ریاست کے ناقدین اور حکومت کے مخالفین کی جبری گمشدگیاں: کِس کھوج میں ہے تیغِ سِتم گر لگی ہوئی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ریاست کے ناقدین اور حکومت کے مخالفین کی جبری گمشدگیاں: کِس کھوج میں ہے تیغِ سِتم گر لگی ہوئی۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ریاست کے ناقدین اور حکومت کے مخالفین کی جبری گمشدگیاں: کِس کھوج میں ہے تیغِ سِتم گر لگی ہوئی۔

محمد فیصل

loop

انگریزی میں پڑھیں

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل اس ماہ کی تین تاریخ کو پراسرار طور پر اسلام آباد کے مضافات سے لاپتہ ہو گئے۔

ان کی گمشدگی کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جس کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے ان کی بازیابی کے لیے ایک کمیٹی بنا دی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان کی فوری بازیابی کا حکم جاری کیا۔ لیکن حکومتی کمیٹی کے قائم ہونے اور عدالتی حکم کے موثر ہونے سے پہلے ہی وہ لاپتہ ہونے کے چھ روز بعد نو ستمبر کو اسلام آباد کے قریبی علاقے روات میں دوبارہ نمودار ہوئے۔

سوشل میڈیا پر ان کی گمشدگی کا تعلق صحافی احمد نورانی کی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے اہلِ خانہ کے اثاثوں سے متعلق خبر سے جوڑا جاتا رہا۔ اس ضمن میں ایسی خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ عاصم باجوہ کے بیٹوں اور بھائیوں کی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق ریکارڈ ایس ای سی پی سے حذف کیے جانے کی اطلاع ساجد گوندل نے ہی احمد نورانی کو فراہم کی تھی۔ تاہم احمد نورانی اس کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ساجد گوندل ان کی خبر کا 'ماخذ' نہیں تھے۔

لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ساجد گوندل نے اپنی واپسی کے بعد اپنے اغوا کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات چلے گئے تھے باوجود اس کے کہ ان کی گمشدگی کے وقت ان کی گاڑی کی چابیاں اگنیشن میں لگی ہوئی تھیں اور اس کے دروازے کھلے ہوئے تھے اور ان کے گھر والوں کو ان کے اس سفر کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔

اپنی واپسی کے بعد وہ اسلام آباد سے فوری طور پر اپنے آبائی علاقے سرگودھا میں منتقل ہو گئے اور اس وقت سے میڈیا سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم اگر ساجد گوندل کے واقعے کو اس ابہام کی وجہ سے نظرانداز بھی کر دیا جائے تو بھی اِس حقیقت سے چشم پوشی کرنا ناممکن ہے کہ حالیہ مہینوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کئی دوسرے لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں اسلام آباد سے صحافی مطیع اللہ جان کی گمشدگی اور کراچی سے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانے والے سارنگ جویو کا اغوا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان واقعات پر سول سوسائٹی، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور طلبہ نے بھرپور احتجاج کیا جس کے بعد یہ دونوں افراد تو گھر واپس آ گئے تاہم بہت سے دیگر واقعات میں اغوا یا لاپتہ ہونے والے افراد اپنی گمشدگی کے مہینوں اور کچھ صورتوں میں سالوں تک واپس نہیں آئے اور نہ ہی انہیں بازیاب کرایا جا سکا ہے۔

اغوا اور گمشدگی کے ایسے واقعات ملک کے کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہیں اسی طرح اغوا اور لاپتہ ہونے والوں کا پس منظر بھی ایک سا نہیں ہے۔ ان میں انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے کارکن، بلاگر، صحافی، سیاسی کارکن، طالب علم، سرکاری افسر اور عام لوگ شامل ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ مبصرین نے یہ تفریق قائم کرنے کی ضرور کوشش کی ہے کہ پنجاب سے اغوا اور لاپتہ ہونے والے لوگ عموماً واپس آ جاتے ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں یہ صورتحال نہیں ہے تاہم یہ بات بھی مکمل طور پر درست نہیں کہی جا سکتی کیونکہ حال ہی میں بازیاب ہونے والے دو افراد سارنگ بلوچ اور سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر محمد اسماعیل کو بالترتیب سندھ اور خیبرپختونخوا سے اغوا کیا گیا تھا۔

لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے رپورٹ ہونے والے اغوا اور گمشدگی کے واقعات کی تعداد پنجاب اور خیبرپختونخوا سے زیادہ ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات پر زیادہ احتجاج بھی عموماً سندھ اور بلوچستان میں دکھائی دیتا ہے۔ گمشدہ لوگوں کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں ایک احتجاجی کیمپ تو گزشتہ گیارہ سال سے جاری ہے۔

کیا کمیشن بنانے سے مسئلہ حل ہوا؟

حال ہی میں ماہرینِ قانون کی ایک عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے پاکستان میں جبری گمشدگی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم کئے گئے سرکاری کمیشن کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن لوگوں کو جبراً لاپتہ کرنے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں ناکام رہا ہے۔

یہ کمیشن 2011 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے تحت قائم کیا گیا۔ اس کا کام اغوا کیے گئے اور گمشدہ افراد کو ڈھونڈنا اور ان کی رہائی یقینی بنانا ہے۔ اس کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابقہ جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ہیں جو اکتوبر 2017 سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔

آئی سی جے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کمیشن کئی گمشدہ لوگوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب رہا ہے مگر اس نے ان کی گمشدگی کے ذمہ دار لوگوں کا تعین کرنے کی بظاہر کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ درحقیقت گزشتہ نو سال میں یہ کمیشن کسی ایک بھی واقعے کے ذمہ دار افراد یا اداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

لہٰذا، آئی سی جے کے مطابق، ایسا کمیشن جو کسی جرم کے ذمہ داروں کا تعین نہ کر سکے وہ متاثرین اور ان کے اہلخانہ کو انصاف نہیں دے سکتا۔

اس کمیشن کی مدتِ اختیار 14 ستمبر 2020 کو ختم ہو گئی ہے لیکن اس کی واضح ناکامی کے باوجود اس کی مدت میں ماضی میں کئی بار اضافہ ہو چکا ہے اور اب بھی شاید ایسا ہی ہو اگرچہ اس توسیع کے لیے متاثرہ لوگوں سے کبھی یہ مشاورت نہیں کی گئی کہ آیا اس کی کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں یا نہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے صوبہ سندھ کے نائب صدر اسد اقبال بٹ کے بقول اس سرکاری کمیشن کی ناقص کارکردگی کی بنیادی وجہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے اسے قائم کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرہ سال پہلے ان کے ادارے نے قریباً 200 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ میں ایک کیس دائر کیا تھا۔ 'اس کیس پر ایک سال تک کوئی کارروائی نہ ہوئی لیکن جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر جنرل پرویز مشرف کے مابین اختلافات ہوئے تو چیف جسٹس نے اس کیس پر سماعت شروع کر دی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد جب صدر مشرف اقتدار چھوڑ کر چلے گئے اور چیف جسٹس نے محسوس کیا کہ وہ ایک ایسے معاملے میں الجھ گئے ہیں جس کو حل کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تو انہوں نے اس مسئلے پر کمیشن بنا دیا'۔

مگر اس 'کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ فریقین کا موقف سن سکتا ہے اور کسی سرکاری اہلکار یا غیرسرکاری فرد کو پیش ہونے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ مطلوبہ فرد اس کے سامنے پیش بھی ہو۔ یہ نہ تو کسی کو زبردستی بلا سکتا ہے اور نہ ہی سزا دے سکتا ہے'۔

لیکن بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی تنظیم وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ پارلیمان کے ذریعے قائم کئے گئے کمیشن کے بجائے ایک نئے عدالتی کمیشن کے حق میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'سپریم کورٹ اس کمیشن کو تحلیل کرکے اس کی جگہ پر اعلیٰ عدلیہ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرے جس میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے'۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تاریخ

امریکہ میں 11 ستمبر 2002 کو ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی افغان جنگ اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد جبری گمشدگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم ملک میں سیاسی کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اغوا اور لاپتہ کیے جانے کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

لاپتہ ہونے والے اولین پاکستانیوں میں بنگالی زبان کے نامور صحافی اور ادیب شہید اللہ قیصر اور ان کے بھائی ظہیر ریحان شامل تھے۔

شہیداللہ قیصر کو 14 دسمبر 1971 کو نامعلوم مسلح افراد نے ڈھاکا میں ان کے گھر سے اغوا کیا اور پھر ان کے بارے میں کبھی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ وہ 1952 میں مشرقی پاکستان کی لسانی تحریک کے دوران اور پھر 1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد قید کا سامنا بھی کر چکے تھے۔ اسیری میں ہی انہوں نے اپنا مشہور ناول 'سارنگ بو' لکھا جس پر انہیں 1963 میں حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ادارے رائٹرز گلڈ کی جانب سے آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا۔

دسمبر 1971 میں مبینہ طور پر انہیں پاکستانی فوج کے سویلین ونگ البدر نے کئی دیگر بنگالی دانش وروں سمیت اغوا کیا تھا۔ ان میں سے کچھ افراد کی لاشیں تو بعد میں مل گئیں لیکن شہید اللہ قیصر سمیت بیشتر افراد کے بارے میں کبھی کچھ پتا نہیں چل سکا۔

30 دسمبر 1971 کو ان کے بھائی ظہیر ریحان بھی ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہو گئے۔ وہ ادیب لکھاری اور اداکار تھے اور اپنے بھائی کی تلاش میں تھے جب وہ خود ایسے غائب ہوئے کہ پھر کبھی ان کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وہ بائیں بازو کی تحریک سے وابستہ تھے اور انہیں بھی اپنی کہانیوں کے مجموعے پر آدم جی ادبی انعام مل چکا تھا۔ انہوں نے بنگالی اور اردو زبان میں کئی فلمیں بھی بنائی تھیں۔ ان کی فلم سنگم پاکستان میں ریلیز ہونے والی پہلی رنگین فلم تھی۔

مارچ 1971 میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ظہیر ریحان انڈیا چلے گئے تھے جہاں انہوں نے مشرقی پاکستان میں فوج کے مبینہ مظالم پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی تھی۔

آج کل لوگوں کے پراسرار اغوا اور گمشدگیوں کے سب سے زیادہ واقعات بلوچستان سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ ایسا پہلا واقعہ تقریباً انیس سال پہلے پیش آیا جب درزی کا کام کرنے والے چوالیس سالہ علی اصغر بنگلزئی 18 اکتوبر 2001 کو سریاب روڈ سے لاپتہ ہو گئے۔ ان کی گمشدگی کا کیس بلوچستان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچا اور 2015 تک چلتا رہا لیکن پھر مسلسل التوا کا شکار ہوتا گیا۔ علی اصغر کی گمشدگی ہی 'وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز' نامی تنظیم کی بنیاد بنی جو پچھلے گیارہ سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہے۔ اب اس تنظیم کی قیادت ان کے قریبی رشتہ دار نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں۔

اگرچہ 2001 کے بعد بلوچستان میں گمشدگی کے اکا دکا کیسز ہوتے رہے لیکن 2006 میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور گورنر اکبر بگٹی کے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کے بعد اس صوبے میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اسی عرصے میں ملک کے دوسرے حصوں میں بھی لوگ روز بروز گم ہونے لگے۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کے بارے میں کبھی پتا نہیں چل سکا کہ انہیں کس نے اور کیوں اغوا کیا اور آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

ایسا ہی ایک مشہور واقعہ 'اڈیالا الیون' سے متعلق ہے۔ انہیں 2007 میں فوجی تنصیبات اور اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن الزامات ثابت نہ ہونے پر 2010 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ اس وقت وہ تمام گیارہ افراد اڈیالا جیل میں تھے لیکن وہاں سے رہائی کے بعد سبھی ایک ایک کر کے پہلے غائب ہوئے اور پھر قتل کر دیے گئے۔

اس کیس کو میڈیا میں شہرت ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا جس پر پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2011 میں دو آرڈیننس جاری کیے جن کے تحت فوج کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور صوبوں کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) میں حراستی مراکز بنانے، کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے اور اس کی جائیداد کو ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ یوں سکیورٹی اداروں کو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور انہیں زیرحراست رکھنے کے معاملے میں قانونی تحفظ مل گیا۔

تاہم 2018 میں فاٹا اور پاٹا کے ختم ہونے اور ان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ادغام کے بعد گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی آرڈیننس کے ذریعے یہ قانون پورے صوبے میں نافذ کر دیا۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والے افراد اور تنظیموں نے اس نئے آرڈیننس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس نے 18 اکتوبر 2019 کو تمام حراستی مراکز کو سب جیلوں میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ تاہم ایک ہفتے کے اندر سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر عملدرآمد روک دیا اور سکیورٹی فورسز کو اجازت دے دی کی وہ ان مراکز کو مزید کچھ عرصہ کے لیے اپنی تحویل میں رکھ سکیں۔

آئی سی جے نے سفارش کی ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کی مدت میں مزید توسیع نہیں ہونی چاہیے اور اس کی حتمی رپورٹ کو عام کرنا ضروری ہے۔ قانون کی رو سے موجودہ کمیشن کے اختیار، ساخت اور کام کے طریقہ کار میں اصلاحات نہیں کی جا سکتیں اس لیے پارلیمنٹ ایک نیا کمیشن قائم کرے جو موجودہ کمیشن میں پائی جانے والی تمام خامیوں سے پاک ہو۔

سابق سینیٹر اور پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریک کے رہنما افراسیاب خٹک نے اس بارے میں سجاگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ '2011 میں جاری کیے گئے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور نامی آرڈیننس کے تحت سکیورٹی فورسز نے ڈیڑھ سے دو درجن قید خانے قائم کر رکھے ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ بہت سے گمشدہ لوگوں کو وہیں رکھا گیا ہے'۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ 'جب میں سینیٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کا چیئرپرسن تھا تو سینیٹ کے ارکان نے اس مسئلے کا آئینی اور قانونی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ہم نے وزارت دفاع کو لکھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے قانون بنایا جائے تاکہ وہ اس کے دائرے میں رہ کر کام کر سکیں'۔

ان کے مطابق اس قانون کی عدم موجودگی میں چونکہ ایجنسیوں کو گرفتاریوں کا اختیار نہیں ہے اس لیے وہ لوگوں کی گرفتاری کو ظاہر نہیں کرتیں۔ 'لہٰذا انہیں لوگوں کی گرفتاری کا مشروط اختیار دیا جانا چاہیے جس کے تحت وہ گرفتار شدگان کو عدالتوں میں پیش کرنے کے پابند ہوں۔ تاہم سکیورٹی اداروں کو یہ بات قبول نہیں ہے'۔

اسد اقبال بٹ کا بھی یہ کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے بیشتر لاپتہ لوگوں کے اپنی تحویل میں ہونے سے ہی انکار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان اداروں کے نمائندے عدالتوں میں حلفاً کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد ان کی قید میں نہیں ہیں۔ 'تاہم جب کسی قیدی کو رہا کر دیا جاتا ہے تو عدالتیں اس سے یہ تک نہیں پوچھتیں کہ اسے کس ادارے نے غائب کیا تھا اور کہاں قید رکھا تھا'۔

ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ جب کبھی کسی لاپتہ فرد سے متعلق پٹیشن پر عدالت میں سماعت ہوتی ہے تو سکیورٹی اداروں کے لوگ جج سے اس کے چیمبر میں آ کر ملتے ہیں۔'اس کے بعد یا تو کیس میں لمبی تاریخ دے دی جاتی ہے یا عدالت یہ کہہ کر کیس نمٹا دیتی ہے کہ مبینہ مغوی خود ہی کہیں چلا گیا ہے۔' 

پاکستان میں کتنے لوگ لاپتہ ہیں

لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن کی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق جون 2020 تک اسے جبری گمشدگیوں کے 6686 کیس موصول ہوئے تھے جبکہ 30 جولائی 2020 تک ان میں سے 4616 کیس نمٹائے جا چکے تھے۔ کمیشن کے مطابق سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 2562 ہے۔ اس حوالے سے سندھ کا نمبر دوسرا ہے جہاں سے جبری گمشدگی کے 1616 کیس رپورٹ ہوئے۔

تاہم لاپتہ افراد کی بازیابی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کو ان اعدادوشمار کی صحت پر خدشات ہیں۔ یکم ستمبر کو جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے صحافی اور پاکستان میں حقوق کی جدوجہد کے نمایاں رہنما آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ 'لاپتہ افراد کی حقیقی تعداد کمیشن کے پیش کردہ اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بہت سے کیس اس لیے بھی رپورٹ نہیں ہوتے کہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ خوف کے باعث کمیشن میں اس کی شکایت درج نہیں کراتے'۔

آئی سی جے کی رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان میں اگر ہزاروں نہیں تو کم از کم سیکڑوں لوگ ضرور لاپتہ ہیں جنہیں مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے زیرحراست رکھا ہوا ہے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی سفارشات

آئی سی جے نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے کی غرض سے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ حکومت تمام متعلقہ فریقین بشمول متاثرین اور سول سوسائٹی سے پوچھے کہ آیا جبری گمشدگیوں کے معاملے پر نیا کمیشن بنانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

نیا کمیشن قائم کیے جانے کی صورت میں یہ یقینی بنایا جائے کہ اس کا کام عالمی قوانین اور ضوابط کے مطابق ہو۔ اس کمیشن کا کام لاپتہ افراد کی واپسی تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے ذریعے جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے لیے سزا اور متاثرین کے لیے انصاف بھی ممکن بنایا جائے۔

اس کمیشن کے ارکان کا چناؤ کرتے وقت انسانی حقوق اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ان کی اہلیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین بشمول حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متاثرین سے مشاورت کی جائے۔

کمیشن کی رپورٹس بلا تاخیر عام کی جائیں اور گواہوں کے تحفظ کے لیے کمیشن میں علیحدہ یونٹ قائم کیا جائے۔

آئی سی جے کی رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ جبری گمشدگی کو عالمی قوانین کے مطابق مجرمانہ عمل قرار دیا جائے۔ فوجی عدالتوں کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پر فیصلہ دینے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ ان کے بجائے یہ کام سویلین عدالتوں کے ذمے لگایا جائے۔ اور اگر کوئی ریاستی ادارہ کسی فرد کی جبری گمشدگی میں ملوث پایا جائے تو اس ادارے کے اعلیٰ حکام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

جبری گمشدگیاں روکنے کے لیے آئی سی جے کی سفارشات درج ذیل ہیں:

1. نفاذ قانون کے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام سے متعلق واضح قوانین متعین کیے جائیں۔

2. قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو انسانی حقوق کے حوالے سے مناسب تربیت دی جائے جس میں جبری گمشدگیوں کے موضوع پر خاص توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔

3. لوگوں کو خفیہ حراستی مراکز میں رکھنے کی ممانعت ہو اور ایسے مراکز کا خاتمہ کیا جائے۔  

4. تمام حراستی مراکز میں موجود قیدیوں سے متعلق تفصیلی معلومات تک عوامی رسائی ممکن بنائی جائے۔ 

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں کوئٹہ سے عابد میر، کراچی سے غلام مصطفیٰ، اسلام آباد سے طیب گلفام اور لاہور سے رضا گیلانی نے حصہ لیا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 16 ستمبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 2 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔