جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کے شوھر نے انہیں چھوڑ دیا، "بہت سی طالبات بدنامی کے خوف سے خاموش ہیں"

postImg

انیلہ اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کے شوھر نے انہیں چھوڑ دیا، "بہت سی طالبات بدنامی کے خوف سے خاموش ہیں"

انیلہ اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

غازی یونیورسٹی میں پروفیسر کی مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ نے لوک سجاگ سے بات کرتے ہوئے اس واقعے سے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی میں مبینہ طور پر بہت سی لڑکیاں اپنے اساتذہ کے ہاتھوں جنسی زیادتی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنتی چلی آئی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کی اس یونیورسٹی میں بی ایس فزکس کی طالبہ ثنا ارشاد کا ایک ویڈیو بیان چند روز پہلے سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ انہیں ان کے ایک پروفیسر نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور دوسرے نے بھی اس مقصد کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد دونوں ملزموں کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لیے لوک سجاگ نے ثنا سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا جب انہوں نے اس واقعے کی شکایت یونیورسٹی انتظامیہ سے کی تو دو پروفیسروں نے یہ کہہ کر ان کا ویڈیو بیان ریکارڈ کر لیا کہ اسے سامنے نہیں لایا جائے گا۔ تاہم ان پروفیسروں نے ان کے بیان کو وائس چانسلر کے خلاف اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وائرل کر دیا۔

ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف میں بستی سوکڑ کی رہنے والی ثنا ارشاد کا کہنا ہے کہ انہیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے بمشکل اجازت ملی تھی۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں انہوں ںے گھر والوں کی یہ شرط بھی منظور کر لی کہ پہلے انہیں شادی کرنا ہو گی۔ ان کا رشتہ اپنے ماموں زاد سے ہوا تھا اور شادی کے بعد وہ ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوسٹل میں مقیم ہو گئیں کیونکہ اس طرح انہیں یونیورسٹی آنے جانے میں آسانی تھی۔

انہوں نے اپنے ساتھ زیادتی پر درج کرائے گئے مقدمے میں پولیس کو بیان دیا ہے کہ ان کی ایک ہم جماعت نے انہیں یہ کہہ کر جام پور روڈ پر سٹیٹ لائف کارپوریشن کی عمارت میں بلایا کہ وہاں امتحانی پرچوں کی مارکنگ ہو رہی ہے اور وہ انہیں اچھے نمبر دلا دیں گی۔ اس موقع پر ان کے فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر خالد خٹک اور شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ظفر وزیر بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق اس موقع پر انہیں کولڈ ڈرنک دی گئی جسے پی کر ان کا سر چکرانے لگا اور وہ نیم بیہوش سی ہو گئیں۔ اس وقت ڈاکٹر ظفر نے باقی لوگوں کو کمرے سے باہر بھیج دیا اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ وہ مزاحمت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

ثنا کے بقول اس واقعے کے بعد ڈاکٹر خالد خٹک نے انہیں بلیک میل کرنا اور اپنے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر اصرار شروع کر دیا۔ جب انہوں ںے انکار کیا تو دھمکی دی کہ وہ ان کی چھوٹی بہن کو بھی اپنے ساتھ مراسم قائم کرنے مجبور کریں گے۔

تنگ آ کر دونوں بہنوں ںے ان پروفیسروں کے خلاف یونیورسٹی کی انتظامیہ کو شکایت کی جس پر انکوائری شروع کر دی گئی۔ تاہم اسی دوران ثںا کا ویڈیو بیان وائرل ہوا جس کے بعد ڈاکٹر ظفر وزیر اور ڈاکٹر خالد خٹک پولیس کی حراست میں ہیں۔

ثنا نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ان کا بیان ڈاکٹر ظفر وزیر کی جگہ تعینات ہونے والے شعبہ فزکس کے سربراہ ڈاکٹر محمد راشد نے ریکارڈ کیا تھا جنہوں ںے غلط بیانی کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ بیان یونیورسٹی انتظامیہ کی ہدایت پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اسے صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ تاہم تین ماہ کے بعد ڈاکٹر راشد نے شعبہ اسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ارشد منیر لغاری کی ملی بھگت سے یہ ویڈیو وائرل کر دی۔

ثنا ارشاد نے وائس چانسلر کو اس کے خلاف تحریری شکایت جمع کرائی جس کے بعد ڈاکٹر راشد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

ثنا ارشاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد اپنی بہن کی حفاظت کی خاطر یونیورسٹی انتظامیہ کو شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد واقعات کا یہ تمام سلسلہ شروع ہوا جس نے ان کی زندگی تباہ کر دی ہے۔

ویڈیو بیان وائرل ہونے کے بعد ثنا کے شوہر نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ساتھی طلبہ اور اساتذہ نے الٹا ثنا کو ہی قصور وار قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انہوں نے اپنا فون بند کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ ان تمام حالات میں والد نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انہی کی حوصلہ افزائی کی بدولت وہ انصاف کے لڑ رہی ہیں۔

ثنا کے والد ارشاد احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو تعلیم کے حصول سے نہیں روکیں گے اور اس کا کسی اور یونیورسٹی میں تبادلہ کروا دیں گے۔

ان کے بقول ملزم ان کے گاؤں کے سرکردہ افراد کے ذریعے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان کے خلاف بیان نہ دیا جائے اور اس کے عوض انہوں ںے بھاری رقم کی پیشکش بھی کی ہے لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

ثنا کہتی ہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان کی متعدد ہم جماعت طالبات کے ساتھ بھی ہو چکا ہے لیکن کمزور سماجی حیثیت اور بدنامی کے خوف سے کوئی ایسے واقعات کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ویڈیو بیان کو وائرل کرنے والے ڈاکٹر راشد کے قبضے سے بھی پولیس نے متعدد طالبات کی ویڈیوز، تصاویر اور انہیں بھیجے گئے پیغامات پکڑے ہیں۔ تاہم جب پولیس نے ان طالبات کے والدین سے رابطہ کیا تو انہوں ںے یہ کہہ کر کوئی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا کہ اس طرح ان کی عزت خطرے میں پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

یونیورسٹی آف میانوالی: "مجھے فکر ہے کہ کوئی میری بیٹی کی تصویر سوشل میڈیا پر لگا کر تماشا نہ بنا دے"

ثنا ارشاد کے بقول ان کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرنے کا مقصد اس معاملے میں ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ اسے وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر راشد اور پروفیسر ارشد منیر لغاری سرگودھا یونیورسٹی سے آنے والے قائم مقام وائس چانسلر کو اس عہدے پر دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران نے بتایا کہ جب ثنا ارشاد نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی بابت انہیں آگاہ کیا تو اسی وقت اس معاملے کو 2021 میں بننے والی یونیورسٹی کی انسداد ہراسانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کے رکن ڈاکٹر سعد اللہ لغاری اور ڈاکٹر طاہرہ پروین نے انکوائری کے بعد خالد خٹک اور ظفر وزیر کو عہدوں سے ہٹانے کے لیے کہا اور ان کے خلاف سخت کارروائی تجویز کی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ریجنل کوآرڈینیٹر فیصل محمود تنگوانی نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے ایسے بیشتر متاثرین قانونی معاملات سے آگاہ نہیں ہوتے اور اسی لیے انہیں انصاف کے حصول میں مشکلات بھی جھیلنا پڑتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں طبی معائنہ کرانے میں تاخیر کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر اس واقعے میں بھی ملزم تکنیکی بنیادوں پر سزا سے بچ سکتے ہیں۔

بلوچ ویمن فورم کی ترجمان ام ہانی بلوچ کہتی ہیں کہ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی جانب سے طالبات کو ہراساں کیے جانے کے واقعات عام ہیں۔ جب تک ان واقعات میں ملوث ملزموں کو قانونی طریقے سے سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک کوئی عبرت نہیں پکڑے گا اور ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

تاریخ اشاعت 19 اگست 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

انیلہ اشرف ملتان سے تعلق رکھنے والی تحقیقاتی صحافی و سماجی کارکن ہیں۔ گذشتہ 19 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.