بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو: 'ذکری زائرین اب کوہِ مراد کی زیارت کرتے ہوئے بھی ڈرے رہتے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو: 'ذکری زائرین اب کوہِ مراد کی زیارت کرتے ہوئے بھی ڈرے رہتے ہیں'۔

اسد بلوچ

postImg

بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو: 'ذکری زائرین اب کوہِ مراد کی زیارت کرتے ہوئے بھی ڈرے رہتے ہیں'۔

اسد بلوچ

کوہِ مراد بلوچستان کے جنوب مغربی ضلع کیچ کی تحصیل تربت میں واقع سیاہ رنگ کے ایک خشک پہاڑ کا نام ہے۔ ذِکری فرقے سے وابستہ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کے مذہبی پیشوا نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی جگہ عبادت اور تبلیغ کرتے ہوئے گزارے تھے اس لیے وہ اسے مقدس سمجھتے ہیں اور ہر سال رمضان کے مہینے کے آخری دنوں میں اس کی زیارت کرتے ہیں۔ اس سالانہ زیارت کے علاوہ عام دنوں میں بھی وہ پیدل قافلوں کی صورت میں کوہِ مراد پہنچ کر وہاں اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔ 

تاہم ذِکری فرقے سے تعلق رکھنے والے حاجی خان کہتے ہیں کہ آج کل ان زائرین کو اپنی عبادات اور مذہبی رسومات کی آزادانہ ادائیگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ کیچ میں ایک نیم سرکاری ادارے، پبلک ہیلتھ سپورٹ انیشی ایٹو، میں ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر کے طور پر کام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان زائرین کو جگہ جگہ پوچھ گچھ اور تلاشی کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے۔ 

ذِکری فرقے سے ہی تعلق رکھنے والے سماجی کارکن گلزار دوست اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا 2010 میں ہوئی۔ ان کے مطابق اُس سال "سکیورٹی اہلکاروں نے کوہِ مراد پر موجود مذہبی مقامات کے داخلی راستوں پر چوکیاں بنا لیں اور جوتوں سمیت ان جگہوں پر آنا جانا شروع کر دیا جہاں ذِکری لوگ ہمیشہ ننگے پاؤں جاتے ہیں"۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے حالیہ سالوں میں کوہِ مراد جانے والے قافلوں میں شامل لوگوں کو کسی معقول وجہ کے بغیر گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ اس پہاڑ سے کچھ لوگ لاپتہ بھی ہو چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح چند ماہ پہلے مرکزی بلوچستان کے علاقے آواران سے کوہِ مراد جانے والے زائرین کے ایک قافلے کو روک کر اس میں موجود ایک 80 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا "جس کی تاحال کوئی خبر نہیں آئی کہ اسے کہاں قید رکھا گیا ہے"۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ ضلع آواران ہی کی تحصیل مشکے سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان زائرین بھی اپریل 2022 کے آخر میں کوہِ مراد سے لاپتہ ہو گئے۔ ان کے بارے میں "کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں"۔

تاہم ان نوجوانوں کے لواحقین نے ان کی گمشدگی کے بارے میں نہ تو حکومتی اداروں کو آگاہ کیا ہے اور نہ ہی وہ صحافیوں سے اس سلسلے میں بات کرنے پر تیار ہیں۔ گلزار دوست کے مطابق "اس خاموشی کا سبب خوف ہے"۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ان گرفتاریوں یا گمشدگیوں کا تذکرہ اس لیے نہیں کرتے کہ اس ذکر کے نتیجے میں انہیں اپنی گرفتاری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ "ماضی میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ گرفتار یا لاپتہ ہونے والوں کی رہائی یا بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والے لوگ خود بھی لاپتہ ہو گئے"۔ 

لیکن اپنا نام پتہ ظاہر کیے بغیر ذِکری برادری سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سوال اٹھاتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں کوہِ مراد پر ایسا کیا ہوا ہے جس کے باعث وہاں بڑی تعداد میں پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو متعین کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ چونکہ ان کی نظر میں اس پہاڑ پر مذہبی رسومات کے علاوہ کبھی کوئی غیرمعمولی سرگرمی وقوع پذیر نہیں ہوتی اس لیے ان کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد صرف "زائرین کے اندر خوف پیدا کرنا ہے"۔ 

گلزار دوست، جو تربت سِول سوسائٹی نامی فلاحی تنظیم کے کنوینر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ اس اقدام نے بظاہر اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے کیونکہ، ان کے مطابق، اس کے نتیجے میں ان کی برادری کے لوگ "جو پہلے صرف دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے متشدد عناصر سے خوف زدہ تھے اب کوہِ مراد کی زیارت کرتے ہوئے بھی ڈرے رہتے ہیں"۔  

دوسری طرف ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر حسین جان بلوچ سکیورٹی اہل کاروں کی تعیناتی کو ایک ضروری حفاظتی قدم قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ کوہِ مراد پر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جنہیں محفوظ رکھنے کے لیے پہلے سے زیادہ افرادی قوت چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ "اگر یہ اہل کار کوہِ مراد اور اس کے اندر موجود مذہبی مقامات پر زائرین کی تحفظ کے لیے گشت کرتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟"

ذِکریوں کا مقدس مقام :کوہِ مرادذِکریوں کا مقدس مقام :کوہِ مراد

لیکن وہ اِس  پہاڑ سے چار نوجوانوں کی گمشدگی کو ایک افسانہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ افواہ پاکستان دشمن پراپیگنڈے کے طور پر پھیلائی جا رہی ہے۔ کچھ ہفتے پہلے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہل کاروں کے ہاتھوں ذِکری زائرین کی گرفتاری کے معاملے پر بھی ان کا موقف ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ حال ہی میں زائرین کے ایک پیدل قافلے کو روک کر اس میں شامل کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ "ایسا غلط فہمی کی بنا پر ہوا تھا اور ضلعی انتظامیہ کی مداخلت پر تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا گیا تھا"۔ 

مذہبی آزادی کا فقدان

ذِکری فرقہ صرف بلوچستان میں پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے پیروکاروں کی صحیح تعداد کا تعین ناممکن ہے کیونکہ مردم شماری میں اس کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تاہم ان کی اکثریت کا تعلق بلوچ قوم سے ہے اور وہ بلوچستان کے مرکزی، جنوبی اور مغربی حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

1990 کی دہائی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض سُنی علما نے ذِکریوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا جس کے بعد ان پر حملے شروع ہو گئے تھے۔ اس دوران ضلع کیچ کے صدر مقام تربت میں رہنے والے ذِکری رہنما مومن علی کے گھر پر بم بھی پھینکے گئے۔ تاہم عام لوگ اس فرقہ وارانہ تشدد سے لاتعلق رہے اور سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس کی شدید مذمت اور مخالفت کی جس کے باعث ایسے واقعات آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔  

لیکن 2006 میں جب بلوچستان میں ایک بلوچ قوم پرست مسلح تحریک شروع ہوئی تو اس کی پرتشدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ذِکری فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر دوبارہ حملے ہونے لگے اور ان میں سے کچھ کو اغوا بھی کر لیا گیا۔ 2010 کے بعد ایسے واقعات میں اور بھی شدت آ گئی۔ اُس سال تربت شہر میں دو ذِکری علما، ملا حفیظ اور ملا جوگی، کو قتل کر دیا گیا جبکہ 2012 میں ضلع گوادر کے قصبے کلانچ میں ایک اور ذِکری عالم ملا باران کو ہلاک کر دیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں تربت میں واقع ایک ذِکری عبادت گاہ پر حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے اور 2016 میں کیچ میں ذِکری برادری کے روحانی پیشوا سید ملا اختر مولائی کو فائرنگ کر کے مار دیا گیا۔

اب اگرچہ ایسے مہلک واقعات نہیں ہوتے لیکن کیچ اور تربت میں ذِکریوں کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت ابھی بھی موجود ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال اس وقت منظر عام پر آئی جب 2020 میں تربت سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر اور گلوکار نے کوہِ مراد کے بارے میں ایک مذہبی گیت لکھا اور گایا۔ مقامی سُنی علما نے نہ صرف اس گیت پر شدید اعتراض کیا بلکہ اس کے خالق کو مجبور کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اسے ایک غلط عمل قرار دے کر اپنے 'ایمان کی تجدید' کرے۔ 

بلوچستان کے صوبائی محکمہ سماجی بہبود میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے ذِکری قدیر لقمان ایسے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہمیں ہر وقت امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے اس لیے خوف کے مارے ہم آزادی سے اور کھلے عام اپنی مذہبی رسومات بھی ادا نہیں کر سکتے"۔

اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حالات "کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے صدیوں سے اکٹھے رہنے والے ذِکریوں اور غیرذکریوں کو لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔ تاہم ان کے مطابق یہ سازش ابھی تک مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی کیونکہ "ذِکری اس کا فعال حصہ نہیں بنے"۔

تاریخ اشاعت 28 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اسد بلوچ کا تعلق تربت ضلع کیچ سے ہے، وہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں بلوچستان خصوصاً مکران کے سیاسی حالات اور موجودہ بلوچ شورش پر لوکل اخبارات اور ملکی سطح کے مختلف ویب سائٹس پر تبصرے اور تجزیہ لکھتے ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔