خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے 1,000 گراؤنڈ تیار کرنے کا منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہو گیا

postImg

تیمور خان

postImg

خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے 1,000 گراؤنڈ تیار کرنے کا منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہو گیا

تیمور خان

پشاور کے مضافاتی علاقہ ہزار خوانی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ افضال احمد کے گاؤں میں کرکٹ کا کھیل بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بھی بچپن سے اس کھیل سے کافی شغف ہے۔

اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے وہ کھیلنے کے لئے کافی عرصہ سے پشاور جِم خانہ جاتے ہیں جہاں وہ ایک کلب کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ لیکن ان کے لئے اب یہ کھیل مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے کیونکہ "کرکٹ کے میچ کی فیس ہزاروں میں ہوتی ہے جس کے لئے کھلاڑیوں کو اپنی جیب سے پیسے دینے پڑتے ہیں۔"

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2018 میں خیبر پختونخوا میں ایک ہزار کھیلوں کے گراؤنڈز تعمیر کرنے کا اعلان کیا تو افضال اور اس کے گاؤں کے تمام کھلاڑی بہت خوش تھے کہ اب انہیں اپنے گاؤں میں ہی کھیلنے کی سہولت میسر ہو گی۔ دو یونین کونسلوں پر مشتمل ان کے گاؤں میں تین سال قبل کرکٹ کی 16 ٹیمیں تھیں۔

لیکن زمینی حقائق ان کی توقعات کے برعکس ہیں۔

صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کا حالیہ دورانیہ ختم ہونے کو ہے لیکن ابھی تک ان کے گاؤں میں کوئی گراؤنڈ تعمیر نہیں ہوا۔ نوجوانوں کے شوق کو دیکھتے ہوئے گذشتہ سال ان کے گاؤں میں کچھ لوگوں نے اپنی ذاتی اراضی پر کرکٹ کی دو گراؤنڈز تعمیر کئے۔ ان گراؤنڈز میں بیس اوورز کے ایک میچ کے لئے کھلاڑیوں کو چار سے چھ ہزار روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے جو بسا اوقات ان کے بس سے باہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کے گاؤں میں صرف چار ٹیمیں باقی رہ گئی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار کھیلوں کے میدانوں کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے صوبائی حکومت نے پانچ ارب 50 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا۔ مالی سال 2018-19 سے شروع ہونے والے اس چار سالہ منصوبہ — تھاؤزنڈ پلینگ فیسلیٹیز — کو جون 2023 تک مکمل ہونا تھا جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کیا گیا جس کے لئے 16 کروڑ روپے کا فنڈ منظور کیا گیا۔ اس منصوبہ کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع کے علاوہ تمام صوبہ میں ایک ہزار کھیلوں کے میدان تعمیر کئے جانے تھے۔ ہر گراؤنڈ پر 50 لاکھ روپے اخراجات کی منظوری دی گئی۔

اوائل میں اس منصوبہ کی نگرانی کا فریضہ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اسفندیار خٹک کے سپرد کیا گیا لیکن جنوری 2020 میں وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایک ماتحت ادارہ 'نیشنل بک فاؤنڈیشن' سے ڈیپیوٹیشن پر لائے گئے گریڈ 18کے ایک افسر، مراد علی مہمند، کو اس کا پراجیکٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ صوبائی حکومت نے دو سال بعد ہی ان کی خدمات وفاقی وزراتِ تعلیم کو واپس کر دیں اگرچہ ان کی ڈیپیوٹیشن کے دورانیہ میں ایک سال باقی تھا۔ ان کے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خالد خان کو اس منصوبہ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا اضافی چارج دے دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلہ میں دو سو 21 گراؤنڈز کے لئے ایک ارب تین کروڑ 60 لاکھ روپے منظور کئے گئے۔ لیکن اب تک صرف ایک سو 33 گراؤنڈز کی تعمیر مکمل کی جا سکی ہے جن میں 20 ایسے بھی ہیں جہاں پہلے سے موجود گراؤنڈز کی صرف مرمت کی گئی ہے۔ نیز 17 کھیلوں کے میدان چار ضم شدہ اضلاع — شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر اور اورکزئی — میں بنائے گئے ہیں جو کہ اس پراجیکٹ کا حصہ ہی نہیں تھے۔  ہر ایک گراؤنڈ پر 50 لاکھ روپے تک خرچ کرنے کی منظوری دی گئی تھی لیکن پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ نے ایک سو 16 ایسے گراؤنڈز تعمیر کئے ہیں جن پر متعین کردہ رقم سے زیادہ خرچ ہوئی ہے۔

جس کا کام، اُسی کو ساجھے

اس اہم منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے حیران کن طور پر ایسے منظورِ نظر افراد کو ڈیپوٹیشن پر لایا گیا جن کا اس شعبہ سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر پراجیکٹ ڈائریکٹر جیسی اہم ذمہ داری کے لئے نیشنل بک فاونڈیشن سے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر کی اسامی کے لئے محکمہ تعلیم کے ایک افسر کو ڈیپوٹیشن پر لایا گیا۔

حکومت نے صوبے کے سات ڈویژنوں کے لئے انجینئروں کی سات اسامیوں کی منظوری دی جنہیں اپنے اپنے ڈویژن میں اس منصوبہ کی مانیٹرنگ کرنا تھی۔ اب تک ان میں سے کسی اسامی پر تعیناتی نہیں ہوئی لیکن ان کے لئے منظور کی گئی سات میں سے پانچ گاڑیاں خریدی جا چکی ہیں۔

ان سات انجینئروں کے لئے 35 لاکھ روپے مالیت کی سنگل کیبن گاڑیوں کی منظوری دی گئی لیکن، دستاویزات کے مطابق، 54 لاکھ مالیت کی پانچ گاڑیوں پر دو کروڑ ستر لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ اس طرح ہر گاڑی پر مختص شدہ رقم سے 65 فیصد زائد ادائیگی کی گئی۔ اس منصوبہ کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر مراد علی کا کہنا ہے کہ گاڑیاں مہنگی ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے انہیں مختص کردہ اخراجات سے تجاوز کرنا پڑا "اور یہ سب کچھ میں نے اپنے قانونی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا۔"

لیکن ان کے دعوے کے برعکس قانونی طور پراجیکٹ ڈائریکٹر اپنی صوابدید پر صرف 15 فیصد اضافہ کا مجاز ہے جبکہ اس سے زیادہ اضافہ کے لئے پریکٹیکل کاپی ون (پی سی ون) میں نظرِ ثانی کرنا پڑتی ہے جس کے لئے پراونشل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

اس چار سالہ منصوبہ کے لئے گاڑیوں کے تیل کی مد میں 40 لاکھ روپے رکھے گئے تھے جبکہ انجینئرز نہ ہونے کے باوجود جون 2021 تک 59 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ ٹریولنگ اینڈ ڈے الاؤنس کی مد میں 25 لاکھ روپے رکھے گئے تھے جس میں سے اسی عرصہ کے دوران 23 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

خیبر پختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لئے 180 ارب روپے درکار، حکومت کو نصف سے زیادہ رقم کی کمی کا سامنا

ذرائع کے مطابق اس منصوبہ میں زائد فنڈز کے استعمال کو اور ایک ہزار کھیلوں کے میدانوں کے ہدف کو مکمل نہ کر سکنے کی خفت مٹانے کے لئے پریکٹیکل کاپی ون پر نظرِ ثانی کا کام شروع کر دیا گیا ہے جس کے لئے اسے جلد ہی پراونشل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔ منصوبہ کے نام 'تھاؤزنڈ پلینگ فیسلیٹز' (یعنی ہزاروں کھیلوں کے میدان) کو تبدیل کر کے 'ویریس پلینگ فیسلیٹز' (یعنی متعدد کھیلوں کے میدان) رکھا جا رہا ہے۔

صوبائی محمکہ کھیل کے سیکرٹری کپیٹن (ریٹائرڈ) مشتاق احمد تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصوبہ میں کچھ کام پریکٹیکل کاپی ون کے خلاف ہوئے ہیں "جنہیں نظرثانی شدہ پی سی ون میں ٹھیک کیا جا رہا ہے جس کی منظوری کے بعد اس منصوبہ کے لئے نئی گائیڈ لائنز جاری کی جائیں گی جس پر سختی سے عمل درآمد ہوگا۔"

تاریخ اشاعت 30 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تیمور خان کا تعلق پشاور سے ہے وہ گزشتہ 9 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں وہ گورننس، صحت اور سیاست پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

چراغ تلے اندھیرا: سندھ میں شمسی توانائی کا 'انوکھا' منصوبہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

پنجاب: زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر چلانے کے منصوبے پر ماہرین کیوں تقسیم ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کس حال میں ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

ملک میں بجلی کی پیداوار میں "اضافہ" مگر لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

بلوچستان کے ہنرمند اور محنت کش سولر توانائی سے کس طرح استفادہ کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشبیر رخشانی
thumb
سٹوری

سولر توانائی کی صلاحیت: کیا بلوچستان واقعی 'سونے کا اںڈا دینے والی مرغی" ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحبیبہ زلّا رحمٰن
thumb
سٹوری

دیہی آبادی کے لیے بجلی و گیس کے بھاری بلوں کا متبادل کیا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعزیز الرحمن صباؤن
thumb
سٹوری

چمن و قلعہ عبداللہ: سیب و انگور کے باغات مالکان آج کل کیوں خوش ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحضرت علی

اوور بلنگ: اتنا بل نہیں جتنے ٹیکس ہیں

thumb
سٹوری

عبدالرحیم کے بیٹے دبئی چھوڑ کر آواران کیوں آ گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشبیر رخشانی
thumb
سٹوری

"وسائل ہوں تو کاشتکار کے لیے سولر ٹیوب ویل سے بڑی سہولت کوئی نہیں"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

لاہور کے کن علاقوں میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.