ذات پات اور حالات کے قیدی: وسطی پنجاب میں رہنے والے ہندوؤں کی زندگی مسلسل دباؤ میں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ذات پات اور حالات کے قیدی: وسطی پنجاب میں رہنے والے ہندوؤں کی زندگی مسلسل دباؤ میں۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ذات پات اور حالات کے قیدی: وسطی پنجاب میں رہنے والے ہندوؤں کی زندگی مسلسل دباؤ میں۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

ضلع منڈی بہاؤالدین میں واقع بوسال نامی قصبے کے ارد گرد کوئی بھی ایسی چیز دکھائی نہیں دیتی جو معمول سے ہٹ کر ہو۔ وسطی پنجاب کے کسی بھی دیہاتی علاقے کی طرح یہاں حدِ نظر تک انسانی آبادیوں کے پہلو میں نہریں بہہ رہی ہیں اور ان کے ارد گرد دور دور تک باغات اور سر سبز کھیت پھیلے ہوئے ہیں۔

مگر اس عام سے علاقے کے بیچوں بیچ ایک انتہائی غیر معمولی بات چھپی ہوئی ہے -- ایک ہندو خاندان یہاں ایک ایسی عمارت میں مقیم ہے جو قیامِ پاکستان سے کئی سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ حویلی دیوان چند کے نام سے جانی جانے والی یہ عمارت بوسال سے تقریباً پانچ کلو میٹر شمال میں واقع ہے اور بظاہر کسی بھی ایسی شکستہ اور ویران رہائش گاہ کی طرح لگتی ہے جسے اس کے مکین تقسیمِ برِصغیر کے وقت چھوڑ کر انڈیا چلے گئے ہوں۔ فرق صرف یہ ہے اس حویلی کے ہندو مالک اب بھی یہاں رہائش پذیر ہیں۔

سپنا کویتا اوبرائے حویلی کے موجودہ باسیوں میں سب سے بڑی عمر کی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے دادا دیوان چند اوبرائے نے 1923 میں زرعی زمین خرید کر اس میں یہ حویلی تعمیر کرائی تھی

اگرچہ انہوں نے انجنئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی لیکن وہ ٹرکوں کے ذریعے مال براداری کا کام کرتے تھے۔ سپنا کہتی ہیں کہ اگست 1947 میں فوج نے بوسال اور اس کے گرد و نواح میں مقیم ہندو خاندانوں کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان نئی نئی بنی سرحد کے دوسری طرف پہنچانے کے لئے انہی کے ٹرک استعمال کئے تھے۔ دیوان چند، ان کی اہلیہ اور ان کے بیٹے سرداری لال اس علاقے سے رخصت ہونے والے آخری ٹرک میں سوار تھے مگر ایک ہجوم نے ان کے قافلے پر حملہ کر دیا جس کے دوران دیوان چند کے گلے میں گولی لگ گئی چنانچہ ان کے علاج کے لئے ان کے ٹرک کو واپس موڑنا پڑا۔

دیوان چند نہ صرف اس حملے کے کئی سال بعد زندہ رہے بلکہ ان کے بیٹے سرداری لال نے بعد ازاں پاکستان میں رہ جانے والے ایک ہندو وکیل اندد جیت ساہنی کی بیٹی کرن ساہنی سے شادی کر لی۔ ساہنی خاندان بنیادی طور پر ضلع سرگودھا میں واقع سالم نامی گاوں ٔکا رہائشی ہے لیکن اندر جیت ساہنی کے والد موہن لال ساہنی نے سرگودھا شہر میں بھی ایک گھر بنا رکھا تھا۔

سپنا سرداری لال اور کرن کے سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ ان کی ایک اور بہن اور ایک بھائی بھی ہیں۔ یہ تینوں بہن بھائی بوسال کے علاقے میں 125 ایکڑ سے زائد زمین کے مالک ہیں جس پر وہ مخلتف فصلیں اور پھل کاشت کرتے ہیں۔

سپنا کہتی ہیں کہ ان کے والدین کا حال میں ہی انتقال ہوا ہے مگر ان کی زندگی میں ہی سپنا اپنے خاندان کی سب سے زیادہ جانی پہچانی شخصیت بن چکی تھیں۔ وہ کئی سال سے فیصل آباد ایوانِ صنعت و تجارت اور سرگودھا ایسوسی ایشن آف کینو گروورز کی رکن ہیں۔ اپنے خاندانی کی کمپنی اوبرائے ٹریڈرز کی نمائندہ کے طور پر وہ انڈیا سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں صنعتی اور تجارتی نمائشوں میں شرکت کر چکی ہیں۔

لیکن پچاس سال سے زائد عمر کی ہو جانے کے باوجود سپنا نے اب تک شادی نہیں کی۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ "اپنی ماں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں"۔ ان کی چھوٹی بہن نے بھی اسی وجہ سے شادی نہیں کی۔ اپنی ماں کے ساتھ رہنے کی خواہش کے سبب دونوں بہنوں نے اپنی حویلی چھوڑ کر کسی بڑے شہر یا کسی دوسرے ملک جانے کا بھی نہیں سوچا۔

سپنا کا کہنا ہے کہ "اگر میں شادی کرنا بھی چاہتی تو میرے پاس زیادہ مواقع نہیں تھے"۔ اگرچہ ان کے ننھیال کے خاندان کے لوگ اب بھی لاہور اور سرگودھا میں مقیم ہیں لیکن وہ ان میں سے کسی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے مذہب میں خونی رشتوں کے درمیان شادی کرنا ممنوع ہے۔ لہٰذا وہ کہتی ہیں کہ شادی کرنے کے لئے "یا تو مجھے اسلام قبول کرنا پڑتا یا انڈییا سندھ (جہاں پاکستان کے ہندوؤں کی اکثریت بستی ہے) میں کوئی رشتہ ڈھونڈنا پڑتا"۔

مذہب تبدیل کرنا ان کے لئے نا ممکن تھا اور وہ اپنی ماں کو چھوڑ کر انڈیا بھی نہیں جا سکتی تھیں۔ سندھ میں شاید انھیں کوئی رشتہ مل جاتا مگر اس صورت میں بھی نہ صرف انھیں اپنی ماں سے دور جانا پڑتا بلکہ شاید ان کے لئے ذات پات سے منسلک کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جاتیں۔

ہندو مذہبی تقسیم کے حساب سے سپنا کی ذات کھشتری ہے (جس سے تعلق رکھنے والے لوگ عام طور پر حکمران، جنگجو اور کسان مانے جانتے ہیں)۔ اگرچہ ہزاروں کھشتری سندھ میں بھی رہتے ہیں لیکن ان کی مذہبی تاریخ اور روایات پنجاب میں بسنے والے اوبرائے اور ساہنی ہندوؤں کی تاریخ اور روایات سے بہت مختلف ہیں۔

سپنا کہتی ہیں کہ "ہندوؤں کے لئے اپنی ذات اور مذہب سے باہر شادی کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر اگر وہ اپنے سے کم تر سماجی اور مذہبی حیثیت رکھنے والے کسی فرد سے شادی کر لیں تو ان کا خاندان اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرتا"۔

ان کے بھائی کو بھی اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر ہندو روایات کے برعکس ان کے والدین اور ان کی بہنوں نے اپنی ذات سے باہر شادی کرنے کے ان کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی۔ اب ان کے دو بچے ہیں جو ایک دن اپنے پڑدادا کی بنائی ہوئی حویلی کے وارث بن جائیں گے۔ خاندان کی حمایت کے بغیر سپنا کے بھائی بھی کبھی شادی نہ کر پاتے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں ان کے پاس شادی کرنے کا کوئی مذہبی یا قانونی طریقہ موجود ہی نہ تھا۔ ایک طرف تو پنجاب کے جس حصے میں وہ رہتے ہیں وہاں ان کے ہم ذات ہندوؤں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو بالغ ہندو لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ اجازت دیتا ہو کہ وہ اپنی مرضی سے جس سے چاہیں شادی کر لیں۔

اس صورت میں سپنا کے خاندان کے آگے بڑھنے کے امکانات ختم ہو جاتے اور ان کی حویلی اور دوسرے اثاثوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا۔

تبدیلی مذہب کے لیے بالواسطہ دباؤ

حویلی دیوان چند سے تقریباً 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں دودا نامی گاؤں واقع ہے۔ 14 اگست 1947 سے پہلے یہاں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر تھی جن میں سے کئی ایک کو ان کے ہمسایوں نے انڈیا نہ جانے پر قائل کر لیا۔ لیکن تب سے اب تک ان کی آبادی میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں ان میں سے کئی ایک نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ صرف پچھلے 20 سال میں ہی ان کی تعداد 50 سے کم ہو کر پندرہ بیس رہ گئی ہے۔

دودا کا شمشان گھاٹ

دودا کے ہندوؤں پرکبھی بھی براہِ راست یہ دباؤ نہیں رہا کہ وہ اپنا مذہب بدل لیں لیکن ان کے پاس اپنے بچوں کو ہندو رسم و روایات اور تاریخ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے کوئی ادارہ موجود نہیں جس کے باعث ان کے لڑکے لڑکیاں ایک ایسے تعلیمی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کے سائے میں پل رہے ہیں جو مسلمانوں کے لئے بنایا گیا ہے۔

اس ڈھانچے کا اثر ان پر اتنا گہرا ہے کہ اپنے مذہب کے ساتھ ان کا تعلق روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا جب ان میں سے ایک شخص نے کچھ عرصہ پہلے ہندو مت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا اور مذہبی مبلغ بن گیا تو اس کی تبلیغ کی نتیجے میں مقامی ہندوؤں میں مذہب کی تبدیلی کا رجحان بڑھ گیا۔

دودا کے ہندوؤں کی حالت سندھ میں رہنے والے ہندوؤں سے بہت مختلف ہے کیونکہ وہاں ہندو اتنی بڑی تعداد میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے انتخابی اور سماجی اثر رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کسی حد تک اپنی مذہبی روایات کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن وسطی پنجاب میں رہنے والے تھوڑے سے ہندو ریاستی سرپرستی اور قانون کی پناہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مذہبی اقدار اور روایات کا تحفظ کرنے میں بہت سی مشکلات سے دو چار ہیں۔

امی چند، جنہیں ان کے جاننے والے مسلمان امین چند کہتے ہیں تا کہ ان کا نام زیادہ ہندووانہ نہ معلوم ہو، دودا میں جانوروں کے علاج کے لئے قائم کی گئی ایک ڈسپنسری میں کام کرتے ہیں۔ وہ مقامی ہندو برادری کے غیر رسمی سربراہ ہیں اور پچھلے کچھ سالوں میں اپنے بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سمیت کئی مقامی لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دودا میں جو لوگ ابھی بھی اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر قائم ہیں انہیں کئی مسائل کا سامنا ہے۔

اس سال جون کے مہینے میں ایک دن وہ اپنی ڈسپنسری میں بیٹھے ہیں۔ قریب ہی جھاڑیوں سے اٹا ایک شمشان گھاٹ ہے جس میں موجود ایک ٹوٹے پھوٹے مزار اور اس کے ارد گرد بنی قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ مقامی ہندو اس جگہ اپنے مُردوں کو دفناتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اپنی زندگی میں وصیت کر کے جاتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے نعش کو جلایا جائے انہیں ان کی موت کے بعد سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب لے جا کر ان کا کریا کرم کیا جاتا ہے۔

موت کے ساتھ ساتھ شادی بھی امی چند کی برادری کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اپنے بچوں کے لئے ہندو رشتے ڈھونڈنا تو ان کے لئے مشکل ہے ہی مگر انکی شادیاں ہندو رسم و روایات کے مطابق کرنا بھی ان کے لئے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ چونکہ ان کے گاؤں کے آس پاس کوئی ہندو مندر موجود نہیں اس لئے انہیں شادیاں کرانے کے لئے کسی پنڈت کو لاہور سے لانا پڑتا ہے لیکن چونکہ دودا کے تمام ہندو چھوٹے کسان ہیں ان کے لئے ان کے لئے پنڈت کے سفر خرچ، کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اگر وہ یہ مشکل مرحلہ طے کر بھی لیں تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ان شادیوں کو کہاں اور کیسے رجسٹرڈ کرائیں۔ سندھ حکومت نے تو ایسے پنڈت تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں جنہیں یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ کہ وہ سرکاری دفتروں میں ہندو شادیوں کا اندراج کرا سکتے ہیں لیکن پنجاب میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔ اس وجہ سے 2021 سے پہلے دودا میں ہونے والی کسی بھی ہندو شادی کا کوئی سرکای ریکارڈ موجود نہیں۔

اس مسئلے سے ایک اور مشکل جنم لیتی ہے: دودا کے ہندو اپنے بچوں کی پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اس لئے نہیں بنوا پاتے کہ ان کی اپنی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ جب یہ بچے بڑے ہوتے ہیں تو سکول میں داخلے سے لے کر نوکری کی درخواست دینے تک انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے (تاہم انہوں نے اس کا کچھ نہ کچھ حل ضرور نکال لیا ہے کیونکہ ان میں سے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور کچھ سرکاری نوکریاں بھی کر رہے ہیں)۔

چند ماہ پہلے امی چند نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا جب انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ہاں رجسٹر کروا لی حالانکہ ان کے پاس اپنی شادی کا کوئی ثبوت اور اپنی بیٹی کی پیدائش کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے یہ رجسٹریشن اس لئے کرائی کہ وہ اپنی ایم اے پاس بیٹی کے لئے نوکری کی درخواست جمع کرانے کا عمل آسان بنانا چاہتے تھے ۔

شروع میں تو امی چند کو معلوم نہیں تھا کہ وہ رجسٹریشن کیسے کرائیں گے لیکن اس سلسلے میں ان کا پیشہ ان کے بہت کام آیا۔ اپنے علاقے میں جانوروں کے واحد معالج ہونے کے سبب وہ ایسے تمام مقامی سیاست دانوں اور افسران کے جانوروں کا علاج کرتے ہیں جو بہت بااثر ہیں۔ جب وہ اپنی درخواست لے کر ان میں سے کچھ لوگوں کے پاس گئے تو ان سبھی نے رجسٹریشن کے عمل میں ان کی ہر ممکن مدد کی اور یوں وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

مگر یہ رجسٹریشن مکمل طور پر نقائص سے پاک نہیں۔ اس کے مطابق ان کی بیٹی اور اس کا شوہر دونوں سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ امی چند کہتے ہیں کہ انہوں نے نادرا کے افسروں کو اپنی بیٹی کی شادی کا ایک ایسا دستاویزی ثبوت دکھایا تھا جو ایک ہندو مندر کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور جس پر ایک ہندو پنڈت کے دستخط تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان افسران نے اس دستاویز پر کوئی دھیان نہ دیا اور اپنی مرضی سے مذہب کے خانے میں سکھ درج کر دیا۔

تاہم امی چند اس نقص کے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں۔ انہیں خوشی ہے کہ ان کی بیٹی "کم از کم اب نوکری کے لئے درخواست تو جمع کرا سکے گی"۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کی بیٹی کو بہر حال ایک مذہبی اقلیت کے رکن کے طور پر ہی دیکھا جائے گا اس لئے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس اقلیت سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے مطابق "لوگ اسے ایک غیر مسلم ہی سمجھیں گے اور اسی بنیاد پر اس سے پیش آئیں گے"۔

دودا میں حال ہی ہندو سے مسلمان ہونے والے لوگ بھی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے والے مسلمان ان سے برابری کا سلوک نہیں کرتے۔ نئے نئے مسلمان ہوئے ایک درزی، جو لمبی ڈاڑھی اور سفید شلوار قمیض کے سبب ایک مسلم مبلغ معلوم ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے قبولِ اسلام نے ان کے ماضی اور حال کے درمیان ایک دیوار تو کھڑی کر دی ہے مگر انہیں معلوم نہیں کہ ان کا مستقبل کیسا ہوگا۔

اپنے خدشے کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "ہندو گھرانے اب ہمیں رشتے نہیں دیتے کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ہم نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور انہیں اکیلا چھوڑ دیا ہے اور مسلمان ہمیں اس لئے رشتے نہیں دیتے کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہم ہندو ہی تو تھے"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 12 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔