شادی کے بوجھ تلے دبی بچیاں: شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں کم عمری کی شادیاں بچیوں کی صحت کے لیے مہلک رجحان۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

شادی کے بوجھ تلے دبی بچیاں: شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں کم عمری کی شادیاں بچیوں کی صحت کے لیے مہلک رجحان۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

شادی کے بوجھ تلے دبی بچیاں: شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں کم عمری کی شادیاں بچیوں کی صحت کے لیے مہلک رجحان۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

دیپا اپنے آنگن میں کھیل رہی تھیں جب ان کے گھر کچھ مہمان آئے۔ ان کی ماں نے انہیں آواز دے کر بلایا اور مہمانوں سے مخاطب ہوکر بولیں کہ "یہ ہے دیپا"۔ مہمانوں نے ان کی ماں کو کچھ کپڑے اور مٹھائی کا ایک ڈبہ دیا اور چلے گئے۔ اسی رات ان کی ماں نے انہیں بتایا کہ تین دن کے بعد ان کی شادی ہونے والی ہے۔

دیپا اس وقت صرف 13 سال کی تھیں۔ اپنی ماں کے منہ سے اپنی شادی کی خبر سنتے ہی وہ اپنا سر پیٹنے لگیں۔ان کی بڑی بہن شکنتلا کی شادی بھی 13 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور وہ اکثر ان سے کہتی تھی کہ گھر والے جو بھی کہیں لیکن ابھی شادی مت کرنا۔ وہ جب بھی میکے آتی تو اپنے جسم پر لگے نشان دکھا کر دیپا کو بتاتی کہ اس کا شوہر اسے بہت مارتا پیٹتا ہے۔

دیپا کے مطابق ان کے والدین اپنی غربت کی وجہ سے ان کی شادی جلدی کرنا چاہتے تھے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: "میرے سب بھائیوں اور دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں اور وہ سب اپنے اپنے گھروں میں رہ رہے تھے جبکہ میرے والدین کو ابھی مجھ سمیت تین اور بیٹیوں کی  شادیاں کرنا تھیں لیکن میرے والد کی طبیعت مسلسل خراب رہتی تھی اور علاج کے لیے ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔ ایسے میں ان کے کسی دور کے جاننے والے نے میری شادی وشنو سے کرنے کی تجویز پیش کی"۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے یہ تجویز قبول کر لی حالانکہ وشنو نہ تو ان کے گاؤں شیوو کولہی (جو سندھ کے ضلع بدین میں واقع ہے) میں رہتا تھا اور نہ ہی ان کے خاندان میں کوئی اسے جانتا تھا۔ ان کے بقول اس نے ان کے والد کو علاج کے لئے پیسے دیے تھے جس کے بدلے میں وہ اپنی بچی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کو تیار ہو گئے تھے۔

زمین پر بیٹھی ڈری اور سہمی ہوئی دیپا کہتی ہیں کہ وہ اپنے والدین کے سامنے بہت روئیں اور گڑگڑائیں لیکن کسی نے ان کی بات نہ سنی اور مئی 2019 میں ان کی شادی وشنو سے ہو گئی جو ان سے 23 سال بڑا ہے۔

مٹی کے کھلونوں سے کھیلتی دیپا شادی کے بعد بدین ہی میں کڈھن نامی قصبے سے 12 کلومیٹر شمال کی طرف واقع ایک پسماندہ گاؤں بکھو کھڈی میں منتقل ہو گئیں جہاں ان کا شوہر اپنے خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے ساتھ کچھ کھلونے بھی لے آئی تھیں لیکن ان کی ساس نے یہ کھلونے اگلے ہی دن یہ کہہ کر توڑ دیے کہ "شادی شدہ عورتیں کھیلتی نہیں"۔

تب سے دیپا اپنی عمر سے کہیں بڑے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ روزانہ صبح ہوتے ہی وہ گھر میں صفائی ستھرائی کرتی ہیں، پھر مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور اس کے بعد چھ کلومیٹر پیدل چل کر پینے کا پانی لے کر آتی ہیں۔ باقی کا دن وہ کھیتوں میں اپنی ساس، سسر اور شوہر کے ساتھ مزدوری کر کے گزارتی ہیں۔

کچھ مہینے پہلے کھیتوں میں مزدوری کرتے ہوئے دیپا کا حمل بھی ضائع ہو چکا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب اچانک کام کرتے ہوئے ان کا خون بہنے لگا تو ان کے سسرال والے انہیں ایک موٹر سائیکل رکشا میں ڈال کر ایک قریبی ہسپتال میں لے گئے جہاں موجود ڈاکٹر نے پہلے تو کہا کہ ان کا اتنا خون بہہ چکا ہے کہ وہ مر بھی سکتی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ "علاج سے چند گھنٹوں بعد میری حالت بہتر ہو گئی"۔

بدین شہر میں کام کرنے والی زچگی کے امراض کی ماہر ڈاکٹر نجمہ علی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ اسقاطِ حمل کے دوران دیپا کی موت بھی ہو سکتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ آئے روز ان کے پاس کم عمر حاملہ لڑکیوں کو لایا جاتا ہے جن میں سے کئی ایک اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ان کے خیال میں ان اموات کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ "دیہی علاقوں کی نابالغ شادی شدہ لڑکیوں سے سارا سارا دن گھروں اور کھیتوں میں کام لیا جاتا ہے جبکہ انہیں جو کھانا ملتا ہے وہ ان کی جسمانی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتا ہے جس سے ان کے جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے اس لئے اگر بچے کی پیدائش یا حمل کے ضیاع کے دوران ان کا خون کچھ زیادہ بہہ جائے تو یہ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے"۔

اس خطرے کے باوجود دیپا کی ساس کا شادی کے پہلے دن سے اصرار رہا ہے کہ وہ جلد از جلد ایک بچے کو جنم دیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی ساس کو بچوں سے بہت پیار ہے بلکہ وہ چاہتی ہے کہ ان کے بچے کی صورت میں اس کے خاندان میں ایک کھیت مزدور کا اضافہ ہو جائے۔

دیپا اپنی ساس کے اصرار کو رد تو نہیں کر سکتیں لیکن ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو لڑکی نہیں کیونکہ "اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو مجھ جیسی کئی لڑکیوں کے ساتھ ہو رہا ہے"۔

خرابی کی جڑ: غیر رجسٹرڈ پنڈت یا غربت؟

ہیمن داس کولہی کا تعلق ضلع تھر پارکر کے شہر مِٹھی سے ہے لیکن وہ میرپورخاص ضلع کچہری میں بطور وکیل کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادریاں جن میں دیپا کی برادری بھی شامل ہے اپنی بچیوں کی شادیاں بہت جلدی کر دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی 15 سالہ وکالت میں ان کا واسطہ کئی ایسے مقدمات سے پڑا ہے جن میں چھوٹی عمر کی دلہنوں کو اپنے شوہروں کے ہاتھوں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ہیمن داس کایہ بھی کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی سے منظور شدہ سندھ ہندو میرج ایکٹ 2016 ابھی تک اس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکا حالانکہ اس قانون کا زیادہ تر زور اس بات پر ہے کہ  18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادیاں نہ ہو سکیں۔ ان کے بقول اس قانون پر اس لئے عمل درآمد نہیں ہو رہا کہ عام لوگوں کو نہ تو اس کی موجودگی کے بارے میں آگاہی ہے اور نہ ہی وہ اس کی اہمیت سے واقف ہیں۔

اسی طرح وہ پنڈتوں کی سرکاری سطح پر رجسٹریشن نہ ہونے کو بھی سندھ ہندو میرج ایکٹ پر عمل درآمد میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ان کے مطابق "یہ پنڈت اپنے اپنے علاقوں کی مذہبی منڈلیوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں جیسے شِو مندر منڈلی، راما پیر منڈلی اور کالی ماتا مندر منڈلی وغیرہ جوکہ خود بھی سرکاری طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔لہٰذا اِن پنڈتوں کی کرائی گئی شادیوں کی نہ تو سرکاری سطح پر کوئی نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری دستاویز میں ان کا اندراج کیا جاتا ہے"۔

دیپا کی شادی بھی ایک ایسے پنڈت نے کرائی تھی جسے محض اپنی فیس سے غرض تھی اور اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ دلہن ابھی نابالغ ہے۔ مزید برآں ان کی شادی رات کے اندھیرے میں کی گئی تاکہ کسی سرکاری ادارے یا سرکاری اہل کار کو خبر نہ ہو سکے کہ ایک کم سِن بچی کا بیاہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

ھندو برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور کراچی میں کام کرنے والی لیگل ایڈ سوسا‏‏ئٹی نامی تنظیم کے سینئر پروگرام آفیسر مکیش میگھواڑ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ غیر رجسٹرڈ پنڈتوں کی نسبت سرکاری سطح پر رجسٹرڈ پنڈت حکومت کو زیادہ جواب دہ ہوں گے اس لئے وہ کم عمر بچیوں کی شادیاں کرنے سے گریز کریں گے۔ مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ محض پنڈتوں کی رجسٹریشن سے شیڈولڈ کاسٹ ہندو برادریوں میں کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔

ان کے بقول ان برادریوں میں کم سِنی میں لڑکیوں کی شادی کرنے کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ چونکہ والدین اپنی بچیوں کو کھلانے پلانے اور پالنے پوسنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لئے وہ جلد از جلد ان کی شادی کر کے ان کی تربیت کے اخراجات سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ کئی ماں باپ کو یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں کوئی مسلمان مرد ان کی بیٹی کو زبردستی مسلمان بنا کر اس سے شادی نہ کر لے۔ اس لئے وہ ایسی صورتِ حال پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کی شادی اپنی برادری کے مرد سے کر دیتے ہیں۔

مکیش میگھواڑ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر قانون لاگو کرنے والے ادارے کم عمری کی شادیوں کے کچھ واقعات میں مؤثر طریقے سے داخل اندازی کر کے ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دیں تو "باقی لوگ اس سے سبق حاصل کریں گے اور یوں یہ سماجی ناسور ختم ہو سکے گا"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 3 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔