ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف عدالتی درخواستیں: 'ناقدین اس قانون سے واقف ہی نہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف عدالتی درخواستیں: 'ناقدین اس قانون سے واقف ہی نہیں'۔

ارحبا وسیم

postImg

ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف عدالتی درخواستیں: 'ناقدین اس قانون سے واقف ہی نہیں'۔

ارحبا وسیم

احمد نے جب اپنے والدین سے کہا کہ وہ انہیں اپنے بارے میں ایک اہم بات بتانا چاہتے ہیں تو انہوں نے فوراً فرض کر لیا کہ شاید اس کا تعلق ایڈز جیسے کسی موذی مرض سے ہے۔ لیکن ان کے بیٹے کا یہ انکشاف کہ وہ مکمل مرد نہیں بلکہ خواجہ سرا ہیں ان کے لیے اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ 

احمد نے اپنے والدین سے یہ بھی کہا کہ انہیں اب 'سارہ' کے نام سے مخاطب کیا جائے۔ 

یہ2015  کی بات ہے۔ سارہ اب لاہور کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتی ہیں جس کے کیفے ٹیریا میں چائے پیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین خوفزدہ تھے کہ اگر لوگوں کو ان کے خواجہ سرا ہونے کا پتہ چل گیا تو انہیں بہت تنگ کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کیفے ٹیریا میں بھی لوگ نہ صرف انہیں مڑ مڑ کر دیکھ رہے ہیں بلکہ کئی طلبا ان پر چلتے چلتے جملے بھی کس رہے ہیں۔ 

سارہ ان سب باتوں سے لاپرواہ ہیں اور بتاتی ہیں کہ ابھی ان کے گھر والے انہیں خواجہ سرا کے طور پر تسلیم نہیں کر پا رہے تھے کہ انہوں نے یہ اصرار کرنا شروع کر دیا کہ وہ ایسے ہارمون استعمال کرنا چاہتی ہیں جو ان میں عورتوں والی جسمانی خصوصیات کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو سکیں۔ ان کے مطابق یہ ہارمون انہیں اس ذہنی پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جس کا تجربہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے جسمانی اعضا اور ان کی صنفی شناخت میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ یعنی ان کے اعضا تو مردانہ ہو سکتے ہیں لیکن وہ مردانہ پن محسوس نہیں کرتے ہیں یا اسی طرح زنانہ اعضا رکھنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو عورت نہیں سمجھتے۔ اس کشمکش کا شکار افراد کو بےچینی، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے طبی اصطلاح میں Gender Dysphoria کہتے ہیں۔ 

سارہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین ان کی اس تکلیف سے آگاہ تھے اس لیے وہ ان کا علاج کرانے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ یہ علاج کرانے سے پہلے انہیں اپنے خواجہ سرا ہونے کی تصدیق کرانا ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تصدیق کے لیے وہ چھ ماہ تک گلبرگ کی ایک معروف نفسیاتی علاج گاہ میں جاتی رہیں جہاں وہ اپنے باطنی جذبات طبی اور نفسیاتی ماہرین کے سامنے پیش کرتی رہیں۔ لیکن ان کی توقع کے برعکس ان ماہرین نے انہیں شقاقِ دماغی (schizophrenia) کا مریض قرار دے کر انہیں ہارمون استعمال کرنے سے روک دیا۔

جب 2018 میں پارلیمنٹ نے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کی منظوری دی تو سارہ بہت خوش ہوئیں کہ اب انہیں ہارمون استعمال کرنے سے پہلے اپنا طبی اور نفسیاتی تجزیہ نہیں کرانا پڑے گا بلکہ اس قانون کی موجودگی میں وہ اپنی مرضی سے اپنی صنفی شناخت طے کر سکیں گی اور اس کے مطابق اپنے جسم میں تبدیلیاں بھی لا سکیں گی۔ (لیکن آگے چل کر کچھ ایسے واقعات کا ذکر آئے گا جن کی وجہ سے ان کی خوشی ماند پڑ گئی ہے-)

اس ایکٹ کا بنیادی مقصد ایسے افراد کے جنسی اور جسمانی حقوق کا تحفظ کرنا اور ان کی نفسیاتی، سماجی اور مالی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے جنہیں پاکستان میں خواجہ سرا کہا جاتا ہے۔ یہ افراد یا تو جسمانی طور پر مکمل مرد/عورت نہیں ہوتے یا وہ نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو اس صنف میں شمار نہیں کرتے جو ان کی جسمانی ساخت سے ظاہر ہوتی ہے۔ 

اس قانون کی افادیت پر بات کرتے ہوئے خواجہ سرا افراد کے حقوق پر کام کرنے والی جنت علی کا کہنا ہے کہ اس کی منظوری سے پہلے خواجہ سرا شناختی کارڈ بھی نہیں بنوا سکتے تھے کیونکہ اس کے لیے انہیں اپنے والدین کے شناختی کارڈ  کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ان میں سے اکثر اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ "اب ایسے لوگ اپنے گرو کے ساتھ جا کر اپنے شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں"۔ 

جنت علی جینڈر پروٹیکشن ایکٹ کی تیاری کے لیے بنائی گئی سرکاری ٹاسک فورس کا حصہ رہ چکی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس قانون میں خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) کی اصطلاح کو ایک ایسی چھتری کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کے نیچے کئی صنفی شناختوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ خواجہ سرا افراد اس کے تحت خود کو صرف مخنث کے طور پر ہی نہیں بلکہ "مرد مخنث اور خنسا" کے طور پر بھی رجسٹرڈ کرا سکتے ہیں۔ 

انسانی حقوق کی ترویج کے لیے کام کرنے والے کئی لوگوں کی دو سال کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بننے والے اس قانون کے تحت خواجہ سرا افراد کے خلاف کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی بھی ممانعت کی گئی ہے خواہ اس کا تعلق تعلیم سے ہو یا ملازمت کے مواقع اور وراثتی جائیداد میں ان کے حصے سے۔ 

مذہبی اعتراضات

ضلع راولپنڈی کے علاقے واہ کینٹ کے رہنے والے 40 سالہ محمد عرفان خان پیدائشی نقائص سمیت جسمانی معذوریوں پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2020 میں وفاقی شرعی عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ دراصل "خواجہ سرا افراد کے حقوق کے نام پر ہم جنس پرستی اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کو قانونی جواز دینے کی کوشش ہے"۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قانون میں بہت سی خامیاں ہیں کیونکہ " ایک تو اس میں خواجہ سرا کی تعریف صرف جسمانی طور پر مخنث لوگوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں ہم جنس پرست بھی شامل ہیں، دوسرا یہ کہ اس میں مخنثوں کی شناخت کے لیے طبی بورڈ کا معائنہ لازمی قرار نہیں دیا گیا اور تیسرا یہ کہ اس میں پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ خود کو خواجہ سرا قرار دے لے"۔

اس کے برعکس محمد عرفان خان کا دعویٰ ہے کہ خواجہ سرا ہونا ایک ذہنی بیماری ہے جس کا علاج نفسیاتی طریقوں اور ہارمون کے استعمال کے ذریعے ممکن ہے۔ اس لیے ان کی نظر میں "ایسے لوگوں کو اپنی جنسی شناخت خود طے کرنے کا اختیار دینا غیر اسلامی ہے"۔ 

اس ایکٹ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں ایک اور درخواست انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم  22 سالہ محمد بن ساجد نے اسی سال دائر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ درخواست دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ان کے ایک دوست نے انہیں بتایا کہ یہ قانون "اسلام کے اصولوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور ہم جنس پرستی کو فروغ دیتا ہے"۔ اس لیے "وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ مذہب کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی قانون سازی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں"۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "جو شخص پیدائش کے وقت اپنے لیے طے کردہ جنس کو اپنی شناخت قرار نہیں دیتا وہ ہم جنس پرست ہے" اس لیے اسے اپنی شناخت کی تبدیلی کی اجازت دینے والا قانون مذہبی نکتہِ نظر سے ٹھیک نہیں۔ 

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی 15 نومبر 2021 کو ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں ایک قانونی ترمیم کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنی جنسی اور صنفی شناخت کو تبدیل کرنے کے خواہش مند لوگوں کا طبی معائنہ لازمی قرار دیا جائے اور ڈاکٹروں کی تصدیق اور اجازت کے بغیر نہ تو ان کے شناختی کارڈ پر ان کی جنس بدلی جائے اور نہ ہی انہیں سرجری یا دوسرے طبی طریقے استعمال کر کے اپنی جسمانی ساخت بدلنے کی اجازت دی جائے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ "ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کا اطلاق صرف انہی لوگوں پر ہونا چاہیے جو جسمانی اعتبار سے نہ عورت ہوں نہ مرد کیونکہ اسلام صرف ایسے لوگوں کو ہی مخنث مانتا ہے" جبکہ اس کے برعکس "اپنی حالیہ شکل میں یہ قانون ہر کسی کو یہ آزادی دیتا ہے کہ وہ جب چاہے اپنی جنسی اور صنفی شناخت تبدیل کر لے"۔

ان کے مطابق اس طرح کی تبدیلی کے کئی سماجی اور مذہبی مضمرات ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مرد اپنے خیالات اور خصلتوں کی بنیاد پر اپنے آپ کو عورت کہنے لگے تو اس ایکٹ کی تحت نہ صرف اسے عورت مان لیا جائے گا بلکہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص جگہوں پر جانے کی اجازت بھی ہو گی "جو شائستگی کے خلاف ہے"۔

گزشتہ 13 برس سے ایکسپریس نیوز میں میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرنے والی ندیم کشش سمیت بعض خواجہ سرا بھی ان اعتراضات سے متفق ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کسی بھی فرد کو خواجہ سرا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ لہٰذا، ان کے مطابق، اس ایکٹ میں دی گئی یہ اجازت مذہبی اعتبار سے ٹھیک نہیں کہ کوئی شخص بھی اپنی مرضی سے خود کو خواجہ سرا قرار دے لے اور اس کے مطابق اپنی جسمانی ساخت میں تبدیلیاں کر لے۔

وہ اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ 1987 میں 16 سال کی عمر میں وہ ملتان میں واقع اپنے گھر سے بھاگ کر بازارِ حسن میں چلی گئیں جہاں ان کے گرو نے تجویز کیا کہ وہ نسوانی شکل اختیار کرنے کے لیے سرجری کروائیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تجویز نہ مانی اور اپنی زندگی 'مورت' (مرد+عورت) کے طور پر گزار دی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ جنس کی تبدیلی مذہبی لحاظ سے ٹھیک نہیں۔

خواجہ سرا افراد کے حقوق کی ترویج کے لیے کام کرنے والی نوشی خان کا بھی خیال ہے کہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر مرد اور عورت کے درمیان معلق افراد کی کئی قسمیں ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کو خواجہ سرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے خیال میں ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کا سہارا لے کر صاحبِ حیثیت لوگ اپنی جنس کی تبدیلی کے لیے مختلف علاج کرا رہے ہیں حالانکہ اس قانون کا بنیادی مقصد پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا افراد کو محفوظ رہائش اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

صنف: مذہبی سوال یا سماجی مسئلہ؟

دوسری طرف جنت علی کا کہنا ہے کہ "جنس ٹانگوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ یہ دماغ اور روح میں ہوتی ہے اس لیے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا تعین طبی یا نفسیاتی ٹیسٹوں کے ذریعے کیا جا سکے"۔ لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان کی خواجہ سرا برادری میں بھی ایسے لوگوں سے متعلق منفی جذبات پائے جاتے ہیں جو جسمانی طور پر مرد یا عورت دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ صنفی طور پر اپنے آپ کو مرد یا عورت تصور نہیں کرتے۔ 

جنت علی یہ بھی کہتی ہیں کہ "جو لوگ عدالتی درخواستوں کے ذریعے اس معاملے کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ سے واقف ہی نہیں ہیں"۔

عائشہ مغل بھی سمجھتی ہیں کہ قانون کے ناقدین اس کا پسِ منظر نہیں جانتے۔

وہ 2020 میں اقوام متحدہ کے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن کے جنیوا، سوئٹزرلینڈ، میں ہونے والے اجلاس میں شمولیت کر کے پہلی خواجہ سرا بن چکی ہیں جس نے کسی بین الاقوامی فورم پر ریاستِ پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کا مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چئرمین قبلہ ایاز کی مشاورت اور تعاون سے پارلیمنٹ میں بھیجا گیا تھا۔ 

اس قانون کے خلاف عدالتوں میں دی گئی درخواستوں کا جواب دینے کے لیے آج کل وہ وکلا اور مذہبی علما کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ کی وکیل صباحت رضوی،جو ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کی منظوری کے لیے کام کرنے والے لوگوں میں شامل تھیں، بھی کہتی ہیں کہ اس قانون پر پارلیمانی بحث کے دوران اس کے خلاف اٹھائے گئے تمام مذہبی اعتراضات کا تسلی بخش جواب دے دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس قانون کی منظوری کے بعد جب سینیٹ میں اس پر بحث شروع ہوئی تو جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان کے سینیٹر حافظ حمد اللہ سمیت بہت سے ارکانِ سینیٹ نے کہا کہ اس کے ذریعے ہم جنس پرستی کے حق میں راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ "ہم نے ان سینیٹروں کو ایکٹ کی منظوری پر رضامند کرنے کے لیے مذہبی تحقیق کا استعمال کیا اور انہیں قائل کیا کہ اس میں کچھ بھی غیر اسلامی نہیں بلکہ اس کا واحد مقصد خواجہ سرا برادری کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے"۔ 

ڈاکٹر محمد اسلم خاکی بھی اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ وہ ایک مذہبی عالم اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ انہوں نے 2009 میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا برادری کے حقوق کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے ایک سماجی حل ہی چاہیے"۔

وہ کہتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کی مخالفت محض اس لیے نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے تحت کچھ ہم جنس پرست افراد اپنے آپ کو خواجہ سرا کے طور پر رجسٹرڈ کروا کر اس کا غلط استعمال کریں گے۔ کیونکہ، ان کے مطابق، غلط استعمال تو ہر قانون کا ہوتا ہے لیکن اس وجہ سے کبھی کسی قانون کو ختم نہیں کیا گیا۔

تاریخ اشاعت 23 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔