جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر: حیدر آباد میں توہین مذہب کیس کے اصل حقائق
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر: حیدر آباد میں توہین مذہب کیس کے اصل حقائق

اشفاق لغاری

postImg

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر: حیدر آباد میں توہین مذہب کیس کے اصل حقائق

اشفاق لغاری

اس سال 21 اگست کی دوپہر تقریباً پونے تین بجے 45 سالہ اشوک کمار  حسبِ معمول حیدر آباد صدر میں رابی سینٹر کی پانچ منزلہ عمارت سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے میں مصروف تھے کہ پڑوس کے دکان داروں نے انہیں آن دبوچا اور اُن سے قرآن کریم کے جلے ہوئے اوراق کے بارے میں پوچھنے لگے۔

تھوڑی دیر بعد وہ دُکان دار اُنہیں پکڑ کر مشہور چاٹ ’مسٹر واڑی‘ والے چوک لے آئے جہاں ان کے ساتھ کچھ اور راہگیر بھی شامل ہو گئے۔ اس طرح پوچھ گچھ کرنے والوں نے ایک ہجوم کی شکل اختیار کر لی۔ اسی دوران کسی طرح متعلقہ تھانہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اعجاز لاکھو کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بھی وہاں پہنچ گئے جہاں انہوں نے دیکھا کہ ’’اشوک کمار کو مشتعل لوگوں نے پکڑ رکھا ہے، اسے کافی مارا پیٹا بھی گیا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے جلا دو تو کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے مار دو۔‘‘

ایس ایچ او کسی طرح اشوک کو وہاں سے نکال کر اپنے تھانے لے آنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد تھانے کے باہر بھی لوگ جمع ہونے شروع ہونے لگے تو حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے انہوں نے اشوک کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا۔

پانچ منزلہ رابی سینٹر کے رہائشی علاقے میں کل 30 فلیٹ ہیں جن میں سے 12 میں مسلمان جبکہ باقی 18 میں ہندو خاندان آباد ہیں۔ اشوک کمار کو تو مشتعل مظاہرین کے شکنجہ سے نکال لیا گیا لیکن اب وہ اس عمارت میں موجود دیگر ہندوؤں پر حملہ آور ہونے کے لئے جمع ہونے لگے۔ بلند آواز میں ’’گستاخ کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا‘‘ کے نعرے لگانے والے یہ لوگ کسی طور قابو میں نہیں آ رہے تھے۔ وہ رابی سینٹر کے رہائشی حصہ میں داخل ہونے کے لئے داخلی دروازے کو ہتھوڑے مار رہے تھے۔ کچھ نے تو واڑی چاٹ والے کی دکان کے راستہ سے سیڑھی لگا کر عمارت میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی۔

اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ نیز 48 مظاہرین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ہنگامی آرائی، توڑ پھوڑ اور شر انگیزی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جنہیں اگلے ہی دن متعلقہ جوڈیشل میجسٹریٹ نے بیس بیس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کر دیا۔

مقامی پولیس نے مختلف مذہبی جماعتوں سے مذاکرات کے بعد قرآن کریم کی بے حرمتی سے متعلق قانونی دفعات کے تحت اشوک کے خلاف تحریک لبیک پاکستان سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے ایک رکن بلال عباسی کی مدعیت میں ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔

ایف آئی آر کے اندراج کے لئے دی گئی درخواست میں بلال عباسی کا کہنا تھا کہ ’’ کسی نامعلوم ایک یا دو افراد یا سوئیپر اشوک کمار نے ہم مسلمانوں کی دل آزاری کرنے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے لئے ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کو جلا کر شہید کیا ہے۔‘‘

تحریک لبیک پاکستان کے صوبہ سندھ کے سیکرٹری اطلاعات سلیمان سروری ایڈوکیٹ — جو مذکورہ کیس میں بلال عباسی کے وکیل ہیں — بھی جائے وقوع پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تحقیقات پر انہیں تحفظات ہیں۔ ان کے بقول، ’’پولیس کے پاس جو شواہد ہیں وہ مدعی کو دکھائے جائیں اور کلوز سرکل ٹیلی وژن (سی سی ٹی وی) کیمروں سے وقوعہ کے دن کی ریکارڈنگ حاصل کر کے اُسے شواہد کا حصہ بنایا جائے۔‘‘

لیکن پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں ہی کیس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

ایس ایچ او اعجاز لاکھو کا کہنا ہے کے دوران تفتیش انہیں رابی سینٹر کی پانچویں منزل پر سیڑھیوں اور فلیٹ نمبر 28 کے دروازے سے جلے ہوئے نسخے کے اوراق کی راکھ ملی ’’جس سے ہمیں اصل ملزم تک پہنچنے میں آسانی ہوئی۔‘‘

انہوں نے بتایا کے پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس کیس کا اصل ملزم فلیٹ نمبر 28 میں رہنے والا 20 سالہ عبداللہ سرہیو ہے۔ عبدﷲ، اعجاز لاکھو کے مطابق، ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے ’’جس کا ذہنی توازن ہمیں درست نہیں لگا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے اسے 13 ستمبر کو نفسیاتی اور ذہنی تجزیہ کے لئے ریمانڈ پر حیدر آباد کے سر کاؤس جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائکیٹری منتقل کر دیا۔ اگلے دن چار ماہر نفسیات پر مشتمل چار رکنی میڈیکل بورڈ نے ملزم عبدﷲ کو نفسیاتی بیماری ’کرانک سائیکوسس‘ کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’فی الوقت وہ کسی قسم کی عدالتی کارروائی کو سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر ہے۔‘‘ بورڈ نے اسے علاج کے لئے ذہنی امراض کے مرکز میں رکھنے کی تجویز دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کے شائع ہونے تک عبدﷲ سر کاؤس جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائکیٹری میں زیرِ علاج ہے۔

اعجاز لاکھو کا کہنا ہے کے پولیس کو ملزم کے گھر سے مزید شواہد بھی ملے جو اس کے والد، دو بھائیوں اور ماں نے نہ صرف دیکھے بلکہ وہ ان شواہد کے گواہ بھی بنے۔ ان سب کے بیانات بھی متعلقہ عدالت میں ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
رابی سینٹر کے ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سُجاگ کو بتایا کے واقعے والی رات سب سے پہلے گھر خالی کرنے والا خاندان بھی ملزم عبداللہ کا ہی تھا۔

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور مذہبی رہنما ابو الخیر محمد زبیر، جو جمعیت علماءِ پاکستان (نورانی) کے مرکزی صدر بھی ہیں، پولیس کی تحقیقات سے مطمئن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’قرآن پاک کو جلانے سے لے کر اسے غسل خانے میں پانی کی بالٹی میں ڈالنے والے سارے شواہد ہم نے دیکھے ہیں۔ ملزم عبداللہ کے ذہنی توازن کے خراب ہونے والی بات بھی درست معلوم ہوتی ہے۔‘‘

ان تمام حقائق کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی شق 497 کی ذیلی شق 4 کے تحت یکم ستمبر کو اشوک کمار کی رہائی کا حکم دے دیا۔

حیدر آباد میں شہاب سینما کے پیچھے ہریجن محلہ — جہاں زیادہ تر خاکروب رہتے ہیں — میں مقیم اشوک کمار کے 74 سالہ والد بابو لال کا کہنا ہے کہ انہیں سہ پہر چار بچے اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ گھر والوں کو لے کر روپوش ہو گئے۔ انہیں خوف تھا کہ ’’کوئی ان کے گھر والوں پر بھی حملہ نہ کر دے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں

postImg

توہینِ مذہب کے ملزم کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل: 'نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا'۔

اس دوران انہوں نے اپنے بیٹے سے حوالات میں ملنے تک کی کوشش نہیں کی تا آنکہ 11 دن بعد حیدر آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس امجد شیخ نے اپنے دفتر میں اشوک سے ان کی ملاقات کروائی۔ اُسی دن پولیس نے الزامات سے بریّت کی بنا پر اشوک کو ان کے والد ہمراہ جانے کی اجازت بھی دے دی۔

بابو لال کا کہنا ہے کہ اس واقعہ نے تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کے باپ اشوک کو اس بری طرح سے ذہنی اذیت سے دوچار کیا کہ وہ رہائی کے بعد بیوی بچوں کو حیدر آباد چھوڑ کر کسی دوسرے شہر منتقل ہو گیا ہے۔ بابو لال کے بقول، ’’وہ بہت خوفزدہ تھا۔‘‘

پاکستان میں توہینِ مذہب کے واقعات

اسلام آباد میں قائم ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز‘ نامی تھنک ٹینک کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 1947 سے لے کر 2021 تک توہینِ مذہب کے 701 مقدمات درج ہوئے جبکہ 1306 افراد پر گستاخی کا الزام لگا۔ ان میں سے 565 مقدمات 2010 سے 2021 تک کے عرصہ کے ہیں جس میں 89 لوگ قتل ہوئے۔ سنہ 2009 یعنی قیام پاکستان کے بعد پہلے 62 سال میں 44 افراد قتل ہوئے جبکہ 2010 سے 2021 کے عرصہ میں 45 افراد کو قتل کیا گیا۔

2020 میں سب سے زیادہ یعنی 138 گستاخی کے مقدمات درج ہوئے جبکہ اس سال توہینِ مذہب کے الزامات پر 11 افراد کا ماورائے عدالت قتل ہوا۔ سب سے زیادہ گستاخی کے الزامات 2014 میں لگائے گئے جن کا تعداد 243 ہے۔

تاریخ اشاعت 8 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ