English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ڈرگ مافیا یا حکومتی کوتاہی: وسطی پنجاب میں مرگی کے مریض دوا کے لیے خوار

احتشام احمد شامی

postImg

ڈرگ مافیا یا حکومتی کوتاہی: وسطی پنجاب میں مرگی کے مریض دوا کے لیے خوار

احتشام احمد شامی

فرخ اقبال دو ہفتے سے مرگی کی دوائی ڈھونڈھ رہے ہیں لیکن شہر کے کسی میڈیکل سٹور پر یہ دوا دستیاب نہیں ہے۔

ان کا تعلق گوجرانوالہ کے علاقے باغبان پورہ سے ہے اور وہ ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ انہیں مرگی کی بیماری ہے اور وہ ایک نجی کلینک سے اپنا علاج کرا رہے ہیں جہاں آنے والے ان جیسے کئی اور مریض بھی پریشان ہیں کیونکہ ان میں کسی کو مرگی کی دوا نہیں مل رہی۔

فرح کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ کہ اگر بروقت دوا نہ ملی تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

مرگی کے قومی مرکز  کے مطابق ملک میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد 23 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مرگی کا علاج عام طور پر دوائیوں سے کیا جاتا ہے اور بیشتر مریضوں کو دورے نہیں پڑتے تاہم اچانک ادویات کا استعمال چھوڑ دینا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

اس وقت گوجرانوالہ سمیت وسطی پنجاب کے متعدد اضلاع میں مرگی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی شدید قلت ہے۔

ان اضلاع میں شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، منڈی بہاءالدین، حافظ آباد، وزیر آباد اور قصور شامل ہیں جہاں مرگی کے مریض دوا کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔

جن دکانوں پر یہ ادویات موجود ہیں ان کے مالکان لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر گراں فروشی کر رہے ہیں۔

ذہنی امراض اور مرگی کے ڈاکٹر دانش ملک نے لوک سُجاگ کو بتایا کہ مرگی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات (Valporic Acid) اور (Carbamazepine) مارکیٹ سے غائب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مرگی ایسی بیماری ہے جس میں مریض کو کم از کم چار سال تک دوا کھانا پڑتی ہے۔یہ مدت اس سے بڑھ بھی سکتی ہے اور اگر مرض کی جلد تشخیص ہو جائے تو اس بیماری کا بڑی حد تک علاج ممکن ہوتا ہے۔

<p>مرگی کی ادویات پاکستان کی دو کمپنیاں تیار کرتی ہیں جنہوں نے ایک غیر ملکی کمپنی سے ان کے حقوق حاصل کر رکھے ہیں<br></p>

مرگی کی ادویات پاکستان کی دو کمپنیاں تیار کرتی ہیں جنہوں نے ایک غیر ملکی کمپنی سے ان کے حقوق حاصل کر رکھے ہیں

"مرگی کی عام ادویات کی قلت پانچ چھ ماہ پہلے شروع ہوگئی تھی اور اب مارکیٹ میں آپ کو مرگی کی کوئی ریگولر دوا نہیں ملے گی۔ مسئلہ یہ کہ ہم اس دوا کا کوئی متبادل نہیں دے سکتے"۔

ڈاکٹر دانش ملک نے بتایا کہ وہ تین ہفتوں سے لگ بھگ 30 ایسے مریضوں کا چیک اپ کر چکے ہیں جو کہ پانچ چھ سال سے مسلسل دوا استعمال کرنے کی وجہ سے صحت مند زندگی گزار رہے تھے اور اب دوا نہ ملنے کی وجہ سے انہیں دوباہ دورے پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ طبی تحقیق کرنے والے اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک فیصد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔

''یعنی اگر کسی شہر کی آبادی 20 لاکھ ہے تو اس میں مرگی کے 20 ہزار مریض ہوسکتے ہیں اور یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ مر گی کی ریگولر ادویات دوسری دواؤں کی نسبت سستی اور باآسانی دستیاب رہی ہیں۔ لیکن اب ان کی قلت کے باعث جو ادویات ہمیں مجبوراً لکھنا پڑ رہی ہیں وہ کافی مہنگی ہیں اور ان کا اثر بھی ویسا نہیں ہوتا ہے۔ کئی مریض کچھ روز یہ متبادل ادویات استعمال کرکے چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے فوری بعد ان کی حالت نازک ہو جاتی ہے"۔

ڈاکٹر ہما رشید لاہور کی یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں فارما سیوٹیکل ریسرچر کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرگی کی ادویات ہمیشہ سے عالمی ادارہ صحت کی ضروری ادویہ والی فہرست میں شامل رہی ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی تیاری اور ترسیل کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ ایسی ادویات کی قلت تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوال ہے۔

ڈاکٹر ہما نے بتایا کہ مرگی کے علاج میں سب سے بڑا مسئلہ تسلسل کا ہے یعنی مریض دوا کی ایک خوراک بھی چھوڑ نہیں سکتا۔ اگر دوا چھوڑ کر دوبارہ شروع کی جائے تو اکثر صورتوں میں اس کا اثر نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں دیگر دوائیں بھی ساتھ شامل کرنا پڑتی ہیں جو نہ صرف مہنگی ہو سکتی ہیں بلکہ ان کی اثر پذیری کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ڈاکٹر ہما کے مطابق اگر متبادل ادویات اثر نہ کریں تو مرگی کے مریض کو دیگر دماغی بیماریاں بھی گھیر لیتی ہیں اور اس کا مرض پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کے صدر ڈاکٹر سجاد مصطفیٰ مرگی کی دواؤں کی قلت کو "ڈرگ مافیا" کی کارروائی قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

"مرگی کے 95 فیصد مریض غریب یا سفید پوش ہوتے ہیں۔ ادویات میسر نہ ہونے سے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں روزانہ اس بیماری کے کئی سیریس مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔''

مرگی کی ادویات کی قلت کے حوالے سے لوک سُجاگ نے شہر کے مختلف میڈیکل سٹورز کا وزٹ کیا تو لگ بھگ تمام دکانداروں کا یہی کہنا تھا کہ "مرگی کے علاج استعمال ہونے والی دو ادویات (Valporic Acid) اور (Carbamazepine)کمپنی کی طرف سے ہی نہیں آ رہیں۔''

انہوں نے تسلیم کیا کہ ان دونوں ادویات کی مارکیٹ میں قلت ہو گئی ہے اور سٹورز پر جو ادویات پہلے سے موجود تھیں وہ اب ختم ہو چکی ہیں۔

منیر چوک میں فارمیسی چلانے والے اظہر حسین نے لوک سُجاگ کو بتایا کہ وہ کئی مرتبہ کمپنی کو ادویات کی ترسیل بارے میں کہہ چکے ہیں۔ اسی کمپنی کی تیار کردہ دوسری ادویات تو باقاعدگی سے آرہی ہیں لیکن مرگی کی دونوں ادویات کی سپلائی پہلے کم کر دی گئی تھی جو اب کچھ عرصہ سے مکمل طور پر بند ہے۔

محمد اقبال نامی مریض نے لوک سُجاگ کو بتایا کہ وہ پہلے جس دوا کا استعمال کرتے تھے وہ 15 سے 20 روپے روزانہ میں پڑتی تھی اور اب نئی دوا پر روزانہ 300 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ جن غریبوں کے گھروں میں کھانے کو آٹا نہ ہو وہ تین سو روپے کی دوا کہاں سے خریدیں گے؟

"میں اپنے بیوی بچوں کو کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے مرگی کے باعث کچھ ہوگیا تو انہوں نے حکمرانوں کے خلاف مقدمہ درج کروانا ہے کیونکہ صحت کی سہولیات دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر دوائی نہیں مل رہی تو یہ بھی حکومت کی نالائقی ہے۔ کیا حکمرانوں کو علم نہیں کہ ہر شہر میں ہزاروں مریض ادویات نہ ملنے کے باعث ذلیل و خوار ہورہے ہیں؟"

شہر کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں بھی مرگی کے مرض کی یہ دوائیں موجود نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

''دوا نہ ملی تو ہمارے بچوں کے چہرے داغ دار ہو جائیں گے''

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کامونکی کے سٹور انچارج نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کو ختم ہو جانے والی ادویات کی فہرست بھجوائی جاتی ہے۔ مرگی کی دواؤں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ کیا جا چکا ہے کہ یہ دوائیں ختم ہو گئی ہیں لیکن دو تین مرتبہ یاد دہانی کے باوجود ادویات سپلائی نہیں کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ فی الوقت صرف سول ہسپتال گوجرانوالہ اور پاک آرمی کے زیر انتظام چلنے والے سی ایم ایچ میں ہی مرگی کی دوائیں دستیاب ہیں۔

 سول ہسپتال میں سال بھر کی ضرورت کی دوائیں اکٹھی خرید لی جاتی ہیں اور اب قلت ہو جانے پر صرف انہی مریضوں کو یہ ادویات مل رہی ہیں جو پہلے سے سول ہسپتال میں رجسٹرڈ ہیں اور ادویات لے رہے ہیں۔

جہاں تک سی ایم ایچ کا معاملہ ہے تو ہر مریض کی اس ہسپتال تک رسائی نہیں ہے اور وہاں رجسٹرڈ مریضوں کو بھی اب دس روز سے زیادہ عرصہ کی دوا نہیں مل رہی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر فریحہ اکرم نے لوک سُجاگ کو بتایا کہ مرگی کی ادویات پاکستان ہی کی دو کمپنیاں تیار کرتی ہیں جنہوں نے ایک غیر ملکی کمپنی سے ان ادویات کی تیاری کے حقوق حاصل کر رکھے ہیں۔ پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی اور پی ایم اے کی طرف سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو اس بارے میں تحریری اطلاع دے دی گئی ہے اور امید ہے کہ مرگی کی سستی ادویات کی قلت کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں ادویات کی قلت سے متعلق فوکل پرسن ایوب نوید تصدیق کرتے ہیں کہ مرگی کے علاج میں عام استعمال ہونے والی دوا Valporic Acid اور Carbamazpine مارکیٹ میں نایاب ہیں۔

وہ ان دواؤں کی قلت کا سب سے بڑا سبب ڈالر کی قیمت میں اضافے کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے خام مال کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو مذکورہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی جا چکی ہے۔ تاہم وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مرگی کی دوائیں کب دستیاب ہوں گی۔

تاریخ اشاعت 29 اپریل 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

احتشام احمد شامی کا تعلق وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ لوک سُجاگ کے علاؤہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس کام کرتے ہیں۔ اس سے پہلے دنیا نیوز کے گوجرانوالہ بیورو میں چھ سال تک بطور چیف رپورٹر اور آپ نیوز کے ساتھ دو سال بطور بیورو چیف کام کر چکے ہیں۔

آخر کب تک اپنے بے گناہ بچوں کی لاشیں اٹھائیں گے

نہ دیکھنے کی اتنی سخت سزا نہ دی جائے