English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

محکمہ جنگلی حیات ناکام: تھرپارکر میں معدوم ہوتے جانوروں کے تحفظ کی ذمہ داری مقامی آبادی نے اٹھا لی

جی آر جونیجو

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

محکمہ جنگلی حیات ناکام: تھرپارکر میں معدوم ہوتے جانوروں کے تحفظ کی ذمہ داری مقامی آبادی نے اٹھا لی

جی آر جونیجو

loop

انگریزی میں پڑھیں

گزشتہ برس جولائی 2022ء کو چند شکاریوں نے تھرپارکر کی چنکارا گیم سینکچری کے گاؤں گودھیار اور رنگیلو کے قریب نایاب نسل کے سات چنکارا ہرنوں اور ایک خرگوش کا شکار کیا۔ معلوم ہونے پر دیہاتی ان شکاریوں کو پکڑنے جا پہنچے۔

مقامی لوگ متعلقہ محکمے کو کئی بار غیر قانونی شکار کی شکایات کر چکے تھے مگر اس کے اہلکاروں نے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہوئے غیرقانونی شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے ہمیشہ گریز کیا۔ اس پر سینکچری میں موجود دیہاتیوں نے طے کیا کہ وہ غیر قانونی شکار نہیں ہونے دیں گے۔ اب شکار کے سیزن میں کئی دیہات کے لوگ مل کر رات بھر جانوروں کی چوکیداری کرتے ہیں۔

اس کارروائی میں حصہ لینے والے دیہاتیوں نے مذکورہ واقعے کے بارے میں بتایا کہ ایک رات انہیں اپنے علاقے میں شکاریوں کی موجودگی کے نشانات ملے۔کھوج لگانے پر پتا چلا کہ شکاری رنگیلو گاؤں کے قریب موجود ہیں۔ ان کی گاڑیوں کی روشنی دیکھتے ہی دیہات میں اطلاع کر دی گئی۔

اس کے بعد گاوں رنگیلو، گودھیار، ہریار اور گرد و نواح سے لوگوں نے مل کر شکاریوں کا پیچھا کیا اور مٹھی سے 15 کلومیٹر دور انہیں گھیر لیا۔

شکاریوں نے ان پر اسلحہ تان لیا مگر لوگوں نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے تین شکاریوں کو پکڑ لیا جبکہ دو فرار ہو گئے۔ان تینوں کو محکمہ وائلڈ لائف اور پولیس کے حوالے کیا گیا۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ شکاریوں کو سزا دلوانے کے لیے پولیس کیس درج ہونا چاہیے کیونکہ صرف وائلڈ لائف کا کیس ہوا تو وہ جرمانہ دے کر آزاد ہو جائیں گے۔

لوگوں نے مٹھی کے کشمیر چوک پر ان شکاریوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہرن رکھ کر چھ گھنٹے تک احتجاج کیا جس کے بعد پولیس سٹیشن مٹھی پر گاؤں رنگیلو کے نوجوان اُتم سنگھ کی مدعیت میں شکار کرنے، بنا لائسنس کے ہتھیار اور فائرنگ کرنے کا کیس درج ہوا۔

اس مقدمے میں شکاریوں کو تین ماہ 21 دن تک قید کی سزا ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 23 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ بھی سرکاری خزانے میں جمع کرایا اور ان کی گاڑی اور اسلحہ بھی ضبط کر لیا گیا۔

اس سے پہلے 2019ء میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب مٹھی کے گاؤں کھارو جونیجو کے لوگوں نے شکاریوں کو دیکھ کر متعلقہ محکمے کو اطلاع دی تاہم کوئی ٹیم ان کی مدد کو نہ آئی۔ ایسے میں ان لوگوں نے مل کر پانچ شکاریوں کو پکڑ کر وائلڈ لائف پولیس کے حوالے کیا جنہیں ڈیڑھ لاکھ جرمانہ ادا کر کے رہائی ملی۔ اس معاملے میں محکمانہ کارروائی میں تین افسروں کو معطل بھی کیا گیا۔

2020ء میں سندھ اسمبلی نے وائلڈ لائف پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ ایکٹ پاس کیا تھا۔ اس کے تحت ایک آئی بیکس کے غیرقانونی شکار پر کم از کم سات لاکھ روپے جبکہ اڑیال کے شکار پر قیمت 14 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ چنکارا  کے شکار  پر دو لاکھ اور چیتے کے غیرقانونی شکار پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

جنگلی گدھے، بھیڑیے اور انڈس ڈولفن کے شکار پر پانچ پانچ لاکھ روپے، کالے ہرن کے شکار پر ڈھائی لاکھ روپے اور خرگوش کے غیرقانونی شکار پر 20 ہزار روپے بطور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

اس قانون کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کو براہ راست ایف آئی آر درج کرنے، بغیر وارنٹ کے کسی کو گرفتار کرنے اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔

19 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا صحرائے تھر جنگلی حیات کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نایاب ہرن چنکارا، جنگلی خرگوش، مور اور دیگر جنگلی پرندوں کا غیرقانونی شکار عام ہے۔ چنکارا کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر ( آئی یو سی این) نے معدومیت کے خطرے کا شکار جانوروں کی فہرست میں بھی شامل کر رکھا ہے۔

معدوم ہوتے جانوروں کو بچانے کے لیے حکومت نے تھرپارکر میں دو وائلڈ لائف سینکچریاں قائم کی ہیں۔ ان میں ایک 940 مربع کلومیٹر پر محیط چنکارا گیم سینکچری مٹھی ہے اور دوسری آٹھ ہزار 300 مربع کلومیٹر پر مشتمل رن آف کچھ گیم سینکچری ننگرپارکر میں واقع ہے۔

اتنے بڑے رقبے پر قائم ان گیم سنکچریوں میں جانوروں کی حفاظت اور غیرقانونی شکار کرنے والوں کو پکڑنے کے کٹھن کام کے لیے صرف سات لوگ تعینات ہیں جن کے پاس ضروری سازوسامان بھی نہیں۔

میرپور خاص ڈویژن میں محکمہ وائلڈ لائف کے ڈپٹی کنزرویٹر میر اعجاز ٹالپر تصدیق کرتے ہیں کہ تھرپارکر میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

 "تھرپارکر میں جانوروں اور پرندوں کی باقاعدہ گنتی نہیں کی گئی۔ البتہ ایک اندازے کے مطابق یہاں نایاب نسل کے تقریباً پانچ ہزار ہرن پائے جاتے ہیں۔گزشتہ پانچ برس میں یہاں غیر قانونی شکار کے 68 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اس عرصے میں شکاریوں پر 44 لاکھ 21 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ ایک کیس میں شکاریوں کو ایک سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی ہے جبکہ دو کیس عدالت میں زیرسماعت ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں

postImg

جنگلی حیات کی حفاظت کریں ورنہ جیل جانا پڑ سکتا ہے: خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے میں پہلی گرفتاری

وہ کہتے ہیں کہ محکمہ وائلڈ لائف کے پاس جنگلات کے محافظ عملے میں چھ سپاہی اور ایک انسپکٹر شامل ہیں۔ سپاہی، اسسٹنٹ، گیم افسر، انسپکٹر اور جونیئر کلرک کی پوسٹیں خالی ہیں۔ نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیور بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں مقرر کیے جانے والے دو افسر دوسرے اضلاع میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایک مٹھی میں تعینات گیم افسر اشفاق میمن ہیں جو کراچی میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دوسرے انور سومرو اس وقت بدین میں ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

"ہمارے پاس پورے ڈویژن میں صرف دو گاڑیاں ہیں۔ پک اپ ڈویژن بھر کے لیے استعمال ہوتی ہے اور جیپ ضلع تھرپارکر کے لیے ہے۔ ایندھن کی مد میں ماہانہ صرف 40 ہزار روپے ملتے ہیں جو دو دوروں ہی میں خرچ ہو جاتے ہیں۔"

 45 سالہ سراج سومرو ضلع کونسل تھرپارکر کے رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں جنگلی حیات کو گھر کا فرد مانا جاتا ہے۔ یہاں پر دیہاتیوں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ شکار نہیں کرنے دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا گاؤں گودھیار بھی چنکارا سینکچری کی حدود میں ہے۔ یہاں جب کوئی شکار ہوتا ہے تو ارد گرد کے سب لوگ شکاریوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ راتوں کو جاگ کر جنگلی حیات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود شکاری خفیہ طریقے سے شکار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

سراج سومرو کہتے ہیں کہ اگر محکمہ وائلڈ لائف کے پاس زیادہ وسائل ہوں گے تو اسی صورت ہی میں وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 17 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

جی آر جونیجو کا تعلق تھرپارکر سے ہے۔ وہ گذشتہ پانچ سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ سیاست، ماحولیات، تعلیم، کلچر، انسانی حقوق اور پسماندہ طبقوں کو درپیش مسائل سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

آخر کب ہمیں پانی میسر آئے گا

آخر کب تک اپنے بے گناہ بچوں کی لاشیں اٹھائیں گے