دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا: 'سندھ میں ہونے والے موسمیاتی تغیرات کا اثر فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدن دونوں پر پڑے گا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا: 'سندھ میں ہونے والے موسمیاتی تغیرات کا اثر فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدن دونوں پر پڑے گا'۔

رحمت تونیو

postImg

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا: 'سندھ میں ہونے والے موسمیاتی تغیرات کا اثر فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدن دونوں پر پڑے گا'۔

رحمت تونیو

ذوالفقار پھل پوٹو پانچ سال پہلے تک اپنی زمین کے ہر ایکڑ سے تقریباً 60 من (دو ہزار چار سو کلوگرام) چاول پیدا کرتے تھے لیکن اب ان کی فی ایکڑ پیداوار 40 من (ایک ہزار چھ سو کلوگرام) رہ گئی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے سالوں میں اس میں اور بھی کمی ہو جائے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے بہت سے طریقے آزمائے ہیں "جن میں مہنگے بیجوں، بہت سی زرعی ادویات اور معیاری کھادوں کا استعمال بھی شامل ہے"۔ لیکن، ان کے مطابق، "ان سے فصل کی پیداوار پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا"۔
لہٰذا وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی کی وجہ بیج کھاد وغیرہ کا معیار نہیں بلکہ موسم میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باعث انہیں نہ تو "چاول کی فصل کے لیے درکار پانی وقت پر مل رہا ہے اور نہ ہی انہیں اس کی کاشت اور برداشت کے دنوں میں موزوں درجہ حرارت دستیاب ہوتا ہے"۔

شمالی سندھ کے شہر جیکب آباد سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں چانگ گوٹھ نامی گاؤ ں میں واقع ان کی 55 ایکڑ زرعی اراضی دریائے سندھ سے نکلنے والی نہروں سے سیراب ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی قریب میں وہ عام طور پر جون کے آغاز میں چاول کی بوائی کرتے تھے لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اُن دنوں دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت ہو جاتی ہے اور نہری پانی چانگ گوٹھ تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ چنانچہ، ان کے مطابق، "مجھے فصل کی کاشت میں اس وقت تک تاخیر کرنا پڑتی ہے جب تک نہروں میں پانی کی مقدار بہتر نہ ہو جائے"۔

حکومتی ادارے بھی ان کی بات کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے چند سالوں میں عام طور پر اور اِس سال خاص طور پر سندھ میں موسمِ گرما کے آغاز میں دریائی پانی کی قلت 50 فیصد سے بھی زیادہ رہی ہے۔ مثال کے طور پر 12 جون 2022 کو انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبے کے تین بیراجوں، گُدو، سکھر اور کوٹڑی، پر مئی اور جون کے مہینوں میں مجموعی طور پر دریائے سندھ کا بہاؤ صوبے کی دریائی پانی کی مجموعی ضرورتوں سے 61 فی صد کم رہا۔

آبی ماہرین کے مطابق دریا کے بہاؤ میں کمی کا ایک اہم سبب شمالی پاکستان میں سردیوں کے موسم میں ہونے والی بارش اور برفباری میں آنے والی کمی ہے کیونکہ اُس علاقے سے دریا میں شامل ہونے والے سینکڑوں ندی نالے شروع ہوتے ہیں۔ مئی 2022 میں وفاقی محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعدادوشمار اس کمی کی نشان دہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رواں سال جنوری اور اپریل کے درمیان پاکستان میں ہونے والے بارشیں معمول سے 21.6 فیصد کم رہیں۔

اسی طرح سندھ حکومت کی تحفظِ ماحول کی مجوزہ پالیسی کا مسودہ (جسے ابھی سرکاری طور پر منظور نہیں کیا گیا) بھی توثیق کرتا ہے کہ دریائی پانی کی قلت کا سبب موسمیاتی تبدیلیاں ہی ہیں۔ اس کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس قلت سے صوبہ سندھ کے بہت سے علاقوں کی زرعی زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل قریب میں یہ رجحان مزید بڑھ جائے گا کیونکہ آبادی میں اضافے کے پیشِ نظر 2022 اور 2030 کے درمیان صوبے میں زرعی آب پاشی کے لیے پانی کی مجموعی طلب ایک سو نو ملین ایکڑ فٹ سے بڑھ ایک سو 24 ملین ایکڑ فٹ ہو جائے گی جبکہ اس عرصے میں دریائے سندھ میں اس سے کہیں کم پانی موجود ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے صوبے کے کئی علاقوں میں "فی ایکڑ پیداوار میں 6 فیصد سے 18 فی صد کمی آ سکتی ہے"۔

بدلتے موسم، بدلتی زرعی معیشت

ذوالفقار پھل پوٹو کا گاؤں لاڑکانہ ڈویژن کا حصہ ہے جہاں سندھ میں سب سے زیادہ چاول کاشت کیے جاتے ہیں۔ 2020 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون کا کہنا ہے کہ اِس ڈویژن میں 1994 اور 2017 کے درمیان چاول کی بوائی کے دنوں کے اوسط درجہ حرارت میں 3.9 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو ا۔ یہ مضمون وِپن کمار اوڈ، محمد عرفان، وکی کمار، محمد سلمان محسن اور چند دیگر تحقیق کاروں نے لکھا ہے جو اس کی اشاعت کے وقت پاکستان، چین اور ملائیشیا کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ تھے اور اسے ایم ڈی پی آئی نامی ایک غیرسرکاری اشاعتی ادارے نے چھاپا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہی سالوں میں چاول کی کٹائی کے دنوں میں اوسط درجہ حرارت 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہو گیا۔

ان دونوں تبدیلیوں کے نتیجے میں فصل کی بوائی اور کٹائی میں 15 سے 30 دن کی تاخیر دیکھی گئی ہے۔ چنانچہ، مضمون نگاروں کے مطابق، لاڑکانہ ڈویژن میں اکتوبر 2017 کے پہلے ہفتے تک چاول کے زیرکاشت کل مقامی اراضی کے 46.8 فیصد حصے سے فصل اٹھائی نہیں جا سکی تھی حالانکہ 1994 میں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اس فصل کے زیرِ کاشت رقبے کے صرف 34.6 فیصد حصے کو کاٹنا ابھی باقی تھا۔

تحفظِ ماحول کی مجوزہ صوبائی پالیسی خبردار کرتی ہے کہ یہ موسمی تبدیلی چاول سمیت تمام فصلوں کی پیداوار پر واضح طور پر منفی اثرات چھوڑے گی۔ صوبائی محکمہ زراعت کے توسیع کے شعبے میں کام کرنے والے لاڑکانہ کےسرکل افسر ریاض بورڑو اس انتباہ کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "پانی کی قلت، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بارشوں کے معمول میں غیرمتوقع تبدیلیوں سے لاڑکانہ میں چاول، گندم اور گنے کی فصلوں کو خاص طور پر نقصان پہنچ رہا ہے"۔

تاہم ان مسائل میں سے بارش کے وقت اور مقدار میں آنے والی تبدیلی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تحفظِ ماحول کی پالیسی کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ آنے والے سالوں میں صوبہ سندھ میں یا تو بارشیں معمول سے بہت کم ہو جائیں گی یا ان میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا (جیسا کہ حالیہ ہفتوں میں دیکھنے میں بھی آیا ہے)۔ اس دو انتہاؤں کے نتیجے میں "سیلاب، خشک سالی اور غذائی عدم تحفظ جیسے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور روس-یوکرین جنگ کی حدت: 'پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا'۔

کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے شعبہ معاشیات میں پڑھانے والے ڈاکٹر ہیمن داس لوہانو اور سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر پروفیسر فتح محمد مری کا بھی کہنا ہے کہ "سندھ میں ہونے والے موسمیاتی تغیرات اور درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدن دونوں پر پڑے گا"۔

انہوں نے مل کر ایک مضمون لکھا ہے جو 2020 میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو، کے تحقیقی جریدے میں شائع ہوا ہے۔ اس میں اُن کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں "سندھ کے زرعی شعبے اور اس پر منحصر دوسرے معاشی شعبوں کے بارے میں ایک غیریقینی صورتِ حال پیدا ہونے کا امکان ہے" جس کی وجہ سے صوبے میں "آمدنی، روزگار اور غربت سب پر اثر پڑے گا"۔

تاریخ اشاعت 31 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رحمت تونیو نے سندھ مدرستہ الاسلام کراچی یونیورسٹی سے میڈیا اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے اور سندھ کے سیاسی سماجی اور ماحولیاتی معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔