سندھ میں سیلاب کے متاثرین کی شکایات: 'حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور ہمیں لاوارث چھوڑ دیا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سندھ میں سیلاب کے متاثرین کی شکایات: 'حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور ہمیں لاوارث چھوڑ دیا ہے'۔

غلام مصطفٰی

postImg

سندھ میں سیلاب کے متاثرین کی شکایات: 'حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور ہمیں لاوارث چھوڑ دیا ہے'۔

غلام مصطفٰی

کئی دن کے میلے کپڑے پہنے پینتالیس سالہ ویرسی بھیل اپنی عمر سے زیادہ بوڑھے لگتے ہیں۔ وہ 30 اگست 2020 کی صبح سے اپنی بیوی، دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے ساتھ اپنے گاؤں سے کئی کلومیٹر دور ایک سیم نالے کے کنارے پر بنے بند پر رہ رہے ہیں۔ ان کے چاروں طرف دور دور تک پانی ہی پانی پھیلا ہوا ہے۔

کچھ فلاحی تنظیمیں انہیں ان کی خیمہ بستی میں دن میں ایک وقت کا کھانا دے جاتی ہیں۔ ایک تنظیم نے انہیں خشک راشن کی ایک بوری، ایک مچھر دانی اور پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ایک کولر بھی دیا ہے۔ لیکن ویرسی کو شکایت ہے کہ بارہ روز گذر جانے کے باوجود ابھی تک انہیں کوئی سرکاری پناہ گاہ فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے پاس کھانے پینے کا کوئی مستقل انتظام ہے۔

سندھ کے ضلع میرپورخاص کے تعلقہ جھڈو کے رہائشی ویرسی بتاتے ہیں کہ 29 اگست 2020 کی رات بہت بارش ہوئی جس کی وجہ سے ان کے گاؤں دیہہ 264 کے قریب بہنے والی پران ندی (جسے مقامی لوگ پران ڈھورو کہتے ہیں) کا پانی کناروں سے نکل کر گھروں میں داخل ہو گیا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے گھر سے ایک چارپائی اور چند برتن نکالنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے خاندان کو سیم نالے کے اونچے کنارے پر لے آئے۔ ان کے بقول ان کا گاؤں ابھی بھی آٹھ فٹ گہرے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

سیلاب نے ویرسی کی ٹماٹر، مرچ اور کپاس کی فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ کر دی ہے۔ اب وہ پریشان ہیں کہ اگلی فصل تک ان کی زندگی کا پہیہ کیسے چلے گا۔ بھیگی آنکھوں اور بھرائی آواز کے ساتھ انہوں نے سجاگ کو بتایا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا لیکن آج انہیں 'بے گھر ہوکر زمانے کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں'۔

ویرسی کی طرح سیلاب سے متاثر ہونے والے کئی ہزار خاندان میرپور خاص کی سڑکوں، اونچے ٹیلوں یا نہروں اور سیم نالوں کے پشتوں پر کسمپرسی کے عالم میں پڑے ہیں۔ جھڈو سے 17 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے نوکوٹ سے تھر پارکر ضلع کے صدر مقام مٹھی جانے والی سڑک پر خیمہ بستیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے جہاں لٹے پھٹے لوگ آس بھری نظروں سے امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔

کئی دوسرے لوگ سرکاری عمارات میں قائم کیے گئے عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں 43 سالہ محمد شریف علیانی بھی شامل ہیں وہ گوٹھ سائیں داد علیانی کے رہائشی ہیں لیکن آج کل وہ اپنی بیوی، چار بیٹیوں اور دوبیٹوں کے ساتھ جھڈو کے سرکاری بوائز ڈگری کالج میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

محمد شریف کراچی میں مزدوری کرتے ہیں لیکن جیسے ہی انہوں نے بارشوں کے بارے میں سنا وہ کام چھوڑ کر گاوں واپس آ گئے۔ نم آنکھوں سے انہوں نے سجاگ کو بتایا کہ وہ سوئے ہوئے تھے جب چار بجے صبح ان کے گاؤں کے گرد بنا ہوا مٹی کا بند بہہ گیا اور سیلاب کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

ان کے گاؤں کے پاس ہی پران ندی اور ایک سیم نالہ ملتے ہیں اس لئے وہاں سیلاب کی شدت آس پاس کے دوسرے گاؤوں سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ کہتے ہیں: 'ہم نے فوج میں سپاہی کے طور پر نوکری کرنے والے اپنے گاؤں کے لوگوں سے رابطہ کیا جن کی بھیجی ہوئی کشتیوں نے دن کے بارہ بجے کے بعد ہمیں پانی سے نکالا'۔

لیکن اس وقت تک محمد شریف کی تمام بکریاں سیلابی پانی میں ڈوب چکی تھیں۔

ان کے علاوہ 385 دیگر خاندانوں کے 1850 کے قریب افراد بھی اسی کالج میں مقیم ہیں لیکن کمروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایک ایک کمرے میں چالیس چالیس لوگوں کو رہنا پڑ رہا ہے۔

محمد شریف کا کہنا ہے کہ چند فلاحی تنظیمیں انہیں اور ان کے ساتھ رہنے والے دوسرے لوگوں کو کھانا فراہم کر رہی ہیں لیکن 'حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ان تنظیموں پر ڈال کر ہم لوگوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے'۔

محمد شریف جیسے غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ گلزار احمد جٹ جیسے بڑے زمیندار بھی سیلابی پانی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ وہ بھی جھڈو کے ساتھ بہنے والے ایک سیم نالے کے پشتے پر خیمہ زن ہیں۔

انہوں نے سجاگ کو بتایا کہ جب پران ندی بارش کے پانی سے بھر گئی تو اس میں گِرنے والا ایک نالہ جو ان کے گاؤں کے پاس سے گذرتا ہے وہ الٹا بہنا شروع ہو گیا۔ 'اس نالے نے ہمارے گاوں کو ڈبو دیا'  جس سے 'میری سرخ مرچ ، باجرے اور ٹماٹر کی فصلیں اور جانوروں کا چارہ تباہ ہو گئے'۔ انہوں نے ان فصلوں پر 17 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔

تاہم گلزار احمد تسلیم کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ نے ان کے گاؤں  کے لوگوں کو خشک راشن کے پچاس تھیلے اور دو مرتبہ پانی کی سو سو بوتلیں فراہم کی ہیں۔

سجاگ نے سیلاب اور امدادی کاموں کی تفصیل جاننے کے لئے جھڈو کے اسسسٹنٹ کمشنر آصف خاصخیلی سے بھی بذریعہ فون رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک پانچ امدادی کیمپ قائم کئے ہیں جن میں سے ہر ایک میں 15 سو کے قریب لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں جنہِں حکومت روزانہ تیار کھانا فراہم کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ صوبائی حکومت نے اب تک  15 سو سے زائد راشن کے تھیلے اور اتنی ہی تعداد میں خیمے متاثرین کو فراہم کئے ہیں۔

لیکن یہ اقدامات بھوکے اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہیں کیونکہ آصف خاصخیلی کے دیے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق جھڈو میں ایک لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے

لیفٹ بنک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) دریائے سندھ کے بائیں جانب تعمیر کیا گیا سیم نالوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ اس سال اس کے مرکزی نالے میں نوکوٹ کے مقام پر اتنا پانی آ گیا کہ وہ الٹا بہہ کر ایک پرانی ندی ہاکڑو ڈھورو میں شامل ہوگیا۔ اس پانی کے دباؤ کی وجہ سے نالے کے ساتھ بنے بند میں چار بڑے  شگاف پڑ گئے ہیں جس سے ارد گرد  کے سینکڑوں گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

ان میں سے نوکوٹ کے قصبے کے قریب پڑنے والے شگاف پر بند باندھنے کا کام ہو تو رہا ہے لیکن اس کی رفتار اتنی سست ہے کہ اسے مکمل کرنے میں کئی دِن لگ سکتے ہیں۔ حکومتِ سندھ نے یہ کام ٹھیکے پر دیا ہوا ہے۔ اس پر مامور مزدور تین کلو میٹر دور واقع سفیدے کے درختوں سے لکڑیاں کاٹ کر انہیں کشتیوں میں رکھتے ہیں اور پھر نالے کے راستے انہِیں شگاف کے مقام پر لاتے ہیں جہاں ان لکڑیوں کو زمین میں گاڑ کر ان کے ارد گرد مٹی بھری جاتی ہے۔

اس طریقہ کار کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب گذشتہ بدھ کے روز مزدوروں نے ایک شگاف بند کیا تو پانی کے دباؤ نے اس کے قریب ہی ایک اور بڑا شگاف ڈال دیا۔

اسی طرح کے کئی اور شگاف میرپورخاص، عمرکوٹ، نوکوٹ اور جھڈو کے کئی اور نالوں اور ندیوں کے پشتوں میں بھی پڑ گئے ہیں جن کی وجہ سے جھڈو تعلقہ کی چار یونین کونسلیں، جن میں روشن آباد، میر خدا بخش، میر ملک محمد اور باکھر شامل ہیں، مکمل طور پر زیرآب آ گئی ہیں جبکہ پانچ اور یونین کونسلیں -- میر اللہ بچایو تالپر،گونیرو، آہوری، فضل بھمبھرو اور نوکوٹ -- جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق جھڈو کے مختلف علاقوں میں کپاس،سرخ مرچ، مختلف سبزیوں اور جانوروں کی چارے کی 80 فیصد فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ دس ہزار کچے پکے مکانات گرچکے ہیں اور پچاس ہزار کے قریب لوگ بے گھر ہوکراپنے مال مویشیوں کے ہمراہ رابطہ سڑکوں، بڑی شاہراہوں اور اونچے مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بہت سے مقامی افراد اس تباہی کی ذمہ داری ان علاقوں سے گذرنے والے سیم نالوں کے ڈیزائن اور روائتی آبی گذرکاہوں کو ایل بی او ڈی سے منسلک کرنے پر ڈالتے ہیں۔

مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ 2011 میں آنے والے سیلاب کے بعد میرپور خاص کے مختلف حصوں میں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے برساتی نالے بنا کر انہیں ایل بی او ڈی کے سیم نالوں میں ڈالا گیا حالانکہ ان میں اتنی گنجائش ہی موجود نہیں تھی کہ وہ ان برساتی نالوں سے آنے والا تمام پانی سنبھال سکیں۔ اس کے نتیجے میں اس سال وہ علاقے بھی زیرِ آب آگئے ہیں جو 2011 کے سیلاب میں محفوظ رہے تھے۔

اس صورتِ حال کی سب سے نمایاں مثال میرپور خاص مین ڈرین (ایم ایم ڈی) ہے جو میرپور خاص شہر کے پاس سے شروع ہو کر ایل بی او ڈی کے مرکزی نالے میں جا گرتا ہے۔ اس میں 450 کیوسک پانی کے بہنے کی گنجائش ہے لیکن حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد اس میں پانی کا بہاؤ 850 کیوسک تک پہنچ گیا تھا۔

اسی طرح سندھ کے مشرقی ضلعے سانگھڑ سے نکلنے والے ایل بی او ڈی کے مرکزی نالے میں پانی کے بہنے کی گنجائش 4500 کیوسک ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران یہاں سے 12000 کیوسک سے لے کر 16000 کیوسک تک پانی بہتا رہا ہے۔

دوسری طرف پران ندی، جو سکھر بیراج سے ذرا پہلے درِیائے سندھ کے بائیں کنارے سے شروع ہوتی ہے اور جنوب کی سمت بہتی ہوئی پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع جھیل شکور ڈھنڈ پر ختم ہوتی ہے، ناجائز تجاوزات کی وجہ سے جھڈو کے قریب محض پچاس فٹ چوڑی رہ گئی ہے حالانکہ میر پور خاص شہر کے پاس اس کی چوڑائی 450 فٹ کے قریب ہے۔

لیکن جہاں جھڈو میں ندی کی چوڑائی بہت کم رہ گئی ہے وہاں اسی قصبے سے تین کلومیٹر جنوب میں ایم ایم ڈی بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے جس کے باعث بارشوں کے موسم میں اس میں سے گذرنے والے پانی کی مقدار اس کی گنجائش سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اس مقام سے مزید چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یہ ندی ایل بی او ڈی کے مرکزی نالے میں شامل ہو جاتی ہے جبکہ ایک اور پرانی ندی ہاکڑو ڈھورو بھی کچھ ہی دور جنوب میں اس میں آ ملتی ہے۔

مقامی زمینداروں اور کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جب  ایل بی او ڈی میں اتنی گنجائش ہی نہیں ہے تو برساتی نالوں اور ندیوں کا پانی اس میں کیوں چھوڑا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایل بی او ڈی موجود ہی نہ ہوتا تو اور بھی اچھا ہوتا کیونکہ اس صورت میں بارش کا پانی زیادہ نقصان کیے بغیر خود بخود ہی اپنی قدرتی گذرگاہوں کے ذریعے شکور ڈھنڈ جیسے آبی ذخائر میں چلا جاتا-

تکنیکی نقائص

ایل بی او ڈی کی تعمیر کا بنیادی مقصد بالائی سندھ کے اضلاع گھوٹکی، خیرپور، نواب شاہ (بےنظیر آباد)، سانگھڑ او میرپورخاص کے زیرِ زمین کھارے پانی کی نکاسی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس پر کام کا آغاز 1984 میں کیا ۔ ابتدائی طور پر اس کی لاگت 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی لیکن 2002 میں اس کی تکمیل کے وقت یہ بڑھ کر 96 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئی۔

لیکن ایل بی او ڈی سے جڑا سب سے اہم مسئلہ اس کی لاگت نہیں بلکہ اس کی تکنیکی خرابیاں ہیں جن کے اثرات اس کی زد میں  آنے والے کچے گھروں اور کھیتوں کے مالکان  کے چہروں پر رقم ہیں۔

تعلقہ جھڈو میں یہ اثرات بہت نمایاں ہیں کیونکہ سندھ کے آٹھ بالائی اضلاع سے شروع ہونے والے سیم نالے یہیں سے گذرکر ایل بی او ڈی کے مرکزی نالے سے ملتے ہیں۔ جب کبھی بھی بارشوں کی وجہ سے ان نالوں کا پانی کناروں سے باہر نکلتا ہے تو اس تعلقہ میں گاؤں کے گاؤں کئی ہفتوں کے لئے ڈوب جاتے ہیں۔

 ایل بی او ڈی کی دوسری بڑی تکنیکی خرابی کا تعلق ضلع بدین میں واقع اس کے اختتامی سرے سے ہے جہاں اس کا مرکزی نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک حصہ 2000 کیوسک پانی لے کر مشرق میں شکور ڈھنڈ تک چلا جاتا ہے (جو انڈیا اور پاکستان میں بالترتیب 70 فیصد اور 30 فیصد کے حساب سے منقسم ہے) جبکہ دوسرا حصہ 2600 کیوسک پانی لے کر 102 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب سمندر میں جا گرتا ہے۔

ایل بی او ڈی کے منصوبہ ساز اس دوسرے حصے کو پران ندی کے روائتی بہاؤ سے نکال کر ایک ایسی سمت میں لے گئے ہیں جدھر زمین کی سطح اونچی ہوتی جاتی ہے اور سمندر میں پانی کے اخراج کے راستے میں ایک قدرتی رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔

اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے ایل بی او ڈی بنانے والوں نے 41 کلومیٹر لمبی ایک نہر کھودی ہے لیکن جب بھی سمندر میں اونچی لہریں یا طوفان آتا ہے تو سمندر کا کڑوا پانی اس نہر کے ذریعے ضلع بدین میں داخل ہو جا تا ہے جس سے قابلِ کاشت زمینیں سیم اور تھور کا شکار ہوکر ناقابلِ کاشت ہو جاتی ہیں۔

ایل بی او ڈی کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بالائی سندھ کے شہروں اور قصبوں کا گندا پانی اس کے نالوں کے ذریعے ضلع بدین میں واقع  سات سو سے زائد پانی کے قدرتی ذخیروں میں شامل ہو جاتا ہے۔ ان ذخیروں میں چار بڑی جھیلیں -- چولری، پٹیجی، سنھرو اور مھرو – بھی شامل ہیں جو قدرتی طورپر بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی نہروں کے ذریعے آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔

ان جھیلوں اور ایل بی او ڈی کی سمندر میں جانے والی نہر کے درمیان مٹی کا ایک بند بنایا گیا تھا لیکن 1999 کے بعد سمندر میں آنے والے طوفانوں کی وجہ سے یہ بند سارے کا سارا ٹوٹ چکا ہے جس کے نتیجے میں جب بھی سمندر کا پانی ایل بی او ڈی کی نہر سے باہر نکلتا ہے تو وہ ان جھیلوں میں بھی داخل ہو جاتا ہے جس سے اس علاقے کے قدرتی ماحول،  زراعت، تازہ پانی کے ذخیروں اور ماہی گیری کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

سندھ کے آب پاشی کے نظام پر سند سمجھے جانے والے ماہر ادریس راجپوت نے -- جو ماضی میں آب پاشی کے صوبائی محکمے کے سیکرٹری بھی رہے ہیں -- سجاگ کو بتایا کہ ایل بی او ڈی کے ڈیزائن میں موجود بنیادی نقائص کو عالمی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے۔

وہ ضلع بدین کی زرعی زمینوں کو بچانے کیلئے ایل بی او ڈی کا سارا پانی پران ڈھورو کے ذریعے شکور ڈھنڈ میں لے جانے کے حامی ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ 'اس بار ایل بی او ڈی میں جگہ جگہ جو شگاف پڑے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اس کی گنجائش سے چار گنا زیادہ پانی چھوڑا گیا ہے'۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 13 ستمبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 28 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔