غربت، ناخواندگی، ناکامی اور مایوسی: سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو اپنے مسائل کا حل خودکشی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

غربت، ناخواندگی، ناکامی اور مایوسی: سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو اپنے مسائل کا حل خودکشی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

غربت، ناخواندگی، ناکامی اور مایوسی: سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو اپنے مسائل کا حل خودکشی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔

محمد عباس خاصخیلی

loop

انگریزی میں پڑھیں

ساجن بھیل جب بھی کیکر کے ایک درخت کو دیکھتے ہیں ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اپنا کام چھوڑ کر پہروں اسے تکتے رہتے ہیں اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہیں۔ 

ان کا تعلق مشرقی سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں رہنے والے ایک شیڈولڈ کاسٹ ہندو گھرانے سے ہے اور وہ ایک زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ درخت ان کے گاؤں صابر بھیل سے ملحقہ ان کھیتوں میں واقع ہے جہاں وہ مزدوری کرتے ہیں۔ اس لیے مجبوراً انہیں ہر روز اس کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس کے پاس پہنچ کر بہت وحشت ہوتی ہے کیونکہ ان کے 15 سالہ بیٹے کرشن نے گزشتہ نومبر میں اس سے پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

ساجن بھیل غربت کو اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق "کرشن نے نئے کپڑوں کی فرمائش کی تھی جسے پورا کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھا جس پر دلبرداشتہ ہو کر اس نے اپنی زندگی ختم کر لی"۔

تاہم ان کے داماد کامل بھیل کا کہنا ہے کہ کرشن کی ذہنی حالت بھی درست نہیں تھی۔ ان کے بقول "وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ بیمار ہے لہٰذا اس کا کسی ڈاکٹر سے معائنہ کرایا جائے لیکن اگلے ہی لمحے وہ ہنسنے لگتا اور کہتا کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے"۔

<p>کرشن کے والد ساجن بھیل<br></p>

کرشن کے والد ساجن بھیل

اس کی موت کے بعد بھی اس کے خاندان نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آخر اسے کیا مسئلہ تھا۔ انہوں نے نہ تو اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا ہے اور نہ ہی پولیس کو اس کے مرنے کی اطلاع دی ہے۔ ساجن بھیل کہتے ہیں کہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر وہ پولیس کو کرشن کی موت کے بارے میں بتاتے تو وہ نہ صرف ان سے اس کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں پوچھتی بلکہ رشوت بھی طلب کرتی جبکہ، ان کے بقول، ان کی مالی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں اپنے "بیٹے کی تدفین کے لیے بھی زمیندار سے تین ہزار روپے قرض لینا پڑا تھا"۔ 

غمِ دل اگر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

عمر کوٹ پاکستان کا واحد ضلع ہے جہاں کی 52 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق شیڈولڈ کاسٹ برادریوں (یا نچلی ذاتوں) سے ہے جن کا شمار اپنے علاقے کے پسماندہ ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ لوگ یا تو مقامی زمینداروں کے کھیتوں میں ہاری کے طور پر کام کرتے ہیں یا شہروں میں محنت مزدوری کر کے روزی کماتے ہیں۔ تاہم ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو بے روزگار ہیں۔

مشرقی سندھ میں کام کرنے والی غیرسرکاری فلاحی تنظیموں کے مطابق ان شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں خودکشی عام ہے۔ مثال کے طور پر مہران ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نامی تنظیم کے جمع کردہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ عمرکوٹ میں پچھلے تین سال میں چار سو 60 افراد خودکشی کر چکے ہیں۔

اسی علاقے میں کام کرنے والی 40 غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد، ریسرچ ایڈووکیسی اینڈ انسٹی ٹیوشنل نیٹ ورک (رین)، کی تحقیق بھی اس رحجان کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کے مطابق صرف 2021 میں عمر کوٹ میں 57 خواتین سمیت 98 افراد نے خودکشی کی۔ ان میں سے 77 فیصد کا تعلق شیڈولڈ کاسٹ کولہی برادری سے تھا جبکہ بقیہ لوگ بھیل اور میگھواڑ برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔

<p>ساجن بھیل وہ درخت دکھا رہے ہیں جہاں انکے بیٹے کرشن نے خودکشی کی تھی<br></p>

ساجن بھیل وہ درخت دکھا رہے ہیں جہاں انکے بیٹے کرشن نے خودکشی کی تھی

ان تمام لوگوں کی عمریں 45 سال سے کم تھیں جبکہ ان میں سے 37 افراد ایسے تھے جو اپنی موت کے وقت 25 سال سے بھی کم عمر کے تھے۔

عمر کوٹ کے نواحی ضلع تھرپارکر (جہاں کی آبادی میں ہندوؤں کا تناسب 43 فیصد ہے) میں بھی خودکشی کے واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک مقامی فلاحی تنظیم، ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ ری نیو ایبل انرجی، کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 اور 2020 کے درمیان تھرپارکر میں چار سو 43 افراد نے خود کشی کی۔ ان میں سے 79 واقعات محض 2020 میں پیش آئے۔

رین کے سربراہ سردار بھیو ان دونوں اضلاع میں غربت کو خودکشی کا سب سے بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ناخواندگی، سماجی الجھنوں اور ذہنی صحت سے متعلق رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں میں خود کو مار لینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہندو برادریوں میں کئی لوگ جذباتی مسائل اور پسند کی شادی نہ ہونے کے باعث بھی خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ کے گاؤں کھیڑی کے رہنے والے 18 سالہ وکرم اور 16 سالہ گنگا کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان دونوں نے اکتوبر 2021 میں ایک ہی درخت سے پھندے لگا کر اکٹھے خودکشی کر لی تھی۔ وکرم کی جیب سے ملنے والے ایک خط میں لکھا تھا کہ "ہم دونوں کزن ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن چونکہ ہمارا مذہب اور خاندان ہمیں شادی کرنے کی اجازت نہیں دے رہا اس لیے ہم نے خودکشی کر لی ہے"۔ 

تاہم سردار بھیو کا کہنا ہے کہ خودکشی کے بیشتر واقعات میں مرنے والوں کے ورثا بدنامی کے خوف سے ان کی موت کے اصل محرکات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں تھرپارکر میں ہونے والی تمام خود کشیوں میں سے صرف ایک کی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) پولیس کے پاس درج کرائی گئی ہے۔

ان کے مطابق خودکشی کرنے والے لوگوں کے اہلِ خانہ اس لیے بھی پولیس کو خبر نہیں کرتے کہ انہیں اس کی طرف سے نامناسب سلوک کا ڈر ہوتا ہے۔ اسی طرح "انہیں پولیس پر یہ اعتماد بھی نہیں ہوتا کہ آیا وہ سنجیدہ طریقے سے تحقیقات کر بھی سکے گی یا نہیں"۔ 

دوسری طرف تھرپارکر کی تحصیل اسلام کوٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی غازی بجیر کا کہنا ہے کہ قانوناً یہ تحقیقات لازمی ہونی چاہئیں کیونکہ اکثر لوگ ایسے حالات سے تنگ آ کر خودکشی کرتے ہیں جو دوسرے لوگوں نے ان کے لیے پیدا کیے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی نظر میں ایسے واقعات کی تفتیش قتل کے دوسرے واقعات کی طرح ہی ہونی چاہیے۔

<p>تھرپارکر کا ایک گاؤں جہاں شیڈولڈ کاسٹ ہندو مقیم ہیں</p>

تھرپارکر کا ایک گاؤں جہاں شیڈولڈ کاسٹ ہندو مقیم ہیں

اکتوبر 2021 میں عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے وجے نامی نوجوان کی خودکشی سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی بات کس قدرصحیح ہے۔ اسے اس کے چند جاننے والوں نے شراب پلا کر بدفعلی کا نشانہ بنایا اور اس عمل کی ویڈیو بھی بنا لی۔ بعد میں وہ اس ویڈیو کی بنا پر اسے بلیک میل کرتے تھے جس سے تنگ آ کر اس نے خود کشی کر لی۔

لیکن وجے کے والدین نے کسی کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا اور خاموشی سے اس کی لاش جلا دی۔ یوں اسے خودکشی پر مجبور کرنے والے لوگوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکی۔ 

رام کولہی نامی ایک مقامی وکیل بھی غازی بجیر کے نکتہ نظر سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی جان خود لینے والے لوگوں کی موت کو قانونی طور پر اس وقت تک خودکشی قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک اس کا سبب معلوم نہ ہو جائے۔ ان کے مطابق اگر متوفی کے ورثا کسی طرح کے خوف یا دباؤ کے باعث واقعے کی رپورٹ درج نہیں کراتے تو پولیس کو چاہیے کہ وہ خود مدعی بن کر تحقیقات کرے۔

تاہم عمر کوٹ کے علاقے چھور کے تھانہ سٹی کے انچارج سراج ساند کہتے ہیں کہ پولیس ان معاملات میں کچھ نہیں کر پاتی کیونکہ خود کشی سے مرنے والے لوگوں کے لواحقین کسی کو کچھ بتائے بغیر انہیں دفنا یا جلا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مرنے والے شخص کے اہل خانہ کو ان کی برادری کے لوگ اور ہمسائے بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ پولیس کو رپورٹ درج نہ کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں برادری سے باہر پسند کی شادی: 'ہم نے کئی بار سوچا کہ خودکشی کر لیں'۔

غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج

سندھ یونیورسٹی جام شورو کے شعبہ نفسیات کے سابق پروفیسر ایمانیول رافیل کہتے ہیں کہ عام طور پر خودکشی کے دو اسباب ہوتے ہیں۔ "کچھ لوگ کسی خاص مقصد میں ناکامی کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ زندگی کے ہاتھوں اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں کہ وہ مزید جینا نہیں چاہتے"۔ 

ان کے مطابق عمرکوٹ اور تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے میں ہونے والے خودکشی کے واقعات کی بڑی وجہ مایوسی ہے کیونکہ "یہاں کے لوگوں کو بہت ہی محدود وسائل میں زندگی بسر کرنا ہوتی ہے"۔ وسائل میں اس تنگی کے سبب "جب وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر پاتے تو انہیں زندگی بے معنی محسوس ہوتی ہے"۔ 

ایمانیول رافیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ ہندو نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اس لیے ان کا زندگی سے مایوس ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ انہیں اس صورتِ حال سے نکالنے کے لیے وہ تجویز کرتے ہیں کہ حکومت انہیں فنی تربیت دینے کے لیے عمر کوٹ اور تھرپارکر میں مراکز قائم کرے تاکہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کر سکیں۔ان کے خیال میں "اس طرح نہ صرف ان اضلاع میں پایا جانا والا عمومی معاشی احساسِ محرومی ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے لوگوں کی ذہنی صحت بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی جس سے خودکشی کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی"۔

تاریخ اشاعت 7 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد عباس خاصخیلی سندھ کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔