تھل میں کسانوں نے روایتی فصلوں کی کاشت سے منہ موڑ لیا، چنے، مونگ پھلی اور گوار کے کھیت سکڑنے لگے

postImg

جہان خان

postImg

تھل میں کسانوں نے روایتی فصلوں کی کاشت سے منہ موڑ لیا، چنے، مونگ پھلی اور گوار کے کھیت سکڑنے لگے

جہان خان

صحرائے تھل کے ضلع خوشاب کی تحصیل نورپور اور اس سے متصل شہر قائدآباد ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ یہ دونوں علاقے کبھی چنے، گوار اور مونگ پھلی کی کاشت کے لیے مشہور تھے لیکن اب یہاں ان فصلوں کا زیرکاشت رقبہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

فصل کی کمی کے نتیجے میں ان اجناس کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ 2010 میں اس علاقے میں چنے کی ایک بوری کا ریٹ 3,200 روپے تھا جو اب 20 ہزار روپے میں ملتی ہے۔

اگرچہ موسمیاتی تبدیلیاں اور بیج کی قیمتوں سے لے کر ان کی بوائی، حفاظت، کٹائی اور منڈی یا گودام تک ترسیل کے اخراجات سمیت بہت سے عوامل بھی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن تھل کی ان تحصیلوں میں چنے اور دیگر روایتی فصلوں کی کاشت میں کمی کا ایک بڑا سبب سفیدے کا درخت بھی ہے۔

اس درخت نے پچھلے 30 سال میں تھل کے زرعی کلچر کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس علاقے میں 10 ایکڑ والے زمیندار سے لے کر 100 ایکڑ کے مالک تک سبھی اپنی زمینوں پر سفیدہ اگانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

نورپور کے علاقے آدھی سرگل سے تعلق رکھنے والے ملک خدا یار سلہال نے 2005ء میں پانچ ایکڑ رقبے پر سفیدہ کاشت کیا اور پانچ سال بعد یہ درخت ایک لاکھ 30 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے ساڑھے چھہ لاکھ میں فروخت کئے۔ اُس سال تھل میں فی ایکڑ پر چنے کی فصل نو ہزار 960 روپے آمدنی دے رہی تھی۔ اس طرح خدایار کو چنے کے مقابلے میں سفیدے سے 14 گنا زیادہ منافع ملا۔

تحصیل قائد آباد سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ٹیچر ملک عبدالرحمٰن اتراء آڑھت کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔انہوں نے 2010ء میں تحصیل قائد آباد کے علاقے جے سنگھ میں 18 ایکڑ رقبہ پر سفیدہ کاشت کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں ںے اپنے درخت 36 لاکھ میں فروخت کیے۔انہی درختوں نے جب دوبارہ پرورش پائی تو وہ 26 لاکھ کے فروخت ہوئے۔

اس طرح 18 ایکڑ پر سفیدے سے انہیں سات سے آٹھ سال میں 58 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی جو وہ کسی فصل سے حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ سفیدے کو تناور درخت بننے میں تقریباً چار سال لگتے ہیں۔

عبدالرحمٰن کے مطابق 2010ء میں سفیدہ اگانے پر ان کے فی ایکڑ اخراجات 15 ہزار روپے تھے۔ اس طرح 18 ایکڑ رقبہ پر ان کے تقریباً پونے تین لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

محکمہ جنگلات کے مطابق اس وقت تحصیل نورپور میں مجموعی زیرکاشت رقبے کے تقریباً 50 فیصد حصے پر سفیدہ اگایا گیا ہے جبکہ قائدآباد میں یہ رقبہ 30 فیصد ہے۔

<p> تحصیل نورپور میں مجموعی زیرکاشت رقبے کے تقریباً 50 فیصد حصے پر سفیدہ اگایا گیا ہے<br></p>

 تحصیل نورپور میں مجموعی زیرکاشت رقبے کے تقریباً 50 فیصد حصے پر سفیدہ اگایا گیا ہے

تحصیل نورپور تھل کے علاقے نور پور، روڈہ، راہداری، لُکو اور رنگ پور جبکہ تحصیل قائدآباد کے علاقے جے سنگھ، شاہ والا اور مٹھہ کھوہ بالخصوص 'سفیدے کے علاقے' بن چکے ہیں۔

سفیدہ ہارڈ بورڈ، فرنیچر اور پلائی وڈ کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ماچس  کی تیلیاں اور چھتوں کی کڑیاں بھی سفیدے سے بنائی جاتی ہیں۔ نورپور کے علاقے چن اور رنگ پور میں ہارڈ بورڈ بنانے کی دو فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔ سفیدے کی مانگ اور اس کی کاشت میں اضافے کے بعد میانوالی ملتان روڈ پر لکڑی سے مختلف اشیا بنانے کے چار مزید کارخانے بھی لگ رہے ہیں۔

قائدآباد میں محکمہ جنگلات کے فاریسٹ رینج آفیسر ملک عمر فاروق اتراء نے بتایا کہ آسٹریلیا سے درآمد ہونے والے اس درخت کی تھل میں کاشت کا رحجان 1990ء کی دہائی میں "پنجاب فاریسٹ سیکٹر ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ" کے تحت ہوا۔

یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن کی وجہ سے تھل میں متاثر ہونے والی روایتی فصلوں کا متبادل سامنے لانے اور زمیندار کو نقصان سے بچانے کی کوششوں کے طور پر کیا گیا تھا۔

"اس تجربے نے علاقے میں زراعت کو بدل کر رکھ دیا۔ اب سفیدے کی مانگ اور قیمت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی کو چنا اور گوار اگانے میں دلچسپی نہیں رہی اور اسے صرف ناگزیر ضروریات پوری کرنے کے لیے ہی کاشت کیا جاتا ہے۔''

تھل میں سفیدے کی کاشت کے تین طریقے معروف ہیں جن میں سے ایک ٹھیکیداری نظام، دوسرا حصہ داری نظام اور تیسرا زمینداروں کا نجی پراجیکٹ کہلاتا ہے۔

ٹھیکیداری نظام کے تحت زمیندار اپنی زمین ٹھیکے دار کو دیتا ہے جس پر سفیدہ کاشت کرنے کے لیے زمین میں بور کروانے اور پانی کھینچنے کے لیے پیٹر انجن کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری ٹھیکے دار کی ہوتی ہے۔ ٹھیکیدار تین ماہ تک درختوں کی حفاظت اور نگہداشت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور معاہدے کی مدت ختم ہونے پر زمیندار کو فی ایکڑ پرورش شدہ درخت پورے کر کے دینے کا پابند ہوتا ہے۔

حصہ داری نظام میں زمیندار کسی دوسرے فرد سے سفیدے کی کاشت کا معاہدہ کر لیتا ہے۔ اس طریقے میں رقبہ زمیندار مہیا کرتا ہے جبکہ سفیدے کی کاشت نگہداشت اور اس کے متعلق تمام انتظامات حصہ دار کے ذمہ ہوتے ہیں۔

آج کل جو معاہدے چل رہے ہیں ان کے مطابق سفیدے کی نگہداشت و پرورش کی مدت پانچ تا سات سال مقرر کی جاتی ہے۔ حصہ دار کا فروخت کے بعد حاصل ہونے والی رقم میں تیسرا یا دوسرا حصہ ہوتا ہے۔ جب اسی سفیدے کی دوسری نسل فروخت ہوتی ہے تو اس میں سے حصہ دار کو کچھ نہیں ملتا۔ تاہم جب تک سفیدے کا جنگل موجود رہتا ہے اس کے فروخت ہونے والے پتوں میں حصہ دار اور زمیندار دونوں کا حصہ ہوتا ہے۔

<p>تھل کی تحصیلوں میں چنے اور دیگر روایتی فصلوں کی کاشت میں کمی کا ایک بڑا سبب سفیدے کا درخت بھی ہے<br></p>

تھل کی تحصیلوں میں چنے اور دیگر روایتی فصلوں کی کاشت میں کمی کا ایک بڑا سبب سفیدے کا درخت بھی ہے

تیسرے طریقے میں زمیندار خود رقبہ تیار کرتا ہے، مزدوروں کی مدد سے زمین میں سفیدہ کاشت کرواتا ہے اور زمین میں پانی کے لیے بور اور پیٹر انجن کا بندوبست بھی خود کرتا ہے۔ کاشت کاروں کے بقول یہ طریقہ باقی دونوں طریقوں سے زیادہ منافع بخش ہے اور اس میں درختوں کی دیکھ بھال بھی بہت اچھی ہوتی ہے۔

سفیدہ: فائدہ مند یا نقصان دہ؟

سفیدے کو 'پانی چوسنے والا درخت' سمجھا جاتا ہے اور عام رائے کے مطابق اس کا ایک درخت روزانہ قریباً چالیس گیلن پانی کھینچتا ہے جس سے زیرزمین پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ لیکن ملک عبدالرحمن اسے زمین کے لیے فائدہ مند درخت سمجھتے ہیں۔

''جب سفیدے کی کاشت کو ختم کر کے زمین کو دیگر فصلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو اس کی زرخیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں افقی انداز میں 50 سے 70 فٹ تک پھیلی ہوتی ہیں۔ اس طرح جب زمین کھودی جاتی ہے تو اوپر والی مٹی نچلی اور ذرخیز مٹی سے تبدیل ہو جاتی ہے۔''

عمر فاروق اتراء سفیدے کو بے تحاشہ پانی پینے والا درخت نہیں سمجھتے اور اپنے اس دعوے کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ مٹھہ کھوہ، جے سنگھ ور ملحقہ علاقوں میں ایک دہائی پہلے ٹیوب ویل کا بور 100 سے ایک 120فٹ پر ہوتا تھا اور آج بھی یہ سطح برقرارر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی تحقیق کی متقاضی ہے کہ سفیدے کی پانچ من لکڑی تیار ہونے کےلیے کتنا پانی استعمال کرتی ہے اور شیشم یا بیری کی پانچ من لکڑی کتنا پانی استعمال کرنے کے بعد تیار ہوتی ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ سفیدہ زیادہ سے زیادہ پانچ برس میں تیار ہو جاتا ہے اور شیشم کا درخت جوان ہونے میں دو دہائیوں سے بھی زیادہ وقت لیتا ہے۔

تاہم ایگریکلچر افسر ملک وقاص سلہال اس توجیہ سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفیدے کے درخت کی بے تحاشا کاشت زیر زمین پانی کے ذخائر کو متاثر نہ بھی کرے تو تب بھی یہ درخت زمین کے بالائی حصے میں پانی کو پوری طرح چوس لیتا ہے جس سے زمینی سطح خشک ہونے لگتی ہے اور دیگر فصلوں یا درختوں کے لیے پانی نہیں بچتا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

مہنگی اور نایاب کھادیں: کسان گندم کی کاشت سے گریزاں۔

سفیدے کے حوالے سے زرعی ماہرین کی آرا بھی وقاص سلہال کی تصدیق کرتی ہیں جن کا کہنا ہے سیم اور شور زدہ علاقے ہی اس درخت کی کاشت کے لیے موزوں ہیں یا پھر اسے ایسی جگہوں پر کاشت کیا جانا چاہیے جہاں کوئی فصل کاشت نہ ہوتی ہو۔ علاوہ ازیں اگر کسی نہری رقبے پر دھان، کماد اور گندم وغیرہ کاشت ہوتی ہو تو وہاں سفیدے کی موجودگی فصلوں کو شدید نقصان پہنچائے گی۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے علاقے جہاں دیگر مقامی یا روایتی درخت جیسا کہ شیشم، پیپل یا بیری موجود ہوں وہاں سفیدہ اگانا نقصان دہ ہے۔ اسی طرح چراگاہوں یا پرندوں کے مساکن، پتھریلے علاقوں، زرعی رقبے پر پگڈنڈیوں اور کھالوں کے کناروں پر بھی اس درخت کو اگانا ٹھیک نہیں ہے۔

زرعی مقاصد کے لیے پانی کی کمی، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن میں زمینداروں کو سفیدے سے زیادہ منافع بخش کوئی اور چیز دکھائی نہیں دیتی۔ تھل میں میں اب نہری رقبوں پر بھی لوگوں نے روایتی فصلوں کے بجائے سفیدہ اگانا شروع کر دیا ہے جسے دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ آںے والے وقت میں یہاں کے کسان چنے اور گوارے کی طرح گندم، کماد اور چاول کی کاشت سے بھی منہ موڑ لیں گے۔

تاریخ اشاعت 20 مارچ 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جہان خان کا تعلق ضلع خوشاب کی تحصیل قائد آباد سے ہے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور لیکچرر (ہسٹری) ملازم ہیں۔ لٹریچر اور تاریخ کے مضامین میں خصوصی دل چسپی ہے.

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.