اچھی پیداوار کے لئے اچھی سڑک چاہئیے: آواران کے کسان سبزیاں خریدتے ہیں، اگاتے نہیں!

postImg

شبیر رخشانی

postImg

اچھی پیداوار کے لئے اچھی سڑک چاہئیے: آواران کے کسان سبزیاں خریدتے ہیں، اگاتے نہیں!

شبیر رخشانی

عبدالرحیم جھل جھاؤ کے مرکزی واجہ باغ بازار میں سبزی فروخت کرتے ہیں۔ وہ بھنڈی کے سوا تمام سبزیاں 280 کلومیٹر دور کراچی سے لاتے ہیں۔طویل سفر کی مشکلات برداشت کرنے کے علاوہ مہینے میں کم از کم آٹھ دن انہیں دکان سے غیر حاضر رہنا پڑتا ہے۔

ان کے گاہکوں میں زیادہ تعداد مقامی کسانوں کی ہے۔ وہ سبزیاں کاشت نہ کرنے پر ان سے برہم رہتے ہیں۔

"انہیں لاکھ سمجھایا کہ سبزیاں اگا لیں مگر وہ نہیں مانتے۔"

واجہ باغ بازار میں سبزی کی 10 کے قریب دکانیں ہیں۔ یہ تمام دکاندار کراچی سے سبزی لاتے ہیں۔ جوسبزی لینے خود نہیں جاتے، انہیں سپلائر مہیا کر دیتا ہے۔ یہاں مقامی سبزی منڈی یا آڑھت کا تصور نہیں ہے۔

قریبی علاقے علی محمد گوٹھ جھاؤ کے عبدالباسط 25 ایکڑ اراضی کے مالک ہیں۔

وہ کپاس، گندم اور پیاز کاشت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چار سال پہلے انہوں نے گاجر کاشت کی۔ گاجر میٹھی اور ذائقہ دار تھی مگر اسے بیچنا مشکل ہو گیا۔

"دکان داروں سے مناسب قیمت نہ ملنے پر گاجر بیچنے کے لیے بازار میں ایک آدمی بٹھانا پڑا تھا"۔

عبدالباسط کا کہنا ہے کہ آدھے ایکٹر کی پیداوار کراچی لے جانے کے لیے انہیں پورا ٹرک بک کرانا پڑتا جو گھاٹے کا سودا تھا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر پورے جھاؤ میں گاجر کے ساتھ دیگر سبزیاں بڑے پیمانے پر اگائی جاتیں تو انہیں کراچی ٹرانسپورٹ کرنا ممکن ہو جاتا۔

"ٹرک کے ذریعے سبزی بھجوانا چند کاشت کاروں کے بس میں نہیں۔ ٹرک ان سے پورا کرایہ لے گا۔ مقامی سبزی سے ایک دن میں پورا ٹرک نہیں بھرتا۔ آواران سے بیلہ تک سڑک نہ ہونے سے نقل و حمل کے اخراجات بھی زیادہ ہیں جو مقامی کاشت کاروں کو سبزیاں اگانے سے روکتے ہیں۔"

تاہم عبدالرحیم کہتے ہیں کہ مقامی پیداوار ہو تو علاقے ہی میں گاہک کو تازہ اور سستی سبزی، اور کسان کو اچھی اجرت ملے گی۔ دکان دار کو بھی آسانی ہو گی۔

"کراچی سے ہم چار سبزی فروش 25 ہزار روپے میں ٹرک بک کراتے ہیں۔ فی کریٹ 150 روپے کرایہ اور 50 روپے لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے دینا پڑتے ہیں۔ یوں 10 کلو کے کریٹ پر 200 روپے اضافی خرچ ہوتے ہیں۔ منڈی میں کمرے کا ماہانہ کرایہ چار ہزار روپے اور دو دن کے سفر کی خواری الگ ہے۔ اس کے علاوہ گرمی سے مال خراب ہو جائے تو گھاٹا بھی کھانا پڑتا ہے"۔

آواران کی تحصیل جھل جھاؤ کی کل آبادی 46 ہزار 403 نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے مرکزی بازار میں بیرونی منڈی سے روزانہ سبزی کے دو ٹرک آتے ہیں۔ یہاں قابل ذکر مقامی پیداوار بھنڈی ہے جو 15 سے 20 بوری آتی ہے اور سبزی کی کل سپلائی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔

سردیوں میں تھوڑے سے مٹر بھی کاشت ہوتے ہیں۔ کسی اور سبزی کی کاشت نظر نہیں آتی۔ یہاں بھنڈی کی کاشت بھی دو سال قبل شروع ہوئی تھی۔

ساڑھے 29 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ضلع آواران میں روایتی طور پر پیاز، گندم، جو، گوار، تربوز، خربوزہ اور کپاس کاشت کی جاتی رہی ہے۔ اس علاقے کی زمینیں بارانی ہیں مگر اب ٹیوب ویل کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

محمد یعقوب نواحی علاقے اسپیت دمب میں مقامی زمیندار کا رقبہ کاشت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2020ء میں انہوں نے بیلہ سے پنیری منگوا کر دو ایکڑ پر ٹماٹر لگایا۔ فصل تیار ہوئی تو ٹڈی دل نازل ہوئی اور سب کچھ چٹ کر گئی۔

"پچھلے سال پھر 50 ہزار روپے کا ہائبرڈ بیج خریدا اور ڈیڑھ ایکڑ رقبے پر ٹماٹر بویا۔ چار ماہ بعد 15 جنوری کی شب سردی کی شدید لہر نے تیار فصل اجاڑ دی اور کچھ ہاتھ نہیں آیا"۔

سیاہ دمب جھاؤ کے کسان برکت علی نے بتایا کہ چند سال قبل انہوں نے دو ساتھی زمینداروں سے مل کر اپنی زمین پر کھیرا کاشت کیا تھا۔ فصل اچھی ہوئی مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے انہوں ںے کھیرا اٹھانے میں تاخیر کر دی اس لیے وہ اسے بیچ نہیں سکے اور اس کے بعد انہوں ںے کھیرا کاشت نہیں کیا۔

سستگان جھاؤ کے بہرام خان 15 کلومیٹر دور سے ہفتے میں تین بار سبزی لینے واجہ باغ بازار آتے ہیں۔انہوں نے اڑھائی ایکڑ زمین ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

آواران کا جھاؤ-بیلہ روڈ جہاں پیاز سے لدا ٹرک 90 کلومیٹر کا فاصلہ ایک دن میں طے کرتا ہے!

وہ کہتے ہیں"پچھلے سال میں نے مٹر کاشت کیے تھے۔ فصل تیار ہوئی تو ہمسائے اور رشتہ دار اس پر ٹوٹ پڑے۔ اس سے پہلے بینگن اور مرچ کاشت کی تھی، ان کا بھی یہی حشر ہوا تھا۔ کسی کو سبزی لے جانے سے نہیں روک سکتے، روکیں تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں"۔

لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر، ایگریکلچر اینڈ میرین سائنسز میں ایگریکلچر فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر تیمور خان کہتے ہیں کہ آواران کے کاشت کار کے لیے بنیادی مسئلہ منڈی سے دوری اور سڑکوں کی ابتر صورت حال ہے۔

"سبزی ایک ہی دن میں مارکیٹ نہ پہنچے تو مناسب قیمت ہی نہیں ملے گی۔ اس لیے لسبیلہ کے کسان بڑی مارکیٹ اور اچھی سڑکوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بہترین سبزیاں اگا رہے ہیں۔"

زراعت آفیسر محمد ابراہیم بھی ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جھاؤ اور آواران کی مقامی مارکیٹ میں سبزی کی کھپت بہت کم ہے۔

پیاز تین یا چار دن میں بڑی منڈی پہنچ جاتا ہے تب بھی خراب نہیں ہوتا جبکہ سبزی کو پہلے ہی روز منڈی پہنچانا ہوتا ہے۔ ایسا سڑکوں کی موجودہ صورت حال میں ممکن نظر نہیں آتا۔ اس لیے یہاں زمیندار زیادہ سبزیاں کاشت نہیں کرتے۔

تاریخ اشاعت 7 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

شبیر رخشانی کا تعلق بلوچستان کے علاقے جھاؤ آواران سے ہے۔ مختلف صحافتی اداروں دنیا نیوز، روزنامہ آزادی آن لائن نیوز پیپر حال احوال کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.