زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے: 'اگر کسی شیڈولڈ کاسٹ عورت کا شوہر اسے چھوڑ دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ باقی عمر اکیلے گزار دے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے: 'اگر کسی شیڈولڈ کاسٹ عورت کا شوہر اسے چھوڑ دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ باقی عمر اکیلے گزار دے'۔

محمد عباس خاصخیلی

postImg

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے: 'اگر کسی شیڈولڈ کاسٹ عورت کا شوہر اسے چھوڑ دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ باقی عمر اکیلے گزار دے'۔

محمد عباس خاصخیلی

ہنجو کولہی نہ تو اپنے کمرے سے باہر نکلتی ہیں اور نہ ہی کسی سے بات کرتی ہیں۔ دن ہو یا رات وہ چارپائی پر لیٹ کر چھت کو گھورتی رہتی ہیں اور روتی رہتی ہیں۔

اِس سال فروری میں انہوں نے ایک زہریلی دوا پی کر خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن ان کے والد اور گاؤں کے لوگوں نے انہیں بروقت ہسپتال پہنچا کر ان کی جان بچا لی تھی۔ اب ان کی والدہ سونی کولہی ہر وقت ان پر نظر رکھتی ہیں تاکہ وہ دوبارہ کوئی خطرناک قدم اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔

وہ شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادری سے تعلق رکھتی ہیں اور سندھ کے جنوبی شہر بدین سے آٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع بھورو کولہی نامی گاؤں میں رہتی ہیں۔ ان کی شادی محض 17 سال کی عمر میں فروری 2017 میں اپنی برادری کے راجو کولہی سے ہوئی تھی لیکن اس کے چند ماہ بعد ہی ان کے شوہر نے انہیں مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا تھا ۔ اب وہ نہ تو انہیں واپس لے جانے پر تیار ہے اور نہ ہی انہیں طلاق دیتا ہے۔

ان کے 52 سالہ والد ریجھو کولہی کھیت مزدور ہیں۔ انہوں نے شروع میں تو کوشش کی کہ صلح صفائی سے اس مسئلے کا حل نکل آئے لیکن اس میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بدین میں درخواست دی کہ ان کی بیٹی کو طلاق دلائی جائے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ "بیسیوں پیشیاں بھگتنے اور تین وکیل تبدیل کرنے کے بعد بھی یہ مقدمہ آگے نہیں بڑھا" حالانکہ ایسے مقدمات میں عدالتیں عموماً چھ ماہ میں فیصلہ دے دیتی ہیں۔

وہ اپنی تین سال کی زرعی آمدنی اور دو بھینسوں اور چار بکریوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم وکیلوں کی فیسوں پر خرچ کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وکیل ان سے "پیسے تو بٹورتے رہے ہیں لیکن انہوں نے ان کے مقدمے پر کوئی توجہ نہیں دی"۔ دوسری جانب راجو کولہی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا وکیل ہر پیشی پر اگلی تاریخ لے لیتا تھا۔

اس دوران مئی 2022 میں کولہی برادری کے معززین نے ریجھو کولہی کو کہا کہ اگر وہ مقدمہ واپس لے لیں تو دونوں خاندانوں میں تصفیہ کرا کے ان کی بیٹی کو ان کے سسرال بھجوایا جا سکتا ہے۔ ان معززین کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں جانے سے ان کی برادری کی بدنامی ہو رہی ہے اور اگر اسے ختم نہ کیا گیا تو آئندہ دوسرے لوگ بھی اپنے گھریلو جھگڑے عدالتوں میں لے جانے لگیں گے۔

چنانچہ ان کے کہنے پر ریجھو کولہی نے تو مقدمہ واپس لے لیا لیکن ان کا داماد اور اس کے اہل خانہ ابھی تک ان سے صلح کرنے اور ہنجو کولہی کو اپنے گھر لے کر جانے سے انکاری ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے ان کے جہیز کا سامان بھی اپنے پاس رکھ لیا ہے اور انہیں ماہانہ خرچہ بھی نہیں دیتے۔

ریجھو کولہی کو اب یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ان کی بیٹی کا مستقبل کیا ہو گا۔

ان کی اہلیہ سونی کولہی کہتی ہیں کہ "میں نے بچپن میں سنا تھا کہ اگر کسی عورت کا شوہر مرجائے یا اسے چھوڑ دے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی جان دے دے یا باقی عمر اکیلے گزار دے۔ شاید میری بدنصیب بیٹی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا"۔

<p>ریجھو کولہی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ<br></p>

ریجھو کولہی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ

تاہم ہنجو کوہلی کو محض اپنے مستقبل کی فکر نہیں۔ وہ اس لیے بھی افسردہ رہتی ہیں کہ ان کے طلاق مانگنے کی وجہ سے ان کی دوسری بہنوں کی شادیاں بھی نہیں ہو رہیں کیونکہ ان کی برادری ان کے پورے خاندان سے نالاں ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور کہتی ہیں کہ "میں اپنے خاندان کو مشکلات میں نہیں دیکھ سکتی۔ اس لیے میں اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ جانے کو تیار ہوں چاہے وہ مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار ڈالے"۔

اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

بدین شہر سے سات کلومیٹر مغرب میں مورجھر نہر کے دائیں کنارے پر موتی کولہی نامی گاؤں واقع ہے جہاں 43 سالہ ورزو کولہی پچھلے 23 سال سے اکیلی رہ رہی ہیں کیونکہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہونے کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔
وہ کہتی ہیں کہ 19 سال کی عمر میں وہ سوبھو کولہی گاؤں کے کھیت مزدور والہو کولہی سے بیاہی گئیں لیکن وہ انہیں بہت مارتا پیٹتا تھا۔ شادی کے ایک سال بعد بالآخر وہ یہ الزام عائد کرکے ہوئے انہیں میکے چھوڑ گیا کہ وہ اس کی ماں سے لڑتی جھگڑتی ہیں جس کی وجہ سےاس کے  گھر کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ اس کے بعد وہ کبھی انہیں لینے نہیں آیا۔

بعدازاں کولہی برادری کے معززین نے ایک سادہ کاغذ پر ان دونوں میں طلاق بھی کرا دی جس کے نتیجے میں ان کے شوہر نے ان کا چند ماہ کا بیٹا اپنے پاس رکھ لیا۔ وہ اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکیں۔

طلاق کے چند سال بعد ورزو کولہی کے والدین کا انتقال ہو گیا اور چونکہ ان کا کوئی بھائی نہیں ہے لہٰذا وہ اکیلی ہی محنت مزدوری کر کے اپنی زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر مجبور ہو گئیں۔ اس صورتِ حال کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ "میرے لیے نہ تو دوبارہ شادی کرنا ممکن رہا اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی ایسی امید باندھی حالانکہ والہو نے مجھے طلاق دینے کے فوراً بعد دوسری شادی کر لی تھی"۔

سوبھو کولہی ہی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن چوون کولہی کہتے ہیں کہ ورزو کولہی کی طرح ضلع بدین میں ہزاروں شیڈولڈ کاسٹ عورتیں اپنے شوہروں سے علیحدگی اختیارکر کے تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر ایسے شیڈولڈ کاسٹ آبادی والے گاؤں میں سات سے دس ایسی عورتیں ضرور رہتی ہیں جہاں 50 یا اس سے زائد گھر پائے جاتے ہیں۔

 اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادریوں سے تعلق رکھنے والا کوئی مرد اپنی بیوی سے ناطہ توڑ لے تو یہ بات اس عورت اور اس کے خاندان کے لیے مستقل بدنامی کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی لیے، چوون کولہی کے مطابق، "شادی کے وقت لڑکیوں کے ماں باپ انہیں کہتے ہیں کہ اب ان کا جینا مرنا ان کے سسرال کے ساتھ ہی ہے اور اب سسرال کے گھر سے ان کی لاش ہی واپس آنی چاہیے"۔

لیکن شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کے ایک مقامی مذہبی پیشوا بھگت پریم کمار ان باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کا تعلق بدین کے گاؤں پریموں کولہی سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں کی مذہبی کتاب "گیتا میں کہیں نہیں لکھا کہ عورت دوسری شادی نہیں کر سکتی"۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل میں عورتوں کو دوسری شادی سے روکنے کے لیے ان قدیم سماجی روایات کا سہارا لیا جاتا ہے جو، ان کی نظر میں، ستی کی رسم کا تسلسل ہیں جس کے تحت شوہر کے مرنے پر اس کی بیوی کو بھی اس کی چتا میں جل کر مرنا ہوتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ "اسی طرح کی فرسودہ رسمیں ہندو عورتوں کو درپیش بہت سے مسائل کا بنیادی سبب ہیں"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہندو عورتوں کے ازدواجی حقوق: پاکستانی ہندوؤں کے لیے بنائے گئے شادی اور طلاق کے قوانین میں پائی جانے والی خامیاں۔

توڑ کرنے کے لیے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کی اکثریت بالعموم اور ان میں سے عورتیں بالخصوص غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق سے ناواقف ہیں جس کے باعث "ہنجو کولہی اور ورزو کولہی جیسی عورتیں اور ان کے خاندان ظلم کا نشانہ بنتے رہتے ہیں"۔

ضلع تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے نوجوان سماجی کارکن اور قانون کے طالب علم چندر کمار کولہی بھی 40 سے زائد ایسی عورتوں سے مل چکے ہیں جو اِن دونوں کی طرح اپنے شوہروں سے الگ رہ رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قانونی حقوق سے آگاہ نہ ہونے کے باعث ان میں سے صرف دو ہی عدالت تک پہنچ سکی ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ اس صورتِ حال میں بہتری آ رہی ہے کیونکہ، ان کے مطابق، شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں "تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ان میں فرسودہ سماجی رسومات کے خلاف شعور بھی بیدار ہونے لگا ہے"۔

انہوں ںے خود بھی اپنے بڑے بھائی اور وکیل ہیمن داس کولہی اور چند دیگر ہم خیال نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنا رکھی ہے جو طلاق یافتہ عورتوں اور ان کے خاندانوں کی قانونی مدد کرتی ہے اور ممکن ہو تو ایسی عورتوں کی دوسری شادی بھی کرا دیتی ہے۔

تاریخ اشاعت 31 جولائی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔