لاہور میں غیرقانونی رہائشی منصوبوں کا مستقبل: حکومتی کمیشن کا قیام کس کے مفاد میں؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

لاہور میں غیرقانونی رہائشی منصوبوں کا مستقبل: حکومتی کمیشن کا قیام کس کے مفاد میں؟

تنویر احمد

postImg

لاہور میں غیرقانونی رہائشی منصوبوں کا مستقبل: حکومتی کمیشن کا قیام کس کے مفاد میں؟

تنویر احمد

خان محمد کھوکھر اور ان کے بیٹے 2020 کے وسط تک جنوبی لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ لیکن اُس سال بارش کا پانی ان کے گھر میں گھس آیا تو وہ شہر کے مزید جنوب میں واقع کاہنہ نامی گاؤں کے نزدیک ایک نجی رہائشی سکیم میں منتقل ہوگئے جہاں اس وقت تک انہوں نے قسطوں پر پلاٹ خرید کر ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا تھا۔ 

لیکن 19 نومبر 2021 کو جب 77 سال کی عمر میں خان محمد کھوکھر کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹوں کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے کیونکہ لگ بھگ ایک سو 55 کنال اراضی پر قائم ان کی رہائشی سکیم میں قبرستان کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں تھی۔ بالآخر انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنے والد کو ایک قریبی گاؤں میں دفنائیں گے جہاں ان کی میت پہنچانے کے لیے انہیں خصوصی طور پر ایمبولینس کا انتظار کرنا پڑا۔ 

خان محمد کھوکھر کے بیٹے محمد فیاض کہتے ہیں کہ جب وہ اس سکیم میں پلاٹ خرید رہے تھے تو انہیں بتایا گیا کہ پارک اور سکول جیسی کئی سہولتوں کے ساتھ ساتھ اس میں قبرستان بھی ہوگا لیکن، ان کے مطابق، حقیقت میں ایسی کسی سہولت کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی۔ 

ان کے ایک ہمسائے کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جب ان کے خاندان کے ایک فرد کی موت ہوئی تو انہیں بھی اسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اُن لوگوں سے قبرستان کی عدم موجودگی کی شکایت کی جنہوں نے اِس سکیم کی داغ بیل ڈالی تھی تو "ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا"۔

محمد فیاض کو معلوم نہیں کہ یہ سکیم رہائشی اور تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔ لیکن اس اتھارٹی کے 2014 میں بنائے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک سو کنال یا اس سے زیادہ رقبے پر مشتمل کوئی رہائشی منصوبہ اس وقت تک قانونی نہیں ہو سکتا جب تک اس میں دو فیصد رقبہ قبرستان کے لیے نہ چھوڑا گیا ہو۔  

رہائشی منصوبے کیسے منظور ہوتے ہیں؟

لاہور شہر کے داخلی اور اندرونی راستوں پر درجنوں رہائشی منصوبوں اور عمارتوں کے اشتہاری بورڈ بہت نمایاں طور پر آویزاں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ فیروز پور روڈ، ملتان روڈ، رائے ونڈ روڈ اور شرقپور روڈ جیسی لاہور میں آنے والی تمام بڑی شاہراہوں کے دونوں جانب بڑے پیمانے پر نیم آباد اور غیر آباد رہائشی منصوبے نظر آتے ہیں جو سب کے سب ان زمینوں پر بنائے جا رہے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے زراعت کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قواعد کے مطابق ایک نجی رہائشی منصوبے کی منظوری لینے کے لیے ضروری ہے کہ اسے شروع کرنے والا فرد یا کمپنی اتھارٹی کو ایک باقاعدہ درخواست دے جس کے ساتھ ایک ہزار روپے جمع کرائے گئے ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ اس فرد یا کمپنی کو متعلقہ شناختی دستاویزات، منصوبے کے لیے مجوزہ زمین کی ملکیت کا سرکاری طور پر تصدیق شدہ ثبوت، اس زمین کی رہائشی، تجارتی، رفاہی اور عوامی مقاصد کے لیے تقسیم کا مربوط منصوبہ اور اس کی مصنوعی سیارے سے کھینیچی گئی تصویر سمیت کئی کاغذات لگانا پڑتے ہیں۔ 

درخواست دہندہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مجوزہ زمین کی ایک تجزیاتی رپورٹ پیش کرے جس میں بتایا گیا ہو کہ اس کی مٹی رہائشی تعمیرات کے لیے مناسب ہے اور یہ کہ اسے سیلاب جیسی قدرتی آفات کا خطرہ درپیش نہیں۔ اسے یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں مسجد، قبرستان، پارک، سکول، ہسپتال، دکانوں اور سڑکوں کے لیے کتنی جگہ چھوڑی گئی ہے۔

مثال کے طور پر تین سو کنال سے زائد رقبے پر محیط رہائشی منصوبوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں دوسرے علاقوں سے جوڑنے والی سڑکیں کم از کم 50 فٹ چوڑی ہوں جبکہ اس سے کم رقبے پر مشتمل رہائشی منصوبوں کی بیرونی سڑکوں کی چوڑائی کم از کم 40 فٹ ہونا ضروری ہے۔ 

یہ درخواست وصول کرنے کے بعد لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی تحقیق کرتی ہے کہ مجوزہ منصوبہ کہیں ایسی جگہ تو نہیں بنایا جارہا جسے حکومت نے کسی اور منصوبے یا مقصد کے لیے مختص کر رکھا ہے۔ لیکن جیو نیوز کی ویب سائٹ پر مئی 2021 میں شائع ہونے والی ایک خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاہور میں کئی نجی رہائشی منصوبے دیگر مقاصد کے لیے متعین کردہ سرکاری زمینوں پر بھی بنائے گئے ہیں۔ اس خبر میں پنجاب کے محمکہِ رشوت ستانی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے منصوبوں نے دو ہزار کنال کے قریب سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح استعمالِ زمین میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر 19 جون 2015 کو لاہور کے مشرقی علاقے میں سوا چھ ہزار ایکڑ اور 25 جولائی 2016 کو اسی علاقے میں 52 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ رہائشی علاقے میں بدل دیا گیا۔

جیو نیوز نے اپنی خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ کہ لاہور ڈویژن (جو لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور قصور کے ضلعوں پر مشتمل ہے) میں آٹھ سو 86 غیر قانونی رہائشی سکیمیں موجود ہیں۔ ان میں سے پانچ سو 76 لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور تین سو 10 دوسرے شہری اداروں کی حدود میں واقع ہیں۔

جنوری 2021 میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ایک ایمنسٹی سکیم جاری کی جس کے تحت ان غیر قانونی رہائشی منصوبوں کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ کچھ جرمانہ ادا کر دیں تو انہیں قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسی ماہ لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس قاسم خان نے سبزے کے لیے مختص کی گئی جگہوں پر بنائی گئی رہائشی سکیموں کے بارے میں ایک مقدمے کی شنوائی کرتے ہوئے اس ایمنسٹی سکیم کو غیر قانونی قرار دے دیا کیونکہ، ان کے مطابق، بظاہر اس کا مقصد زمین کی خرید و فروخت اور تعمیرات کے شعبے میں سرگرم مافیا کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سکیم کے نتیجے میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کا بازار گرم ہو جائے گا۔ 

کاغذات نہیں تعلقات

محمد عرفان گزشتہ 10 سال سے لاہور میں رہائشی منصوبوں، تعمیرات اور جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ اپنا اصلی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کا کہنا ہے کہ رہائشی منصوبے بنانے والے لوگ ان کی منظوری کے لیے درخواستوں اور ان کے ساتھ درکار دستاویزات کی تیاری پر اتنا زور نہیں لگاتے جتنا زور وہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ طے کرنے پر لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات سرکاری دفاتر میں نہیں بلکہ نجی محافل، ریستورانوں اور چائے خانوں وغیرہ پر طے پاتے ہیں۔

ایسی ہی ایک محفل 23 دسمبر 2021 کو لاہور کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قریب ایک ریستوران میں منعقد ہوئی جس میں ایک فربہی مائل شخص لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک ڈائریکٹر کو کچھ نقشے دکھا کر بتا رہا تھا کہ وہ کس قسم کی تعمیرات کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس نے ڈائریکٹر کو یہ بھی بتایا کہ دراصل وہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی منظوری لیے بغیر پہلے ہی کچھ تعمیرات کر چکا ہے اور اب چاہتا ہے کہ انہیں بھی کچھ نئی عمارتوں کے ساتھ سرکاری منظوری کا پروانہ مل جائے۔ اس نے یہ بھی پوچھا کہ آیا ان تمام عمارتوں کو کسی ٹرسٹ کی ملکیت دکھایا جا سکتا ہے اور کیا اس ملکیت کا ان کی منظوری پر کو ئی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ ڈائریکٹر نے اسے جواب دیا کہ "جی ہاں ٹرسٹ کی ملکیت ہونے کی صورت میں کچھ رعایت لی جاسکتی ہے"۔ 

اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے محمد عرفان کہتے ہیں کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اہل کاروں کی ملی بھگت کے بغیر رہائشی اور تعمیراتی منصوبوں میں غیرقانونی کام کیے ہی نہیں جا سکتے کیونکہ ان کی منظوری اور اجازت ہر مرحلے پر ضروری ہوتی ہے۔ وہ رہائشی منصوبوں کو دیے جانے والے بجلی، پانی اور گیس کے کنکشنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی بنیادی اجازت لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر میٹرو پولیٹن پلاننگ دیتے ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے پیش کی گئی درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں منظور یا مسترد کرتے ہیں اور منظور شدہ درخوستوں کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ محکموں کو بھیج دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں "یہ کنکشن اس وقت تک نہیں مل سکتے جب تک متعلقہ ڈائریکٹر ان کے حصول کی منظوری نہ دے"۔

نجی رہائشی منصوبوں کے رقبے یا پلاٹوں میں اضافے کے بارے میں بھی ان کا کہنا ہے کہ قانونی طریقے سے اس طرح کی تبدیلیاں کرنے سے پہلے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کئی دستاویزات فراہم کرنا پڑتی ہیں لیکن یہ کام بھی افسران سے ملی بھگت کر کے کر لیا جاتا ہے۔ وہ غیرقانونی رہائشی سکیموں کی فہرست میں شامل ملٹری اکاؤنٹس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو ہزار پانچ سو 38 کنال پر محیط اس منصوبے میں ابتداً ایک ہزار سات سو کے قریب پلاٹ بنائے گئے تھے لیکن اب اس میں دو ہزار تین سو کے قریب گھر بنے ہوئے ہیں۔ لیکن، ان کے مطابق، اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی غیر قانونی آبادیوں کے خلاف کارروائی: 'زرعی زمین پر کنٹرول کا طریقہ'۔

لیکن اگر یہ مان لیا جائے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اہل کار غیر قانونی رہائشی منصوبوں کی معاونت نہیں کرتے تو پھر، محمد عرفان کے بقول، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے منصوبے اپنے اشتہارات کیسے شائع کرتے ہیں اور "اگر یہ اشتہارات ہر جگہ موجود ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتھارٹی ان سے لاعلم کیوں ہے"۔ 

'سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ'

غیر قانونی رہائشی سکیموں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے اس سال پنجاب حکومت نے ایک نئی کوشش شروع کی ہے جس کے نتیجے میں گورنر پنجاب نے ایک آرڈی ننس کے ذریعے اس کام کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ 9 اپریل 2021 کو جاری کیے گئے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس کی سربراہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سابق جج کو دی گئی ہے جب کہ اس پانچ دیگر ارکان میں سے ایک کا تعلق انجینئرنگ کے شعبے سے، دوسرے کا شہری منصوبہ بندی سے، تیسرے کا قانون سے اور چوتھے کا تحفظِ ماحولیات کے شعبے سے ہو گا۔ اس کا پانچواں رکن کسی بھی ایسے شعبے کا ماہر ہو سکتا ہے جو رہائشی اور تعمیراتی کاموں سے منسلک ہو۔ 

اعلامیے کے مطابق اس کمیشن کو فوجی چھاؤنیوں اور دفاعی مقاصد کے لیے مختص جگہوں کے علاوہ پورے پنجاب پر اختیار حاصل ہوگا اور اس کا بنیادی کام صوبے بھر میں موجود غیرقانونی رہائشی اور تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ لینا اور ان میں سے ہر ایک کو قانون کے دائرے میں لانے کے علیحدہ علیحدہ طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ 

یہ کمیشن اُن تمام رہائشی منصوبوں کو قانونی قرار دے سکتا ہے جو زرعی یا صنعتی مقاصد کے لیے مختص زمین پر بغیر اجازت قائم کیے گئے ہیں بشرطیکہ وہ اپنے رہائشی رقبے کی کل مروجہ قیمت کا دو فیصد بطور جرمانہ حکومت کو جمع کرا دیں۔ اسی طرح یہ کسی بھی ایسے رہائشی منصوبے کو قانونی قرار دے سکتا ہے جس میں کھلی جگہ، پارک یا قبرستان کے لیے پلاٹ نہ چھوڑے گئے ہوں بشرطیکہ وہ ان مقاصد کے لیے درکار پلاٹوں کی قیمت سے دو گنا جرمانہ ادا کر دیں (یا قبرستان کے لیے پانچ کلو میٹر کے اندر اندر متبادل زمین فراہم کر دیں)۔ 

اگست 2021 میں پنجاب کابینہ نے 12 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر جسٹس (ریٹائرڈ) عظمت سعید شیخ کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی۔ اس کے باقی ارکان میں مبین الدین قاضی، جوادالحسن، اسلم مغل اور وسیم احمد خان شامل ہیں۔ 

تاہم شہری امور کے محقق اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کے استاد ہاشم بن راشد اس کمیشن کے قیام سے خوش نہیں بلکہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "کیا کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بھی کبھی کوئی ایسا کمیشن بنایا جائے گا؟" 

ان کا کہنا ہے کہ دراصل اس کمیشن کا قیام "حکومت اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے سرمایہ کاروں کے مفاد کا تحفظ کرنے کی کوشش" ہے۔ ان کے مطابق اس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ "ان کے غیرقانونی منصوبوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی بلکہ ان پر کچھ جرمانہ عائد کر کے انہیں قانونی قرار دے دیا جائے گا"۔

تاریخ اشاعت 1 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔