English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

20 ہزار روپے اور آدھا من آٹا لو اور گڈی کوہلی ہمارے حوالے کرو: تھرپارکر میں جبری تبدیلی مذہب

اختر حفیظ

postImg

20 ہزار روپے اور آدھا من آٹا لو اور گڈی کوہلی ہمارے حوالے کرو: تھرپارکر میں جبری تبدیلی مذہب

اختر حفیظ

حالیہ دنوں سندھ کے ضلع تھرپارکر سے تعلق رکھنے والی نوعمر لڑکی گڈی کولہی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ بتا رہی ہیں کہ انہیں اغوا کر کے زبردستی ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور سال بھر زنجیروں میں جکڑ کر قید رکھا گیا۔

گڈی کا تعلق تھرپارکر کے علاقے چیلہار سے ہے جو مٹھی سے 30 کلومیٹر واقع ہے۔ وہ ماں باپ اور بڑی بہن کے ساتھ ایک جھونپڑی نما گھر میں رہتی ہیں۔ ان کے دونوں والدین کھیت مزدوری کر کے روٹی کماتے ہیں۔

گڈی کی والدہ سیتا کے بقول ایک سال پہلے وہ دونوں ماں بیٹی لکڑیاں چننے کے لئے گئیں تو گھر سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر بکھو گاؤں میں رستم جونیجو نامی شخص اور اس کے دو ساتھیوں نے گڈی کو اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا۔ اس وقت گڈی کی عمر 14 برس تھی۔

" جب گڈی کو رستم نے اغوا کیا تو مجھے اور میرے شوہر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جس کی وجہ سے ہم مقدمہ درج نہیں کرواسکے تاہم میں نے بکھو گاؤں کے زمیندار سجن جونیجو اور میر جونیجو کے سامنے فریاد کی مگر وہ ٹالتے رہے "۔

بیس اپریل 2023ء کو پولیس نے سیتا کو اطلاع دی کہ گڈی اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگ کر تھانے پہنچ گئی ہیں۔ گڈی کو رستم نے اپنے گاؤں ہرپار میں قید رکھا جو کہ گڈی کے گاؤں سے پانچ کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

گڈی کی وڈیو کے بعد واقعے کی تفصیلات میڈیا پر آئیں تو سماجی تنظیموں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں گڈی اپنے اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔
اب تک اس مقدمے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ایف آئی آر میں نامزد ملزم رستم جونیجو، ان کے چچازاد بھائی کامران جونیجو اور شمعون جونیجو ضمانت پر ہیں۔عدالت نے فریقین کو 16 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

گڈی کا کہنا ہے: "رستم جونیجو اور ان کے ساتھی انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے میری ماں سے کہا ہے کہ گڈی کو ہمارے حوالے کرو اور اس کے عوض 20 ہزار روپے اور آدھا من آٹا لے لو وگرنہ اچھا نہیں ہو گا۔"

اس کیس کے مرکزی ملزم رستم جونیجو ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے گڈی کولہی کو اغوا نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے مرضی سے ان کے ساتھ نکاح کیا ہے۔

"میرا ان کے گھر آنا جانا تھا۔ اس دوران اسے مجھ سے محبت ہو گئی اور ہم دونوں نے ضلع عمرکوٹ کی تحصیل سامارو میں پیر سرہندی کے ہاں نکاح کیا۔ گڈی نے وہیں اسلام قبول کیا تھا اور اس کا اسلامی نام امامت رکھا گیا۔ میرے پاس گڈی کے مذہب تبدیل کرنے کی سند ہے۔"

گڈی کولہی کے ماموں رام چند کہتے ہیں کہ ان کی بھتیجی نابالغ ہے اور اس کے مذہب کی تبدیلی کی بات سراسر جھوٹ ہے۔

سماجی کارکن پشپا کماری اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہندو کمیونٹی کی لڑکیاں ناجائز مقاصد کے لئے بااثر افراد کا آسان ہدف ہوتی ہیں کیونکہ ان کی کہیں داد رسی نہیں ہوتی۔

"اگر کوئی بالغ فرد مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے مگر پہلے اس کی عمر کا تعین ہونا ضروری ہے۔ ہندو برادری کی نابالغ لڑکیوں کو ورغلا کر صرف شادی کے لیے ایک تبدیلی مذہب کی سند بنوائی جاتی ہے جس کے ردعمل میں ریاست کچھ بھی نہیں کرتی۔ ان حالات میں خاص طور اوڈ، بھیل اور کولہی کمیونٹی ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔"

صوبہ سندھ میں قانونی طور پر شادی کے وقت لڑکی کی عمر کم از کم 18 برس ہونا لازمی ہے۔ مگر اس کے باوجود کم عمری کی شادی کے واقعات تسلسل سے سامنے آتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی ویرجی کولہی کہتے ہیں کہ "یہ معاملہ جبری مذہبی تبدیلی کا نہیں بلکہ یہ ایک مجرمانہ سوچ کا تسلسل ہے جو کسی ذات پات یا مذہب کو نہیں دیکھتی۔ سندھ میں لڑکیوں کا اغوا یا ان کی زبردستی شادی محض ہندو برادری تک محدود نہیں ہے۔ مسلم لڑکیاں بھی اس ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ چونکہ غیر مسلم تعداد میں کم ہیں اس لیے ان کے ساتھ ہونے والے واقعات جلدی منظر عام پر آجاتے ہیں۔"

ویرجی کولہی کے مطابق خاص بات یہ ہے کہ ایسے واقعات میں غیر مسلموں کی جانب سے پُرزور ردعمل نہیں آتا کیوں کہ ان سے زیادتی کرنے والے لوگ طاقت ور اور بااثر ہوتے ہیں۔

"عام طور پر جن لڑکیوں کے مذہب کی تبدیلی کا معاملہ سامنے آتا ہے ان کی عمر کا ریکارڈ تحریری طور پر کہیں موجود نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے شک کا فائدہ ان عناصر کو مل جاتا ہے جو لڑکیوں کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

مسیحی لڑکیوں کا اغوا اور جبری شادی: 'کسی شہری کو دوسروں پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں'۔ 

قانونی ماہر منور پلی کا کہنا ہے کہ ملک میں جب اس نوعیت کے کیس سامنے آتے ہیں تو زیادہ تر یہ کہا جاتا کہ لڑکی یا عورت کو اغوا کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان پینل کوڈ میں کوئی ایسا سیکشن نہیں جس میں جبراً کسی کا مذہب تبدیل کرانے کی کوئی سزا مقرر کی گئی ہو۔ جبری تبدیلی مذہب کے خلاف بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن اسے منظوری نہیں مل سکی۔

سنٹر فار سوشل جسٹس کے مطابق 2021ء میں سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے 78 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2022ء میں یہ تعداد بڑھ کر 124 ہو گئی جن میں 81 ہندو، 42 مسیحی اور ایک سکھ خاتون کا مذہب زبردستی تبدیل کرائے جانے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں۔

گڈی کولہی کہتی ہیں "مجھے عدالتوں سے تو انصاف کی امید ہے البتہ بااثر لوگوں نے ہمارا  جینا دوبھر کر دیا ہے اور ہمیں مقدمے سے دستبردار ہونے کے لئے کہا جا رہا ہے لیکن جو کچھ بھی ہو جائے میں انصاف کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹوں گی"۔

تاریخ اشاعت 15 مئی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں۔ وہ ایک سندھی روزنامہ سے وابستہ ہیں۔

  • 3منٹ کی پڑھائی loop
  • وڈیو شامل ہےloop
  • 6منٹ کی پڑھائی loop
  • وڈیو شامل ہےloop