سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کی ہلاکت: کس نے کیا دیکھا، کس نے کیا کِیا؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کی ہلاکت: کس نے کیا دیکھا، کس نے کیا کِیا؟

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کی ہلاکت: کس نے کیا دیکھا، کس نے کیا کِیا؟

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

عبدالصبور بٹ نے یکم دسمبر 2021 کو سیالکوٹ شہر سے وزیرآباد جانے والی سڑک پر واقع راجکو انڈسٹریز نامی فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا جہاں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔  

دو روز بعد اس فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو مشتعل مزدوروں نے پہلے تشدد کر کے ہلاک کیا اور پھر فیکٹری سے باہر نکال کر ان کی لاش کو آگ لگا دی۔ سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سعید ملک نے 6 دسمبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبدالصبور بٹ فیکٹری کے اسی شعبے میں کام کرتا تھا جہاں مقتول منیجر نے مبینہ طور پر توہینِ مذہب کرتے ہوئے ایک مشین پر لگے ایک مذہبی سٹکر کو اتارا تھا۔ ان کی ہلاکت سے کچھ دیر پہلے کلوز سرکٹ کیمرے سے لی گئی ایک تصویر میں انہیں اور عبدالصبور بٹ کو اس شعبے میں اکٹھے دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ 

عمر سعید ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ پریانتھا کمارا کو مارنے والے ہجوم کو اکٹھا کرنے والا دراصل عبدالصبور بٹ ہی تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی نے فون کرکے تحریکِ لبیک پاکستان نامی مذہبی تنظیم کو سٹکر کے اتارے جانے کے بارے میں بتایا اور اس کے مقامی عہدے داروں کو فیکٹری کے باہر پہنچنے کا کہا۔ 

لیکن راجکو انڈسٹریز سے چار کلومیٹر شمال مشرق میں واقع اس کے گاؤں، لودھرے، میں لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت میں ملوث ہے۔ نثار احمد بٹ نامی ایک مقامی باشندے کا کہنا ہے کہ "عبدالصبور ایک سیدھا سادہ مزدور ہے جو نہ تو کسی سیاسی جماعت کا رکن رہا ہے اور نہ ہی اس کا کسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق رہا ہے"۔ 

اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ وہ اور اس کے پانچ بھائی کئی سالوں سے صنعتی مزدوروں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ لودھرے کے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ چند سال پہلے بھی عبدالصبور بٹ کچھ عرصے کے لیے راجکو انڈسٹریز میں کام کر چکا ہے لیکن اس سے پہلے کبھی اس کے کسی ناخوشگوار واقعے میں ملوث ہونے کی خبر نہیں آئی۔ 

نثار احمد بٹ یہ ضرور کہتے ہیں کہ عبدالصبور بٹ کی ذاتی زندگی کچھ مسائل کا شکار تھی۔ ان کے مطابق "لگ بھگ پانچ سال پہلے اس نے ایک خاتون کے والدین کی مرضی کے خلاف اس سے عدالت میں شادی کر لی تھی جس کے نتیجے میں اس کے ہاں ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی (جس کی عمر اب تین سال ہے)۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد ان دونوں میں طلاق ہو گئی جس سے اسے شدید جذباتی دھچکا پہنچا"۔

عبدالصبور بٹ (ہلکی سرخ قمیض میں ملبوس) اور پریانتھا کماراعبدالصبور بٹ (ہلکی سرخ قمیض میں ملبوس) اور پریانتھا کمارا

عبدالصبور بٹ کو پولیس نے 6 دسمبر 2021 کو 27 دیگر افراد کے ساتھ گوجرانوالہ کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔ ان سب پر الزام ہے کہ انہوں نے پریانتھا کمارا کی ہلاکت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پیشی کے دوران پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ان تمام ملزموں کو اس کی تحویل میں دیا جائے تاکہ ان سے تفصیلی تفتیش کی جا سکے۔  

ان ملزموں میں بلو چک نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے حسنین علی اور احمد شہزاد بھی شامل تھے۔ یہ گاؤں راجکو انڈسٹریز سے دس کلومیٹر مغرب کی جانب سیالکوٹ-لاہور موٹروے پر سمبڑیال انٹر چینج کے قریب واقع ہے۔ یہاں چار سو 80 کے لگ بھگ خاندان رہتے ہیں جن میں سے کئی ایک کے مرد ارکان راجکو انڈسٹریز سمیت مختلف قریبی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔ 

بلو چک کے رہنے والے 20 کے قریب لوگ راجکو انڈسٹریز میں ملازم ہیں جو ہر روز فیکٹری کی بس کے ذریعے کام پر آتے جاتے ہیں۔ 7 دسمبر کو لگ بھگ ساڑھے چھ بجے شام جب یہ مزدور بس پر اپنے گاؤں واپس پہنچتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے بارے میں بات کرنے پر رضامند نہیں ہوتا۔ 

بس سٹاپ کے سامنے واقع حجام کی دکان میں بیٹھے لوگ بھی شروع میں کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے لیکن جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ سوال کرنے والے شخص کا تعلق پولیس سے نہیں تو وہ انتہائی محتاط الفاظ میں حسنین علی اور احمد شہزاد کا ذکر کرنے لگتے ہیں۔ 

جلد ہی ان میں سے ایک 40 سالہ شخص زور دے کر کہتا ہے کہ ان دونوں سے کچھ غلط کام کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس پر دکان میں خاموشی چھا جاتی ہے اور وہاں موجود لوگ ایک دوسرے کو ایسے دیکھنے لگتے ہیں جیسے وہ بولنے والے کی سرزنش کر رہے ہوں کہ اب آگے کچھ مت کہنا۔ 

پھر ان میں سے ایک آدمی بآوازِ بلند کہتا ہے کہ مزید بات چیت صرف گاؤں کے کونسلر وحید مراد چیمہ ہی کریں گے۔ اس دوران وہاں موجود ایک 60 سالہ شخص کا تعارف حسنین علی کے چچا بشیر حسین کے طور پر کرایا جاتا ہے جو دوسرے لوگوں کے شدید اصرار کے بعد اپنے بھتیجے کے حالاتِ زندگی پر بات کرنے لگتے ہیں۔

ان کے مطابق حسنین علی کی عمر لگ بھگ 15 سال ہے (گوجرانوالہ میں ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں اس نے خود اپنی عمر 16 سال بتائی) اور اسے راجکو انڈسٹریز میں کام کرتے ہوئے صرف 20 دن ہی ہوئے تھے کہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت کا واقعہ پیش آ گیا۔ بشیر حسین کا کہنا ہے کہ "اسے شاید ابھی اچھے بُرے کی بھی ٹھیک سے تمیز نہیں"۔

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ پولیس نے یا تو اسے کسی غلط فہمی کے نتیجے میں گرفتار کیا ہے یا کسی نے اسے ورغلا کر تشدد پر آمادہ کیا ہے۔

سیالکوٹ واقعہ کے بعد فیکٹری ورکرز میں خوف کی لہر پیدا ہو گئی ہےسیالکوٹ واقعہ کے بعد فیکٹری ورکرز میں خوف کی لہر پیدا ہو گئی ہے

اتنی دیر میں جواں سال کونسلر وحید مراد بھی حجام کی دکان پر پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حسنین علی اور احمد شہزاد میں "اتنی سکت اور جرات نہیں ہے کہ وہ اتنا بڑا جرم کرتے"۔ 

حسنین علی کے بارے میں ان کا کہنا ہے وہ اور اس کا بڑا بھائی فیکٹریوں میں کام کرکے اپنا گھر چلا رہے ہیں کیونکہ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے  اور ان کی والدہ معذور ہیں جبکہ احمد شہزاد کے متعلق بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ گاؤں کے نوجوان اسے 'زنانہ' کہہ کر چھیڑتے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دس سال پہلے احمد شہزاد کے والد نے لگ بھگ دس لاکھ روپے قرض لے کر اپنے بڑے بیٹے کو سپین بھیجا تھا "لیکن وہ نامراد نکلا اور اس نے پلٹ کر اپنے خاندان کی خبر تک نہ لی جس وجہ سے اس کے والد کو بڑھاپے میں مزدوری کرنی پڑ رہی ہے"۔

وحید مراد کے بقول احمد شہزاد نے اپنے والد کا ہاتھ بٹانا ابھی شروع ہی کیا تھا لیکن "اب لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے مقدمے میں پھنس گیا ہے جس سے شاید وہ کبھی نہ نکل سکے"۔ 

راحیل امجد عرف چھوٹا بٹ کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ وہ بلو چک سے پانچ کلومیٹر شمال میں واقع چک چوہدو نامی گاؤں کا رہائشی ہے اور پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے مرکزی ملزمان میں شامل ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی سیدھا آدمی ہے بلکہ ان میں سے کچھ تو اسے ذہنی طور پر غیرمتوازن بھی کہتے ہیں۔ 

اس کے والد رکشہ چلاتے ہیں۔ اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بعد کچھ دن کے لیے وہ اپنی بیوی سمیت روپوش ہوگئے  لیکن 9 دسمبر کو گاؤں واپس آنے کے بعد وہ اس سارے واقعے کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے۔ 

ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا

پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے چار روز بعد شام پانچ بجے جب سینکڑوں مزدور راجکو انڈسٹریز میں اپنی شفٹ ختم کرکے اس کے مرکزی دروازے سے باہر آتے ہیں تو وہ سب ڈرے اور سہمے ہوئے لگتے ہیں۔ اس دروازے کے سامنے راکھ کا ایک چھوٹا سا ڈھیر دکھائی دے رہا ہے جسے ایک چارپائی اور لکڑی کے بنچ کی مدد سے ایک سرخ فیتہ لگا کر باقی سڑک سے علیحدہ کیا گیا ہے۔

یہاں پریانتھا کمارا کو آگ لگائی گئی تھی۔ اس لیے سب مزدور اس سے قدم اور نظریں بچا کر گزر رہے ہیں۔ 

اس جگہ کے بالکل سامنے ایک چائے خانے کا مالک نظریں جھکائے چائے بنانے میں مصروف ہے۔ وہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے بارے میں ایسے بات کرتا ہے جیسے اس کے سامنے کچھ ہوا ہی نہیں۔ دھیمی اور دکھ بھری آواز میں وہ کہتا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ تین دسمبر کو فیکٹری کے اندر کیا ہوا لیکن، اس کے بقول، جب مقتول کو سڑک پر لایا گیا تو "لوگوں اور گاڑیوں کی بھیڑ اس قدر زیادہ تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھ پایا"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتیں: کیا ملزمان کو قرار واقعی سزا ملتی ہے؟

یہ گفتگو سن کر چائے خانے کے سامنے چار پائیوں پر بیٹھے مزدور ایک ایک کرکے وہاں سے جانے لگتے ہیں۔ وہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے بارے میں کچھ کہنا سننا نہیں چاہتے۔ ان میں سے کچھ کہتے ہیں کہ وہ 3 دسمبر کو چھٹی پر تھے جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامے کے دوران اپنے شعبے سے باہر ہی نہیں نکلے۔ 

تاہم راجکو انڈسٹریز کا ایک ملازم  اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس دن کے واقعات سناتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک سپروائزر نے اس کے شعبے میں آ کر کہا کہ سب لوگ نعرے لگاتے ہوئے فوری طور پر باہر آجائیں۔ اس وقت اس شعبے کے کسی فرد کو پتا نہیں تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے لیکن، اس کے مطابق، جب بہت سے "مزدور فیکٹری کے صحن میں جمع ہو گئے تو مذہبی نعرے لگنے لگے"۔ 

اسے معلوم  نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا کیونکہ وہ "اپنے شعبے سے باہر ہی نہیں نکلا تھا"۔ 

سیالکوٹ کے ممتاز قانون دان سید عبدالوحید بخاری کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا اخلاقی المیہ یہی ہے کہ واضح ثبوتوں کی موجودگی میں بھی کوئی شخص سچ کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ پریانتھا کمارا کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر کوئی اس ضمن میں ایسی تاویلیں پیش کر رہا ہے جنہیں سن کر لگتا ہے کہ اس کے ذمہ دار کچھ نامعلوم لوگ ہیں جو کسی نامعلوم جگہ سے آئے اور اپنا کام کر کے اسی نامعلوم جگہ کو واپس چلے گئے۔

سید عبدالوحید بخاری راجکو انڈسٹریز کے وکیل کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل اور پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بقول "ہمارے ہاں لوگوں کے ذہن میں یہ بات پختہ ہو چکی ہے کہ اپنی جان بچاؤ چاہے اس کے لیے دس جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑیں یا چاہے اس سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچ رہا ہو"۔ 

وہ کہتے ہیں کہ یہ اخلاقی انحطاط ایک ایسے معاشرے کا عکاس ہے جس کے ارکان جذبات میں آ کر ہر غلط کام کر لیتے ہیں لیکن بعد میں اپنے آپ کو اس کام سے بری الذمہ قرار دینے کے لیے ہر طرح کے حیلے بہانے کرتے ہیں۔  

دوسری طرف راجکو انڈسٹریز کے گردونواح میں لوگ یہ کہتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ ابھی تو پریانتھا کمارا کے غیر ملکی ہونے کی وجہ سے حکومت سخت اقدامات کررہی ہے لیکن جیسے ہی یہ مقدمہ عدالت میں چلے گا تو زیادہ تر ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔ اگرچہ پولیس اب تک 85 سے زائد افراد کو گرفتار کر چکی ہے لیکن مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ  ان میں سے صرف چند ایک کو ہی سزا ملے گی اور پھر وہ بھی اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے نتیجے میں یا تو رہا ہوجائیں گے یا ان کی سزا میں کمی ہو جائے گی۔        

اس سلسلے میں وہ سیالکوٹ میں ہی پیش آنے والے 2010 کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں جس میں مشتعل ہجوم نے دو بھائیوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ شروع میں اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں 50 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا لیکن عدالت نے ان میں سے صرف سات لوگوں کو سزائے موت دی اور چھ کو عمر قید سنائی۔ 2019 میں ان کی اپیل کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو بھی بدل دیا اور سب مجرموں کی سزا دس دس سال قید میں تبدیل کر دی۔

تاریخ اشاعت 23 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔