مخصوص نشستوں کی اگر مگر اور بنتے بگڑتے نمبر: کونسی پارٹی کہاں حکومت بنا پائے گی اور کیسے؟

postImg

طاہر مہدی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مخصوص نشستوں کی اگر مگر اور بنتے بگڑتے نمبر: کونسی پارٹی کہاں حکومت بنا پائے گی اور کیسے؟

طاہر مہدی

loop

انگریزی میں پڑھیں

پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی قانونی حیثیت 'آزاد' ہونے کی وجہ سے اسے قومی اسمبلی میں 26 اور تین صوبائی اسمبلیوں میں 61 مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے لیکن اگر قانونی گرداب میں پھنسی یہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اسمبلیوں میں دیگر پارٹیوں کے کل ممبران کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آ جائے گی۔

اس بنتی بگڑتی صورت حال نے حکومت سازی کے عمل کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہوا ہے اور  یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ کون کہاں حکومت بنا پائے گا اور کیسے؟

تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟

لوک سجاگ نے ان دونوں ممکنہ صورت حالوں میں ہر اسمبلی میں پارٹیوں کے ممبران کی تعداد اور حکومت سازی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

لیکن پہلے چند اہم نکات کی وضاحت ضروری ہے۔

1: کس اسمبلی میں مخصوص نشستیں کتنی ہیں؟

2: خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے ہر اسمبلی میں مخصوص نشستیں جیتنے والی پارٹیوں میں اُس تناسب سے تقسیم کر دی جاتی ہیں جس تناسب سے اُس اسمبلی کے حلقوں میں ان کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔ گویا اگر ایک پارٹی قومی اسمبلی کی نصف عام نشستوں (133) پر کامیاب ہو جائے تو خواتین کی کل 60 مخصوص نشستوں میں سے نصف یعنی 30 پر اس کی نامزد خواتین امیدواروں کا کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے اور اسی طرح اقلیتوں کے لیے مخصوص دس میں سے پانچ نشستیں بھی اسے مل جائیں گی۔

3: آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا کیونکہ وہ تمام فرداً فرداً ذاتی حیثیت میں منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔

4: آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار اپنی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کے تین روز کے اندر کسی بھی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ شمولیت کے بعد ان کو قانونی طور پر اسی پارٹی کے منتخب ممبر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اسے اسمبلی کی عمر کے دوران منسوخ نہیں کر سکتے۔

5: پارٹیوں کا حصہ طے کرنے کے لیے الیکشن کمیشن پہلے اسمبلی کی کل عام نشستوں میں سے جیتنے والوں آزاد ممبران کی تعداد کو نکال دیتا ہے اس طرح تمام پارٹیوں کے جیتنے والے کل امیدواروں کا مجموعہ حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر ہر پارٹی کے جیتنے والے عام امیدواروں کی تعداد کو اس مجموعے پر تقسیم کر کے اس پارٹی کے حصے میں آنے والی مخصوص نشستوں کی تعداد طے کر لی جاتی ہے۔

یہ نظام 2002ء سے لاگو ہے اور حالیہ انتخابات اس کے تحت ہونے والا پانچویں عام انتخابات ہیں۔

لیکن اس بار اس نظام کو ایک بالکل نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کی انتخابات میں قانونی حیثیت آزاد تھی کیونکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے اندرونی انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں ایک مشترکہ انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا تھا۔

اب ایک طرف تو وہ کسی قانونی رکاوٹ کے بغیر کسی بھی دوسری پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں اور دوسری جانب اگر وہ پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے آزاد ہی رہیں تو بھی پارٹی کو مخصوص نشستوں میں حصہ نہیں ملے گا اور تمام مخصوص نشستیں دوسری پارٹیاں لے اڑیں گی۔

تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے تمام ممبران اجتماعی طور پر کسی ایک ایسی پارٹی میں شامل ہو جائیں جس سے وہ کچھ معاملات پہلے سے طے کر لیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت اس سلسلے میں مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف پارلیمینٹیرین سے یا تو مذاکرات کر رہی ہے یا پھر ان کے ساتھ ادغام کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔

تحریک انصاف اس قانونی مخمصے کو حل کر پائے گی یا نہیں؟ ان دونوں صورت حالوں میں اسمبلیوں میں پارٹیوں کے ممبران کی تعداد اور ان کے حکومت بنانے کے امکانات کچھ یوں گے۔

قومی اسمبلی

ایوان کے گیٹ کی چابی پیپلز پارٹی کے پاس ہے

8 فروری کو قومی اسمبلی کے انتخابات آزاد امیدوار کے طور پر جیتنے والوں کی کل تعداد 101 ہے۔ تحریک انصاف کی ویب سائٹ کے مطابق ان میں سے 93 امیدواروں نے اس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ اگر تحریک انصاف ان تمام کی پارٹی حیثیت منوانے میں کامیاب ہو جائے تو اسے خواتین کے لئے مخصوص نشستوں میں سے 22 اور اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں میں چار مل جائیں گی۔ یوں اس قومی اسمبلی میں اس کے ممبران کی کل تعداد 119 ہو جائے گی۔ اسلام آباد میں حکومت بنانے کے لیے البتہ 169 ممبران کا ہونا ضروری ہے۔

تحریک انصاف کے لیے 50 ممبران کا یہ فرق پورا کرنے کے دو ہی ممکنہ راستے ہیں یا تو وہ 68 ممبران والی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد بنائے یا پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے علاوہ تمام ممبران اجتماعی طور پر اس کی حمایت کریں جو بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی اتحاد بنائیں تو ان کے کل ممبران کی تعداد 164 ہو گی (نون لیگ 96 جمع پیپلز پارٹی 68) جو سادہ اکثریت سے محض پانچ ووٹ کم ہے۔

جیتنے والے آزاد ممبران میں سے آٹھ ایسے ہیں جو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نہیں تھے اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ کسی پارٹی میں شامل ہو جائیں گے۔ اگر وہ پیپلز پارٹی یا نون لیگ میں شامل ہو گئے تو یہ دونوں پارٹیان کسی تیسری پارٹی کی مدد کے بغیر سادہ اکثریت حاصل کر لیں گی۔ ان کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قومی اسمبلی میں ممبران کی تعداد 22 ہو گی۔

خلاصہ یہ کہ اگر تحریک انصاف مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو بھی وہ وفاق میں صرف پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کر کے ہی حکومت بنا سکتی ہے۔

یہی صورت حال نون لیگ کی بھی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر وفاق میں حکومت کسی صورت نہیں بنا سکتی۔

اگر تحریک انصاف اپنی قانونی مشکلات حل نہیں کر پاتی تو اس کے حصے کی خواتین کی 22 میں سے  دس نون لیگ کو مل جائیں گی، آٹھ پیپلز پارٹی کو، دو ایم کیو ایم کو، ایک جمعیت علماء اسلام کو اور ایک کسی دوسری چھوٹی پارٹی کو۔ اور چار اقلیتی نشستیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں برابر تقسیم ہو جائیں گی۔

اس صورت حال میں نون لیگ کی سیٹوں کی تعداد 108 اور پیپلز پارٹی کی 78 ہو جائے گی اور دونوں کا اتحاد سادہ اکثریت سے آگے نکل جائے گا لیکن اس صورت حال میں بھی نون لیگ کے لیے پیپلز پارٹی کے بغیر وفاقی حکومت بنانا تقریباً ناممکن ہو گا۔

پنجاب اسمبلی

 تحریک انصاف - 'ہنوز لاہور دور است'

پنجاب اسمبلی میں آزاد حیثیت سے جیتنے والوں کی کل تعداد 138 ہے جن میں سے 114 کے بارے میں تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔

اگر پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص کل 66 اور اقلیتوں کے لیے مخصوص 8 نشستوں کو اسی تناسب سے تحریک انصاف کو الاٹ کر دیا جائے تو اس کے کل ممبران کی تعداد 146 ہو جائے گی (114 عام جمع 28 خواتین جمع چار اقلیتی)۔

پنجاب میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کے لیے 186 ممبران کی ضرورت ہے۔ یعنی تحریک انصاف کو 40 مزید ممبران درکار ہوں گے۔ اس صورت حال میں نون لیگ اور تحریک انصاف کے ممبران کے علاوہ باقی پانچ پارٹیوں کے کل منتخب ممبران کی تعداد محض 26 ہو گی گویا اگر تمام بھی بہ یک زبان تحریک انصاف کی حمایت کریں تو بھی وہ حکومت نہیں بنا پائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں مزید 24 ایسے آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں جو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نہیں تھے۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کو پانچ پارٹیوں کے علاوہ ان میں سے 14 آزاد کی حمایت بھی درکار ہو گی۔

اس صورت حال میں نون لیگ کی سیٹوں کی کل تعداد 174 ہو گی ( 137 عام جمع 33 خواتین جمع چار اقلیتی)۔ گویا نون لیگ سادہ اکثریت سے 12 ووٹ پیچھے ہو گی۔ اگر مخصوص نشستوں کی تقسیم سے پہلے 24 میں سے 12 آزاد ارکان نون لیگ میں شامل ہو جائیں تو اس کی یہ مشکل بھی دور ہو جائے گی بصورت دیگر اسے حکومت بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کے 13 ارکان یا باقی دیگر چار پارٹیوں کے کل اتنے ہی ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

اگر تحریک انصاف مخصوص نشستوں میں سے اپنا حصہ لینے میں ناکام ہو جاتی ہے تو خواتین کی کل 66 میں سے 59 نون لیگ کو مل جائیں گی اور اقلیتی آٹھ میں سات۔ یوں اس کے ممبران کی کل تعداد 203 ہو جائے گی یوں وہ با آسانی حکومت بنا لے گی۔ 24 آزاد ممبران میں سے جو وقت سے پہلے نون لیگ شامل ہو جائیں گے، وہ اس حساب کے علاوہ ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اگر تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں حصہ نہ ملا تو پنجاب میں نون لیگ بلا شرکتِ غیرے حکومت بنا لے گی اور اگر مل گیا تو بھی کچھ تگ و دو کے بعد صوبے میں نون لیگ ہی حکومت بنا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے اس صورت حال میں بھی صوبے میں حکومت بنانا تقریباً ناممکن ہو گا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی

صرف اور صرف خان

145 ممبران والی خیبر پختونخوا اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 73 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ صوبے میں عام نشستوں پر تحریک انصاف کی حمایت سے منتخب ہونے والے 'آزاد' ارکان کی تعداد 87 ہے۔ یعنی تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں حصہ ملے یا نہ ملے، صوبے میں حکومت صرف وہی بنا سکتی ہے۔

البتہ اگر تحریک انصاف مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پختونخوا اسمبلی میں ایک مضحکہ خیز صورت حال سامنے آئے گی۔ یہاں پانچ پارٹیوں نے کل 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور سات پر دیگر آزاد امیدواروں نے جنہیں تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا۔

مخصوص نشستوں کی تقسیم کے فارمولے کے مطابق خواتین کی 26 نشستیں ان 19 ممبران والی پارٹیوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ اگر تمام سات آزاد امیدوار بھی ان میں سے کسی نہ کسی پارٹی میں شامل ہو جائیں تو ہر پارٹی کا خواتین کی نشستوں میں حصہ ان کے جیتنے والے ممبران کی تعداد کے برابر ہو گا۔ گویا ایک کے ساتھ ایک مفت!

یہ بھی پڑھیں

postImg

"سیاسی جماعتیں خواتین پر اعتماد نہیں کرتیں، انہیں مخصوص نشستوں تک محدود رکھا جاتا ہے"

اس صورت حال میں پہلی بار کسی اسمبلی کے اپوزیشن بنچوں پر خواتین اور مردوں کی تعداد برابر ہو گی۔

سندھ اسمبلی

پیپلز پارٹی – گھوٹکی سے ملیر، نان سٹاپ

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن ویسی ہی ہے جیسی تحریک انصاف کی پختونخوا میں۔

یہاں تحریک انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے آزاد ممبران کی تعداد 11 ہے۔ اگر پارٹی کو مخصوص نشستوں میں حصہ مل گیا تو یہ بڑھ کر 15 ہو جائے گی۔ اگر نہ ملا تو ان چار میں سے تین پیپلز پارٹی کو اور ایک ایم کیو ایم کو مل جائے گی۔

پہلی صورت میں سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے کل ممبران کی تعداد 112 اور دوسری میں 119 ہو گی۔ سندھ اسمبلی سادہ اکثریت کے لیے 85 اور دو تہائی کے لیے 112 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا پیپلز پارٹی کو سندھ میں کسی چیلنج کا سامنا نہیں۔

بلوچستان اسمبلی

جوں کی توں

بلوچستان اسمبلی کے انتخابات میں کوئی بھی آزاد امیدوار تحریک انصاف کا حمایت یافتہ نہیں ہے لہذا صوبے میں حکومت سازی پر اس بات کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں سے حصہ ملتا ہے یا نہیں۔
یہاں اس بار بھی حکومت ویسے ہی بنے گی جیسے پہلے بنتی آئی ہے۔

تاریخ اشاعت 20 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

طاہر مہدی ایک انتخابی تجزیہ نگار ہیں انہیں صحافت کا وسیع تجربہ ہے اور وہ سیاسی اور سماجی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.