میں شامل ہو کر ساندل بار کے پورے علاقے میں ماحولیاتی اور آبی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

چوکیرہ میں واسا کے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے صاف ہونے والے پانی کو دوبارہ پہاڑنگ ڈرین میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ دونوں دریا نہ صرف صوبہ پنجاب میں زرعی آبپاشی کا اہم ذریعہ ہیں بلکہ ان کے کناروں پر آباد کئی شہر اور قصبے جو پانی پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ بھی انہی کے ذریعے زمین کے اندر جذب ہوتا ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک اور تحقیق کے مطابق چناب اور راوی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے نتیجے میں فیصل آباد کا کم از کم 42 فیصد زیرِ زمیں پانی آلودہ ہو چکا ہے کیونکہ اس میں کیڈمیم کی مقدار پنجاب کے محکمہ ماحولیات کی  مقررہ حد سے تین گنا زیادہ ہے جبکہ اس میں کرومیم کی مقدار سرکاری طور پر مقررہ حد سے دس گنا زیادہ ہے۔ کیڈمیم اور کرومیم دونوں انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر عناصر ہیں۔

اسی رپورٹ کے مطابق واسا کے صاف کئے ہوئے پانی میں بھی نامیاتی اور غیر نامیاتی اجزا کی شرح طبی طور پر محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ پائی گئی ہے۔

فرحت عباس کموکا اس صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری فیصل آباد کے صنعت کاروں پر ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے رہائشی علاقوں میں موجود سینکڑوں چھوٹے بڑے صنعتی اداروں میں سے کم از کم 25 فیصد ایسے ہیں جو خطرناک حد تک آلودہ پانی خارج کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے محکمے نے آلودہ پانی خارج کرنے والی فیکٹریوں کو متعدد بار نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگانے اور انسانی آبادی سے باہر منتقل ہونے کی ہدایات بھی کی ہیں 'لیکن ابھی تک اس سلسلے میں جاری کارروائی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی'۔

فیصل آباد ایوانِ صنعت و تجارت کے سابق صدر میاں تنویر احمد محکمہ ماحولیات کی طرف سے صنعت کاروں پر لگائے گئے اعتراضات سے متفق نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شہر میں قائم زیادہ تر بڑے صنعتی اداروں نے آلودہ پانی صاف کرنے کیلئے از خود انتظامات کر رکھے ہیں لیکن 'بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کا صاف کیا ہوا پانی دوبارہ گندے نالوں میں ڈال کر آلودہ کیا جا رہا ہے'۔

ستیانہ روڈ پر گلزار کالونی میں واقع ٹیکسٹائل ملز کیمیکل زدہ پانی براہ راست گندے نالے میں خارج کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ماحولیاتی آلودگی میں اضافے سے لاہور کے ہر شہری کی اوسط عمر ساڑھے چھ سال کم ہو رہی ہے'۔

وہ کہتے ہیں: 'شہر کے اندرونی حصوں میں قائم 123 صنعتوں میں آلودہ پانی صاف کرنے والے پلانٹ لگے ہوئے ہیں جو یومیہ آٹھ لاکھ گیلن سے زائد پانی  صاف کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ ان میں سے 24 پلانٹ صنعتی فضلے کو  100  فیصد  صاف کر دیتے ہیں جبکہ 99 پلانٹ آلودہ پانی کو 50 فیصد سے 60  فیصد تک صاف کرنے کی استعداد رکھتے ہیں'۔

ان اعداد وشمار کی آزادانہ تصدیق کرنا قریب قریب ناممکن ہے کیونکہ زیادہ تر صنعت کار صحافیوں کو اپنے صنعتی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیتے لیکن اگر میاں نتویر احمد کی بات کو درست مان بھی لیا جائے تو پھر بھی صنعتوں میں لگے پلانٹ شہر میں پیدا ہونے والے کل آلودہ پانی – جس کی مقدار 573 ملین گیلن یومیہ ہے -- کا عشرِ عشیر بھی صاف نہیں کر رہے۔

کاغذی منصوبے

1993 میں بنائے گئے فیصل آباد کے ماسٹر پلان میں فیصلہ کیا گیا کہ چینل فور نامی نالے کو اس طرح سے تبدیل کیا جائے گا کہ رہائشی آبادیوں سے خارج ہونے والا سیوریج کا پانی اور بارشی پانی ایک دوسرے سے الگ الگ رہیں۔ تاہم 27سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے۔

واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر جبار انور چوہدری کہتے ہیں کہ اس منصوبے پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو  چکا ہے لیکن باقی ماندہ کام  کو مکمل کرنے کے لئے کم از کم 30 کروڑ روپے درکار ہیں جو ان کا محکمہ اپنے ذرائع سے اکٹھا نہیں کر سکتا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ بیس سال کے لئے بنائے گئے واسا کے ماسٹر پلان کے تحت دریاوں کو آبی آلودگی سے بچانے کے لئے شہر کے مشرقی حصے میں 19 ارب کی لاگت سے پانی صاف کرنے کا ایک نیا پلانٹ بنایا جائے گا جو روزانہ 44 ملین گیلن پانی کو زہریلے مادوں سے  پاک کر کے انسانی استعمال کے قابل بنائے گا جبکہ چوکیرہ کے مقام پر پہلے سے موجود پلانٹ کی صلاحیت کو بھی 20 ملین گیلن یومیہ سے بڑھا کر 180 ملین گیلن یومیہ کیا جائے گا۔

حقیقت میں یہ دونوں منصوبے گزشتہ کئی سال سے واسا کے کاغذوں میں پڑے ہوئے ہیں اور خود واسا حکام  کو معلوم نہیں کہ ان پر عملی کام کب شروع ہو گا۔ اگر کبھی ان منصوبوں پر عمل درآمد ہو بھی جائے تو پھر بھی 268 ملین گیلن یومیہ سے زائد سیوریج اور صنعتی فضلہ بغیر کسی پلانٹ میں سے گزرے دریاوں میں شامل ہوتا رہے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 3 نومبر 2020  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔