فصلوں کی قیمتیں: طلب اور رسد کی پینگ پر جھولے کون لے رہا ہے؟

postImg

مبشر مجید

postImg

فصلوں کی قیمتیں: طلب اور رسد کی پینگ پر جھولے کون لے رہا ہے؟

مبشر مجید

وہاڑی کے گاؤں بستی ڈھڈی والا کے ملک نذر بھارہ ٹھیکے (کرائے) کی زمین پر کاشت کاری کرتے ہیں۔انھوں نے 2021ء میں تل کاشت کیے تھے۔تل کی فصل چار ماہ میں تیار ہو جاتی ہے۔

کاشت کے وقت تل کا ریٹ ساڑھے پانچ سو روپے کلو تھا لیکن جب وہ اپنے تل بیچنے منڈی پہنچے تو ان کی 20 من پیداوار کا ریٹ تاجروں نے تین سو روپے فی کلو لگایا۔

نذر بتاتے ہیں کہ ڈیڑھ ماہ بعد جب وہ خود تل خریدنے منڈی  گئے تو اس کا ریٹ 700 روپے کلو تھا۔

وہاڑی کے ہی ایک اور نوجوان کاشتکار اویس رحیم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ اڈا چکڑالہ کے ایک قریبی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔

2020ء میں انھوں نے مکئی کاشت کی تو مکئی کا ریٹ 12 سو روپے فی من تھا۔ جب فصل تیار ہوئی تو ریٹ گر کر ایک ہزار روپے ہو گیا لیکن جیسے ہی انھوں نے فصل فروخت کردی تو اس کی قیمت دوبارہ 12 سو روپے فی من پر آ گئی۔

اگلے سیزن میں انہوں نے کینولا کاشت کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس کے نرخ چھ ہزار روپے من تک پہنچے ہوئے تھے۔

کینولا کی کاشت پر اخراجات دیگر فصلوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ منافع کے علاوہ اویس یہ بھی سوچ رہے تھے کہ اگلی فصل کی کاشت جلد شروع کر سکیں گے۔

لیکن جب کینولا کی فصل تیار ہوئی تو منڈی میں کوئی بھی انہیں چار ہزار 900 روپے سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھا۔

منڈی میں اجناس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کیونکر ہوتا ہے اور کمی کا بھگتان آخر کسان کو ہی کیوں بھتگنا پڑتا ہے؟

پلے نہیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ

حافظ زبیر امجد ماہر نباتات ہیں اور وہاڑی کی ایک سیڈ کمپنی کے مالک ہیں۔ ان کے خیال میں طلب و رسد کے فارمولے کے تحت قیمت کا کم زیادہ ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

لیکن بہت سے ماہرین اتار چڑھاؤ کے اس کھیل کو سادہ نہیں مانتے اور اس 'فارمولے' میں پنہاں کئی خفیہ اجزا کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تاجر طلب کی نبض پہچانتے ہیں اور رسد کو کم زیادہ کر کے قیمتوں کو اپنی مرضی کی ڈگر پر چلاتے ہیں۔

وہاڑی کی غلہ منڈی کے آڑھتی محمد حسین تسلیم کرتے ہیں کہ سٹاکیے (ذخیرہ اندوز) کسان سے سستے داموں فصل خرید کر دو سے تین ماہ تک ذخیرہ کیے رکھتے ہیں۔ جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور جنس کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔

<p>کسانوں کے مطابق منڈی میں ان کو اپنی فصل کے مناسب دام نہیں ملتے<br></p>

کسانوں کے مطابق منڈی میں ان کو اپنی فصل کے مناسب دام نہیں ملتے

حافظ زبیر کا خیال ہے کہ کسان بہتر منصوبہ بندی کرتے ہوئے چند دن یا ایک ڈیڑھ ماہ تک فصل اپنے پاس رکھ لے تو اسے بہتر ریٹ مل سکتا ہے۔

لیکن پاکستان کسان اتحاد کے رہنما چودھری افتخار احمد کے خیال میں ایسا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاشتکار کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ وہ کاشت کے اخراجات بھی اٹھائے اور اچھا ریٹ ملنے تک اپنی پیداوار کو ذخیرہ بھی کیے رکھے۔

"اگلی فصل کی بجائی کا انحصار پچھلی فصل کی فروخت پر ہوتا ہے۔ کاشتکار کو نہ صرف فوری طور پر کھاد، سپرے اور بیج کی مد میں لیا گیا قرض اتارنا ہوتا ہے بلکہ اگلی فصل کے لیے بیج اور ہل کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے"۔

ان کے خیال میں اگر وہ اچھی قیمت کے لئے محض چند دن بھی انتظار کرے تو اگلی فصل کی کاشت میں دیر ہو سکتی ہے جس کا خمیازہ اسے کم پیداوار کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

اویس رحیم اور نذر بھارہ دونوں نے نقصان اٹھانے کے بعد گندم کاشت کرنے کی ٹھانی کہ یہ واحد فصل ہے جس کی قیمت سرکار طے کرتی ہے اور اس قیمت پر خود گندم خریدتی بھی ہے۔

اویس کو امید تھی کہ (2021ء میں) حکومت گندم کی قیمت دو ہزار روپے من طے کرے گی لیکن حکومت نے یہ اس سے دو سو روپے کم رکھی۔

"خریداری کے سرکاری مرکز میں گندم سے بھرے ٹرالر کئی دن سے کھڑے تھے لیکن محکمہ  خریداری نہیں کر رہا تھا۔ باردانہ (بوریوں) کا بھی مسئلہ تھا، اس لیے میں ںے فیصلہ کیا کہ فصل آڑھتی کو ہی فروخت کر دی جائے جو  اسےکھیت سے ہی اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اس نے میری گندم 15 سو پچاس روپے فی من خریدی۔"

اویس کو اپنی چار ایکڑ پر چھ ماہ میں پیدا ہونے والی گندم کی فصل پر نقد اخراجات کو منہا کر کے کل 12 ہزار روپے ماہانہ بچے۔  

"ہم سرکاری نرخوں سے بھی کم پر فصل فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے سر سے زرعی مداخل کی مد میں لیا قرض فوری چکا سکیں۔ یہی گندم تین ماہ کے بعد منڈی میں ڈھائی ہزار روپے فی من پر فروخت ہو رہی تھی"۔ 

 میاں عاصم ارائیں تحصیل میلسی میں ڈھائی سو ایکڑ کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چار سے چھ ماہ فصل پر دن رات ایک کرنے والے کسان کو پانچ سے سات سو روپے فی من بچتا ہے جبکہ ذخیرہ اندوز صرف دو ماہ میں ہی ڈھائی سے تین ہزار روپے فی من تک کما لیتا ہے۔

<p>کسان کی بجائے ذخیرہ اندوز زیادہ منافع کماتے ہیں<br></p>

کسان کی بجائے ذخیرہ اندوز زیادہ منافع کماتے ہیں

"دو ماہ قبل، جب چاول کی فصل پک کر تیار ہوئی تو اس کی قیمت ساڑھے تین ہزار روپے فی من تھی لیکن اب یہ بڑھ کر چھ ہزار دو سو ہو چکی ہے اور اس میں ابھی مزید اضافے کا امکان ہے"۔
2022ء میں جب نذر بھارہ نے گندم کاشت کی تو سرکاری ریٹ دو ہزار دو سو تھا لیکن انہیں آڑھتی نے دو ہزار ہی دیا۔ وہ اپنے اخراجات کا حساب لگا کر بتاتے ہیں کہ  انہیں چھ ماہ بعد آٹھ ایکڑ کی گندم پر کل 48 ہزار روپے ہی بچے۔

کیا منڈی کی بھول بھلیوں سے باہر کوئی راستہ جاتا ہے؟

حافظ زبیر امدادی قیمت یا حکومت کے فصل کی قیمت طے کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امدادی قیمت کسان کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہے۔ "یہ قیمت کسان کی مرضی یا مفاد کے مطابق نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کے حساب سے طے کی جاتی ہے"۔

حافظ صاحب اس مسئلے کو لاینحل نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت اجناس ذخیرہ کرنے کے لیے نچلی سطح پر سٹور قائم کر سکتی ہے جس سے طلب و رسد میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی اور پورا سال قیمتوں میں بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ استحکام رہے گا۔

"اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کراپ زوننگ کا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت تحصیل کی سطح پر ڈیمانڈ اور سپلائی کے مطابق فصلیں کاشت کی جائیں"۔

انہوں نے بتایا کہ چند سال قبل فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ نے کراپ زوننگ بارے ایک مفصل رپورٹ مرتب کی تھی جسے متعلقہ محکموں  کی جانب سے توجہ نہ ملی اور وہ فائلوں میں ہی دفن ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

مہنگی اور نایاب کھادیں: کسان گندم کی کاشت سے گریزاں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کراپ زوننگ کی جاتی تو دس سال میں کپاس کی پیداوار ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں سے کم ہو کر 60 لاکھ تک نہ رہ جاتی۔

زمین زادوں کا مستقبل

نذر بھارہ بتاتے ہیں کہ چھوٹے زمیندار اپنا رقبہ فروخت کررہے ہیں یا کرایے پر دے رہے ہیں، جو باقی ہیں انھوں نے گزر اوقات کے لیے مال مویشیوں کا سہارا لیا ہوا ہے۔

اویس رحیم نے بھی اپنے مالی حالات کو بہتر کرنے کے لیے دیسی مرغیاں اور بکریاں پال لی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اب میں مجبوراً کاشتکاری کر رہا ہوں۔ کسی لینڈ ڈویلپر نے میری زمینوں کو کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں شامل کرنے کے لیے اچھے پیسوں کی آفر کی تو میں زمین کو بیچ کر کوئی کاروبار شروع کر لوں گا''۔

نذر بھارہ نے کاشت کاری کے ساتھ رئیل اسٹیٹ کا کام بھی شروع کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر ہوائی کام ہی کرنا ہے تو پھر زیادہ منافع والا کام کیوں نہ کیا جائے؟"

تاریخ اشاعت 2 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مبشر مجید وہاڑی کے رہائشی اور گذشتہ چھ سال سے تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔ زراعت، سماجی مسائل اور انسانی حقوق ان کے خاص موضوعات ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.