زیریں سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو لڑکوں کا قبولِ اسلام: 'میرا بیٹا مجھے گلے نہیں لگاتا کیونکہ وہ مجھے ناپاک سمجھتا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

زیریں سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو لڑکوں کا قبولِ اسلام: 'میرا بیٹا مجھے گلے نہیں لگاتا کیونکہ وہ مجھے ناپاک سمجھتا ہے'۔

محمد عباس خاصخیلی

postImg

زیریں سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو لڑکوں کا قبولِ اسلام: 'میرا بیٹا مجھے گلے نہیں لگاتا کیونکہ وہ مجھے ناپاک سمجھتا ہے'۔

محمد عباس خاصخیلی

نومبر 2019 کی ایک شام رام چند کولہی کو ان کے ایک رشتہ دار نے فون پر بتایا کہ ان کا 12 سالہ بیٹا کھیم راج اسلام قبول کرنے جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ، ان کے مطابق، ان کے بیٹے نے انہیں کبھی اپنے ارادے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ 

سندھ کے جنوبی ضلع بدین کے گاؤں دمبالو کے رہنے والے 54 سالہ رام چند کولہی ایک ہندو شیڈولڈ کاسٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور کھیت مزدوری کرتے ہیں۔ جب انہیں اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا گیا تو اس وقت وہ اپنے چھوٹے بھائی تھانور کولہی سے ملنے کے لیے 72 کلومیٹر دور بدین شہر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہیں سے ایک دوست سے موٹرسائیکل مستعار لی اور رات 10 بجے دمبالو واپس پہنچ گئے۔ 

وہاں پہنچ کر انہیں پتہ چلا کہ کھیم راج ایک مقامی مسجد میں موجود ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خاندان کے چند لوگوں کو ساتھ لیا اور رات کے اندھیرے میں اس مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر اسے پکارنے لگے (کیونکہ غیرمسلم ہونے کے ناطے انہیں اس کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی)۔ کافی دیر وہیں انتظار کرنے کے بعد انہیں کچھ مقامی لوگوں سے پتہ چلا کہ کھیم راج وہاں ہے ہی نہیں بلکہ اسے مسجد کے عقبی دروازے سے نکال کر 36 کلومیٹر دور ماتلی نامی قصبے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

یہ اطلاع پا کر رام چند کولہی ماتلی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ وہاں پہنچ کر انہیں علم ہوا کہ کھیم راج کو عبداللہ بن مسعود نامی مقامی مدرسے میں رکھا گیا ہے مگر جب وہ وہاں گئے تو وہ وہاں سے بھی غائب ہو چکا تھا۔ 

اپنے بیٹے کو ملنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد وہ اس امید پر گھر لوٹ گئے کہ شاید وہ کسی دن خود ہی واپس آ جائے۔ انہوں نے پولیس کو بھی اس کی گم شدگی کی کوئی اطلاع نہ دی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ "مجھے خدشہ تھا کہ کہیں الٹا میرے خلاف ہی کوئی مقدمہ نہ بنا دیا جائے"۔ 

لیکن چند روز بعد کھیم راج کی 52 سالہ والدہ آمی کولہی کو اپنے بیٹے سے جدائی کی وجہ سے بے ہوشی کے دورے پڑنے لگے۔ چنانچہ رام چند کولہی نے ایک بار پھر اسے ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس بار انہوں نے اپنی برادری کے معززین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا لیکن ان معززین نے انہیں بتایا کہ جب تک کھیم راج خود واپس آ کر یہ نہیں کہتا کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا گیا ہے اس وقت تک وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

رام چند کولہیرام چند کولہی

دوسری طرف گھر لوٹنے کے بجائے کھیم راج نے جنوری 2020 کی ایک رات رام چند کولہی کو فون کر کے بتایا اس نے اسلام قبول کر کے اپنا نام عبداللہ رکھ لیا ہے اور وہ ان سے اور اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ 

اگرچہ پچھلے ڈھائی سال میں وہ دو مرتبہ ان سے ملنے آیا ہے لیکن آمی کولہی روتے ہوئے کہتی ہیں کہ "دونوں مرتبہ اس نے گھر سے کچھ فاصلے پر رک کر ہمیں فون کر کے بلایا اور چند منٹ بات چیت کے بعد واپس چلا گیا"۔ انہیں افسوس ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو گلے بھی نہیں لگا سکیں کیونکہ وہ انہیں "ناپاک سمجھتا ہے"۔ 

مذہب، سماج، برادری

رام چند کولہی کے بڑے بیٹے ایسر کولہی کا کہنا ہے کہ کھیم راج کی دمبالو میں چانگ برادری کے کچھ نوجوانوں سے دوستی تھی اور وہ ان کی کریانے کی دکان پر بھی آتا جاتا رہتا تھا۔ وہ کہتے ہیں جب ان کے بھائی نے اسلام قبول کیا تو بعض لوگوں نے انہیں بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کا کہا۔ ان کے مطابق "ان لوگوں نے مجھے دھمکایا کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو وہ مجھے زبردستی مسلمان بنا لیں گے"۔

ان دھمکیوں کے نتیجے میں رام چند کولہی اور ان کے دوسرے بیٹے اگلے پانچ ماہ اپنے گھر سے باہر ہی نہیں نکلے۔ لیکن جون 2020 میں تجاوزات کے خلاف چلائی جانے والی ایک سرکاری مہم کے دوران ان کا دو کمروں پر مشتمل مکان مسمار کر دیا گیا جس میں وہ 22 سال سے مقیم تھے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ کارروائی چانگ برادری سے تعلق رکھنے والے مقامی مسلمانوں کے ایما پر کی گئی۔ اس کے ثبوت کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ "جس علاقے میں ہم رہتے تھے وہیں بہت سے دیگر لوگ بھی رہائش پذیر ہیں لیکن صرف ہمارے ہی مکان کو تجاوزات میں شمار کر کے گرایا گیا"۔ 

مکان سے محروم ہونے کے بعد وہ اپنی بیوی، بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ ضلع بدین کے گاؤں صوبھو کولہی میں اپنے بھائی تھانور کی دی ہوئی زمین پر منتقل ہو گئے۔ یہاں وہ باقی گاؤں سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر ہیں کیونکہ ان کے بیٹے کے قبولِ اسلام کی وجہ سے ان کی برادری ان سے قطع تعلق کر چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چند روز پہلے ان کی عمر رسیدہ چچی کا انتقال ہوا تو اس کی آخری رسومات میں ان کی برادری کے کسی فرد نے شرکت نہ کی۔ اسی طرح سات جون 2022 کو صوبھو کولہی میں ان کے ایک رشتہ دار کی شادی میں بھی انہیں نہیں بلایا گیا تھا۔

گاؤں صوبھو کولہی گاؤں صوبھو کولہی 

ایسر کولہی اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میرے بھائی نے اپنا مذہب تبدیل کر کے ہمارے خاندان کو برادری میں بدنام کر دیا ہے۔ لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 'دیکھو یہ ہے وہ شخص جس کا بھائی مسلمان ہو گیا ہے'۔ وہ طنزاً مجھ سے بھی پوچھتے ہیں کہ تم کب اپنا مذہب تبدیل کرو گے"۔ 

رام چند کولہی کی اہلیہ آمی کولہی کو کھیم راج کی جدائی کے ساتھ یہ دکھ بھی کھائے جا رہا ہے کہ اب کوئی ان کی بیٹی سونیا سے شادی نہیں کرے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ "سونیا کی عمر 22 سال ہو گئی ہے لیکن اس کے لیے کوئی رشتہ نہیں آ رہا۔ ہم نے اپنی برادری کے چند لوگوں سے رشتے کی بات کی تھی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کے وہ ہمارے ساتھ ناطہ جوڑ کر اپنی ناک نہیں کٹوانا چاہتے''۔ 

سندھ کے مشرقی ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو سے تعلق رکھنے والے آسن بھیل کے بیٹے مکیش نے 2013 میں اپنا مذہب تبدیل کیا تو ان کی برادری کے معززین کی تنظیم آل سندھ بھیل پنچایت نے بھی ان کے خاندان کو پانچ سال کے لیے گاؤں بدر کر دیا۔ اس پنچایت کے جنرل سیکرٹری ہیرا لال بھیل کہتے ہیں کہ اس خاندان نے گاؤں بدری کا زمانہ نواحی ضلع عمر کوٹ میں گزارا جس کے دوران "بھیل برادری کے کسی فرد نے ان کے ساتھ کوئی ربط نہ رکھا"۔

بدین اور عمر کوٹ کے درمیان واقع ضلع تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن آکاش ہمیرانی اسی طرح کے ایک اور واقعے سے آگاہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 2008 میں تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر کے گاؤں جانب علی شاہ میں رہنے والے ست رام داس نامی شیڈولڈ کاسٹ ہندو شخص کی 16 سالہ بیٹی رویتا نے اپنا مذہب تبدیل کیا تو ان کی برادری نے ان کے خاندان کے لیے وہاں رہنا دوبھر کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سلوک کے نتیجے میں ست رام داس کو اپنے خاندان سمیت عمرکوٹ منتقل ہونا پڑا "جس کے بعد ان کی کبھی کوئی خبر نہیں آئی"۔

تھانور کولہی اپنے دو بیٹوں اور بھانجے کے ساتھتھانور کولہی اپنے دو بیٹوں اور بھانجے کے ساتھ

ہیرا لال اس طرح کے سماجی بائیکاٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ "جب کسی گھرانے کو برادری سے نکال دیا جاتا ہے تو اس کے ہاں پانی پینا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے"۔ ان کے مطابق "ایک مقررہ عرصے تک نہ تو کوئی اس خاندان سے لین دین کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی خوشی یا غم کے موقعے پر بلایا جاتا ہے بلکہ اسے دوسروں سے دور رہ کر اپنی سزا کا عرصہ کاٹنا ہوتا ہے"۔  

ان کے مطابق اس سخت سلوک کا مقصد برادری میں شامل دوسرے لوگوں کو یہ سبق دینا ہوتا ہے کہ "اگر وہ اپنے مذہب پر قائم نہ رہے تو ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا"۔  

لیکن شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کی گیارہ غیرسرکاری تنظیموں پر مشتمل پاکستان دراوڑ اتحاد کے مرکزی چیئرمین فقیر شیوا اس بائیکاٹ کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں رائج پنچائتی نظام ہے جس میں چند لوگوں کو برادری کے تمام فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اس نظام کے خلاف ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پولیس کو بروقت کارروائی کر کے بائیکاٹ سے متاثرہ خاندان کو اس کے منفی اثرات سے بچانا چاہیے۔ 

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

ضلع بدین کے قصبے کڈھن میں رہنے والے ٹیکم کولہی کو اس کے آجر غلامو جمالی نے دسمبر 2021 میں جبراً مسلمان بنانا چاہا۔ اس وقت اس کی عمر صرف نو سال تھی اور وہ چوتھی جماعت میں زیرتعلیم تھا۔ 

جب اس نے اپنے والد 36 سالہ کیول کولہی کو بتایا کہ غلامو جمالی کے گھر میں کام کرتے ہوئے اسے اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو وہ اسے ساتھ لے کر پولیس کو رپورٹ درج کرانے کے لیے کڈھن تھانے چلے گئے۔ لیکن وہاں کے انچارج نے یہ کہہ کر انہیں گھر واپس بھیج دیا کہ ان کے بیٹے کی عمر اتنی کم ہے کہ اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے بعد کیول کولہی نے اپنے بھائی چیتن کولہی اور کولہی برادری کے دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر ضلع بدین کے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی جنہوں نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اس عمل میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ مگر کیول کولہی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کبھی وفا نہیں ہوا۔ 

اس دوران غلامو جمالی نے ٹیکم کولہی کو اغوا کر کے زبردستی اس کا مذہب تبدیل کرا دیا۔  

شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادریوں کے ارکان کہتے ہیں کہ پولیس اور انتظامیہ کے اسی طرح کے رویے کی وجہ سے وہ مذہب کی جبری تبدیلی کے بیشتر واقعات کے بارے میں سرکاری حکام کو بتاتے ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان حکام سے کسی منصفانہ کارروائی کی امید نہیں ہوتی بلکہ الٹا بدسلوکی کا خدشہ رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

غربت، ناخواندگی، ناکامی اور مایوسی: سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو اپنے مسائل کا حل خودکشی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔

تھرپارکر کے نواحی ضلع میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے سندھ ہائی کورٹ کے وکیل بھون راج کہتے ہیں کہ اس صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لیے کوئی قانون موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی نابالغ لڑکی کا مذہب تبدیل کرانے کے بعد اس کی شادی کر دی جائے تو اس پر سندھ میں 2013 میں بنائے گئے اس قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے جس کی رو سے 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی غیرقانونی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ "اگر کسی نابالغ لڑکے کا مذہب جبراً تبدیل کرایا جائے تو اس میں ملوث لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی"۔ 

بھون راج کے بقول اس قانونی خلا کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ان کے بارے میں نہ تو حکومت کو پتہ چل رہا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے کارکنوں کو خبر ہو رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی 2020 کی سالانہ رپورٹ میں سندھ سے ایسے چھ واقعات درج ہیں جن میں عورتوں اور لڑکیوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا لیکن اس میں مذہب تبدیل کرنے والے ایک بھی مرد یا لڑکے کا ذکر نہیں۔ اسی غیرسرکاری ادارے کے مطابق 2021 میں سندھ میں مذہب تبدیل کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی (جن میں سے سات کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی) لیکن اِس سال بھی مذہب تبدیل کرنے والے مردوں یا لڑکوں کا کوئی ایک واقعہ بھی اس کے علم میں نہیں آیا۔

تاریخ اشاعت 23 جولائی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔