موسمیاتی تبدیلی نے کھیت مزدور خواتین کے لیے نئی جسمانی اور معاشی مشکلات کھڑی کر دیں

postImg

مبشر مجید

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلی نے کھیت مزدور خواتین کے لیے نئی جسمانی اور معاشی مشکلات کھڑی کر دیں

مبشر مجید

loop

انگریزی میں پڑھیں

انچاس سالہ اللہ رکھی وہاڑی شہر سے 13 کلومیٹر دور گاؤں 65 ڈبلیو بی میں رہتی ہیں۔ نو برس قبل ان کا جوان سال بیٹا بس سے گر کر جاں بحق ہو گیا تھا جس کے تقریباً تین سال بعد خاندان کے واحد کفیل اور ان کے شوہر شدید بیمار پڑ گئے۔

شوہر  کی بیماری کے بعد ان کے پاس مزدوری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ابتدا میں کام کے نتیجے میں ہونے والی تھکاوٹ کے باعث ان کے جسم میں اکثر درد رہتا اور بخار ہو جاتا تھا لیکن اب وہ اس کی عادی ہو گئی ہیں۔

وہ کھیتوں میں کپاس کی چنائی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے چنائی اچھے موسم میں ہوا کرتی تھی لیکن گزشتہ چند برسوں سے اگیتی کپاس کی چنائی جولائی اگست میں ہو رہی ہے۔ اس دوران شدید حبس ہوتا ہے جس میں کام کرنا آسان نہیں۔

روایتی طور پر کپاس کی کاشت مئی یا جون میں کی جاتی ہے اور اس کی چنائی اکتوبر میں شروع ہو کر دو تین ماہ جاری رہتی ہے۔ ان مہینوں میں موسم معتدل یا قدرے سرد ہوتا ہے اس لیے عورتیں سارا دن چنائی کرتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور مون سون  کی بے وقت بارشوں کے باعث بالخصوص 2014ء سے کپاس کی فصل خراب ہونا شروع ہوئی تو کاشت کار اسے فروری اور مارچ میں اگانے لگے ہیں۔

محکمہ زراعت وہاڑی کے مطابق کپاس کی اگیتی کاشت کا کوئی مخصوص ڈیٹا جمع نہیں کیا جاتا لیکن ایک اندازے کے مطابق 40 سے 45 ہزار ایکڑ پر کپاس کی اگیتی فصل کاشت کی گئی ہے جبکہ رواں سال وہاڑی میں کپاس کا  کل زیر کاشت رقبہ دو لاکھ 20 ہزار ایکڑ ہے۔

اللہ رکھی بتاتی ہیں کہ "ان دنوں میں کپاس کی چنائی صبح چھ بجے سے شام 10 بجے تک جاری رہتی ہے ۔اس دوران ایک عورت 30 سے 40 کلو تک چنائی کر لیتی ہے۔"

اسی گاؤں کے کاشت کار میاں صابر کا کہنا ہے کہ کپاس کے لیے چونیاں (چننے والی) ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ چند عورتیں ریٹ کا شکوہ کرتی ہیں تاہم زیادہ تر موسم کی شدت کے باعث کھیتوں کا رخ نہیں کرتیں حالانکہ چنائی کی اجرت بڑھا کر 12 سو روپے کر دی ہے۔ دیگر مداخل کے ساتھ کسان کا یہ خرچہ بھی بڑھ گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جولائی اور اگست میں اگیتی کپاس سے چنائی کی جاتی ہے۔ عام طور پر 20 سے 25 عورتیں چنائی کے لیے بلائی جاتی ہیں۔ ان کے لیے ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دو افراد ہمہ وقت کھیت کے باہر رہتے ہیں تاکہ اگر کوئی عورت بے ہوش ہویا اسے چکر آئیں تو فوری ابتدائی طبی امداد دی جائے اور قریبی ہیلتھ سنٹر منتقل کیا جا سکے۔

کپاس کے کھیت میں چنائی کرنے والی 41 سالہ شمشاد بی بی کہتی ہیں کہ چند سال پہلے تک انہیں چنائی کے فوراً بعد معاوضے کی صورت میں کپاس یا موقع پر رقم دی جاتی تھی۔ اب شاید کسانوں کے اپنے حالات اتنے اچھے نہیں اس لیے بعض اوقات کئی مہینے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

"جب معاوضے میں کپاس دی جاتی تھی تب بیٹیوں کے جہیز کے لیے رضائیاں تلائیاں بنا لیتے تھے لیکن اب روئی کا ریٹ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کی خریداری ایک خواب لگتی ہے۔ ایک کلو سے چار سو گرام روئی نکل آتی ہے اور فی من چنائی کا 12 واں حصہ ملتا ہے۔"

سیزن کے شروع میں مکئی کی تڑوائی اور چھلائی کی فی ایکڑ اجرت آٹھ ہزار روپے دی جاتی ہے۔ البتہ جیسے ہی دھان کی بجائی شروع ہوتی ہے عورتیں اسے چھوڑ کر دھان بیجنے لگتی ہیں جس کی فی ایکڑ اجرت 10 سے 11 ہزار روپے ہے۔ 10 عورتیں ایک دن میں ڈیڑھ ایکڑ تک بجائی کر لیتی ہیں۔

اس دوران مکئی کی تڑوائی اور چھلائی کا ریٹ بڑھ کر 13 ہزار روپے فی ایکڑ ہو جاتا ہے۔ 10 خواتین مل کر ڈیڑھ دن میں تقریباً ایک ایکڑ مکئی کی تڑوائی اور چھلائی کر لیتی ہیں۔

مکئی بیجنے کے فی ایکڑ 25 سو سے تین ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ پانچ عورتیں صبح سات سے چار بجے تک ایک ایکڑ کی بجائی کر لیتی ہیں۔البتہ اس فصل کی بجائی کے لیے پلانٹر نامی مشین  سے بیک وقت کھیلیاں بھی بن جاتی ہیں اور بیج بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ اس سے بوئے گئے پودے مساوی فاصلے پر اگتے ہیں جس سے پیداوار بہتر ہوتی ہے۔ اس مشین سے مزدور عورتوں کی مانگ میں کمی آئی ہے۔

مکئی کے کھیت میں کیڑے مار ادویات چھڑکنے کی فی ایکڑ اجرت ایک ہزار سے 12 سو روپے تک ہے اور ایک فصل میں اوسطاً بجائی کے تین ہفتے بعد ہر تین ہفتے کے وقفے سے ادویات دی جاتی ہیں۔

اللہ رکھی بتاتی ہیں کہ چند روز قبل مکئی کی فصل کو ادویات دیتے ہوئے ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ منہ پر کپڑا لپیٹ لیتی ہیں لیکن حبس کے دنوں میں یہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔"

خواتین گنا چھلائی کا فی من 15 ہزار روپے تک معاوضہ لیتی ہیں۔ گنا اور مکئی تڑوائی اور چھلائی کے لیے خواتین ٹولیوں کی صورت میں کام کرتی ہیں۔ 10 خواتین صبح سات سے شام چار بجے تک چار کنال گنا چھلائی کر لیتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں گنا کٹائی، چھلائی اور لوڈنگ کا ریٹ 25 سے 30 روپے فی من ہے۔ اس میں خواتین کے ساتھ ساتھ مرد بھی کام کرتے ہیں۔

چک 59 ڈبلیو بی کے  کاشت کار سجاد رفیق کا کہنا ہے کہ ان کی کل اراضی 30 ایکڑ ہے۔ وہ تین سال پہلے تک 14 ایکڑ پر کپاس کاشت کرتے تھے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے کاشت کار کو بہت متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے روایتی فصلوں خاص طور پر کپاس اور گندم کی کاشت بہت کم کر دی ہے۔ انہوں نے اس سیزن میں صرف چار ایکڑ پر کپاس کاشت کی ہے۔

سجاد رفیق بتاتے ہیں کہ پہلے کپاس کی چنائی جن مہینوں میں کی جاتی تھی ان میں مزدور عورتوں کی بڑی تعداد میں میسر ہوتی تھی لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب یہ جولائی میں شروع ہوتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

میری ذات ذرہِ بے نشان: 'زرعی مزدور خواتین کی مشقت کو کام تسلیم ہی نہیں کیا جاتا'۔

ان کا کہنا ہے کہ شدید موسم کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین نے شہروں کا رخ کر لیا ہے جہاں وہ گھروں میں کام کرتی ہیں۔ تنخواہ کے ساتھ ساتھ انہیں پرانے کپڑے، جوتے اور دیگر سامان بھی مل جاتا ہے۔ اسی واسطے کپاس کے کاشت کار کو چنائی کے لیے مشکل سے ہی مزدور خواتین میسر آتی ہیں۔

ان کے مطابق  کسان کی جانب سے ایک ہزار سے 12 سو روپے تک فی من چنائی دی جا رہی ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی سے موازنہ کیا جائے تو یہ معاوضہ بہت کم ہے۔ عورتوں کا زیادہ رجحان مکئی کی جانب ہے کیونکہ اس کی بجائی، زہر ڈالنا، صفائی، چھدرائی، کٹائی اور چھلائی سب وہی کرتی ہیں اور معاوضہ چنائی کی نسبت زیادہ ملتا ہے۔

لیبر سروے 21-2020ء کے مطابق ضلع وہاڑی میں مزدوروں کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 60 ہزار ہے جن میں سے 51.2  فیصد  کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ وہاڑی میں  مزدور عورتوں کی کل تعداد چار لاکھ نو  ہزار ہے جن میں سے 79.2  فیصد یعنی لگ بھگ تین لاکھ 30 ہزار اپنی روزی روٹی زراعت سے کماتی ہیں۔ یہ زیادہ تر وہی  مزدور ہیں جو کپاس کی چنائی، مکئی کی بجائی اور چھلائی اور دھان کی بجائی کرتی ہیں۔

تاریخ اشاعت 9 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مبشر مجید وہاڑی کے رہائشی اور گذشتہ چھ سال سے تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔ زراعت، سماجی مسائل اور انسانی حقوق ان کے خاص موضوعات ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.