'وہ پندرہ منٹ میری پوری زندگی پر بھاری تھے' سندھ میں سیلاب سے متاثرہ حاملہ عورتوں کی ابتلا
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'وہ پندرہ منٹ میری پوری زندگی پر بھاری تھے' سندھ میں سیلاب سے متاثرہ حاملہ عورتوں کی ابتلا

اشفاق لغاری

postImg

'وہ پندرہ منٹ میری پوری زندگی پر بھاری تھے' سندھ میں سیلاب سے متاثرہ حاملہ عورتوں کی ابتلا

اشفاق لغاری

چار ماہ کی انجلی کی آنکھوں میں سرما اور دونوں کلائیوں میں نظر بد سے بچنے کے لیے کالے رنگ کی چوڑیاں پہنائی گئی ہیں۔ انجلی جب پیدا ہوئیں تو اس وقت مون سون کی بارشیں زوروں پر تھیں اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔

وہ اپنے والدین کی تیسری بیٹی ہیں۔

انجلی کی 30 سالہ والدہ امیہ کولہی کو 22 اگست 2022 کو سمن گوٹھ کے پی پی ایچ آئی (پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو) صحت مرکز میں لایا گیا اور اسی رات دس بجے انجلی کی پیدائش ہوئی۔

امیہ کی اس سے پہلے دو بیٹیاں نو سالہ سومری اور پانچ سالہ گوری ہیں۔

ڈویزنل ہیڈ کوارٹر میرپور خاص سے 10 کلومیٹر دور مشرق کی طرف جائیں تو ڈگھڑی روڈ پر ساجن خاصخیلی گاؤں آتا ہے۔ گاؤں میں شیڈولڈ کاسٹ کولہی اور بھیل برادری کے 115 گھر آباد ہیں، 810 افراد کی آبادی والے اس گاؤں کے بیشتر گھر مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ امیہ اپنے تین بچوں کے ساتھ وہیں رہتی ہیں۔

امیہ اس سال اگست میں ہونے والی شدید بارشوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب پانی چڑھنا شروع ہوا تو ان کے بیشتر اہل خانہ اور پڑوسی اپنے گرتے ہوئے مکانات خالی کر کے کچے سے اوپر کے علاقے میں سڑکوں پر جھونپڑیاں بنا کر آباد ہو گئے۔

"میری زچگی کے دن قریب تھے، میں کیسے جاتی؟ وہاں بیت الخلا تک نہیں تھا۔ میں اپنی ساس اور بہن کے ساتھ اپنے کچے مکان میں رہ گئی مگر یہ فیصلہ بھی آسان نہیں تھا"۔

امیہ نے کہا کے جب انہیں درد اٹھا تو گھر سے ہسپتال پہنچنا مشکل ہوگیا۔ "گاؤں کے چاروں اطراف پانی تھا۔ بڑی مشکل سے چنگچی رکشے میں ڈال کر مجھے 15 کلو میٹر دور رات کو آٹھ بجے ہسپتال پہنچایا گیا۔ وہ 15 منٹ میری اب تک کی زندگی پر بھاری تھے، راستے میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ میرے شوہر اور ڈرائیور نے بڑی مشکل سے رکشے کو سڑک سے اترنے سے بچائے رکھا"۔ 

وہ بتاتی ہیں کے ہسپتال سے واپس گھر آنا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا مگر کیا کرتی؟

گھر آئی تو اپنے کمرے کے اندر انجلی کو مچھروں سے بچانا مشکل ہوگیا۔ آسمان سے پانی برس رہا تھا اور خشک زمین کا دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ مجھے ملیریا ہوگیا۔

امیہ کے شوہر شگن مزدوری کرتے ہیں۔ بکھرے ہوئے بالوں اور ہلکی سی داڑھی والے شگن بتاتے ہیں کہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اگست سے لے کر اکتوبر تک تین ماہ تو بے روزگاری کے کٹے، پچھلے ایک ماہ سے کچھ کام ملنے لگا ہے۔  

مگر امیہ کی مشکلات اب بھی کم نہیں ہوئیں۔  

"سردیاں آگئی ہیں، اب انجلی کو سردی سے بچانے میں لگی ہوں۔"

امیہ کے کچے گھر کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کچن ڈھے چکا ہے، انہوں نے اپنے بچے کچھے کے کمرے کو ہی کچن بنا لیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی 2022 میں مون سون کے آغاز کے بعد اگست کے آخر تک سندھ میں 700 ملی میٹر کے لگھ بھگ بارشیں ہو ئیں۔ یہ معمول سے 52 فیصد زیادہ تھیں۔ اس سے پہلے 1994 میں ایسی طوفانی بارشیں دیکھی گئی تھیں جب دو ماہ میں 503 ملی میٹر بارشیں ہوئیں تھیں جو 1961 کے بعد سب سے زیادہ بارشوں کا ریکارڈ ہے۔

ایک کے بعد دوسری مصیبت 

پڑوسی گاؤں مولا ڈنو خاصخیلی کی 38 سالہ شانتی کولہی حاملہ تھیں۔ بارشوں کے دوران ان کا گھر گرنا شروع ہوا تو وہ اپنا گھر چھوڑ کر قریبی گاؤں کے گورنمنٹ لوئر مڈل گرلز سکول کی عمارت میں منتقل ہو گئیں۔

سجاگ کی ٹیم جب 21 دسمبر 2022 کو ان کے پاس پہنچی تو ان کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا اور وہ لوگ اپنے گھر کے سامنے ہی ایک خیمے میں رہائش پذیر تھے۔

شانتی 38 سال کی عمر میں 12 بچے پیدا کر چکی ہیں۔ اس مرتبہ حمل کے دوران انہیں خون کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔

تیز بارش میں انہیں چھ اگست کو سکول سے چنگچی رکشا میں پی پی ایچ آئی سینٹر سمن آباد لے جایا گیا جو تقریبا 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ 

ڈیوٹی ڈاکٹر نے شانتی کی صحت دیکھ کر انہیں سول ہسپتال میر پور خاص لے جانے کو کہا مگر شانتی کے شوہر پنہوں انہیں میرپور خاص کے ایک نجی ہسپتال لے گئے جہاں 12 اگست 2022 کو شانتی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ویرو رکھا گیا ہے۔

شانتی خراب صحت، خوارک اور خون کی کمی کی وجہ سے 50 سال سے بڑی لگتی ہیں اور ان کے سر کے بال تقریباً سفید ہو چکے ہیں۔

"بارہ بچے سنبھالوں، گھر کی صفائی کروں یا اپنا گرا ہوا کمرا بناؤں، یہ تو شکر ہے کے آٹھ بیٹیوں میں سے پانچ کی شادی ہوگئی ہے اور تین بیٹیاں ساتھ رہتی ہیں جو گھر کے کام میں مدد کرتی ہیں"۔

ان بچیوں میں لچھمی کی عمر 13 سال، جوتی 10 سال اور جیجی کی عمر آ ٹھ سال ہے۔ ایک بیٹا تین سال کا ہے اور ویرو ابھی گود میں ہے۔   

شانتی کا کہنا ہے کے خیمے میں پوری عمر تو نہیں گزاری جاسکتی۔"گھر بنانا ہے اور اس کے لیے آہستہ آہستہ مٹی اکٹھی کر رہی ہوں"۔
انہوں نے بتایا کہ ویرو کو مستقل بخار اور خود انہیں اکثر سانس کی تکلیف رہتی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں خون کی کمی کی وجہ سے سانس کی تکلیف ہوتی ہے۔ 

پنہوں کھیت مزدور ہیں۔ جب ریکارڈ توڑ بارشیں برسیں تو وہ بے روز گار ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی یکے بعد دیگرے آٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں تو انہوں  نے سوچا بیٹا بھی ہونا چاہیے کہ آخر اولاد نرینہ ہی وارث ہوتی ہے۔

زندگی دینے والا پانی خطرہ بن گیا

میرپور خاص سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈگھڑی روڈ پر آم موری-جیو کلوئی گاؤں کے فقیر محلے میں 60 خاندان آباد ہیں۔ یہاں کے لوگ مگنھار برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگھنار شادی بیاہ، میلوں ٹھیلوں میں ڈھول، شہنائی اور اکتارا بجا کر اپنا روزگار کمایا کرتے تھے لیکن اب مزدوری کرتے ہیں۔ دسمبر ختم ہونے کو آیا مگر ان کا محلہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

پورا گاؤں مرید نہر کنارے ڈگھڑی جھڈو بائی پاس روڈ پر خیموں میں آباد ہے۔

ان کا گاؤں چونکہ نشیب میں واقع ہے اس لیے پانی آیا تو پوری آبادی اگست میں اونچائی پر مرید نہر کے کنارے خشکی پر بس گئی۔ چار ماہ گزرنے کے باوجود ان کے محلے سے پانی نہیں نکلا۔  

سیلاب زدہ 28 سالہ رضوانہ کے ہاں 10 اگست کو پی پی ایچ آئے کے بنیادی صحت مرکز صوفی آباد میں بیٹی پیدا ہوئی ہے جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ رضوانہ کہتی ہیں کہ نقل مکانی کے باعث سب سے زیادہ مشکلات انہی کو جھیلنا پڑیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

دوا اور غذا کی قلت: بلوچستان کے سیلاب متاثرین میں حاملہ خواتین کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ گئی

میری زچگی کے دن پورے ہو رہے تھے کہ گاؤں پانی سے بھرنے لگا۔ سب لوگ خشکی کی طرف منتقل ہونے لگے۔ میں اپنے شوہر وحید علی سے کہا "میں گھر چھوڑ کر نہیں جاسکتی کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے مگر انہوں نے کہا یہاں اتنا پانی جمع ہوگیا ہے سارا محلہ نکل چکا ہے کوئی راستہ نہیں بس نکلو"۔ 

رضوانہ بتاتی ہیں کہ انہیں مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔ محفوظ مقام تک جانے کے لیے انہیں کافی دور چلنا پڑا۔ ایک ایک قدم دشوار تھا۔

"مجھے تیسرے دن تقریبا 6 کلومیٹر دور صوفی آباد کے صحت مرکز میں چنگچی رکشے کے ذریعے لے جایا گیا"۔

رضوانہ اب اپنی دو بیٹیوں سات سالہ فرزانہ اور 10 اگست کو پیدا ہونے والی امہ فاطمہ کے ساتھ پریشانی کے عالم میں خیمے میں بیٹھی ہیں۔ ان کے شوہر وحید مزدوری کرتے ہیں لیکن فی الحال بے روزگار ہیں۔

فاطمہ کو کسی نے چھوٹا سا کمبل امداد میں دے دیا ہے جس سے ان کی بچی سردی سے بچی ہوئی ہے۔

رضوانہ کہتی ہیں کے اب تو امداد دینے والے بھی نہیں آتے بچوں کے لیے گرم کپڑے بھی نہیں ہیں اور وہ آئے روز بیمار رہتے ہیں۔ "کھانسی، نزلہ، بخار بچوں کی جان ہی نہیں چھوڑتا"۔

کچھ ایسی ہی کہانی 25 سالہ ثمرین کی بھی ہے جس کے ہاں 14 اگست کو اسی کیمپ میں بیٹی پیدا ہوئی۔ جس کا نام انہوں نے عنبرین رکھا ہے۔

مرید شاخ کنارے آباد ان مگنھار فقیروں کی بستی میں اگست سے لے کر اب تک سیلاب کے دنوں میں نو بچے پیدا ہوئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (ڈی ایچ او) میرپور خاص سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق اگست سے 10 دسمبر 2022 تک ضلع میرپور خاص میں کیمپوں میں رہنے والی 154 خواتین کی بنیادی مراکز صحت اور ہسپتالوں میں زچگی ہوئی ہے۔

سندھ حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں سیلاب متاثرہ کیمپوں میں رہنے والی حاملہ خواتین کی تعداد 19 ہزار 745 ہے جن میں سے چار ہزار 200 خواتین کی زچگی کیمپوں میں رہائش کے دنوں میں ہوئی ہے۔

یونیسیف کی 12 دسمبر کی رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے پانچ سال کی عمر کے ہر نو میں سے ایک بچے کو بیماریوں کی وجہ سے صحت مراکز میں داخل ہونا پڑا ہے۔

ان بچوں کی زندگی خوراک کی کمی اور قوت مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے خطرے میں رہی ہے۔ ایسے بچوں میں اکثر وزن اور قد نہ بڑھنے جیسی علامات پائی گئی ہیں۔ یونیسیف کے جاری کردہ اعداد و شمار کہتے ہیں کے پاکستان میں رواں سال مون سون کی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے تین کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں ایک کروڑ 60 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

تاریخ اشاعت 27 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ