یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟

زاہد علی

postImg

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟

زاہد علی

پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع ضلع قصور کے قصبے کھڈیاں خاص کو جانے والی ایک سڑک کے دونوں طرف 28 اکتوبر کی دوپہر کو دور دور تک آگ لگی ہے جس کے لپکتے شعلے چاول کی فصل کی باقیات کو یوں جلا رہے ہیں جیسے کوئی بھوکا عفریت اپنے شکار کو ہڑپ کر رہا ہو۔ تقریباً نو کلومیٹر تک لپلپاتی اس آگ سے نکلنے والے دھوئیں کے سیاہ بادلوں نے دِن کو رات کر رکھا ہے اور اس کی حِدت سڑک پر سے گذرنے والے لوگوں کی آنکھوں میں گرمی کی لو کی طرح چبھ رہی ہے۔

اس جلتی سڑک سے چند کلومیٹر دور اسی روز نعیم احمد شیخ ٹریکٹر سے اپنے کھیتوں میں ہل چلا رہے ہیں۔ ان کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان ہے اور ان کے مضبوط تن و توش سے لگتا ہے کہ انہوں نے ایک صحت مند زندگی گزاری ہے۔ لیکن ٹریکٹر چلاتے چلاتے وہ بار بار کھانستے ہیں اور بات کرتے ہوئے ان کی سانس اکھڑنے لگتی ہے۔

انہوں نے اس سال اپنی 60 ایکڑ زرعی زمین میں سے 55 ایکڑ پر چاول کی فصل کاشت کر رکھی تھی جسے کاٹنے کے بعد دوسرے مقامی کسانوں کی طرح انہوں نے اس کے کھیت میں رہ جانے والے مڈھوں (جڑوں) اور ڈنٹھلوں (تنوں) کو جلا دیا۔

سجاگ سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 'میں جانتا ہوں کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں مگر ہمارے پاس اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں کیونکہ ہمیں اگلی فصل کاشت کرنے کے لئے کھیتوں کو فوری طور پر خالی کرنا ہوتا ہے'۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل کو کبھی نہ دہرائیں اگر حکومت انہیں ایسی مشینیں فراہم کرے یا ایسے طور طریقوں کے بارے میں آگاہی دے جن کی مدد سے چاول کی باقیات کو جلائے بغیر وہ گندم کی کاشت کے لئے اپنے کھیتوں کو تیار کر سکیں۔

وسطی پنجاب کے کئی اضلاع میں متعین محکمہ زراعت کے افسران کا دعویٰ ہے کہ وہ نا صرف کسانوں کو اس سلسلے میں درکار معلومات فراہم کر رہے ہیں بلکہ انہیں ایسی مشینیں بھی رعایتی کرائے پر فراہم کر رہے ہیں جو انہیں چاول کے ڈنٹھل اور مڈھ تلف کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ان کا سب سے اہم دعویٰ یہ ہے کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں اوائلِ سرما میں پیدا ہونے والی سموگ (smog) – جس کی ایک بڑی وجہ کھیتوں میں لگنے والی آگ ہے – اس سال بہت حد تک قابو میں ہے۔ محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل انجم علی بُٹر کا کہنا ہے کہ 'یہاں ہم بہت سی کوششیں کر رہے ہیں اور یہاں صورتِ حال انڈیا سے کہیں بہتر ہے'۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 'انڈیا میں حکومت نے کسانوں کو نقد رقم بھی فراہم کی ہے تا کہ وہ چاول کی باقیات کو نہ جلائیں لیکن اس کے باوجود وہاں کے کسان حکومت کی بات نہیں سن رہے'۔

محکمہ زراعت کا عمومی نقطہِ نظر یہی ہے کہ لاہور اور اس کے ارد گرد کے میدانی اضلاع میں ہر سال نومبر کے ابتدائی دنوں میں آنے والی اس سموگ کا اصل منبع انڈیا ہے۔ اس تاثر کو مضبوط کرنے کے لئے کسانوں میں تقسیم کیے گئے ایک سرکاری پرچے میں امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے، نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمینسٹریشن (NASA)  ، کی 2016 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق '2016 میں سموگ کی وجہ انڈیا میں 32 ملین ٹن یعنی 30 ارب کلو گرام سے زائد فصلوں اور دیگر اشیاء کو جلانا ہے'۔

سموگ کیسے پیدا ہوتی ہے؟

داور حمید بٹ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان -- خاص طور پر لاہور -- میں فضائی آلودگی کے باعث ہوا میں پائے جانے والے مضرِ صحت عناصر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ سموگ بننے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہےکہ 'انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوا میں پرٹیکیولیٹ میٹر (particulate matter ) پیدا ہوتا ہے جو بنیادی طور پر دھول اور دھوئیں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب اس مجموعےکی تہہ فضا میں معلق ہو جاتی ہے تو اسے سموگ کے نام سے جانا جاتا ہے'۔ یہ اصطلاح اصل میں انگریزی لفظوں smoke (دھواں) اور fog (دھند) کو ملا کر بنائی گئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں دھول اور دھواں ہر سال بڑھتے جا رہے ہیں۔ '2007 سے پاکستان کے بڑے شہروں  -- خاص طور پر لاہور اور فیصل آباد -- میں ہوا میں موجود آلودگی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے لیکن چونکہ ملک میں آلودگی کا جائزہ لینے کے لئے (حکومتی یا نِجی شعبے میں) کسی قسم کا مانیٹرنگ سسٹم موجود نہیں اس لئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ہر سال اس آلودگی میں کتنے فی صد اضافہ ہو رہا ہے'۔

داور حمید بٹ انڈیکس کوالٹی ائیر(IQAir) نامی ایک بین الاقوامی ادارے کے ساتھ کام کرتے ہیں جس کا کام ہوا میں آلودگی کو مانیٹر کرنا ہے۔ اس ادارے کی 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہوا میں پائے جانے والے پرٹیکیولیٹ میٹر کے تناسب سے پاکستان دنیا کا دوسرا سب سے آلودہ ملک ہے۔پچھلے سال پاکستان میں پرٹیکیولیٹ میٹر کی سالانہ اوسط 65.8 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر رہی ہے جو صرف بنگلا دیش سے کم تھی۔  

اوپن ائیر کوالٹی (OpenAirAQ)  نامی ایک اور بین الاقوامی ادارے کی اکتوبر 2020 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2019 میں لاہورمیں ہوا میں موجود پرٹیکیولیٹ میٹر کی سالانہ اوسط 123.9 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تھی جو دنیا کے تمام دوسرے شہروں سے زیادہ تھی۔

محکمہ زراعت کی جانب سے شائع کیے گئے تشہیری مواد میں بھی کسانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ گاڑیوں کی ریل پیل، کارخانوں سے پیدا شدہ دھوئیں، اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والے گرد و غبار اور فصلوں کی باقیات  کو جلانے کی وجہ سے پیدا ہونے والا دھواں سموگ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ لیکن اسی تشہیری مواد میں اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی 2018 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا بھی بار بار ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں زراعت کے شعبے کا سموگ کے بننے میں حصہ محض 20 فی صد ہے جبکہ اس میں صنعتی شعبے کا حصہ 25 فی صد اور ٹرانسپورٹ کا حصہ 45 فی صد ہے۔

یہ مبہم تشہیری مہم ایک اہم وجہ ہے کہ نو نومبر تک وسطی پنجاب کے مختلف ضلعوں سے سرکاری طور پر 3297 ایسے واقعات کی نشاندہی ہو چکی تھی جن میں کسانوں نے چاول کی باقیات سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنے کھیتوں میں آگ لگائی تھی۔ اس سے کہیں زیادہ واقعات کی سرے سے نشاندہی ہی نہیں ہوئی۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے پروفیسر ڈاکٹر راشد احمد کا کہنا ہے کہ ایف اے او کی جس رپورٹ کو بنیاد بنا کر محکمہِ زراعت سموگ کا الزام دوسرے شعبہ ہائے زندگی پر منتقل کررہا ہے اس کا طریقہِ کار ہی غیر سائنسی ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'اس طرح سے آلودگی کے بننے میں مختلف انسانی سرگرمیوں کا تناسب نکالنا اور پھر اس تناسب کو بنیاد بنا کر آلودگی کی روک تھام کے لیے پالیسیاں بنانا کوئی سائنسی نقطہِ نظر نہیں'۔

ان کے مطابق اس سوال کو پیشِ نطر رکھنا اہم ہے کہ ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے سارا سال دھوئیں کا اخراج ہوتا رہتا ہے لیکن سموگ کی تہہ آخر ایک خاص موسم میں ہی کیوں بنتی ہے؟  'اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے بننے کے لیے ماحول میں بہت زیادہ گرد و غبار موجود ہونا لازمی ہے'۔

گرد و غبار ویسے تو فضا میں سارا سال موجود رہتا ہے لیکن چاول کی باقیات کو جلائے جانے سے اس میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ 'آلودہ دھواں گرم ہونے کی وجہ سے ہوا سے ہلکا ہوتا ہے اس لئے وہ عام حالات میں  بالائی فضا میں چلا جاتا ہے لیکن جب ہوا میں موجود دھول اور گردوغبار کی تہہ موٹی ہوتی ہے تو یہ دھواں زمین کی سطح سے زیادہ اوپر نہیں جا پاتا اور سموگ کی شکل میں ہمارے ارد گرد کی فضا میں ہی ٹھہر جاتا ہے'۔   

ڈاکٹر راشد احمد کے خیال میں پاکستان اس وقت تک سموگ کے تدارک کے لئے کوئی موثر پالیسی نہیں بنا سکتا جب تک ان عناصر اور عوامل کا سراغ نہ لگایا جائے جو دھول اور گرد و غبار پیدا کرتے ہیں۔ 'ان میں فصلوں کا جلایا جانا یقینی طور پر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے'۔

اس بات کو واضح کرنے کے لئے انڈیا کی مرکزی وزارتِ زراعت کسانوں کو خبردار کر رہی ہے کہ چاول کی فصل کے ایک ہزار کلو گرام باقیات جلانے سے تین کلو کثیف دھواں، 60 کلو کاربن مانو آکسائیڈ، 1460 کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ، 199 کلو راکھ اور دو کلو سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی چیزیں پیدا ہوتی ہے جو خاص طور پر آنکھوں اور جلد کی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

اس حساب کتاب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اگر یہ فرض کیا جائے کہ ایک ایکڑ چاول کی فصل سے پانچ سو کلو گرام باقیات پیدا ہوتی ہیں تو اس کا مطلب ہے پنجاب میں چاول کے مجموعی طور پر زیرِ کاشت رقبے – چھیالیس لاکھ ایکڑ – سے دو ارب 30 کروڑ کلو گرام باقیات پیدا ہوتی ہیں جن کو جلانے سے پیدا ہونے والی راکھ ہی چار لاکھ 57 ہزار سات سو کلو گرام ہو گی جبکہ اس سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 33 لاکھ 58 ہزار کلو گرام ہو گی۔

آلودگی کے ذمہ دار لوگوں کو کون پکڑے گا؟

قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے) کی طرف سے نو نومبر کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی اہل کاروں نے فضا میں زہریلی گیسیں اور آلودہ دھواں خارج کرنے والی فیکٹریوں کو صرف 58000 روپے جرمانہ کیا تھا۔ اسی طرح  صوبے کے طول و عرض میں موجود بیسیوں ہزار چھوٹی اور بڑی فیکٹریوں میں سے صرف 487 کو آلودگی پھیلانے کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔ حالانکہ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق ان کا دھواں سموگ کے بننے میں 25 فی صد حصہ ڈالتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لینے والے سائنس دانوں نے زمین پر زندگی کو درپیش شدید خطرات کی نشاندہی کر دی۔

اس رپورٹ میں فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمات اور شکایات کی مجموعی تعداد صرف 18 دکھائی گئی تھی اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کتنی شکایات پر مقدمے بھی درج ہوئے ہیں۔ جبکہ اسی دن تک کسانوں کے خلاف شکایات اور مقدموں کی کل تعداد 3297 تھی جس میں سے محض مقدمے ہی 817 تھے۔

اسی رپورٹ کے مطابق بظاہر سب سے زیادہ کارروائی دھواں چھوڑنے والی ٹرانسپورٹ کے خلاف کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر نو نومبر تک صوبائی محکمہِ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے مالکان کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 85 لاکھ 62 ہزار ایک سو 56 روپے جرمانہ کیا تھا۔ یہ جرمانہ 42118 گاڑیوں سے وصول کیا گیا – گویا فی گاڑی اوسطاً 441 روپے جرمانہ کیا گیا جو اتنی بڑی رقم نہیں کہ اس کی خاطر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان ان کی مرمت کرا کے ان سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے پر راغب ہوں۔    

قصور میں تعینات ڈسٹرکٹ ٹریفک اینڈ ریگیولیٹری اتھارٹی کے سیکرٹری حافظ محمد عثمان ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے شعبے میں سموگ کی روک تھام کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے محکمانہ کوتاہی کا اعتراف کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں: 'ابھی تک ہمارے پاس کوئی واضح طریقہ کار اور ایسے آلات موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ہم آلودگی پھلانے والی اور دوسری گاڑیوں کے درمیان امتیاز کر سکیں۔ لہٰذا اگر ایک دن میں دس ہزار گاڑیوں کو جرمانہ کیا جا رہا ہے تو ان میں سے صرف تین ہزار سے چار ہزار ایسی ہوں گی جو دھواں پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں'۔

سموگ اور فضائی آلودگی کے مسئلے پر حکومت کی اس کارکردگی کے بارے میں لاہور کے ایک وکیل شیراز ذکا نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم نے پانچ  نومبر کو ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمیشنر لاہور سے کہا کہ 'یہ نہایت دکھ اور نا اہلی کی بات ہے کہ آپ نے ابھی تک آلودگی پھیلانے والے کارخانہ جات کے مالکان کے خلاف صرف دو کیس درج کیے ہیں'۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک حکومتی افسران اپنے دفاتر سے نکل کر آلودگی پھیلانے والی جگہوں پر جا کر قانونی کارروائیاں نہیں کریں گے اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ اس سے پہلے بھی اس طرح کی متعدد رِٹ پٹیشنوں  کی سماعت کر چکا ہے۔ 19 دسمبر 2017 کو لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اسی موضوع پر ایک رِٹ پٹیشن کی سماعت کرنے کے بعد ایک سموگ کمیشن بھی تشکیل دیا جس کی ذمہ داریوں میں سموگ کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنا اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پیش کرنا تھا۔

شیراز ذکا بھی اس کمیشن کے رکن ہیں۔ ان کے مطابق اس کمیشن کے اب تک کئی اجلاس ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کی کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ لہٰذا گذشتہ تین سال سے وہ اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے اور سموگ کے خلاف حکومتی حکمتِ عملی کو بہتر بنانے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔

سجاگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں: 'حکومت پنجاب نے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ایسے کارخانوں کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی جو زہریلی گیسیں فضا میں خارج کررہے ہیں اس کی وجہ حکومت اور سرمایہ داروں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے جس کی وجہ سے حکومت انکے مفادات کا مکمل تحفظ کر رہی ہے'۔

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں انڈیا سے نیل کمل اور لاہور سے فاطمہ رزاق نے معاونت کی۔ 

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 12 نومبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 6 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔