کل رات جو بوڑھا شجر کٹ کے گرا ہے: جنگلات سے لکڑی چوری کے باعث اپر دیر میں برف باری کم ہوگئی ہے اور گرمی زیادہ۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کل رات جو بوڑھا شجر کٹ کے گرا ہے: جنگلات سے لکڑی چوری کے باعث اپر دیر میں برف باری کم ہوگئی ہے اور گرمی زیادہ۔

سید زاہد جان

postImg

کل رات جو بوڑھا شجر کٹ کے گرا ہے: جنگلات سے لکڑی چوری کے باعث اپر دیر میں برف باری کم ہوگئی ہے اور گرمی زیادہ۔

سید زاہد جان

کرامت شاہ 27 فروری 2022 کی رات خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں اخگرام نامی چیک پوسٹ پر متعین تھے تاکہ وہ جنگلات سے لکڑی کی چوری اور نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں۔ اس دوران انہوں نے ایک ٹرک کو روکا تو اس میں بڑی مقدار میں لکڑی موجود تھی جسے غیرقانونی طور پر کاٹ کر اپردیر سے باہر  لے جایا جا رہا تھا۔

لیکن جب انہوں نے ٹرک میں موجود لکڑی کا معائنہ کرنے اور اس کے بارے میں اپنے اعلیٰ افسروں کو اطلاع دینے کی کوشش کی تو ٹرک کے عملے  نے نہ صرف انہیں اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ بعد ازاں انہیں ٹرک کے نیچے کچل کر ہلاک بھی کر دیا۔

اپردیر کے جنگلوں سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور ان کی لکڑی کی چوری چھپے ملک کے دوسرے حصوں کو منتقلی کا یہ واحد واقعہ نہیں۔ درحقیقت ایسے واقعات عام ہیں اور انہیں روکنے کی کوشش کرنے والے صوبائی محکمہ جنگلات کے اہل کاروں کو کرامت شاہ کی طرح اکثر جان لیوا خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگرچہ اِن اہل کاروں کو ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیر لیویز کا تعاون بھی حاصل ہوتا ہے لیکن ان کی اپنی محدود تعداد، ان کے محکمےمیں پائی جانے والی بدعنوانی اور لکڑی چوری میں ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا نہ ملنے کے باعث ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔

محافظ سست اور چور چُست

سرکاری دستاویزات کے مطابق اپردیر میں دو لاکھ 89 ہزار آٹھ سو 65 ایکڑ اراضی پر جنگلات موجود ہیں۔ اس اراضی کی دیکھ بھال کے لیے اسے اپردیر اور شرینگل نامی دو ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان دونوں ڈویژنوں میں درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور لکڑی کی چوری اور اس کی نقل و حرکت کو روکنے پر متعین محافظوں کی کل تعداد 80 ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان میں سے ہر ایک کو اوسطاً تین ہزار چھ سو 23 ایکڑ پر محیط جنگل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے۔ نتیجتاً اُس کے لیے اپنی زیرِنگرانی اراضی کے ہر حصے پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے گزشتہ سال محکمہ جنگلات نے اپنی چیک پوسٹوں پر کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے تھے لیکن اس کے باوجود لکڑی چوری کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔

<p>اپر دیر کے جنگلوں سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور چوری چھپے ملک کے دوسرے حصوں میں منتقلی عام ہے۔<br></p>

اپر دیر کے جنگلوں سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور چوری چھپے ملک کے دوسرے حصوں میں منتقلی عام ہے۔

اپر دیر کے دو باسی مظفر سید اور اختر محمد سمجھتے ہیں کہ مقامی جنگلات سے درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی چوری کا یہ عمل دراصل 1969 سے جاری ہے۔ اُس سال مرکزی حکومت نے نواب کا اقتدار ختم کر کے دیر کی ریاست کو شمال مغربی سرحدی صوبے (جسے اب خیبر پختونخوا کہا جاتا ہے) کا حصہ بنا دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس انضمام سے پہلے نواب کا رعب و دبدبہ اتنا شدید تھا اور اس کا قائم کردہ سزا اور جزا کا نظام اتنا سخت تھا کہ کسی کو جنگل سے درخت کاٹنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صوبے کی عملداری میں آنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود مقامی جنگلات سکڑتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ 

اس صورتِ حال میں کچھ بہتری 1993 کے بعد دیکھنے میں آئی کیونکہ اس سال نگران وزیر اعظم معین قریشی کی حکومت نے اپر دیر سمیت پورے مالاکنڈ ڈویژن کے جنگلات سے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ مقامی باشندے کہتے ہیں کہ یہ پابندی اتنی شدید تھی کہ وہ گِرے ہوئے اور خشک ہو جانے والے درختوں کو بھی نہ تو کاٹ سکتے تھے اور نہ ہی ان کی لکڑی استعمال کر سکتے تھے۔

اگرچہ 2015 میں نافذ کی گئی ایک نئی پالیسی کے تحت یہ پابندی نرم کر دی گئی ہے اور مخصوص حالات میں مخصوص شرائط کے تحت جنگل سے خشک اور کمزور درخت کاٹنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اس کے نتیجے میں جنگلات کو لاحق خطرات میں پھر سے اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ جن کمپنیوں اور ٹھیکے داروں کو ایسے درخت کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے وہ محکمہ جنگلات کے اہل کاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے صحت مند درختوں کو بھی کاٹ لیتے ہیں۔

اپر دیر کے وسطی علاقے ڈوگ درہ کے رہنے والے رضوان اللہ اور دیر شہر کے مضافات کے باسی اسرار خان بھی جنگلات کے سکڑنے کا سب سے بڑا سبب محکمہ جنگلات کے اہل کاروں میں پائی جانے والی بدعنوانی کو ہی قرار دیتے ہیں۔ ان کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ان اہل کاروں کی مدد کے بغیر جنگلات سے لکڑی کی چوری ممکن ہی نہیں۔

ان کے مطابق اس چوری میں ملوث لوگ محکمے کے اندر اس قدر اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ "دیانت دار اہل کاروں کے لیے ان کا مقابلہ کرنا ممکن ہی نہیں"۔ اس اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ لوگ نہ صرف لکڑی کی کٹائی اور چوری روکنے کی کوشش کرنے والے سرکاری عملے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ قانون کی گرفت سے بھی بچ نکلتے ہیں۔ 

<p>جنگل کی کٹائی سے علاقے کا قدرتی ماحول تباہ ہو رہا ہے۔</p>

جنگل کی کٹائی سے علاقے کا قدرتی ماحول تباہ ہو رہا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار اُن کے موقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اپر دیر ڈویژن میں گزشتہ 14 مہینوں میں غیرقانونی طور پر درخت کاٹنے اور ان کی لکڑی دوسرے علاقوں میں  لے جانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف ایک سو پانچ مقدمے درج کیے گئے۔ لیکن ان میں سے صرف 25 لکڑی چور عدالتوں سےسزا پانے کے بعد جیل گئے۔ اسی طرح کروڑوں روپے کی لکڑی کو اِدھر اُدھر کرنے میں ملوث لوگوں سے صرف 28 لاکھ 92 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا اور ان کے قبضے سے محض ایک ہزار دو سو 91 مکسر فٹ لکڑی ہی برآمد کی جا سکی۔

اسی بنا پر اپر دیر کی تحصیل کل کوٹ کے علاقے کوہستان کے رہائشی 55 سالہ شمس الرحمان کہتے ہیں کہ ان مقدمات کا اندراج محض دکھاوا ہوتا ہے کیونکہ، ان کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر بے گناہ افراد کے خلاف درج کیے جاتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ"محکمہ جنگلات کے اہل کار یا تو اصل مجرموں کے خلاف کارروائی کی ہمت نہیں رکھتے یا وہ انہیں رشوت لے کر چھوڑ دیتے ہیں جبکہ اپنی کارکردگی کو اچھا دکھانے کے لیے وہ بے گناہ لوگوں کو پکڑ لیتے ہیں"۔

دوسری طرف اپر دیر کے ڈپٹی کمشنر اکمل خان خٹک کا دعویٰ ہے کہ ضلعی انتظامیہ جنگلات کی چوری میں ملوث ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگلات کی کٹائی روکنے کے ساتھ ساتھ خالی زمینوں اور پہاڑوں پر نئے درخت بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سال شجرکاری کی سرکاری مہم کے دوران 42 لاکھ نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے ضلعی اہل کاروں کا بھی کہنا ہے کہ اِس سال اپردیر فاریسٹ ڈویژن میں 15 سو ایکڑ رقبے پر نئے درخت لگائے گئے ہیں۔

تاہم اس علاقے میں درختوں کی کٹائی میں صرف مجرمانہ عناصر ہی ملوث نہیں بلکہ عام لوگ بھی اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے یہی کچھ کر رہے ہیں۔ قدرتی گیس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہاں رہنے والے لوگوں کو موسم سرما اور برفباری کے دوران اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے ایندھن کی شدید ضرورت ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ جنگل سے لکڑی کاٹ لاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

لیہ میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی: 'جہاں کبھی گھنے درخت تھے وہاں اب دھول اُڑتی ہے'۔

دیر شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال میں واقع گاؤں تھل سے تعلق رکھنے والے لاجبر خان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں  نے متعدد مرتبہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں قدرتی گیس فراہم کی جائے یا ان کے علاقے میں پن بجلی پیدا کرنے والے چھوٹے چھوٹے ہائیڈل پاور لگائے جائیں تاکہ انہیں "توانائی کے متبادل ذرائع مل سکیں"۔ لیکن ابھی تک حکومت نے ان کی بات نہیں سنی۔

وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس مطالبے کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا تو مقامی لوگ کبھی جنگلوں سے درخت کاٹنا نہیں چھوڑیں گے۔ 

ماحولیاتی تباہ کاری

محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1967 سے 2009 تک دیر میں ہر سال 14 سو ملی میٹر سے  لے کر 19 سو ملی میٹر تک بارش ہوتی رہی۔ اس عرصے کے دوران دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں کم از کم درجہ حرارت منفی سات ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا تھا جبکہ جون اور جولائی کے مہینوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھتا تھا۔ 

تاہم مقامی باشندوں کا کہنا ہے گزشتہ دس سال میں اپر دیر میں بارشیں کم سے کم تر ہوتی گئی ہیں۔ اسی طرح، ان کے مطابق، موسم سرما میں ہونے والی برفباری بھی دو سے تین فٹ سالانہ سے کم ہو کر برائے نام رہ گئی ہے۔ 

ان موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ جنگلات کےخاتمے سے جنم لینے والے زمینی کٹاؤ اور سیلاب نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپر دیر میں بہنے والے دریاؤں کے کنارے موجود متعدد آبادیوں اور بہت سی زرعی زمین کو تہ تیغ کر دیا ہے۔ صرف پچھلے سالوں کے دوران کئی مقامی آبی گزرگاہوں پر بنے پُل، ایک پرائمری سکول، متعدد علاقوں کے بازار، دو بڑے ہوٹل اور بہت سے مکان سیلاب میں بہہ گئے اور ایک درجن سے زائد لوگ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تاریخ اشاعت 23 اپریل 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید زاہد جان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے اور وہ گزشتہ باٸیس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔