گلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ: گلگت بلتستان میں بے سہارا خواتین کے لیے بنائی جانے والی پناہ گاہ کی تعمیر میں سالوں کی تاخیر۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

گلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ: گلگت بلتستان میں بے سہارا خواتین کے لیے بنائی جانے والی پناہ گاہ کی تعمیر میں سالوں کی تاخیر۔

کرن قاسم

postImg

گلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ: گلگت بلتستان میں بے سہارا خواتین کے لیے بنائی جانے والی پناہ گاہ کی تعمیر میں سالوں کی تاخیر۔

کرن قاسم

گلزار بی بی کے پاس رہنے کے لیے کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔ 

پچھلے دو سال میں وہ تین جگہیں بدل چکی ہیں اور اب کئی ماہ سے اپنی ایک سہیلی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ تاہم انہیں معلوم نہیں کہ وہ مزید کتنا عرصہ اس جگہ ٹِک پائیں گی۔

ان کی ابتلا کی ابتدا 2014 میں ہوئی جب 19 برس کی عمر میں ان کی شادی ان کے والد کے دوست کے بیٹے سے ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا شوہر انہیں "مارتا پیٹتا تھا" اور ان کے سسرالی رشتہ دار بھی ان کے ساتھ "بدسلوکی سے پیش آتے تھے"۔ دو سال بعد جب انہوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا تو انہیں کچھ امید لگی کہ شاید اب ان کے حالاتِ زندگی بہتر ہو جائیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس کے باوجود ان کی "مشکلات میں کوئی کمی نہ آئی"۔ 

بالاآخر 2020 میں ان کے شوہر نے انہں طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور ان کی بیٹی کو بھی اپنے پاس رکھ لیا۔ 

طلاق ملنے کے بعد گلزار بی بی اپنے میکے چلی گئیں لیکن ان کا وہاں رہنا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ ان کے والدین وفات پا چکے تھے اور ان کے بھائی انہیں اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں تھے۔ نتیجتاً وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ رہنے لگیں جس نےکچھ عرصہ بعد انہیں ایک ڈاکٹر کے ہاں ملازمت دلا دی۔ اس ڈاکٹر نے انہیں رہنے کے لیے بھی جگہ دے دی۔  

وہ خوش تھیں کہ ان کے روزگار اور رہائش کا مسئلہ اکٹھا ہی حل ہو گیا ہے لیکن، ان کے مطابق، انہیں "ملازمت کرتے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ وہ ڈاکٹر اپنے خاندان کے ساتھ بیرون ملک منتقل ہو گیا" اور وہ ایک مرتبہ پھر سڑک پر آ گئیں۔ تاہم ان کی ایک اور سہیلی انہیں اپنے گھر لے گئیں جہاں وہ اب تک رہ رہی ہیں۔ 

گلگت شہر کی باسی گلزار بی بی چاہتی ہیں کہ ان کا بھی اپنا گھر ہو جہاں وہ اپنی بیٹی کو بھی اپنے پاس رکھ سکیں لیکن نہ تو ان کے پاس اس کے لیے درکار مالی وسائل ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر اُن جیسی بے سہارا عورتوں کے لیے کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جو انہیں مستقل رہائش فراہم کر سکے۔

گلگت میں خواتین کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن کی انچارج حُسن بانو کہتی ہیں کہ یہ مسئلہ صرف گلزار بی بی کو ہی درپیش نہیں بلکہ ایسی درجنوں بے گھر خواتین ان کے پاس آتی ہیں "مگر وہ ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر پاتیں"۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین جنہیں تشدد کے بعد گھر سے نکال دیا جاتا ہے یا وہ خواتین جو شوہروں اور سسرال والوں کے برے سلوک سے تنگ آ کر خود اپنا گھر چھوڑ دیتی ہیں انہیں "زیادہ عرصے تک پولیس سٹیشن میں نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ ایک تو پولیس سٹیشن میں زیادہ جگہ نہیں ہوتی اور دوسرا یہ کہ پولیس کے پاس ایسی خواتین کی دیکھ بھال اور نگہداشت کے لیے درکار مالی وسائل بھی نہیں ہوتے"۔

اس لیے وہ کہتی ہیں کہ جب کوئی شادی شدہ خاتون ان کے پاس گھریلو تشدد کی شکایت لے کر آتی ہے تو ان کی "یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فریق مخالف سے صلح کر لے"۔ گلگت اور غِذر میں قائم کیے گئے خواتین کے مخصوص پولیس سٹیشنوں کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ تشدد کا شکار اکثر خواتین ایسا ہی کرتی ہیں کیونکہ، حُسن بانو کے بقول، "انکے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا"۔ اس ریکارڈ کے مطابق ان دونوں پولیس سٹیشنوں میں 2012 اور 2022 کے درمیان گھریلو تشدد کی دو سو 50 شکایات آئیں لیکن ان میں سے تقریباً دو سو پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ، پولیس کی مطابق، ان میں ملوث فریقین نے صلح کر لی تھی۔ 

نیک پروین نامی ایک مقامی سماجی کارکن خاتون اس صلح کے پیچھے کارفرما عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں کہ "گھریلو ناچاقی، تشدد اور اس کے نتیجے میں طلاق پانے والی خواتین کا اپنے سسرال کے ساتھ رہنا تو ناممکن ہوتا ہی ہے ان کے میکے والے بھی انہیں مالی بوجھ سمجھتے ہیں"۔ ان کا کہنا ہے کہ "ایسی خواتین کو معاشرے میں بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ انہیں ہر وقت طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے"۔ 

نیک پروین کہتی ہیں کہ اس طرح کے حالات کا شکار خواتین کی مشکلات کا ایک ہی حل ہے کہ حکومت ان کے لیے سرکاری پناہ گاہیں بنائے "جہاں وہ سکون سے زندگی گزار سکیں"۔ 

ابھی کچھ اور دیر باقی ہے

گلگت-بلتستان میں 2009 سے لے کر 2014 تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ اپنے دورِ اقتدار میں اس جماعت نے پہلی بار اس خطے میں بے سہارا خواتین کے لیے ایک سرکاری دارالامان بنانے کا تصور پیش کیا۔ ابتدا میں حکومت کا خیال تھا کہ اس دارالامان کی اپنی عمارت کی تعمیر تک اسے کسی کرائے کی عمارت میں ہی قائم کر دینا چاہیے لیکن سرکاری قواعدوضوابط نے اسے اس امر کی اجازت نہیں دی۔

اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی آئینی مدت ختم ہو گئی اور 2015 میں گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوگئی۔ نئی حکومت کے دور میں کچھ عرصہ تو دارالامان کے قیام کا منصوبہ فائلوں میں ہی بند رہا مگر 2016 میں گلگت-بلتستان کے محکمہ برائے سماجی بہبود نے حکومت کو بتایا کہ اس نے دارالامان کی تعمیر کے لیے ضلع گلگت میں ایک مناسب جگہ منتخب کر لی ہے۔

تاہم اس انتخاب کے باوجود اس کی تعمیر شروع نہ ہو سکی۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا: بہاولنگر میں میڈیکل کالج کی تعمیر آٹھ سال سے کیوں التوا کا شکار ہے؟

اس میں تاخیر کے پیشِ نظر ہنزہ کے سابق حکمران کی اہلیہ رانی عتیقہ غضنفر نے 2017 میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی کہ بے سہارا خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خطے کے تینوں ڈویژنوں، گلگت، بلتستان اور دیامِر، میں ایک ایک سرکاری دارالامان قائم کیا جائے۔ وہ اس وقت حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے خود بھی اسمبلی کی رکن تھیں۔

اگرچہ ان کے ساتھی اراکینِ اسمبلی نے ان کی یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی لیکن عملی طور پر اس معاملے میں ایک سال مزید کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ یوں 19-2018 میں بالآخر ایک کروڑ چار لاکھ روپے کی لاگت سے گلگت شہر سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سکوار نامی جگہ پر دارالامان کی دومنزلہ عمارت کی تعمیر شروع ہوئی جو چار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ 

گلگت-بلتستان کے محکمہ برائے سماجی بہبود کے سیکرٹری نجیب عالم کا کہنا ہے کہ اس کی تکمیل میں ابھی دو ماہ مزید لگیں گے۔ اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بنتے ہی دارالامان کو فعال بنانے کے لیے اس کے عملے کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا جائے گا لیکن کچھ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے یہ ذرائع کہتے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک اس بات کی منظوری نہیں دی کہ دارالامان کے لیے کتنا عملہ درکار ہوگا اور اس عملے میں سے کس کا گریڈ کیا ہو گا۔ اسی طرح اس عملے کی بھرتی اور تنخواہوں کے لیے درکار رقم بھی ابھی تک محکمہ برائے سماجی بہبود کو فراہم نہیں کی گئی۔

تاریخ اشاعت 12 ستمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کرن قاسم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ گزشتہ 11 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔