مسیحی خاتون کی 20 سالہ جدوجہد، 'میں طلاق مانگتی رہتی ہوں مگر میرا شوہر میری جان نہیں چھوڑتا'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مسیحی خاتون کی 20 سالہ جدوجہد، 'میں طلاق مانگتی رہتی ہوں مگر میرا شوہر میری جان نہیں چھوڑتا'

فاطمہ شاہین نیازی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مسیحی خاتون کی 20 سالہ جدوجہد، 'میں طلاق مانگتی رہتی ہوں مگر میرا شوہر میری جان نہیں چھوڑتا'

فاطمہ شاہین نیازی

loop

انگریزی میں پڑھیں

سونیا کے شوہر نے ان کے جسم پر شراب کی بوتل انڈیلی اور انہیں آگ لگا دی۔ رات کی خاموشی میں ان کی چیخیں گونجیں تو ارد گرد رہنے والے سبھی لوگ جاگ گئے مگر کراچی کی اس چھوٹی سی مسیحی بستی میں کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔ شاید مقامی لوگوں نے سوچا ہو کہ ان کا شوہر حسب معمول انہیں مار پیٹ رہا ہو گا۔اگرچہ وہ اس حملے میں زندہ بچ گئیں لیکن ان کی رانیں اور بازو بری طرح جل گئے۔

اس وقت سونیا کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی اور وہ حاملہ بھی تھیں۔

اس واقعے سے دو سال پہلے ان کی شادی وارث نامی شخص سے ہوئی تھی جو پہلے دن سے ہی انہیں تشدد کا نشانہ بناتا چلا آ رہا تھا۔ سونیا کا الزام ہے کہ اس مار پیٹ کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وارث کے اپنے بھابی سے تعلقات تھے جو اسے سونیا پر تشدد کرنے کے لیے اکساتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ "وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر گھر آتا اور جو چیز اس کے ہاتھ لگتی اسی سے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیتا"۔

اپنے بالائی ہونٹ پر زخم کا نشان دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ تشدد کے نتیجے میں وہ اس قدر زخمی ہو گئیں کہ انہیں اپنے ہونٹ پر ٹانکے لگوانا پڑے۔
تاہم جس رات وارث نے سونیا کو آگ لگائی وہ میاں بیوی کی حیثیت سے ان کی آخری رات ثابت ہوئی۔

سونیا کے والدین انہیں اپنے گھر لے آئے کیونکہ وہ ان کی سلامتی کے بارے میں فکر مند تھے۔ دوسری طرف وارث نے بھی ہمیشہ کے لئے ان سے منہ موڑ لیا اور کبھی انہیں واپس لینے کے لئے نہیں آیا۔ حتیٰ کہ چند ہفتے بعد جب سونیا نے ایک بیٹے کو جنم دیا تو وہ تب بھی انہیں ملنے نہ آیا۔

وہ کہتی ہیں کہ "بچے کی پیدائش کے بعد میں نے اپنے شوہر کے گھر واپس جانے کی کوشش بھی کی مگر اس نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن ساتھ ہی اس نے مجھے طلاق دینے سے انکار کر دیا اور بچہ پالنے کے لیے خرچہ بھی نہ دیا"۔

سونیا نے بعد ازاں کراچی کے ضلع ملیر سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن مشتاق مَٹو سے رابطہ کیا اور طلاق کے لیے ان سے مدد کی درخواست کی لیکن وہ ان کی کوئی مدد نہ کر سکے کیونکہ پاکستان میں مسیحی عورتوں کو طلاق کے حصول میں ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں عبور کرنا قریب قریب نا ممکن ہے۔

لیکن مشتاق مَٹو نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کوئی نوکری کر لیں اور خود روزی کما کر اپنا بچہ پالیں۔ سونیا کہتی ہے کہ "اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے میں نے نرس کے طور پر نوکری شروع کر دی لیکن پھر بھی میں مسلسل یہی سوچتی رہتی تھی کہ وارث سے چھٹکارہ کیسے حاصل کروں"۔  طلاق کی جستجو میں وہ اپنے ایک ہمسائے سے بھی مِلیں جو وکالت کرتا ہے۔ اس شخص نے سونیا کی مدد کرنے کی حامی تو بھر لی مگر انہیں مسلسل دھوکے میں رکھا۔ وہ دو سال تک مقدمے کے نام پر ان سے رقم لیتا رہا مگر اس نے طلاق کے لیے عدالت میں کبھی کوئی درخواست ہی دائر نہ کی۔

دوسری طرف جوں جوں سونیا کے بچے کی عمر بڑھ رہی تھی ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اور انہیں اپنی 12 ہزار روپے ماہانہ آمدنی میں سے وکیل کو ادائیگی کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مسئلے کا قانونی حل تلاش کرنے کی کوششیں ترک کر دیں اور وہی راستہ اختیار کیا جو بہت سی مسیحی عورتیں متشدد شوہروں سے چھٹکارا پانے کے لیے اختیار کرتی ہیں یعنی انہوں نے عمران نامی مسلمان شخص سے شادی کر لی۔

پچاس سالہ عمران نے جب سونیا کو شادی کی پیشکش کی تو وہ اپنی مصیبت زدہ زندگی سے نکلنے کے لیے اس قدر بے تاب تھیں کہ انہوں نے جھٹ پٹ ہاں کر دی۔ تاہم انہوں نے شرط رکھی کہ وہ عملی طور پر نہیں بلکہ صرف 'کاغذوں میں' ہی اسلام قبول کریں گی۔ عمران نے ان کی یہ شرط مان لی۔

اگرچہ سونیا نے ظاہری طور پر ہی اسلام قبول کیا تھا لیکن اس کے باوجود عمران سے شادی کرنے کے نتیجے میں مذہبی طور پر وارث کے ساتھ ان کی شادی خود بخود ختم ہو گئی۔

تاہم شادی کے پانچ سال بعد عمران اور سونیا کے تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ ایک طرف تو سونیا کے مسیحی رشتہ دار اور ہمسائے عمران کو پسند نہیں کرتے تھے تو دوسری طرف اس نے خود بھی اچھا شوہر بننے کی کبھی کوئی کوشش نہ کی۔

سونیا اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "وہ اپنے مسلمان دوستوں کو گھر بلا لیتا تھا جو شراب پی کر علاقے میں غل غپاڑہ کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ مجھے تشدد کا نشانہ بھی بناتا تھا"۔

جب عمران کا طرزعمل سونیا کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا تو انہوں نے اس سے طلاق حاصل کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر دی۔ چونکہ ان کی شادی مسلم عائلی قوانین کے تحت ہوئی تھی اس لیے اسے ختم کرنے میں انہیں کوئی بڑی قانونی یا مذہبی مشکل پیش نہ آئی۔

لیکن طلاق لینے کے بعد بھی سونیا کے مسائل کم نہ ہوئے۔ مردانہ غلبے والے سماج میں زندگی گزارنے کے لیے انہیں اب بھی ایک مرد کی ضرورت تھی کیونکہ اکیلی عورت کو لوگ بے دھڑک ہراساں کرتے اور بد سلوکی کا نشانہ بناتے ہیں۔ چنانچہ عمران کو چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر شادی کر لی۔

سونیا نے اپنے تیسرے شوہر عامر کو اس بس سٹاپ پر دیکھا تھا جہاں سے وہ کام پر جاتی تھی۔ ان کہ کہنا ہے کہ "ایک دن وہ میرے پاس آیا اور مجھے شادی کی پیش کش کر دی"۔ 

عامر  کے پہلی شادی سے چار بچے ہیں اور اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ سونیا کو اس سے شادی کرنے میں اس لئے بھی آسانی ہوئی کہ عامر ایک پروٹسٹنٹ مسیحی ہے اس لیے کیتھولک چرچ میں وارث سے رجسٹرڈ اپنی پہلی شادی ظاہر کیے بغیر وہ ایک پروٹسٹنٹ چرچ میں عامر کے ساتھ اپنی شادی رجسٹرڈ کرا سکتی تھیں۔

اب وہ دو سال سے عامر کے ساتھ رہ رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کا تیسرا شوہر بھی کبھی کبھار انہیں مارتا پیٹتا ہے تاہم مجموعی طور پر وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ انہیں بس ایک ہی پریشانی ہے کہ کہیں ان کا پہلا شوہر واپس آ کر ان کے بائیس سالہ بیٹے کو ساتھ لے جانے کا دعویٰ نہ کر دے۔

ایک بار وارث اسے اس وقت اپنے ساتھ لے بھی گیا تھا جب اس کی عمر 15 سال تھی۔ لیکن سونیا کہتی ہیں کہ وارث اپنے بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بناتا تھا اس لیے وہ کچھ عرصے کے بعد ان کے پاس واپس آ گیا۔

سونیا کی عمر اب 40 سال کے قریب ہے (انہوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے اور کسی جسمانی اور سماجی نقصان سے بچنے کے لیے اپنا اصل نام ظاہر نہیں کیا) لیکن ان کی اب بھی خواہش ہے کہ کسی طرح وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ اپنا ناتا ہمیشہ کے لیے ختم کر سکیں۔ ان کے بقول "میں اس سے کہتی رہتی ہوں کہ وہ مجھے باقاعدہ طلاق دے دے مگر اس نے کبھی میری بات نہیں سنی۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ مجھے تنگ کر کے خوش ہوتا ہے"۔

طلاق حاصل کرنے کے قانونی اور غیر قانونی طریقے

بیرسٹر منیر اقبال کراچی میں ایک قانونی فرم میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مسیحی جوڑوں میں طلاق سے متعلق بہت سے مقدمات کی پیروی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیحیوں میں بیوی کے پاس اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کرنےکا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس کے شوہر کا کسی اور عورت کے ساتھ جسمانی تعلق ہے۔ لیکن ان کے بقول "جب کوئی عورت عدالت جا کر اپنے شوہر پر بدکاری کا الزام عائد کرے تو اسے یہ الزام ثابت بھی کرنا ہوتا ہے اور ایسا کرنا قریباً نا ممکن ہے۔اسی لیے اس کی طلاق کی درخواست اکثر مسترد کر دی جاتی ہے"۔

سندھ کے ضلع میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن گینو مسیح سمجھتے ہیں کہ اس رکاوٹ نے مسیحی خواتین کے لیے ایسی شادیوں سے چھٹکارا پانا نا ممکن بنا رکھا ہے جن میں انہیں تشدد اور بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ان عورتوں کے پاس یہی راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے گھر چلی جائیں جہاں انہیں اپنی زندگیاں اپنے بھائیوں اور ان کی بیویوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ایسی عورتیں دوبارہ شادی نہیں کر سکتیں اور تنہا زندگی گزار کر دنیا سے چلی جاتی ہیں"۔ ان کے مطابق یہی وہ مسائل ہیں جن کی بنا پر عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ سمجھوتے کے لیے ہر قدم اٹھانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'تشدد جھیلتی رہی ہوں مگر طلاق نہیں لے سکتی'

بعض عورتیں اس صورتحال سے بچنے کے لیے وہی راستہ ڈھونڈتی ہیں جو سونیا نے اختیار کیا۔ تاہم ایسی عورتوں کو نئے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا ڈر بھی ہوتا ہے اور پہلے شوہر کی واپسی کا خطرہ بھی مستقل درپیش رہتا ہے۔ اسی لیے گینو مسیح سمجھتے ہیں کہ مسیحی جوڑوں کے لیے طلاق کا عمل آسان اور تیز کرنے کی ضرورت ہے "تا کہ ایک دوسرے سے نا خوش میاں بیوی کو زندگی بھر جسمانی اور جذباتی تشدد نہ سہنا پڑے یا وہ علیحدگی کے لیے ایسے راستے اختیار نہ کریں جو قانون اور مذہب دونوں کی نظر میں درست نہیں"۔

گینو مسیح کے مطابق مسیحی شادی اور طلاق سے متعلق 2019 میں تیار کیا جانے والے مسودہِ قانون کو اس ضمن میں بہتر تبدیلی لانے کی ایک بڑی کوشش کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اس قانون نے پاکستان کی مسیحی برادری میں بہت سے مذہبی اور قانونی تنازعات اور مخاصمتوں کو جنم دیا ہے جنہیں دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مسودہ دو سال سے پارلیمنٹ میں کیوں پڑا ہوا ہے اور کیوں مستقبل قریب میں یہ ایک قانون کی شکل اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 5 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 15 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔