بستی بستی موت کے ڈیرے: سِلی کوسز کا شکار مزدور انصاف کے متلاشی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بستی بستی موت کے ڈیرے: سِلی کوسز کا شکار مزدور انصاف کے متلاشی۔

رضا گیلانی

postImg

بستی بستی موت کے ڈیرے: سِلی کوسز کا شکار مزدور انصاف کے متلاشی۔

رضا گیلانی

پچھلی ایک دہائی میں چک ننگر کے ایک ہی خاندان کی چودہ عورتیں سِلی کوسز نامی بیماری کی وجہ سے بیوہ ہو گئی ہیں۔ 

نومبر 2021 کے آخری ہفتے میں ایک صبح یہاں کے کئی باشندے چھوٹی سی مقامی مسجد کے عقب میں واقع ایک ڈیرے کے صحن میں چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ سِلی کوسز کے مریض ہیں اور کچھ اس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین۔

ان میں شامل 35 سالہ محمد قاسم کی ٹانگیں اس بیماری کی وجہ سے خشک لکڑی کی مانند سوکھ چکی ہے اور ان کا جسم دن بدن سکڑتا جا رہا ہے۔ ان کے والد، بھائی، دو ماموں اور تین ماموں زاد بھائی اسی کے باعث فوت ہو چکے ہیں جبکہ 50 سالہ محمد شفیع کے دو بھائی اور 32 سالہ برکت علی کے دو ماموں بھی اس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

سُرخ و سفید رنگت اور سفید داڑھی والے بزرگ میاں خان بھی ڈیرے میں موجود ہیں۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اور سر پر سفید پگڑی باندھے وہ اس خیال سے یہاں آئے ہیں کہ یہاں موجود لاہور سے آیا شخص شاید کوئی سرکاری افسر ہے جو ان کی شکایت سن کر ان کی داد رسی کر سکتا ہے۔  

ان کے دو بیٹوں، 18 سالہ محمد سلطان اور 22 سالہ عبدالجبار، کا چار سال پہلے سِلی کوسز سے انتقال ہو گیا تھا۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر انہیں بچا نہ سکے۔ آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں کو روکتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ "میری تو عمر بھر کی کمائی ان کے علاج پر خرچ ہو گئی ہے"۔

چک ننگر پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ایک دور افتادہ بستی ہے جو ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے چوٹی بالا کا حصہ ہے۔ اس کی آبادی سات ہزار کے لگ بھگ ہے جس میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق نانگری بلوچ قبیلے سے ہے۔

کوہِ سلیمان کے اندر واقع ہونے کی وجہ سے اس گاؤں میں نہ تو وافر زرعی زمین ہے اور نہ ہی کھیتوں کی آب پاشی کے لیے نہروں اور ٹیوب ویلوں کا انتظام۔ اس لیے مقامی مردوں کی ایک بڑی تعداد لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں اور خلیجی ممالک میں مزدوری کرتی ہے۔

ماضی میں ان میں سے کئی لوگ قریبی قصبے سخی سرور میں پتھر سے بجری بنانے کا کام کرتے تھے۔ 2005 میں ان میں سے کچھ وسطی پنجاب کے شہروں، لاہور، شیخوپورہ اور گجرانوالہ، میں واقع کارخانوں میں کام کرنے چلے گئے کیونکہ وہاں استعمال ہونے والا پتھر نسبتاً نرم ہونے کی وجہ سے قدرے آسانی سے کاٹا، توڑا اور پیسا جا سکتا تھا اور وہاں اجرت بھی بہتر تھی۔ آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے دیگر رشتہ داروں کو بھی وہیں بلا لیا۔ نتیجتاً 2005 اور 2009 کے درمیان چک ننگر کے 257 باشندے ان کارخانوں میں کام کر رہے تھے۔ 

لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ پتھر کی پسائی کے دوران اڑنے والی گرد ان کے پھیپھڑوں میں جمع ہو کر انہیں سِلی کوسز کی بیماری میں مبتلا کر رہی ہے۔

پچھلے 10 سالوں میں ان میں سے 89 افراد اس بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ انتہائی لاغر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈیرے میں موجود لوگ کہتے ہیں کہ 2012 کا سال اس حوالے سے بہت ہولناک تھا۔ ان میں سے ایک شخص کے بقول اس سال "ہم ابھی ایک مردے کو دفنا کر واپس نہیں آتے تھے کہ دوسرے کی موت کا اعلان ہو رہا ہوتا تھا"۔ 

اپنی قسمت کے ہوئے سارے ستارے پتھر

چک ننگر کے رہائشیوں میں پہلی دفعہ سِلی کوسز کی علامات 2009 میں ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ شروع میں ڈیرہ غازی خان اور ملتان کے ڈاکٹر انہیں تپ دق (ٹی بی) کا مریض سمجھ کر اسی حساب سے ان کا علاج کرتے رہے حتیٰ کہ افاقہ نہ ہونے کی صورت میں بھی انہیں بار بار یہی علاج تجویز کیا جاتا رہا۔

محمد بلال نامی ایک مریض کو تین ڈاکٹر تین دفعہ تپ دق کی دوائیاں استعمال کرا چکے ہیں (ہر بار انہوں نے نو ماہ تک یہ دوائیاں کھائیں) حالانکہ ان کے استعمال سے ان کی حالت ٹھیک ہونے کے بجائے مسلسل بگڑتی رہی۔ اب ان کی صحت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ اپنا شناختی کارڈ نہ دکھائیں تو ان کے بوڑھوں جیسے خد و خال دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ان کی عمر 32 سال ہے۔

اس بیماری کی پہلی درست تشخیص تب ہوئی جب چک ننگر کے کچھ مریض 2010 کے آخر میں لاہور کے گلاب دیوی ہسپتال گئے۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے ان کی رپورٹیں کراچی کے آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹروں کو ارسال کیں جنہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں تپ دق نہیں بلکہ سِلی کوسز لاحق ہے۔ 

اسی گاؤں کے رہنے والے ریاض احمد کو اسی زمانے میں اس معاملے میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے طور پر اس بیماری میں مبتلا افراد کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی ٹھان لی۔ کئی ڈاکٹروں اور مختلف کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے بات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ چک ننگر کے نواح میں واقع بستی جندانی، چوٹی زیریں، پُل شوریہ اور جام پور نامی دیہات میں بھی کئی لوگ اس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملتان کے ایک ڈاکٹر نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ڈیری غازی خان کی شمالی تحصیل تونسہ کی بستی گبر کے 18 باشندے بھی کسی ایسے مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے جس کی تمام علامتیں سِلی کوسز سے ملتی ہیں۔ 

اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2016 سے لے کراب تک پنجاب میں صرف 187 لوگ سِلی کوسز کا شکار ہوئے ہیں لیکن ریاض احمد اور لاہور میں کام کرنے والے ایک وکیل،  اسامہ خاور، کہتے ہیں کہ اس میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر لوگ کبھی کسی سرکاری گنتی میں شامل ہی نہیں کیے گئے۔

<p> میاں خان کے دو بیٹے سِلی کوسز کے باعث مر چکے ہیں۔<br></p>

 میاں خان کے دو بیٹے سِلی کوسز کے باعث مر چکے ہیں۔

وہ دونوں پچھلے کئی سالوں سے اس بیماری سے منسلک عدالتی اور انتظامی کاروائیوں کا حصہ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومتی ریکارڈ صرف ان چند بڑے سرکاری ہسپتالوں سے جمع کیا گیا ہے جہاں سِلی کوسز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے جبکہ صوبے کے اکثر ضلعی ہسپتالوں میں یہ سہولت موجود ہی نہیں۔ اسی طرح وہ مریض بھی اس تعداد میں شامل نہیں جو کبھی کسی سرکاری ہسپتال نہیں گئے بلکہ نجی شفاخانوں سے اپنا علاج کراتے رہے ہیں۔   

سُجاگ کی اپنی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ 2011 سے لے کر اب تک پنجاب کے مختلف حصوں میں کم از کم 130 افراد سِلی کوسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ہلاکتیں چک ننگر میں ہوئی ہیں جبکہ گجرانوالہ، حافظ آباد اور قصور کے اضلاع میں بھی متعدد لوگ اس بیماری کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ 

کس سے منصفی چاہیں؟

ریاض احمد 30 سال سے زیادہ عمر کے ہیں لیکن وہ ابھی بھی وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایک وکیل کے طور پر وہ سِلی کوسز کے مریضوں کی دادرسی کے لیے بہتر طور پر کام کر سکیں گے۔

اب تک انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے اس قدر بھاگ دوڑ کی ہے کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ اس دوران کون سا واقعہ کس مہینے اور کس سال وقوع پذیر ہوا۔ درحقیقت ان کی یادداشت میں یہ تمام واقعات سِلی کوسز سے ہونے والی مختلف اموات سے منسلک ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ "نو لوگوں کی وفات کے بعد ہم نے احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا" یا "میں جب لیبر کورٹ گیا تو اس وقت تک 42 آدمی فوت ہو چکے تھے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پتھر پیسنے والے کارخانوں میں موت پھانکتے مزدور: 'یہ کام ہم سب کو کھا گیا ہے'۔

تاہم انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس سلسلے میں چک ننگر کے لوگوں نے سب سے پہلا عوامی احتجاج 2011 میں ڈیرہ غازی خان میں کمشنر کے دفتر کے سامنے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے ملتان میں بھی اسی طرح کے کئی مظاہرے کیے۔ 

اس سے اگلے سال ریاض احمد نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو بھی ایک درخواست بھیجی کہ وہ سِلی کوسز سے ہونے والی اموات کا از خود نوٹس لیں۔ اس درخواست کے جواب میں کچھ عرصے بعد انہیں بتایا گیا کہ ایک عدالتی ٹیم اس معاملے کی تصدیق کے لئے ان کے گاؤں بھیجی گئی تھی لیکن کوہِ سلیمان سے آنے والے ایک برساتی نالے کو عبور نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ ان تک نہیں پہنچ سکی۔ 

اسی دوران چک ننگر کے باشندوں کے احتجاج کے بارے میں چھپی ہوئی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے 2012 میں پنجاب کے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے ایک تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا۔ اس وقت تک اس گاؤں کے سِلی کوسز میں مبتلا 34 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ 

اس ٹیم نے ان کارخانوں میں ہوا کے معیار کو جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیے جہاں اس کے مریض کام کرتے رہے تھے۔ ان ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا کہ وہاں پتھر پیسنے کے عمل کے دوران اڑنے والی گرد کے معلّق ذرّات کی سطح چار ہزار مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تھی جب کہ عالمی ادارہ صحت کے قائم کردہ معیار کے مطابق صنعتی اداروں میں ایسے ذرات کی سطح پانچ سو مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کے آس پاس ہونی چاہیے۔

یہ ٹیم بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ ان کارخانوں کے مزدور اس لیے سِلی کوسز کا شکار ہوئے تھے کہ انہیں مہلک معلق ذرات سے بچانے کے لیے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے باوجود اس ٹیم  نے ان کارخانوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش نہ کی۔  

اس لیے ریاض احمد نے مختلف عدالتوں اور سرکاری محکموں کو اس مسئلے کے حل کے لئے درخواستیں دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سِلی کوسز سے متاثرہ چک ننگر کے مریض اور اس سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین بھی مسلسل احتجاج کرتے رہے جس کے نتیجے میں 2015 میں حکومت نے گجرانوالہ شہر اور اس کے ارد گرد موجود پتھر پیسنے کے کارخانے کچھ عرصے کے لیے بند بھی کر دیے۔ لیکن ابھی تک ہلاکتوں کے ذمہ دار کارخانہ مالکان اور ان کی پُشت پناہی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 

ان میں سے سب سے زیادہ اموات کا باعث بننے والے کارخانے کے مالک محمد اشرف انصاری 2014 میں دیے گئے ایک اخباری انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ ہلاک ہونے والے مزدور ان کے ملازم ہی نہیں تھے کیونکہ ان میں سے کسی کے پاس بھی ان کے کارخانے میں نوکری کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔  

ریاض احمد کہتے ہیں کہ لیبر عدالت نے بھی مزدوروں کی طرف سے دائر کی گئی زرِتلافی کی درخواست اسی بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ ان کے پاس نہ تو اس کارخانے کے جاری کردہ شناختی کارڈ تھے اور نہ ہی تحریری تقرر نامے۔

تاریخ اشاعت 4 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔