ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے: کیا حکومتی پابندی تحریکِ لبیک پاکستان کو ختم کر سکتی ہے؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے: کیا حکومتی پابندی تحریکِ لبیک پاکستان کو ختم کر سکتی ہے؟

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے: کیا حکومتی پابندی تحریکِ لبیک پاکستان کو ختم کر سکتی ہے؟

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

اپریل 2021 کے وسط میں پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے۔ سڑکوں پر آمدورفت معمول سے کم تھی، بازار کہیں جزوی اور کہیں مکمل طور پر بند تھے، بیشتر کاروباری اداروں نے اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور شہروں سے باہر جانے والی اور ان کے اندر آنے والی تمام ٹریفک بند تھی۔ 

یہ صورتحال کوویڈ-19 کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ لاک ڈاؤن سے مشابہ تھی بس فرق یہ تھا کہ اس کا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور حکومت اصل میں سڑکیں اور کاروبار کھلے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ 

کاروبارِ زندگی کے اس طرح بند ہونے کی اصل وجہ تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا احتجاج تھا۔ چند سال پہلے تحفظِ ناموس رسالت کے ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت وجود میں آنے والی یہ تنظیم اپنے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہی تھی جنہیں 12 اپریل کو حراست میں لیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان کی گرفتاری ایک 'حفاظتی اقدام' کے طور پر عمل میں آئی تھی کیونکہ انہوں نے ٹی ایل پی کے ارکان کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ 20 اپریل کو احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ اس دن ٹی ایل پی کی طرف سے حکومت کو فرانس کے سفیر کی پاکستان سے بے دخلی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی تھی۔ 

یہ ڈیڈ لائن فروری 2021 میں وفاقی حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے مابین طے پانے والے ایک معاہدے کے نتیجے میں دی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے ایک فرانسیسی استاد کی جانب سے اپنے طلبہ کو کلاس روم میں توہین اسلام پر مبنی خاکے دکھانے کے خلاف بطور احتجاج فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے لیے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کرنا تھی۔ (اس استاد کو بعد ازاں ایک مسلمان نوجوان نے قتل کر دیا تھا)۔ لیکن جب اس ڈیڈ لائن کے ختم ہونے میں دس دن رہ گئے اور حکومت نے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ دکھائی تو سعد رضوی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا۔

چونکہ عمومی طور پر ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہروں سے عام لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اس لیے حکومت نے مارچ کے انعقاد کو روکنے کے لیے سعد رضوی کو گرفتار کر لیا۔ 

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اس تنظیم کے کسی بھی احتجاجی مظاہرے سے کم ضرر رساں نہیں تھا۔ راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں ٹی ایل پی کے ارکان بڑی تعداد میں باہر نکل آئے۔ انہوں نے نا صرف شہروں کے اندر سڑکیں بند کر دیں بلکہ مختلف شہروں کو آپس میں ملانے والی سڑکوں پر بھی ٹریفک روک دی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک ان کی تنظیم کے سربراہ کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک وہ سڑکوں سے نہیں ہٹیں گے۔ جب پولیس نے انہیں بزور طاقت ہٹانے کی کوشش کی تو ملک کے بہت سے حصوں اور خاص طور پر لاہور میں پُر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جہاں متعدد پولیس اہلکاروں کو بری طری مارا پیٹا گیا۔ بعد میں ان میں سے چند اہلکاروں کی جان بھی چلی گئی۔ 

یہ احتجاجی مظاہرے ابھی جاری ہی تھے کہ وفاقی حکومت نے 1997 کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی لگا دی۔ اس پابندی کے فوری بعد پولیس نے مختلف عوامی مقامات سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر دونوں اطراف میں تصادم شروع ہو گیا۔ 

پیر وقار احمد شاہ ہاشمی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خود ٹی ایل پی کے 80 ایسے ارکان کا طبی ملاحظہ کرایا جو پولیس کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے کم از کم تین کارکن بعد میں انتقال بھی کر گئے۔ وہ ٹی ایل پی کے بہت سے ارکان اور مظاہرین کی طرح یہ غیر مصدقہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ پولیس کی فائرنگ سے ان کی تنظیم کے قریباً 25 مزید ارکان ہلاک ہوئے۔ تاہم ان کے پاس اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ 

پیر وقار احمد شاہ ہاشمی کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے علاقے بورے والا سے ہے اور وہ لاہور میں وکالت کرتے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے 2017 میں ٹی ایل پی کے فیض آباد میں دیے گئے دھرنے اور احتجاج سے 'متاثر' ہو کر اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے لبیک لائرز موومنٹ نامی تنظیم قائم کی جس کے ارکان میں ایسے وکلا شامل ہیں جو اگر تنطیمی طور پر نہیں تو کم از کم نظریاتی اعتبار سے ضرور ٹی ایل پی سے وابستہ ہیں۔ 

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ٹی ایل پی کے سینکڑوں ارکان تا حال جیلوں میں پڑے ہیں۔ سجاگ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہناہے کہ ''ہم تمام گرفتار ارکان اور رہنماؤں کو قانونی خدمات مہیا کر رہے ہیں''۔

پیر وقار احمد شاہ ہاشمی اس نظرثانی کی اپیل پر بھی دلائل دینے کی تیاری کر رہے ہیں جو ٹی ایل پی نے اپنے اوپر لگائی گئی پابندی کے خلاف وفاقی وزارتِ داخلہ میں دائر کر رکھی ہے۔ اس اپیل کے حق میں فیصلہ آنا اس تنظیم کی بقا کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر یہ اپنا کیس ہار جاتی ہے تو اسے عوامی سطح پر اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کوئی متبادل تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرنا پڑے گا۔

مذہبی تنظیموں پر پابندی کتنی مؤثر؟

حکومت کے پاس کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے دو بڑے قانونی طریقے ہیں جن کے الگ الگ مضمرات ہوتے ہیں۔ پہلا طریقہ وہ ہے جو الیکشن ایکٹ میں بیان کیا گیا ہے اور جس کے تحت کسی بھی ایسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے جس کے کسی دوسرے ملک کی حکومت/ یا بیرون ملک غیر ریاستی اداروں سے مالیاتی اور تنظیمی روابط ثابت ہو جائیں۔

دوسرا طریقہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 سے لیا گیا ہے جو وفاقی حکومت کو کسی بھی ایسی سیاسی جماعت یا تنظیم پر پابندی کا اختیار دیتا ہے جو دہشت گردی میں ملوث ہو۔ اس قانون کے ذریعے حکومت ایسی جماعت کے رہنماؤں اور ارکان کے نام شیڈول چار میں بھی ڈال سکتی ہے جو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت بنائی گئی ایک فہرست ہے جس میں شامل افراد پر لازم ہوتا ہے کہ وہ پولیس کو اپنی نقل و حرکت سے آگاہ رکھیں گے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت یا تنظیم کے دفاتر کو قبضے میں لے لے، ذرائع ابلاغ میں اس کی کوریج بند کرا دے اور اس کے پوسٹروں، بینروں اور دیگر تحریری مواد کی اشاعت روک دے۔ حکومت اس کے عہدیداروں کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹ بھی بلاک کر سکتی ہے اور ان کے اسلحہ لائسنس بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پاکستان نے 2000 سے اب تک بہت سی تنظیموں پر پابندی لگائی ہے۔ اس قانون کے تحت وزارتِ داخلہ پر لازم ہے کہ وہ پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت کو تحریری طور پر مطلع کرے کہ اس پر پابندی کس بنیاد پر لگائی گئی ہے۔ایسی  جماعت کو اس اقدام کے خلاف وزارتِ داخلہ میں نظرثانی کی درخواست دینے کا حق بھی حاصل ہے۔ 

ٹی ایل پی کے ضمن میں یہ کارروائی 15 اپریل 2021 کو اس وقت شروع ہوئی جب وزارتِ داخلہ نے سرکاری گزٹ میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے کیونکہ یہ تنظیم "دہشت گردی میں ملوث ہے اور اس نے ملکی امن و سلامتی کے منافی کام کیا ہے، عوام میں دہشت پھیلا کر بدامنی پیدا کی ہے، لوگوں کو جسمانی تکلیف پہنچائی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو زخمی اور ہلاک کیا ہے، کاروبارِ زندگی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں ڈالی ہیں، لوگوں کو دھمکایا ہے، انہیں بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور نفرت پھیلائی ہے، عوامی اور سرکاری املاک اور گاڑیوں کو تباہ اور نذرآتش کیا ہے، ہسپتالوں کوطبی سازوسامان کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی ہے، حکومت کو دھمکا کر زبردستی اپنی بات منوانے کی کوشش کی ہے اور لوگوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے"۔

اس نوٹیفکیشن کے اجرا کے چند روز بعد پنجاب کے محکمہ داخلہ نے ٹی ایل پی کے قریباً 100 رہنماؤں کے نام شیڈول چار میں شامل کر لیے۔ صوبائی حکومت نے متعلقہ ضلعوں کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کی نقل و حرکت محدود کریں اور انہیں چندہ جمع کرنے اور ٹی ایل پی کے نام پر رقوم کے حصول سے روکیں۔ 

تاہم ٹی ایل پی کے وکلا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ان کی تنظیم پر پابندی کی وجوہات سے تحریری طور پر کبھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے 29 اپریل 2021 کو وزارتِ داخلہ میں نظرثانی کی ایک درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے پیش کیے جانے والے جواز "مبہم، فرضی، جھوٹے، نا جائز،  غیر قانونی اور زمینی حقائق اور فطری انصاف کے اصولوں سے متضادم ہیں"۔ درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لے رہی ہے۔

پیر وقار احمد شاہ ہاشمی حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین 2017، 2018 اور 2021 میں ہونے والے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ تنظیم دہشت گردی میں ملوث ہے تو حکومت نے اس کے ساتھ تین معاہدے کیوں کیے اور اس کے مطالبات تسلیم کرنے کا وعدہ کیوں کیا؟

ان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایل پی اپنے احتجاج میں کبھی اسلحہ استعمال نہیں کرتی (تاہم وہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ اس کے مظاہروں میں شریک کارکنوں کا ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پُر تشدد تصادم کیوں ہو جاتا ہے)۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے سے ایک خطرناک مثال قائم ہو گی کیونکہ ماضی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں پر  تشدد اور توڑپھوڑ کے الزامات لگتے رہے ہیں جبکہ ان میں سے بعض پر قتل اور سرکاری اداروں پر حملوں کا الزام بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ''اگر ہم پر پابندی لگائی گئی ہے تو پھر اس ملک میں کون سی سیاسی جماعت کو فعال رہنے کا حق ہے؟''

پابندی کس قانون کے تحت لگائی جائے؟

پاکستان میں سیاسی جماعتوں، اور خاص طور پر مذہبی سیاسی جماعتوں، پر پابندی کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کوئی جماعت مکمل اور موثر طور سے ختم نہیں ہو سکی۔ یہ صورتِ حال گزشتہ دو دہائیوں میں خاص طور پر سامنے آئی ہے کیونکہ بیشتر اوقات پابندی کا سامنا کرنے والی جماعتوں کے ارکان نئے نام سے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ ان جماعتوں پر پابندی کے غیرموثر ہونے کی ایک وجہ ریاست کی جانب سے انہیں ختم کرنے کے بجائے قومی دھارے کی سیاست میں لانے کی پالیسی بھی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفراللہ خان کہتے ہیں کہ ایسی جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کی یہ پالیسی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کیونکہ 2000  کی دہائی میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے  دوران اس پالیسی کا کئی بار استعمال کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی گزشتہ حکومت نے بھی کھلے عام اس پالیسی کو اختیار کیا حتیٰ کہ اس جماعت کے وزیراعظم نواز شریف نے باقاعدہ طور پر کہا کہ ان کی حکومت ان جماعتوں کو قومی دھارے میں لائے گی۔ 

ظفراللہ خان لاہور سے تعلق رکھنے والی تنظیم جماعت الدعوۃ پر پابندی کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے جنگجوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں بھیجتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت میں اس تنطیم پر پابندی لگائی گئی لیکن اس کے بعد اسے ملی مسلم لیگ کے نام سے دوبارہ فعال ہونے کی اجازت مل گئی۔ اسی طرح شیعہ مخالف کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی کے صاحبزادے معاویہ اعظم کو 2018 کے انتخابات میں راہِ حق پارٹی کے جھنڈے تلے انتخاب لڑنے کا قانونی راستہ فراہم کیا گیا۔ اب وہ ایک منتخب نمائندے کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔

سپاہ صحابہ پاکستان در حقیقت ایک سے زیادہ مرتبہ نئے ناموں سے سیاسی منظرنامے پر آئی ہے۔اس نے اہل سنت و الجماعت کے نام سے 2013 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اہل سنت و الجماعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن اس کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی سمیت اس کے کئی دیگر رہنماؤں کو عوامی جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ایک سینئر رہنما اورنگزیب فاروقی نے 2018 کے انتخابات میں کراچی کے علاقے کورنگی میں راہِ حق پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑا اور دوسری پوزیشن پر آئے۔ 

پاکستان تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت نے بھی یہی پالیسی جاری رکھی ہے۔ اس کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے مارچ 2019 میں وضاحت کی کہ حکومت کس طرح کالعدم جماعتوں/ تنظیموں کو قومی دھارے میں لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس کالعدم تنظیموں سے نمٹنے کے لیے تین اقدامات پر مشتمل حکمت عملی ہے۔ اس میں پہلا قدم یہ ہو گا کہ ان تنظیموں کو غیر مسلح کیا جائے اور پھر ان کے ارکان کی معاشی مدد کی جائے جس کے لئے ان لوگوں کو قرضے دیے جائیں گے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع تخلیق کیے جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں انہیں سیاسی طور پر قومی/مرکزی دھارے میں لایا جائے گا اور انہیں انفرادی یا گروہی صورت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی"۔ 

اس حکمت عملی سے کالعدم جماعتوں/ تنظیموں کو اپنی سیاسی ساکھ محفوظ رکھنے اور اپنے ارکان، حامیوں اور ہمدردوں کے نیٹ ورک کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور یوں وہ ایک نئے ڈھانچے کے تحت منظم اور متحرک ہو جاتی ہیں۔

اس لئے اگر ٹی ایل پی پر پابندی قائم رہتی ہے تو تب بھی اس کے حامیوں کا حلقہ موجود رہے گا جو کسی نئے نام سے احتجاج اور انتخابات دونوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ظفراللہ خان کے مطابق: "سُنی اسلام میں بریلوی مکتبہ فکر کی سیاسی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ٹی ایل پی یا اس کی جگہ نئے نام سے متحرک ہونے والی کوئی سیاسی جماعت وسطی پنجاب اور کراچی کے کچھ حصوں میں بدستور رائے دہندگان کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہے گی"۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والی متعدد سیاسی جماعتوں کو پنجاب کے کئی اضلاع میں رائے دہندگان کی بڑی تعداد کی حمایت میسر رہی ہے۔ ان میں میانوالی، جھنگ، ڈیرہ غازی خان اور لاہور جیسے علاقے شامل ہیں جبکہ 1970 کی دہائی میں کراچی بھی ان کا گڑھ رہا ہے۔ تاہم 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں یہ جماعتیں منتشر ہو گئیں اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور شدت پسند تنظیم سنی تحریک نے ان کی جگہ لے لی۔ 

ٹی ایل پی بھی خود کو ملک میں بریلویوں کی واحد نمائندہ جماعت قرار دیتی ہے۔ اس نے وزارتِ داخلہ کو دی گئی اپنی نظرثانی درخواست میں اپنے آپ کو "اہل سنت بریلویوں کی اکثریت کی نمائندہ" کہا ہے جن کی حمایت اسے پابندی کے بعد بھی بڑے پیمانے پر حاصل رہے گی۔ 

اس مکتبہ فکر کے لوگوں میں ٹی ایل پی کی سیاسی مقبولیت 2018 کے انتخابات میں سامنے آئی جب اس نے پنجاب میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ لیے اور کراچی سے سندھ اسمبلی کی دو نشستیں جیت لیں۔ یہ انتخابی نتائج حکومت کو درپیش ایک اور مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس کا تعلق سندھ اسمبلی میں ٹی ایل پی کے ارکان کے مستقبل سے ہے کیونکہ الیکشن ایکٹ کے تحت اس تنظیم پر پابندی لگائے بغیر حکومت ان کی رکنیت ختم نہیں کر سکتی۔ 

الیکشن ایکٹ کے تحت کوئی جماعت دو وجوہات کی بنا پر تحلیل کی جا سکتی ہے: اگر اس پر بیرون ملک سے مالی مدد لینا ثابت ہو جائے یا اگر وہ پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ایسی سرگرمیوں کا حصہ ہو جن میں دہشت گردی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ ایکٹ حکومت کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ کسی جماعت کو تحلیل کرنے کا کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھیجے گی جس کے پاس اسے منظور کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہے۔ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ تحلیل کا فیصلہ درست ہے تو وہ اس پر عمل درآمد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت جاری کرے گی جو پابندی کا سامنا کرنے والی جماعت کو انتخابات کے لیے اہل جماعتوں کی فہرست سے خارج کر دے گا۔ ایسی صورت میں اس جماعت کے منتخب عوامی نمائندے بھی اپنی نشست کھو بیٹھیں گے۔

1970 کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی اسی طرح تحلیل کی گئی تھی۔ درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ میں واحد سیاسی جماعت ہے جس پر الیکشن ایکٹ کے تحت پابندی لگائی گئی۔

اگر ٹی ایل پی  کو اس انداز میں تحلیل نہیں کیا جاتا تو توقع رکھنی چاہئے کہ وہ کسی اور نام سے آئے روز کاروبارِ زندگی میں انتشار ڈالتی رہے گی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 9 جون 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 2 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔