حسرت ان غنچوں پہ ہے ۔۔۔ وہاڑی میں ادیبوں کے لئے سرکاری سرپرستی میں بنایا جانے والا ٹی ہاؤس ناکام کیوں ہوا؟

postImg

مبشر مجید

postImg

حسرت ان غنچوں پہ ہے ۔۔۔ وہاڑی میں ادیبوں کے لئے سرکاری سرپرستی میں بنایا جانے والا ٹی ہاؤس ناکام کیوں ہوا؟

مبشر مجید

2017ء میں وہاڑی کے ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھٹی نے چند شعرا کو اپنے دفتر میں مدعو کیا اور اس دوران لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی طرز پر شہر میں ایک ادبی مرکز تعمیر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ ادب کے فروغ اور شاعروں اور ادیبوں کے مل بیٹھنے کے لیے آفیسرز کلب میں ٹی ہاؤس بنایا جائے اور اس کی تعمیر کے لیے فنڈزسرکاری خزانے کے بجائے شہر کے صاحب حیثیت افراد سے لیے جائیں۔

اس موقع پر میونسپل پبلک لائبریری کے سابق لائبریرین سید وقاص سعید نے ٹی ہاؤس آفیسرز کلب کے بجائے لائبریری کے احاطے میں تعمیر کرنے کی تجویز دی۔

اپنی تجویز کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پبلک لائبریری کے پاس وسیع جگہ موجود ہے اور یہ شہر کے وسط میں بھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ کتاب اور ٹی ہاؤس کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ انہوں اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بالائی طبقے کے لیے بنائے گئے آفیسرز کلب میں متوسط طبقے کے شاعروں اور ادیبوں کی موجودگی کو شاید پسند نہیں کیا جائے گا۔

ان کے بقول، اس موقع پر ساتھی شاعروں نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرا دیا کہ یہ بات ڈپٹی کمشنر کی طبع پر گراں گزرے گی اور ہو سکتا ہے وہ ٹی ہاؤس کا ارادہ ہی ترک کر دیں۔

مقامی کالج کے لیکچرار ڈاکٹر اکرم عتیق شاعری بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سے ملاقات میں ٹی ہاؤس کا آئین مرتب کرنےکے لیے ایک کمیٹی مقرر کرنےاور درجہ چہارم کے دو سے تین سرکاری ملازمین کی خدمات لینے پر اتفاق ہوا۔

ٹی ہاؤس کی عمارت بنانے پر لگ بھگ 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے جو چند ماہ میں مکمل ہو گئی اور اس کی رکنیت کے لیے شعر و ادب سے تعلق رکھنے 27 افراد نے فی کس 1500 روپے جمع کرائے۔

ٹی ہاؤس کےافتتاح کی تاریخ طے کر دی گئی لیکن اس سے پہلے ہی ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ ہو گیا۔ تاہم طے شدہ تاریخ سے دو دن قبل وہ جیسے تیسے ٹی ہاؤس کا افتتاح کر گئے۔

نئے آنے والے ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے ٹی ہاؤس کے معاملے میں دلچسپی لینے کے بجائے آفیسرز کلب کو جم خانہ بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے وہاڑی جم خانہ کی عمارت تعمیر ہونے پر ٹی ہاؤس کو اس کا حصہ بنا کر کیفے سیفرون کا نام دے دیا۔

جم خانہ کی مرکزی عمارت میں سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا جس نے سگریٹ پینا ہو وہ کیفے سیفرون کا رخ کرتا ہے۔ اب یہاں زیادہ تر لوگ کیفے میں چائے پیتے اور سگریٹ کے  کش لگانے والے نظر آتے ہیں۔

وہاڑی جم خانہ کے سیکرٹری میاں محمد اقبال کے مطابق ٹی ہاؤس بننے کے بعد اس میں چند ہی ادبی تقریبات کا انعقاد عمل میں آ سکا۔ اس کے بعد یہ غیرفعال ہو گیا اور اس میں شہر کے ادباء و شعراء نے بھی کوئی دلچسپی نہ لی۔

وہاڑی کے موجودہ ڈپٹی کمشنر سید آصف حسین شاہ ٹی ہاؤس کے قیام کے دوران شہر میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعرا کی عدم دلچسپی کے باعث ٹی ہاؤس میں ادبی سرگرمیوں کا انعقاد نہ ہو سکا۔ چنانچہ جب آفیسرز کلب جم خانہ میں تبدیل ہوا تو  ٹی ہاؤس نے اس اس کا حصہ بننا ہی تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جم خانہ انتظامیہ ٹی ہاؤس کی عمارت کو اپ گریڈ نہ کرتی تو یہ اب تک کھنڈر بن جانا تھا۔

اس معاملے میں شعرا کا موقف یہ ہے کہ انتظامیہ نے ٹی ہاؤس کی کمیٹی بنانا تھی اور اس کے بعد اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے بعد کمیٹی نہ بن سکی اور نئے ڈپٹی کمشنر جم خانہ کے لیے سرگرم ہو گئے۔

بعض ادیبوں کو شکایت ہے کہ علی اکبر بھٹی نے ٹی ہاؤس کے قواعد و ضوابط بنانے اور انہی کے تحت اسے چلانے کی بات کی تھی لیکن نہ تو انہوں نے اس پر عمل کیا اور نہ ہی ٹی ہاؤس کی ذمہ داریاں کسی اور افسر کو منتقل کیں۔

مقامی شاعر سید جمیل حسین شاہ نے ٹی ہاؤس کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والی رقم میں مبینہ بدعنوانی پر علی اکبر بھٹی کے خلاف ایک درخواست محکمہ اینٹی کرپشن لاہور کے نام ارسال کی تھی۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ عمارت ادیبوں کے لیے بنائی گئی ہے، اسے جس جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے وہ سرکاری ہے اور اس کی تعمیر میں عوام کا پیسہ استعمال ہوا ہے تو اس جگہ کو ادیبوں کے حوالے کیوں نہیں کیا جا رہا۔

جمیل حسین کے مطابق لاہور سے یہ درخواست وہاڑی میں اینٹی کرپشن کے دفتر ریفر کر دی گئی۔ وہاں سے اسے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو ریفر کر دیا گیا جبکہ شکایت بھی اسی دفتر میں سابق ڈپٹی کمشنر کے خلاف تھی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

آرٹ اور ادب کے راستے شناخت کا سفر

شعرا کی تنظیم ادب اجالا کے رہنما ڈاکٹر ندیم اکبر ندیم بتاتے ہیں کہ وہاڑی ٹی ہاؤس بننے کے بعد اس میں پانچ مشاعرے بھی ہوئے۔ ان میں سے دو سرکاری سطح پر منعقد کرائے گئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹی ہاؤس میں ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔

ندیم اکبر دعویٰ کرتے ہیں کہ  اندازے کے مطابق ٹی ہاؤس کے لیے تقریباً 70 لاکھ روپے جمع ہو گئے تھے جن میں سے اس کی عمارت بنانے پر بمشکل 20 لاکھ روپے ہی خرچ ہوئے۔

ایک تاجر رہنما کی طرف سے عمارت کے لئے مفت سیمنٹ دیاگیا اور بھٹہ خشت مالکان کی طرف سے اینٹیں بھی بلامعاوضہ فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ سماجی تنظیم پلان پاکستان کی طرف سے بھی ٹی ہاؤس کے لئے سامان مہیا کیا گیا تھا۔ انہی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے  محکمہ اینٹی کرپشن کو درخواست دی گئی کہ باقی رقم کے بارے میں انکوائری کرائی جائے لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو چاہئیے وہ سرکاری افسروں کی ایک کمیٹی بنا دے جو ٹی ہاؤس کے معاملات چلائے، اس میں دوبارہ رکنیت سازی اور تقریبات کا انتظام کرے اور کچھ عرصہ کے بعد یہ ذمہ داریاں شاعروں اور ادیبوں کے سپرد کر دی جائیں۔ اس طرح ادارے کو اب بھی فعال بنایا جا سکتا ہے۔

 

تاریخ اشاعت 29 جون 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مبشر مجید وہاڑی کے رہائشی اور گذشتہ چھ سال سے تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔ زراعت، سماجی مسائل اور انسانی حقوق ان کے خاص موضوعات ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.