ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

postImg

اشفاق لغاری

postImg

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

اشفاق لغاری

گزشتہ ماہ ٹنڈو الہیار کے نواحی گاؤں میو چندرو کی رہائشی آٹھ سالہ اقرا انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کے اگلے روز اسی خاندان کا ایک اور بچہ چل بسا۔ اگلے چار دن میں یکے بعد دیگرے پانچ بچے دم توڑ گئے جو ایک ہی آنگن میں کھیلتے تھے۔

متوفی بچوں کے والدین محمد اشرف، محمد اصغر اور محمد آصف میئو آپس میں بھائی ہیں جو راج گیری (مستری) کا کام کرتے ہیں اور ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔

"ایک بچے کو دفنا کر گھر پہنچتے تو دوسرے کے انتقال کی خبر آ جاتی تھی۔ چار دن میں ہمارا پورا گھر ویران ہو گیا۔ میرے تین بچے اور میرے دو بھائیوں کا ایک ایک بیٹا چلے گئے۔ موت کی ایسی ہوا چلی کہ ڈاکٹر کچھ کر سکے نہ دوائی نے اثر کیا۔"

صرف یہی نہیں ضلع بھر میں خسرے کی وبا کچھ ہی عرصے میں نو بچوں کی جان لے چکی ہے جن میں محمد اشرف کے پڑوسی محمد یامین عباسی کا دو سالہ بیٹا بھی شامل ہے۔

مقامی میڈیا میں اس سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں لیکن ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمد ابراہیم پرہیاڑ سیمپلز کی رپورٹ آنے تک یہ تعداد درست ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام (ای پی آئی)  کے صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم بتاتے ہیں کہ سندھ میں رواں سال کے پہلے چار ماہ (جنوری سے اپریل) کے دوران خسرہ سے 58 بچوں (ٹنڈو الہیار کے نو  شامل نہیں) کی جانیں جا چکی ہیں۔

ان میں ضلع مٹیاری کی 10، دادو 14، سکھر 14، جیکب آباد میں 13، نوشہرو فیروز کی چار اور ٹھٹہ کی تین اموات شامل ہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق گزشتہ سال اس بیماری سے صوبے میں 89 ہلاکتیں ہوئیں اور چار ہزار 673 بچوں میں خسرہ کی تصدیق ہوئی۔ رواں سال کے ابتدائی چار ماہ میں دو ہزار 46 بچوں میں مرض کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ٹنڈو الہیار میں اپریل تک خسرہ کے 102 مشتبہ کیس سامنے آئے ہیں، ان میں سے 34 کی ٹیسٹ رپورٹس آ چکی ہیں جن میں سے 17 کے رزلٹ مثبت نکلے ہیں تاہم 68 کیسز کے نتائج آنا باقی ہیں۔

محمد اشرف بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹی اقرا کو بخار ہوا اور سانس کی شدید تکلیف شروع ہو گئی۔ وہ 24 اپریل کو انہیں ٹنڈو الہیار سے 30 کلو میٹر دور حیدر آباد لے گئے لیکن بیٹی بھٹائی ہسپتال کے دروازے پر ہی دم توڑ گئی۔

"اقرا کی تدفین کے اگلے روز میرے دو بیٹوں دس سالہ اشفاق اور چار سالہ عاشق، بھائی اصغر کا بیٹا دو سالہ عدنان اور بھائی محمد آصف کے دس سالہ بیٹےعاطف کو بخار ہو گیا۔"

"ہم چاروں بچوں کو گھر کے قریب واقع سول ہسپتال لے گئے لیکن عملے نے انہیں ریفر کر دیا۔ حیدر آباد پہنچے تو بچوں کو خسرہ وارڈ میں داخل کر لیا گیا مگر چاروں وقفے وقفے سے جاں بحق ہو گئے۔"

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول ہسپتال ٹنڈو الہیار ڈاکٹر صابر قائم خانی بتاتے ہیں کہ اپریل میں خسرے کے مریضوں کا اضافہ ہوا تو ان کے لیے یہاں ایک وارڈ مخصوص کر دیا گیا جہاں تین مئی تک 12 بچے داخل ہوئے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ 12 میں سے تین مریض تاحال وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔ دو کو حیدرآباد ریفر کیا گیا تھا تاہم متوفی بچوں کے والدین محمد اشرف اور محمد اصغر ایم ایس کے موقف کو درست نہیں مانتے۔

 "ہمارے چاروں بچے ایک ساتھ سول ہسپتال ٹنڈو الہیار سے سول ہسپتال حیدر آباد (مقامی نام لال بتی) بھیج دیے گئے تھے۔"

ٹنڈر الہیار ہسپتال ہی میں ایک مریض کے والد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خسرہ وارڈ میں ایئرکنڈیشنر نہیں ہے اور بجلی جانے پر جنریٹر کم ہی چلتا ہے۔ اس لیے زیادہ تر سیریس مریضوں کو لال بتی بھیج دیا جاتا ہے جن کو سرکاری ایمبولینس بھی اکثر وقت پر نہیں ملتی۔

تاہم ایم ایس ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اپریل کے آخری ہفتےخسرہ وارڈ میں اے سی لگوا لیا گیا تھا اور جنریٹر بھی باقاعدگی سے چلتا ہے۔ البتہ ٹیکنیشن کی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ وہ مریضوں کو ایمبولینس کی فراہمی میں تاخیر کی شکایت کو بھی نہیں مانتے۔

ٹنڈو الہیار ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر، ذوالفقار سموں بتاتے ہیں کہ کھانسی، بخار، آنکھوں کا سرخ ہونا، ناک بہنا، گلے میں خراش اور منہ میں چھالے ابھر آنا خسرہ کی عام علامات ہیں۔ جلد پر خارش اس بیماری کی اہم علامت ہے جو اکثر سر سے شروع ہوتی ہے اور جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی ہے۔

"خسرہ متعدی بیماری ہے جو مریض کے کھانسنے، چھینکنے یا سانس کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اگر مریض سے فاصلہ نہ رکھا جائے تو خسرہ بچوں میں پھیل جاتا ہے۔"

وہ کہتے ہیں کہ بچوں کو خسرہ سے بچانے کی ویکسین کرانا ضروری ہوتا ہے جس کا پہلا حفاظتی ٹیکہ نو ماہ کی عمر تک اور دوسرا 15 ماہ کی عمر میں لگتا ہے۔

یہ ٹیکے عام طور پر گھر گھر مہم کے دوران بچوں کو لگائے بھی جاتے ہیں۔جس کو ویکسین کی گئی ہو ان لوگوں کو مرض لگ بھی جائے تب بھی زیادہ اثر نہیں ہوتا۔

عالمی ادارہ صحت  (ڈبلیو ایچ او ) کا کہنا ہے کہ دنیا میں ویکسینیشن کوریج کم ہو جانے کی وجہ سے 2021 ء کے مقابلے میں 2022ء میں خسرہ کے کیسز 18 فیصد اور اموات 43 فیصد بڑھی ہیں۔ اس بیماری سے 2022ء میں ایک لاکھ 36 ہزار اموات ہوئیں جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

پاکستان کی حفاظتی ٹیکوں کی قومی پالیسی  2022ء اور ڈبلیو ایچ او کے مطابق وہ بچہ خسرے سے مکمل محفوظ (فلی امیونائزد چائلڈ) کہلاتا ہے جس کو کم از کم پیدائش کے وقت بی سی جی ( حفاظتی ویکسین)  کی خوراک دی گئی ہو۔

"بارہ ماہ کی عمر ہونے سے پہلے پولیو کی تین اور آئی پی وی کی دو ، پینٹا کی تین ، پی سی وی کی تین، خسرہ و روبیلا ویکسین کی ایک اور روٹا کی دو خوراکیں بچے کے لیے ضروری ہیں۔"

پالیسی کے تحت ہر بچے کو 15 ماہ عمر ہونے پر خسرہ اور روبیلا ویکسین کی دوسری خوراک دی جانے چاہیے۔ تاہم جسے پینٹا ویلنٹ ون ویکسین نہ ملے وہ ' زیرو ڈوز والا' بچہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او   کی رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دنیا بھر میں حفاظتی ویکسین ہر 10 میں سے نو بچوں کو دی گئی۔ اس طرح  تقریباً دو کروڑ بچے غیر محفوظ (جنہیں ویکسین نہیں لگی یا پھر کم خوراکیں دی گئیں) رہے جن میں 14 لاکھ پاکستانی ہیں۔

محمد اشرف کے بھائی محمد آصف بتاتے ہیں کہ پانچوں متوفی بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگے تھے تاہم اگر کسی کی ویکسین رہتی تھی تو اس کا انہیں پتہ نہیں ہے۔

"ہم ان پڑھ اور ان معاملات سے لاعلم ہیں البتہ ویکسین کرنے والہ عملہ دو تین ماہ سے گاؤں میں نہیں آیا۔"

ڈی ایچ او ٹنڈو الہیار ڈاکٹر محمد ابراہیم پرھیاڑ تصدیق کرتے ہیں کہ مارچ اور اپریل میں ویکسینیشن ٹیم چندرو میئو گاؤں میں نہیں گئی۔

ویکسی نیٹر وہاں جاتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ فرائض میں غفلت برتنے پر ڈسٹرکٹ سپریٹنڈنٹ ویکیسینشن محمد سومار، ویکسینیٹر محمد عثمان اور ناصر باجوہ کو معطل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

"خیراتی ہسپتال کے عملے نے شاپر میں بچے کا دھڑ تھما کر کہا فوراً مٹھی ہسپتال جائیں، مریضہ کی حالت نازک ہے"

ای پی آئی کے ایڈیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر سندھ ڈاکٹر سہیل احمد شیخ کو بھی شکایات ہیں کہتے ہیں کہ ٹنڈو الہیار میں ویکسینیشن کے ریکارڈ  کی کوئی ترتیب ہے نہ ٹیکہ جات کا شیڈول بہتر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سول ہسپتال ٹنڈو الہیار کے خسرہ وارڈ میں سہولیات میسر نہیں ہیں۔متاثرہ بچوں میں خسرے کی بر وقت تشخیص ہو تی اور ان کا مقامی ہسپتال میں علاج ہو جاتا تو جانیں بچ سکتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی تجویز کر دی ہے۔

ای پی آئی کی شکایات پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ویکسینیٹرز کو 15 سے 20 دن کے اندر اپنے ڈیوٹی ایریا میں جانا ہوتا ہے۔

میو چندرو میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ای پی آئی حرکت میں آگیا ہے۔ ضلع بھر میں 12 ہزار 834 بچوں کو خسرے کے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جن میں سے چھ ہزار 16 بچے یونین کونسل دھگانو بوزدار کے شامل ہیں، میو چندرو  اسی یونین کونسل کا حصہ ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بچوں کے ورثا کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ گاؤں میں ڈاکٹروں کی ٹیمیں اور ماہرین صحت کا تانتا لگا ہوا ہے۔

مگر محمد اشرف کے گھر سے اب بھی خواتین کے رونے کی آوازیں آتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ کی امداد کا شکریہ مگر ہمارے بچے اب واپس نہیں آئیں گے۔ سرکار ٹھیک سے اپنا کام کرتی تو ہمارے گھر نہ  اجڑتے۔"

تاہم اشرف کو اس بات کا اطمینان ہے کہ گاؤں کے دیگر بچوں کو ویکسین کی خوراکیں دے دی گئی ہیں۔

تاریخ اشاعت 16 مئی 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

اشفاق لغاری کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے، وہ انسانی حقوق، پسماندہ طبقوں، ثقافت اور ماحولیات سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.