'اگر کوئی بچہ جیل سے نکل کر کہتا ہے کہ اس پر جنسی تشدد نہیں کیا گیا تو وہ یقیناً جھوٹ بول رہا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'اگر کوئی بچہ جیل سے نکل کر کہتا ہے کہ اس پر جنسی تشدد نہیں کیا گیا تو وہ یقیناً جھوٹ بول رہا ہے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'اگر کوئی بچہ جیل سے نکل کر کہتا ہے کہ اس پر جنسی تشدد نہیں کیا گیا تو وہ یقیناً جھوٹ بول رہا ہے'۔

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

علی رضا ایک رات جیل کی بیرک میں سونے کے لیے لیٹا تو اس نے دیکھا کہ اس کا ایک ہم عمر قیدی دیوار میں بنے روشن دان کی سلاخوں کے ساتھ ایسے چمٹا ہوا ہے جیسے وہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔ لیکن غور سے دیکھنے سے اسے پتہ چلا کہ وہ دراصل اپنے آپ کو ایک کپڑے کی مدد سے روشن دان سے باندھ رہا ہے تاکہ گر نہ پڑے۔ اس طرح وہ 15 سالہ قیدی اپنے لیے سونے کا ایک ایسا انتظام کر رہا تھا جس کے ذریعے وہ خود کو جنسی زیادتی سے بچا سکے۔

علی رضا کی عمر اس وقت 16 سال تھی اور وہ اپنے چچا کو قتل کرنے کے الزام میں شیخوپورہ ڈسٹرکٹ جیل کے بچہ وارڈ میں قید تھا۔ وہ ساری رات روشن دان سے ٹنگے اس بچے کو دیکھ کر روتا رہا۔

اس واقعے کو لگ بھگ تین سال گزر چکے ہیں لیکن علی رضا کو اس کی تفصیلات اس طرح یاد ہیں جیسے یہ ابھی کل کی بات ہو۔ وہ وسطی پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں واقع قصبے مانانوالہ کا رہائشی ہے اور دو مختلف مقدمات میں کئی مہینے جیل میں گزار چکا ہے۔ 

ستمبر 2021 کی ایک سہ پہر وہ گندمی رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس مانانوالہ میں غلے کے ایک تاجر کی دکان پر بیٹھا اپنے جیل کے تجربے بیان کر رہا ہے۔ اس کا گریبان ایسے کھلا ہوا ہے جیسے اس نے کبھی اسے بند ہی نہ کیا ہو۔ اس کی لال آنکھوں میں ایک ایسی تھکاوٹ ہے جو عام طور پر عادی نشئی لوگوں میں دیکھنے میں آتی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود بچے مرد قیدیوں کے ہاتھوں ہر طرح کے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں گھاس کاٹنے اور پاخانوں اور گندی نالیوں کی صفائی کرنے جیسے مشقت طلب کاموں سے لے کر جیل کے اندر منشیات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل اور بالغ قیدیوں کی جنسی ہوس کی تسکین تک ہر طرح کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق کئی مرد قیدی "صفائی کرانے کے بہانے قیدی بچوں کو کسی خالی یا تاریک جگہ پر لے جاتے ہیں جہاں وہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں"۔  

اس زیادتی سے بچنے کے لیے کئی بچے رات کو اپنی چارپائیاں چھوڑ کر سونے کے لیے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈتے ہیں جہاں ان تک کوئی نہ پہنچ سکے تاہم علی رضا کے بقول ان ترکیبوں کے باوجود صرف وہی قیدی بچے جنسی زیادتی سے محفوظ رہ سکتے ہیں جو یا تو پیسے اور اثرورسوخ والے ہوتے ہیں یا ان کے رشتہ دار اور سرپرست بھی جیل میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "اگر کوئی بچہ جیل سے نکل کر کہتا ہے کہ اس پر جنسی تشدد نہیں کیا گیا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے"۔ 

اسی تاجر کی دکان پر بیٹھے درمیانی عمر کے محمد شفیق جیل کی اس منظر نگاری کو بالکل درست تسلیم کرتے ہیں۔ وہ خود 2007 میں تین ماہ کے لئے جیل میں رہ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیل کے قواعدوضوابط میں واضح طور پر لکھا ہے کہ بالغ مرد قیدی کسی صورت میں بھی 18 سال سے کم عمر قیدی بچوں کے وارڈ میں نہیں جا سکتے لیکن عملاً "رات کو کئی قیدی بچوں کے وارڈ میں گھس جاتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہوتا"۔ 

'پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر' 

انجم اقبال لاہور میں رہتے ہیں۔ تقریباً گیارہ سال قبل انھوں نے ایک سرکاری یونیورسٹی سے بی اے کیا اور درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے لیکن کچھ سال بعد انھوں نے مقابلے کا امتحان پاس کیا جس کے نتیجے میں اگست 2014 میں وہ منڈی بہاؤالدین کی ضلعی جیل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ لگ گئے (جہاں سے چند ماہ بعد ان کا تبادلہ لاہور میں ہو گیا)۔  

جس رات انہوں نے اپنی نوکری کا آغاز کیا اسی رات جرم و سزا کے بارے میں ان کے تمام فلسفیانہ نظریات ایک دم ڈھیر ہو گئے۔ ان کے اپنے الفاظ میں انہیں "پہلی بار معلوم ہوا کہ کتابوں اور حقیقت کی دنیا میں زمین آسمان کا فرق ہے"۔

اگلے دن انہیں جیل کا دورہ کرایا گیا جس کے دوران ان کے رفقائے کار نے انہیں خبردار کیا کہ انہیں "تیراکی بھی سیکھنی ہے لیکن مگرمچھوں سے بھی بچنا ہے"۔ دوسرے لفظوں میں ان کے لیے جیل کے سرکاری قواعدوضوابط کو سمجھنا ضروری تھا لیکن ان پر عمل درآمد کے دوران انہیں یہ بھی یقینی بنانا تھا کہ وہ کہیں بارسوخ قیدیوں کی دشمنی مول نہ لے لیں یا اپنے افسران کو ناراض نہ کر بیٹھیں۔ جیل کے انتظامی سربراہ نے بھی انہیں صاف الفاظ میں بتایا کہ "اگر کوئی چیز غلط ہوگئی تو میں تم پر ڈال دوں گا اور تم مجھ پر ڈال دینا"۔ 

انجم اقبال کہتے ہیں کہ ان کی تعیناتی کے بعد جلد ہی انہیں یہ "احساس ہو گیا کہ اس طرح کے حالات میں قیدی بچوں کا جنسی زیادتی سے بچنا ناممکن ہے"۔ ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ 90 فیصد قیدی بچے انہی جیلوں میں موجود ہیں جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ بالغ قیدی بھرے ہوئے ہیں۔ (پنجاب حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق اس وقت صوبے کی کل 41 جیلوں میں سے صرف دو ایسی ہیں جہاں قیدیوں کی تعداد ان کی گنجائش کے مطابق ہے۔) 

وہ کہتے ہیں کہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد اتنی زیادہ اور عملے کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ جیل انتظامیہ کبھی قواعدوضوابط پر عمل درآمد کرا ہی نہیں سکتی۔ ان کے بقول ان حالات میں ہر قیدی کے جنسی رجحانات پر نظر رکھنا اور کمزور قیدیوں کو طاقتور اور بارسوخ قیدیوں یا جیل کے اپنے عملے کے جنسی حملوں سے بچانا ایک ناممکن امر ہے۔  

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ جیل کے عملے کو ہر قیدی کے جنسی رجحانات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے لیکن انسانی وسائل کی کمی اور انتظامی بدعنوانی کی وجہ سے ایسے قیدیوں کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی جو دوسرے قیدیوں، خاص طور پر قیدی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہوں۔ اگر کبھی ایسے جرائم پر سزا کا تعین کرنا ضروری ہو جائے تو جیل کے اہل کار خود ہی ایسے معاملات طے کر لیتے ہیں (جس کے لیے اکثر تشدد کا استعمال کیا جاتا ہے) لیکن ان میں ملوث کسی فرد کے خلاف کبھی کوئی باضابطہ عدالتی یا قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔

ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کی تعیناتی سے چند ہفتے قبل جیل کے ایک ملازم کو ایک بالغ قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے رنگوں ہاتھوں پکڑ لیا گیا لیکن اس کے خلاف کوئی ٹھوس تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے محض اس کا تبادلہ ایک دوسری جیل میں کر دیا گیا۔

وہ ایسے واقعات سے بھی آگاہ ہیں جن میں جیل کے عملے کے ارکان خود قیدی بچوں کو ہراساں کرنے میں ملوث تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے "بچے رکھے ہوئے ہیں"۔

انجم اقبال کی نظر میں اکثر قیدی بچوں کے والدین ان خطرات سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے تدارک کے لیے کچھ کر نہیں پاتے۔ اس ضمن میں وہ 2016 میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں جس میں ابراہیم نامی ایک 16 سالہ لڑکے نے اپنی تیز رفتار کار سے لاہور کی مال روڈ پر دو نوجوان موٹرسائیکل سواروں کو روند کر ہلاک کر دیا تھا۔ 

جب عدالت نے اسے جیل بھیجا تو اس کے بارسوخ خاندان نے جیل کے عملے کے ساتھ مِل کر اس بات کو یقینی بنایا کہ یا تو وہ جیل کے ہسپتال میں رہے یا عملے کا ایک فرد بیرک میں ہر وقت اس کی نگرانی کرے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ بصورتِ دیگر وہ اسے جنسی جبر اور تشدد سے نہیں بچا پائیں گے۔ 

جیل کے انتظام میں پائی جانے والی اس قسم کی خرابیوں کی وجہ سے انجم اقبال نے مارچ 2017 میں نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور دوبارہ درس و تدریس میں لگ گئے۔ (اس رپورٹ میں ان کا اصلی نام نہیں دیا گیا تاکہ انہیں کسی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔)   

قیدی بچے زیادتی کی شکایت کیوں نہیں کرتے؟

پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے پرسنل سیکرٹری قاسم داد گورایہ اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جیلوں کے اندر اور باہر ہر متعلقہ شخص کو قیدی بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا علم ہے۔ لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے باوجود نہ تو زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کبھی کسی عدالت یا جیلوں کی نگرانی کرنے والی کسی سماجی تنظیم کو اس کے بارے میں شکایت کرتے ہیں اور نہ ہی اس میں ملوث افراد کو سزا دی جاتی ہے۔

وہ اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ ان کے محکمے کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس سے پتہ چل سکے کہ قیدی بچوں کو جیل کے عملے یا دوسرے قیدیوں کے بارے میں کس قسم کی شکایات ہیں، ان میں سے کتنی شکایات باضابطہ طور پر جیل انتظامیہ کو پیش کی گئی ہیں اور کتنی ایسی ہیں جن پر کبھی کوئی کارروائی کی گئی ہے۔

تاہم قاسم داد گورایہ سمیت کئی حکومتی اہل کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس صورتِ حال میں بہتری لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ 2019 میں حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کی جیلوں میں 19 ماہرینِ نفسیات تعینات کیے ہیں جن کا بنیادی فریضہ قیدیوں کی نفسیاتی اور ذہنی صحت کو یقینی بنانا اور ایسے قیدیوں کوماہرانہ مشورے دینا ہے جو جبر اور زیادتی کا شکار ہونے کی وجہ سے ذہنی اور جذباتی صدمے سے گزر رہے ہوں۔

ان میں سے دو ماہرین حال ہی میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور آئے جہاں انہوں اپنے نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر سجاگ کو بتایا کہ جیل میں ہر عمر اور ہر قسم کے جرائم میں ملوث بچوں کو ایک ہی جگہ رکھنے سے ان کے درمیان ایک غیر رسمی تفریق قائم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بڑی عمر کے بچے اپنے سے چھوٹے بچوں سے اپنے ذاتی کام کاج بھی کرواتے ہیں اور اکثر اوقات ان سے جنسی زیادتی بھی کرتے ہیں۔ ان کے بقول "یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی سکول یا کالج میں سینئر لڑکے جونیئر لڑکوں پر اپنی دھونس جماتے ہیں"۔ 

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اکثر قیدی بچے یا تو خود جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے جیل میں آتے ہیں یا جیل میں آنے سے پہلے ہی ان کے ساتھ اتنی بار جنسی زیادتی ہو چکی ہوتی ہے کہ یہ ان کے لئے "روز مرہ کی بات بن چکی ہوتی ہے"۔ 

ان میں سے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ قیدی بچے زیادہ تر غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جیل میں آنے سے پہلے "کسی دکان یا ورکشاپ پر کام کر رہے ہوتے ہیں جہاں انہیں نوکری دینے والے لوگ نہ صرف انھیں مارتے پیٹتے ہیں بلکہ انہیں جنسی ہوس کا نشانہ بھی بناتے ہیں"۔ 

تاہم دوسری طرف ان کی دو سالہ ملازمت کے دوران ابھی تک انہیں "زیادہ سے زیادہ دو قیدی بچوں نے بتایا ہے کہ ان کے ساتھ کسی نے جنسی زیادتی کی ہے اگرچہ انہوں نے بھی اپنی شکایت باضابطہ طور پر درج نہیں کرائی"۔

ان کی نظر میں اس کی بنیادی وجہ ان بچوں کے ساتھ جیل کے عملے کا منفی رویہ ہے جو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے وہی پرتشدد طریقے استعمال کرتا ہے جو بالغ قیدیوں پر برتے جاتے ہیں۔ نتیجتاً قیدی بچوں کو جیل میں ہر وقت جسمانی تشدد کا خطرہ لاحق رہتا ہے جس سے بچنے کے لیے وہ "جائز شکایات کے لیے بھی اپنی آواز نہیں اٹھاتے"۔

تاریخ اشاعت 15 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔