میانوالی کے دو سابق ارکان قومی اسمبلی جیل میں ہیں، متبادل امیدواروں اور روایتی سیاسی خاندانوں میں مقابلے

postImg

فیصل شہزاد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

میانوالی کے دو سابق ارکان قومی اسمبلی جیل میں ہیں، متبادل امیدواروں اور روایتی سیاسی خاندانوں میں مقابلے

فیصل شہزاد

loop

انگریزی میں پڑھیں

عام انتخابات 2024ء کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں۔چناؤ سر پر ہیں لیکن میانوالی کی سیاسی فضا مختلف نظر آ رہی ہے۔ یہاں سے ایک سابق رکن قومی اسمبلی، سربراہ تحریکِ انصاف عمران خان اڈیالہ جیل اور دوسرے امجد علی خان کئی ماہ روپوش رہنے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔

 ضلع میانوالی میں عرصے سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستیں چلی آ رہی ہیں۔ پچھلے الیکشن میں یہاں قومی حلقوں کے نمبر این اے 95 اور این اے 96 تھے جو اب این اے 89 میانوالی ون اور این اے 90 میانوالی ٹو ہو گئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کےحلقوں کو پی پی 85 سے پی پی 88 تک کے نمبر الاٹ ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس ضلعے کی آبادی 17 لاکھ 82 ہزار 268 افراد پر مشتمل ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 10 لاکھ 68 ہزار 522ہے۔ جن میں سے مرد ووٹر پانچ لاکھ 60 ہزار 289 جبکہ پانچ لاکھ 8 ہزار 233 خواتین ووٹر ہیں۔

قومی حلقہ این اے 89 تحصیل عیسیٰ خیل اور تحصیل میانوالی کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ عمران خان کا آبائی علاقہ ہے اور دو دہائیوں سے ان کی پارٹی کا گڑھ بنا ہوا ہے وہ یہاں سے تین بار منتخب ہو چکے ہیں۔

پچھلے انتخابات میں اس نشست پر عمران خان نے ایک لاکھ 63 ہزار  سے زائد ووٹ لیے تھے۔ جب کہ ان کے قریب ترین حریف ن لیگ کے عبیداللہ خان شادی خیل 50 ہزار ووٹ لے سکے تھے۔

یہاں کالاباغ کا نواب خاندان اور شادی خیل معروف سیاسی گھرانے ہیں جو کبھی کسی ایک پارٹی کے ساتھ وابستہ نہیں رہے اور ہمیشہ ہوا کا رخ دیکھتے ہیں۔


میانوالی نئی حلقہ بندیاں 2023

2018 کا حلقہ این  اے 95 میانوالی 1 اب این  اے 89  میانوالی 1 ہے
اس حلقے میں مکمل عیسی خیل تحصیل اور میانوالی تحصیل کے قصبات داؤد خیل، چکڑالہ اور روکھڑی کی آبادیاں شامل ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، یعنی وہ تمام علاقے جو 2018 کے انتخابات کے وقت اس حلقے میں موجود تھے وہ 2024 کے انتخاب میں بھی اسی میں شامل ہیں۔  

2018 کا حلقہ این  اے 96 میانوالی 2 اب این  اے 90 میانوالی 2 ہے
اس حلقے میں چار لاکھ 75 ہزار آبادی پر مشتمل مکمل پپلاں تحصیل شامل ہے۔ اس کے علاوہ پورا میانوالی شہر اور اس کے گرد و نواح کے قصبات اور دیہات بھی اس کا حصہ ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

2018 کا صوبائی حلقہ پی پی 85 میانوالی 1 اب پی پی 85 میانوالی 1 ہے
یہ حلقہ عیسی خیل تحصیل کا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

2018 کا صوبائی حلقہ پی پی 86 میانوالی 2 اب پی پی 86 میانوالی 2 ہے
یہ حلقہ میانوالی تحصیل کی دیہی آبادی پر مشتمل ہے۔ جس میں داؤد خیل، روکھڑی اور موسی خیل قصبے کے دیہات بھی شامل ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

2018 کا صوبائی حلقہ پی پی 87 میانوالی 3 اب پی پی 87 میانوالی 3 ہے
یہ میانوالی کا شہری حلقہ ہے۔ جس میں واں بھچراں اور موسی خیل قصبے کے کچھ دیہات بھی شامل ہیں ۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

2018 کا صوبائی حلقہ پی پی 88 میانوالی 4 اب پی پی 88 میانوالی 4 ہے
یہ حلقہ پیپلاں تحصیل کی مکمل آبادی پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔


سیاسی کارکن محمد احمد علی کہتے ہیں کہ میانوالی میں تحریکِ انصاف کے سوا کسی سیاسی جماعت کا کوئی خاص ووٹ بنک نہیں ہے اور نہ ہی تنظیم ہے۔

" کالاباغ یا شادی خیل خاندان کا کوئی امیدوار کسی کا ٹکٹ حاصل کرلے تو پارٹی کا بھرم رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کی یونین کونسل سطح تک تنظیم موجود ہے"۔

2008ء میں پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہاں نواب فیملی کے ملک عماد خان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ 2013ء میں یہ فیملی تحریکِ انصاف میں شامل ہو گئی اور عمران خان کی انتخابی مہم بھی چلائی۔ انہوں نے یہ نشست چھوڑی تو ملک عماد نے ضمنی الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑا لیکن عبید اللہ شادی خیل سے ہار گئےتھے۔

پچھلے الیکشن میں نواب خاندان ٹکٹ نہ ملنے پر تحریکِ انصاف سے الگ ہو گیا تھا اور چند ماہ قبل دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکا ہے۔

اس بار عبیداللہ شادی خیل نے این اے 90 میانوالی ٹو سے قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تھا اور پورا سال وہاں سرگرم رہے۔لیکن اب انہوں نے دوبارہ این اے 89 سے الیکشن لڑنے کا ارادہ  کر لیا ہے۔

عمران خان کی نااہلی کی صورت میں یہاں سے پی ٹی آئی کے بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی اور لائمہ نیازی امیدوار ہیں جن کے بھائی بیرسڑ عمیر نیازی میانوالی ٹو سے امیدوار ہیں۔

یہ تینوں پہلی بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ میجر (ر) خرم حمید خان روکھڑی یہاں سے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

این اے 90 میانوالی ٹو تحصیل پپلاں اور میانوالی شہر پر مشتمل حلقہ ہے۔ یہاں پچھلے دونوں چناؤ تحریکِ انصاف کے امجد علی خان جیت چکے ہیں۔ 2018ء میں ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیابی سمیٹی تھی۔ ان کے مدِ مقابل ن لیگ کے حمیر حیات خان روکھڑی 2008ء میں یہاں سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

امجد علی خان ان دنوں جیل میں ہیں۔ اس لیے اس نشست پر بیرسٹر عمیر خان نیازی نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں جنہیں امجد علی خان کے الیکشن سے آوٹ ہونے کی صورت میں میدان میں اتارا جائے گا۔

این اے 90 میں آزاد امیدوار علی حیدر خان نیازی اور سجاد احمد بھچر نے قومی اور صوبائی حلقہ پر ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی حیدر اس سے قبل دو بار ایم پی اے بھی رہ چکے ہیں لیکن پہلی بار قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔

 سیاسی کارکن ملک اللہ یار کہتے ہیں کہ امجد خان کی غیر موجودگی میں علی حیدر خاں وتہ خیل برادری کے ووٹوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن حلقے کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس لیے تحریکِ انصاف زیادہ پر امید ہے۔

صوبائی حلقوں میں میانوالی کا پہلا حلقہ پی پی 85، تحصیل عیسیٰ خیل پر مشتمل ہے جہاں زیادہ تر نیازی اور  خٹک قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اس نشست پر طویل عرصہ شادی خیل، کالاباغ کے نواب اور عیسیٰ خیل کے خوانین منتخب ہوتے رہے۔

2018ء میں تحریکِ انصاف کے امیدوار عبدالرحمٰن خان نے ن لیگ کے امانت اللہ شادی خیل کو بھاری اکثریت سے شکست دی تھی۔ آئندہ الیکشن میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار  عبدالرحمٰن خان ہیں۔

عیسیٰ خیل کے رہائشی محمد جواد بتاتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی بطور جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے پائی تو امانت اللہ شادی خیل مضبوط امیدوار ہوں گے۔ وہ پہلے بھی ایم پی اے رہ چکے ہیں اور علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ مدمقابل نواب خاندان سے ملک مزمل کے میدان میں آنے کا امکان ہے جو پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔

 صوبائی حلقہ پی پی 86 میونسپل کمیٹی داؤدخیل اور تحصیل میانوالی کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔اس حلقے کو پہاڑ دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک طرف نیازی پٹھان برادری پر مشتمل علاقہ ہے اور دوسری جانب اعوان برادری کی چھ یونین کونسلیں ہیں۔

اس حلقے میں روکھڑی خاندان کو سیاسی طور پر مضبوط سمجھا جاتا ہے لیکن تحریکِ انصاف انہیں دو مرتبہ ہرا چکی ہے۔ پچھلے دونوں انتخابات میں غیر معروف لوگ پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہونے کی وجہ سے عادل عبداللہ روکھڑی کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

یہاں کسی دوسری پارٹی کا ووٹ بہت کم ہے اس لیے مقابلہ تحریک انصاف اور روکھڑی خاندان کر درمیان ہوتا رہا ہے۔ دونوں مخالف امیدوار اکثر نیازی برادری سے ہوتے تھے۔ لیکن اس بار ملک اطہر یار اعوان بھی میدان میں ہیں جو برادری کے کافی ووٹ لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ضلع حافظ آباد کی سیاست دہائیوں سے تارڑ اور بھٹی کے خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہے

اس نشست پرٹی ایل پی( تحریکِ لبیک )کے پیر توقیر الحسنین پچھلی بار تیسرے نمبر پر آئے تھے اور اس بار بھی امیدوار ہیں۔تاہم تحریکِ انصاف اور آزاد امیدوار عادل عبداللہ روکھڑی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

 صوبائی اسمبلی پی پی 87 میانوالی شہر اور اس سے ملحقہ جنوب مشرقی یونین کونسلز پر مشتمل ہے جہاں وتہ خیل (نیازی قبیلے کی ذیلی شاخ) اور بھچر برادری کی اکثریت ہے۔ پچھلے دونوں چناؤ یہاں سے تحریکِ انصاف کے احمد خان بھچر جیتے تھے۔

 2013ء میں احمد خان بھچر نے ن لیگ کے سابق ایم پی اے علی حیدر نور نیازی کو شکست دی تھی۔ 2018ء میں میں ایک امیدوار کے انتقال پر اس حلقے میں جنرل الیکشن نہیں ہو پایا تھا۔ بعد ازاں ضمنی میں احمد خان بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔

 سیاسی کارکن سلیم اختر خان بتاتے ہیں کہ 2018ءکے انتخابات میں پارٹی فیصلے کے باوجود علی حیدر نے انتخاب نہ لڑ کر ن لیگ کی قیادت کا اعتماد کھو دیا ہے۔ اس لیے انہیں پارٹی ٹکٹ ملنے کا امکان کم ہے۔

 "چونکہ علی حیدر نور کا تعلق اس حلقے کی سب سے بڑی برادری 'وتہ خیل' سے ہے اور اس برادری کے ایم این اے امجد علی خان جیل میں ہیں۔ اس لیے انہوں نے اس حلقے سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سیٹ پر آزاد صوبائی امید وار سجاد بھچر سے اتحاد کر لیا ہے"۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ن لیگ اس بار اس سیٹ پر انعام اللہ نیازی کو امیدوار لائے گی جو 1997ء میں ایم این اے رہ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اگر کسی وکیل کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں ملک پرویز اقبال امیدوار ہوں گے۔

صوبائی حلقہ پی پی 88 تحصیل پپلاں پر مشتمل ہے جہاں بلوچ اور جوئیہ خاندانوں میں مقابلہ ہوتا ہے۔ اس نشست پر تحریک انصاف کے سردار سبطین خان دو مرتبہ ملک محمد فیروز جوئیہ کو ہرا چکے ہیں۔ یہ میانوالی کا واحد حلقہ ہے جہاں نو مئی کے آفٹر شاکس نہیں پہنچے۔ اس لیے اس بار بھی یہاں انہیں دو امیدواروں میں مقابلہ متوقع ہے۔

تحریک انصاف کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ میانوالی کی تمام نشستیں تحریک انصاف پہلے کی طرح سوئپ کرے گی۔ تاہم ووٹر کس امیدوار کو سپورٹ کرتا ہے یہ فیصلہ آٹھ فروری کو نتیجہ دیکھ کر ہی ہو گا۔

تاریخ اشاعت 4 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فیصل شہزاد کا تعلق میانوالی سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور گزشتہ 5 سال سے محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.