'جس جگہ عمر گزار دی وہاں اب قدم بھی نہیں رکھ سکتے': قتل کے الزام میں نارووال کے گاؤں سے بے دخل ہونے والے مسیحی گھرانے دربدر۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'جس جگہ عمر گزار دی وہاں اب قدم بھی نہیں رکھ سکتے': قتل کے الزام میں نارووال کے گاؤں سے بے دخل ہونے والے مسیحی گھرانے دربدر۔

صبا چوہدری

postImg

'جس جگہ عمر گزار دی وہاں اب قدم بھی نہیں رکھ سکتے': قتل کے الزام میں نارووال کے گاؤں سے بے دخل ہونے والے مسیحی گھرانے دربدر۔

صبا چوہدری

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی اکیس سالہ انیتا جارج نارروال شہر میں اپنے والدین اور بہن بھائی کے ساتھ ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہیں۔ ان کا اپنا گھر شہر سے 18 کلومیٹر دور تھرپال شریف نامی گاؤں میں ہے۔ ان کے تین بھائیوں پر ایک مسلمان نوجوان کے قتل کا الزام ہے جن میں سے دو جیل میں ہیں جبکہ تیسرے کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے۔ انیتا کا گھرانہ اپنے گاؤں میں نہیں جا سکتا کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر وہ واپس گئے تو وہاں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ 

انیتا نارووال کے کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ 22 جون 2022 کو ان کے سالانہ امتحان شروع ہو رہے تھے لیکن انہی دنوں انہیں گھربار چھوڑ کر شہر میں پناہ لینا پڑی۔ انیتا کی کتابیں اور رول نمبر سلپ گاؤں میں ہی رہ گئی ہیں جس کے باعث وہ امتحان میں شریک نہیں ہو سکیں۔ قتل کے اس واقعے کے بعد ان کے ساتھ گاؤں بدر ہونے والے مسیحی برادری کے 14 دیگر بچوں اور نوجوانوں کا تعلیمی سلسلہ بھی رک گیا ہے۔ 

انیتا کا خاندان ان دنوں نارووال کی مسیحی آبادی عیسیٰ نگری میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ گاؤں چھوڑتے وقت یہ لوگ کوئی سامان ساتھ نہیں لا سکے جس کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں بہت سے مشکلات کا سامنا ہے۔ انیتا کو پریشانی ہے کہ اب وہ اپنی تعلیم کیسے مکمل کر پائیں گی۔ 

نارروال کے تھانہ رایا میں 6 جون کو درج ہونے والے مقدمے کے مطابق تھرپال میں مسیحی برادری اور مسلمانوں کے درمیان مسلح تصادم ہوا جس میں دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے نو افراد پر قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں انیتا کے دو بھائی بھی شامل ہیں جن پر مقتولین میں سے ایک کے قتل کا الزام ہے۔

انیتا اور اس کے اہلخانہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ گاؤں میں ان کے گھر کے سامنے ایک دکان تھی جہاں گاؤں کے لڑکے جمع رہتے تھے۔ دکاندار نے انہیں دکان پر کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے بارہا منع کیا کیونکہ یہ لڑکے محلے میں آتی جاتی خواتین کو تنگ کرتے تھے۔ اس مسئلے پر مقامی رہائشیوں اور دکان کے قریب جمع ہونے والے نوجوانوں میں اکثر تکرار اور جھگڑا رہتا تھا جس نے بڑھ کر المناک صورت اختیار کر لی اور موقع پر موجود ان کے دونوں بھائیوں کو بھی قتل کے الزام میں دھر لیا گیا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو تھرپال میں مسیحی برادری کے بارہ گھرانے آباد تھے جن میں سے سات خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گاؤں کے اس چھوٹے سے محلے میں اب مسیحیوں کے کئی گھر ویران دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں انیتا کا مکان بھی ہے جہاں اس واقعے سے پہلے ان کا بیس افراد پر مشتمل گھرانہ آباد تھا۔ اب گھر کے کمروں میں سامان بکھرا پڑا ہے اور پانی کی موٹریں اور بجلی کے میٹر چوری کر لیے گئے ہیں۔ 

ایسا ہی ایک گھر سلاس برکت کا ہے جس کا مرکزی گیٹ ٹوٹا ہوا ہے، بجلی کا میٹر غائب ہے۔ کمروں کے دروازے کھلے ہیں اور سامان جا بجا بکھرا دکھائی دیتا ہے۔ تین کمروں کے اس گھر میں کھلے صندوقوں سے باہر پڑے کپڑوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے مکینوں کو عجلت میں گھر چھوڑ کر جانا پڑا۔ 

پچاس سالہ سلاس پانچ بچوں کے باپ ہیں اور ایک ہزار روپے روزانہ اجرت پر نارووال کے ایک بھٹے پر اینٹیں بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی پیدائش تھرپال میں ہوئی تھی اور تب سے وہ اسی گاؤں میں رہ رہے تھے۔ حالیہ واقعے کے بعد پولیس انہیں بھی گرفتار کر کے لے گئی اور پانچ روز حوالات میں رکھا۔ کوئی الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ بیوی بچوں کے ساتھ دربدر ہیں کیونکہ گاؤں واپسی پر انہیں جان کا خطرہ ہے۔ 

سلاس کہتے ہیں کہ ''میں نے چند مہینے پہلے اپنی زندگی بھر کی کمائی سے تھرپال میں ایک گھر خریدا تھا جس سے ہمیں بے دخل کر دیا گیا ہے۔ اب میں اپنے بچوں کو لے کر کہاں جاؤں گا۔'' وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے یہ گھر گاؤں کے ایک مسلمان رہائشی سے خریدا تھا اور اس کی پیشانی پر اب بھی ماشااللہ لکھا ہوا ہے۔ 

سلاس کی 70 سالہ والدہ مختار بی بی اس واقعے سے چند روز بعد انتقال کر گئیں جنہیں لواحقین نے تھرپال میں اپنے آبائی قبرستان کے بجائے نارووال شہر کے مسیحی قبرستان میں دفن کیا ہے۔ سلاس کا کہنا ہے کہ ''میری والدہ کی تمام زندگی تھرپال میں ہی گزری تھی۔ گھر سے بے دخلی کے بعد میری والدہ پریشان رہتی تھیں اور اسی پریشانی نے ان کی جان لے لی۔ ہمیں اپنی والدہ کو گاؤں کے مسیحی قبرستان میں دفنانے کے لیے کسی جانب سے کوئی مدد نہیں ملی۔ ہم نے اس خوف سے گاؤں کا رخ کرنے سے پرہیز کیا کہ وہاں ہم پر حملہ ہو سکتا ہے۔'' 

پانچ بچوں کی ماں راحت بی بی کو بھی اس واقعے کے بعد گاؤں چھوڑنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو پولیس ان کے شوہر کو گرفتار کر کے لے گئی جو اب بھی جیل میں ہیں اور ان پر اس واقعے کے ثبوت مٹانے کا الزام ہے۔ راحت بی بی اگلی صبح جان کے خوف سے اپنے بچوں کو لے کر گاؤں سے نکل گئیں اور تاحال واپس نہیں گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔

'چاہیں بھی تو واپس نہیں جا سکتے'

جھگڑے اور دہرے قتل کے اس واقعے کے بعد تھرپال چھوڑنے والے مسیحیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں جن میں وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاؤں واپسی کے لیے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر سجاد مہس سے مدد مانگی تھی لیکن ان کی کوشش بے سود رہی۔

پاکستان ہیومن لبریشن کمیشن کے بانی اسلم پرویز سہوترہ اس مقدمے میں تھرپال کی مسیحی برادری کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''مسیحی اُس وقت سے یہاں رہ رہے ہیں جب پاکستان وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔ انہیں اپنے گاؤں سے بے دخل کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔'' وہ کہتے ہیں کہ بے دخلی کے عرصہ میں ان لوگوں کے گھروں سے بہت سا سامان چوری کیا جا چکا ہے جس کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پنجاب میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ وہ ایسے بہت سے مسیحیوں کو جانتے ہیں جنہیں اسی طرح اپنے علاقے سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ 

دوسری جانب تھانہ رایا کے سب انسپکٹر ارشد امین دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی فرد کو گاؤں سے بے دخل نہیں کیا گیا۔ گاؤں چھوڑنے والے مسیحی خاندان اپنی مرضی سے شہر منتقل ہوئے ہیں اور ان پر کسی نے دباؤ نہیں ڈالا۔ اس دعوے کے حق میں وہ یہ ثبوت دیتے ہیں کہ مسیحیوں کے پانچ خاندان اب بھی گاؤں میں مقیم ہیں۔ مسیحی خاندانوں کو تحفظ کی فراہمی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ''کسی کے ساتھ چوبیس گھنٹے پولیس تعینات نہیں کی جا سکتی۔ جو لوگ گاؤں میں نہیں رہنا چاہتے وہ جب چاہیں آ کر اپنا سامان لے کر جا سکتے ہیں۔''

جب اس مسئلے پر مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے مقامی رکن صوبائی اسمبلی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرے سے گریز کیا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر سجاد مہس سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کوئی بات نہیں کی۔  

دوسری جانب مقتول نوجوانوں کے بھائی رشید احمد کا کہنا ہے کہ ''ہماری کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ جس رات گاؤں میں جھگڑا ہوا تو میرے بھائی صورتحال معلوم کرنے گئے تھے جنہیں وہاں قتل کر دیا گیا۔'' وہ بتاتے ہیں کہ مقتولین میں ایک بھائی لاہور میں ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا اور چند روز پہلے ہی گاؤں واپس آیا تھا۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی مسیحی کو علاقہ بدر نہیں کیا۔

تاریخ اشاعت 21 نومبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

صبا چوہدری نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ قومی اور بین الاقوامی اشاعتی اداروں کے لیے صنفی موضوعات، انسانی حقوق اور سیاست پر رپورٹ کرتی ہیں۔

سیلاب نے گھر بھی تباہ کر دیا اور مزدوری بھی چھین لی

کھجور کے پتوں سے بنے گھروں میں رہنے پر مجبور سیلاب متاثرین

سخت سردی میں سیلاب متاثرین امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور

سیلاب کے پانی کا نکاس نہ ہونے کے باعث سندھ کے کسان مستقبل سے مایوس

طلبہ یکجہتی مارچ کے شرکا کے مطالبات: 'طلبہ کے خلاف ہراسگی کو بند کیا جائے'