کون، کہاں، کب اور کیسے: براڈ شیٹ کیس سے منسلک اہم ملکی اور غیرملکی کرداروں کی زندگی پر ایک نظر۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کون، کہاں، کب اور کیسے: براڈ شیٹ کیس سے منسلک اہم ملکی اور غیرملکی کرداروں کی زندگی پر ایک نظر۔

محمد فیصل

postImg

کون، کہاں، کب اور کیسے: براڈ شیٹ کیس سے منسلک اہم ملکی اور غیرملکی کرداروں کی زندگی پر ایک نظر۔

محمد فیصل

برطانیہ کی ثالثی عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو براڈ شیٹ کمپنی کے ساتھ اپنا معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے پر  دو کروڑ 87 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا جو کہ برطانیا میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے وصول کیا جا چکا ہے۔ اس مقدمے کے اخراجات کے ضمن میں پاکستان کو ابھی مزید 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنا ہے۔ 

اس معاملے میں پچھلی دو دہائیوں کے دوران متعدد افراد دونوں فریقوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں تاہم جس نیب ٹیم نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا اس میں سے ایک بھی آدمی اس مقدمے میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کر رہا تھا بلکہ نیب کے جو سابقہ ملازمین ثالثی عدالت کے سامنے پیش بھی ہوئے وہ گواہ کے طور پر وہاں بلائے گئے۔ دوسری طرف براڈ شیٹ کی نمائندگی کرنے والے لوگ بھی خاصی حد تک بدل گئے۔ ان میں واحد مستقل نام ڈاکٹر ولیم پیپر کا ہے۔ حتیٰ کہ کاوے موساوی جو آج کل میڈیا پر بہت بیانات دے رہے ہیں وہ بھی 2000 یا 2003 کے بجائے پہلی بار 2008-09 میں اس مقدمے کے حوالے سے منظر عام پر آئے۔ 

تاہم فریقین کے مابین 20 سال پہلے ہونے والے اس معاہدے اور تین سال بعد اس کی منسوخی سے لے کر ثالثی عدالت میں کیس کی سماعت اور اس کے فیصلے تک اس معاملے میں چند افراد کا کردار  بہت نمایاں رہا۔ زیر نظر سطور میں ایسے کچھ افراد کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ 

کاوے موساوی

کاوے موساوی ایرانی نژاد برطانوی وکیل ہیں جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ وہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے بیرون ملک اثاثوں کا کھوج لگانے والی ایک کمپنی ایسٹ ریکوری انٹرنیشنل (آئی اے آر) کے شریک مالک تھے نیب نے جولائی 2000 میں اس کمپنی کے ساتھ پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا پتہ لگانے اور ان کی واپسی کا معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے آئی اے آر نے یورپ، ایشیا اور امریکہ کے علاوہ دنیا بھر میں ان پاکستانیوں کے اثاثوں کا پتا چلانا تھا جن کے نام اسے نیب نے فراہم کیے تھے۔ اکتوبر 2003 میں نیب نے اس کمپنی اور اسی طرح کی ایک دوسری کمپنی براڈ شیٹ کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے یک طرفہ طور پر ختم کر دیے جس پر آئی اے آر نے نیب کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا نتیجتاً نیب نے جنوری 2008 آئی اے آر سے 15 لاکھ پاؤنڈ میں تصفیہ کر لیا۔ 

دوسری جانب براڈ شیٹ کے قرضہ داروں کی قانونی کارروائی پر برطانوی جزیرے آئل آف مین کی عدالت نے اس کمپنی کی تحلیل کا حکم دیا لیکن اس تحلیل کے عمل کے مکمل ہونے سے کچھ دیر پہلے کاوے موساوی نے اس کمپنی کو قرضوں سمیت خرید لیا اور قرض داروں سے کہا کہ وہ پاکستان (نیب) سے اپنے واجبات وصول کرنے کے بعد ان کے قرضے چکا دیں گے۔ وہ 2004-2005 سے براڈ شیٹ کے مالک جیری جیمز کو اس کمپنی کے واجبات کی وصولی کے لیے پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی صلاح دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس کارروائی پر اٹھنے والے تمام اخراجات وہ خود برداشت کریں گے جبکہ پاکستان سے وصول ہونے والی ہرجانے کی رقم جیری جیمز، ڈاکٹر ولیم پیپر اور ان کے درمیان 50 اور 25، 25 فیصد کے حساب سے تقسیم ہو جائے گی۔ تاہم جیری جیمز نے امریکی ریاست کولوراڈو میں براڈ شیٹ ہی کے نام سے ایک اور کمپنی بنا کر پاکستان سے 15 لاکھ ڈالر اینٹھ لیے۔ جب کاوے موساوی کو نیب کے وکیل احمر بلال صوفی کے ذریعے اس تصفیے کا پتہ چلا تو انہوں نے براڈ شیٹ ایل ایل سی (آئل آف مین) کو عدالت کے ذریعے بحال کروا کر پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔

جیری جیمز

امریکہ سے تعلق رکھنے والے جیری جیمز براڈ شیٹ کمپنی کے مالک تھے۔ انہوں نے یہ کمپنی اس وقت بنائی جب ان کے نمائندے طارق فواد ملک نے نیب کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا پتا چلانے کے لیے ان کی کمپنی کی خدمات حاصل کرے۔ درحقیقت طارق فواد ملک نے نیب کو جیری جیمز کی کمپنی ٹروونز ایل ایل سی کی خدمات حاصل کرنے پر قائل کیا تھا تاہم ٹروونز ایل ایل سی کے شریک مالک رونلڈ روڈمین کو امریکی ریاست کولوراڈو کی بار نے دھوکہ دہی کے جرم میں پانچ سال کے لیے وکالت سے روک دیا جس پر جیری جیمز نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کے نام سے آئل آف مین میں ایک نئی کمپنی رجسٹرڈ کرا لی جس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت محض 200 پاؤنڈ تھی۔ 

انہیں یہ کمپنی بنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کہیں نیب کو روڈ مین کو ملنے والی سزا کا پتہ نہ چل جائے اور وہ معاہدہ کرنے سے انکار نہ کر دے۔ لیکن براڈ شیٹ نیب کے اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی تو نیب نے اس کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا۔ 

اسی دوران براڈ شیٹ کے دیوالیہ ہونے پر آئل آف مین کی عدالت نے اس کی تحلیل کا حکم دیا جس پر جیری جیمز نے کولوراڈو میں اسی نام سے ایک نئی کمپنی بنا لی۔ انہوں نے خود کو اصل براڈ شیٹ کا نمائندہ ظاہر کر کے نیب کے وکیل احمر بلال صوفی سے تصفیے کے لیے مذاکرات کیے اور ان سے 15 لاکھ ڈالر حاصل کر لیے۔ رقم لینے کے بعد وہ امریکہ سے پیرس منتقل ہو گئے۔ اس دوران ان پر مختلف قرضوں کا بوجھ، قانونی معاملات کا دباؤ اور نیب کی طرف سے تحقیقات کا خدشہ اس قدر بڑھ گیا کہ انہوں نے 2011 میں پیرس میں خودکشی کر لی۔ 

ڈاکٹر ولیم پیپر

ڈاکٹر ولیم پیپر بد عنوان لوگوں کے بیرون ملک اثاثوں کا سراغ لگانے والی کمپنی ٹراوونز ایل ایل سی میں جیری جیمز کے ساتھ شریک مالک تھے۔ وہ آئی اے آر کمپنی کے مالکان میں بھی شامل تھے لیکن بعد میں وہ کاوے موساوی سے جا ملے اور دونوں نے آئل آف مین میں قائم براڈ شیٹ کمپنی کو اس کے قرضوں سمیت خرید لیا۔ آئی اے آر کے نیب کے ساتھ تصفیے کے لیے اپریل 2007 میں ہونے والے مذاکرات میں ولیم پیپر بھی کاوے موساوی کے ساتھ تھے۔ 

طارق فواد ملک

طارق فواد ملک دبئی میں کام کرنے والے ایک اکاؤنٹنٹ غصنفر صادق علی کے ساتھی اور لاہور میں ان کے کاروبار میں شریک تھے۔ 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر کے قومی احتساب بیورو (نیب) قائم کیا تو اسی دوران طارق فواد ملک نے اس کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہا کہ وہ ٹراوونز ایل ایل سی نامی کمپنی کے نمائندے ہیں جو نیب کو بد عنوان لوگوں کے بیرون ملک مبینہ اثاثوں کا پتا چلانے میں مدد دے سکتی ہے۔ 

جب بعدازاں نیب نے براڈ شیٹ نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا تو نیب نے اسے اپنے ہیڈ کوارٹر میں بلا معاوضہ دفتر بھی مہیا کیا جسے طارق فواد ملک چلاتے تھے۔ وہ ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل کے داماد ہیں اور خود بھی پاکستان ایئر فورس میں ملازمت کر چکے ہیں جہاں سے انہیں نظم و ضبط کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے کیریئر کے آغاز میں ہی نکال دیا گیا۔ 

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وہ 11-2010 میں ایک افریقی باغی کمانڈر سے مل کر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) سے دبئی سونا بھی سمگل کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے ایک چارٹرڈ طیارے میں ایک سے زیادہ بار سفر بھی کیا لیکن آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ 

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں ایک رہائشی سکیم بنائی لیکن اس میں زمین خریدنے والوں کو گھروں کی جگہ فراہم کرنے کے بجائے ان کے پیسے کھا گئے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد حسین نے ثالثی عدالت کے جج انتھونی ایونز کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ طارق فواد ملک غضنفر صادق علی کے ساتھ ان کے پاس آئے تھے اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ پاکستان سے مبینہ طور پر لوٹے گئے اربوں روپے واپس لا سکتے ہیں۔ لیکن طارق فواد ملک نے مئی 2018 میں عدالت کے سامنے گواہی دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کا کام نیب اور براڈشیٹ کے درمیان محض معلومات کا تبادلہ تھا تاہم 2011 میں جب جیری جیمز نے خودکشی کی تو طارق فواد ملک ان کی کمپنی آف شور انسٹیٹیوٹ لمیٹڈ کے شریک مالک تھے اور نیب کی طرف سے انہیں تحقیقات کا بھی خطرہ تھا۔ انہوں نے ثالثی عدالت میں پاکستان کی طرف سے گواہی دی جس میں ان کا موقف تھا کہ براڈ شیٹ نے نیب کے ساتھ معاہدے کے مطاق اپنے فرائض کما حقہ انجام نہیں دیے۔ 

فاروق آدم خان

فاروق آدم خان لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین کے دور میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ کیریئر کا آغاز فوجی افسر کی حیثیت سے کیا تھا اور 1973 میں اس وقت فوج کے کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) گل حسن اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بغاوت کرنے والے نچلے رینک کے فوجی افسروں میں شامل تھے۔ اس ناکام بغاوت کے بعد انہیں فوج سے سبکدوش کر دیا گیا اور وہ وکالت کے شعبے میں آ گئے۔ 

نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان معاہدہ فاروق آدم خان نے ہی تیار کیا۔ 2000 میں نیب چھوڑنے کے بعد انہوں نے براڈ شیٹ کے لیے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ ثالثی عدالت میں بھی براڈ شیٹ کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔ 

2010  میں انہوں نے ایک حلفیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک مبینہ اثاثوں کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے لیکن 2015 میں ثالثی عدالت کو دیے گئے بیان میں انہوں نے یہ دعویٰ واپس لے لیا اور کہا کہ ان کا سابقہ بیان قیاس آرائیوں پر مبنی تھا۔ 

ثالثی عدالت میں سماعت کے دوران نیب کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد حسین نے یہ انکشاف بھی کیا کہ فاروق آدم خان کا بیٹا براڈشیٹ کے پارٹنر کے لیے کام کرتا تھا۔ بعد میں فاروق آدم خان کے بیٹے عمر آدم خان نے اعتراف بھی کیا کہ وہ براڈشیٹ سے تعلق رکھنے والی فرم آرچرڈسالیسیٹرز کے لیے لندن میں کام کرتے رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام کسی معاوضے کے بغیر صرف تجربہ حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔ فاروق آدم خان 2018 میں وفات پا گئے۔ 

احمد بلال صوفی

احمر بلال صوفی بین الاقوامی قانون کے ماہر وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 2013 کے انتخابات سے قبل بننے والی نگران حکومت میں قانون، انصاف، پارلیمانی امور  اور انسانی حقوق کے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپریل 2007 میں آئی اے آر اور براڈ شیٹ سے تصفیے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں نیب کی نمائندگی کی۔ جنوری 2008 میں انہوں نے ہی اصل براڈ شیٹ کے بجائے جیری جیمز کی کولوراڈو میں اسی نام سے قائم کردہ کمپنی سے 'تصفیہ' کر کے اسے 15 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

نیب اور براڈشیٹ کے درمیان 2000 میں ہونے والا معاہدہ لکھنے والوں میں فاروق آدم خان کے ساتھ احمر بلال صوفی بھی شامل تھے۔ ثالثی عدالت نے ان کی گواہی کے بعد ان کے انداز بیان کی تعریف تو کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ایسے مفروضوں کے تحت کولوراڈو میں رجسٹرڈ براڈ شیٹ کے ساتھ تصفیہ کر رہے تھے جو سارے کے سارے غلط تھے۔ 

احمر بلال صوفی آئی اے آر کے ساتھ تصفیہ کرنے اور اس کو رقم کی ادائیگی کے بھی ذمہ دار تھے۔ اسی تصفیے کے دوران ان کی ملاقات کاوے موساوی سے ہوئی جو اس وقت اے آئی آر کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انہیں جب پاکستان اور براڈ شیٹ کے درمیان تصفیے کا پتا چلا تو اس نے دیوالیہ براڈ شیٹ ایل ایل سی (آئل آف مین) کو خرید کر پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طلعت گھمن

اکتوبر 2001 میں جب لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نیب کے چیئرمین مقرر ہوئے تو بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طلعت گھمن کو اس ادارے کا ڈائریکٹر اوور سیز ونگ بنایا گیا۔ انہی کے دور میں نیب نے آئی اے آر اور براڈ شیٹ سے تصفیے کے لیے مذاکرات کیے جن میں ان کمپنیوں کو بالترتیب 15 لاکھ پاؤنڈ اور 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ 

ثالثی عدالت کی سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) طلعت گھمن نے نیب چھوڑنے کے بعد بینکوں کے مقروض شون گروپ کے ساتھ ایڈوائزر کے طور پر نوکری کر لی حالانکہ اس سے پہلے وہ نیب کے نمائندےکے طور پر اسی گروپ کے ساتھ ڈوبے ہوئے قرضوں کی واپسی پر کام کر رہے تھے۔ 

وہ ثالثی عدالت میں پاکستان کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے لیکن جج نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کی گواہی قابل اعتبار نہیں کیونکہ وہ اپنا موقف بار بار بدل رہے تھے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد حسین

جنرل پرویز مشرف نے قومی احتساب بیورو قائم کرنے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل امجد حسین کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے مبینہ ناجائز اثاثوں کا پتا چلانے کے لیے نیب کا براڈ شیٹ اور آئی اے آر نامی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ امجد حسین ہی کے دور میں ہوا تھا۔ انہوں نے براڈ شیٹ کی نمائندگی کرنے والے طارق فواد ملک کے ساتھ امریکہ کے شہر کولوراڈو میں اس کے مالک جیری جیمز سے اپریل 2000 میں ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے اس کے ساتھ اس معاہدے کے لیے رضا مندی ظاہر کی۔ اس معاہدے کے لیے بنیادی مذاکرات بھی جنرل امجد حسین نے کیے تھے۔ اس دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان ان کے ساتھ تھے۔ 

جنرل امجد حسین فوج اور نیب سے نومبر 2000 میں ریٹائر ہو گئے۔ انہوں نے ثالثی عدالت میں پاکستان کی طرف سے گواہی دی۔ 

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد حسین کی سبکدوشی کے بعد یکم جنوری 2001 کو لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائر) خالد مقبول کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ پنجاب کے گورنر بننے سے پہلے وہ ایک سال سے کم مدت اس عہدے پر فائز رہے۔ 

انہی کے دور میں نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پورے خاندان اور مشہور کاروباری افراد صدرالدین ہاشوانی اور سلطان لاکھانی سمیت بہت سے دیگر لوگوں کے نام براڈ شیٹ کو دی گئی فہرست سے واپس لیے۔  

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) منیر حفیظ

اکتوبر 2001 میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) منیر حفیظ کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ انہوں نے عہدے سنبھالنے کے بعد براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا جس کے بعد براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا۔ وہ 2004 تک نیب کے سربراہ رہے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز

منیر حفیظ کی نیب کے سربراہ کی حیثیت سے سبکدوشی کے بعد جنرل پرویز مشرف نے شاہد عزیز کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا۔ انہی کے دور میں نیب نے آئی اے آر اور براڈشیٹ کے ساتھ تصفیے کے لیے مذاکرات کیے۔ وہ 2007 تک نیب کے سربراہ رہے۔ فوج اور نیب سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے 'یہ
 

یہ بھی پڑھیں

postImg

براڈ شیٹ کیس: 20 سال میں کیا ہوتا رہا

خاموشی کہاں تک' کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے حالات کھل کر بیان کیے۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مشرف نے ان پر سیاست دانوں کے خلاف کیس بنانے  اور واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ شاہد عزیز 2018 میں افغانستان میں مبینہ طور پر القاعدہ کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے، تاہم اس بات کی مصدقہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ 

نوید احسن

نوید احسن جولائی 2007 میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے پانچویں اور پہلے سویلین چیئرمین بنے۔ انہی کے دور میں نیب نے براڈ شیٹ ایل ایل سی جو برطانوی جزیرے آئل آف مین میں رجسٹرڈ تھی کے ساتھ تصفیے کے لیے اس کی جگہ امریکہ میں قائم کی گئی اسی نام کی کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر ادا کیے۔ 

عائشہ صدیقہ

محقق اور دفاعی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ برطانیہ کی ثالثی عدالت کے روبرو ماہر گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات پر عدالت کی رہنمائی کی۔ وہ وائٹ کالر کرائم اور ان کی روک تھام کے حوالے سے نیب کے چیئرمین کی مشیر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ پاکستان آرمی کی عسکری ٹیکنالوجی، دفاعی حکمت عملی، جوہری ہتھیاروں کی تیاری، اسلحے کی خریداری اور پیداوار اور سول ملٹری تعلقات پر چار کتابوں اور بہت سے تحقیقی مقالوں کی مصنف ہیں۔  

عقیل شاہ

ثالثی عدالت نے عقیل شاہ کو بھی پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر رائے دینے کے لیے بلایا۔ وہ جنوبی ایشیا کے سیاسی امور کے ماہر ہیں اور امریکہ کی متعدد یونیورسٹیوں میں تدریس کا تجربہ رکھتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں جمہوری تبدیلیوں، فوجی بغاوتوں اور خطے میں سلامتی سے متعلق امور پر ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 'دی آرمی اینڈ ڈیموکریسی: ملٹری پولیٹکس ان پاکستان' خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 6 فروری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔