الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

postImg

آصف محمود

postImg

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

آصف محمود

لاہور میں جی ٹی روڈ، فیروز پور روڈ، ملتان روڈ یا کینال روڈ پر سفر کریں تو کوئی نہ کوئی گہرا سیاہ دھواں چھوڑتی گاڑی خاص طور پر رکشہ یا موٹرسائیکل ضرور نظر آئے گی۔ یہ گاڑی چلانے والے کو شاید احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اس عمل سے ماحول میں کس قدر آلودگی پھیل رہی ہے۔

لاہور کی نشتر روڈ، دو موریہ،گڑھی شاہو سمیت کئی علاقے ایسے ہیں جہاں رکشوں اور گاڑیوں کے دھویں کی وجہ سے سانس لینا بھی دشوار ہوتا ہے۔

فضائی آلودگی کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی، ماحول کی ایسی خرابی ہے جو کسی کیمیائی، طبعی یا حیاتیاتی اثر  کے ذریعے ماحول کی قدرتی خصوصیات کو تبدیل کر دیتی ہے۔ جس کے بڑے ذرائع ڈیزل، پٹرول وگیس پر چلنے والی گاڑیاں، فیکٹریاں، گھریلو آلات (ائرکنڈیشنرز، فریج وغیرہ) اور فصلوں پر چھڑکے جانے والے زہر اور جنگل کی آگ مانے جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کہتی ہے کہ فوسل فیول (پٹرول، ڈیزل وغیرہ) جلنے سے کاربن مانو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوتی ہیں جو بیماریوں اور اموات کی بڑی وجہ ہیں۔

میوہسپتال لاہور کے سینئر ماہر طب ڈاکٹر سلمان کاظمی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں کینسر، دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا سبب ڈیزل، پٹرول میں موجود زہریلے مادوں کی زائد مقدار ہے۔ کئی اقسام کی الرجی و دیگر بیماریوں کے ساتھ لوگوں کی آنکھیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

دنیا میں فضائی آلودگی کی مانیٹرنگ کر نے والے ادارے ائر کوالٹی انڈکس کے مطابق  2018ء میں پاکستان کو مجموعی طور پر دنیا کا دوسرا آلودہ ترین ملک قرار دیا گیا جہاں سالانہ پی ایم 2.5 اوسط 74.3 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر رہی۔

اسی سال  ورلڈ ائر کوالٹی رپورٹ میں لاہور کا درجہ دسواں جبکہ فیصل آباد کا فضائی آلودگی میں تیسرا نمبر تھا۔

لاہور میں عام طور پر سردیوں کے موسم میں اکتوبر سے فروری تک فضا میں بدترین آلودگی ہوتی جب شہر میں ٹریفک کے دھویں کے ساتھ کسان بھی فصلوں کی باقیات جلا رہے ہوتے ہیں۔

نومبر 2019ء میں لاہور دنیا میں باقاعدگی سے دہلی کے بعد دوسرے نمبر پر آیا اور بعض اوقات بھارتی دارالحکومت کو پیچھے چھوڑ دیتا تھا۔

فضائی آلودگی مانیٹر کرنے والا ایک اور عالمی ادارہ  اے کیو آئی سی این بتاتا ہے کہ اگر فضائی آلودگی کی سطح صفر سے 50 تک تو یہ ہوا کی اچھی کوالٹی ہوتی ہے تاہم اگر یہ سطح 51 سے 100 کے درمیاں پہنچ جائے تو یہ قابل قبول ہے۔

اسی ادارے کے مطابق اگر فضا میں آلودگی 101 سے 150 کے درمیان ہو تو  حساس طبیعت یا بیمار افراد کے لیے ٹھیک نہیں۔

اسی طرح 151 سے 200 تک  کی سطح ہر ایک کے لیےمضر صحت، 201 سے 300 تک انتہائی مضر صحت ہوتی ہے لیکن جب فضا میں آلودگی کا لیول 300 سے اوپر  ہوتا تو یہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے لاہور میں آلودگی کا لیول کئی بار ساری حدیں پھلانگ چکا ہے۔

 اے کیو آئی سی این  کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ اکتوبر کے دوران لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح نو دن 200 سے 400 کے درمیان رہی جبکہ  نومبر کے 14 دن یہ لیول 200 سے 400 کے درمیان رہا۔

پچھلے دسمبر میں تو حد ہی ہو گئی تھی جب چار دن ائیرکوالٹی انڈکس 400 کو عبور کر گیا جبکہ 13 روز یہ سطح 300 سے 400 کے درمیان اور 13 دن 200 سے 300 رہی۔

رواں سال جنوری  میں ایک دن انڈکس 400 سے اوپر،جبکہ 18 دن 300 سے 400 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔

ایشیا یورپ فاؤنڈیشن کی 2021ء کی ایک سٹڈی رپورٹ  کے مطابق پنجاب بھر میں ایک کروڑ 96 لاکھ 55 ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں جن میں سے 62 لاکھ 65 ہزار ( تمام گاڑیوں کا تقریباً ایک تہائی) لاہور میں رجسٹرڈ ہیں۔

اس ضلعے کی کل گاڑیوں میں سے آٹو رکشوں کی تعداد دو لاکھ سے زائد جبکہ موٹر سائیکلوں کی تعداد 42 لاکھ 98 ہزار ہے جو کہ گاڑیوں کی مجموعی تعداد کا 68 فیصد بنتی ہے۔

 پنجاب اربن یونٹ کی ایمیشن انوینٹری  آف 2023ء ظاہر کرتی ہے کہ لاہور کی فضائی آلودگی میں 83 فیصد سے زیادہ حصہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔

 اسی رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں 2011ء کے بعد گاڑیوں کی تعداد میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2011ء میں یہاں گاڑیوں کی تعداد ساڑھے 23 لاکھ 90 ہزار تھی جو 2019 ء میں 51 لاکھ 60 ہزار، 2020ء میں 57 لاکھ جبکہ 2021 ء کے اختتام تک 62 لاکھ 90 ہزار ہو گئی۔

لاہور میں2011ء سے 2021ء کے درمیان موٹر سائیکل/سکوٹر کی مجوعی تعداد میں 69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ فضائی آلودگی میں اضافہ روکنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ  مدد گار ثابت ہو سکتا ہے جس سے شہر میں ٹریفک کا شور بھی کم ہو جائے گا۔ اسی سلسلے  میں پنجاب میں الیکٹرک (ای) گاڑیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ ای رکشے اور ای موٹر سائیکل اب سڑکوں پر نظر آنا بھی شروع ہوگئے ہیں۔

اسی پالیسی کے تحت صوبائی حکومت نے چنگ چی رکشوں کی مینوفیکچرنگ پر پابندی عائد کر دی ہے اور لاہور میں آٹو رکشوں کو بتدریج بند کیا جائےگا جبکہ روایتی چنگ چی اور آٹو رکشوں کے متبادل کے طور پر ای رکشے اور موٹرسائیکل متعارف کرا دیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان تصدیق کرتے ہیں کہ لاہور کی فضائی آلودگی میں 70 سے 80 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ کا ہے جبکہ اس آلودگی میں 70 فیصد کردار روایتی رکشے اور موٹر سائیکل ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے حکومت نے پہلے مرحلے میں رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو بجلی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

"اگر ہم دو اور تین وہیلر گاڑیوں کو بجلی پر لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمارے شہر کی ائر کوالٹی کے معیار میں 30 سے 40 فیصد بہتری ہو گی۔ اس سے صرف فضائی آلودگی میں ہی کمی نہیں آئےگی بلکہ انتہائی مہنگے ایندھن یعنی پٹرول کا استعمال بھی کم ہو جائےگا جو شہریوں خاص طورپر طلبا کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔"

محکمہ تحفظ ماحولیات، پنجاب کے ڈائریکٹر نسیم الرحمن بتاتے ہیں کہ ای موٹر سائیکل اور ای رکشے سمیت الیکٹرک وہیکلز میں چونکہ کسی قسم کا فوسل فیول (کوئلہ، تیل وغیرہ) استعمال نہیں ہو گا تو ان سے آلودگی بھی پیدا نہیں ہو گی۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے نوجوان کارکن فہد الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کے حکومتی فیصلے کو قابل ستائش قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس سے فضائی آلودگی کی شرح میں کمی نہیں آئے گی کیونکہ جو گاڑیاں اس وقت سڑکوں پر چل رہی ہیں وہ تو موجود رہیں گی تاہم ہرسال نئی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا اضافہ نہیں ہو گا۔

" کم از کم ہمیں غیر میعاری ایندھن استعمال کر نے والے رکشے پر مکمل پابندی لگانی پڑے گی۔"

پبلک پالیسی اور ماحولیات کے ماہر داور بٹ سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ محکموں کو ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات اور سنگینی کا ادراک ہے جو اچھی بات ہے ۔ اس حوالے سے ائر کوالٹی پالیسی 2023ء میں آلودگی کی وجوہات کے خاتمے کے لیے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان پالیسیوں پر عمل نہیں ہو رہا۔

وہ بتاتے ہیں کہ 2018ء سے لاہور میں الیکٹرک بسیں لانے کی بات ہو رہی ہے مگر اس پر ابھی تک عمل نہیں ہو پایا۔ تاہم الیکٹرک رکشوں و موٹر سائیکلوں کی تیاری اور اسمبلگنگ شروع ہو گئی جبکہ حکومت نے 10 ہزار ای موٹر سائیکل اقساط پر دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے لیکن یہ کافی نہیں۔

وہ بھی فہدملک کی بات کی تائید کرتے ہیں کہ روایتی چنگ چی اور آٹو رکشوں پر مکمل پابندی لگانا ہو گی اور ان لوگوں کو متبادل کے طور پرای رکشے اور موٹر سائیکل دینا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

کیا حکومت الیکٹرک بائیکس اپنانے کے لیے لوگوں کو کوئی مراعات دے گی؟

الیکٹرک گاڑیوں سےآلودگی میں کمی کے امکانات اپنی جگہ درست لیکن بعض ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں کہ ای وہیکلز سے کوئی آلودگی پیدا نہیں ہو گی۔

سان فرانسسکو ایسٹوری  انسٹی ٹیوٹ اینڈ ایکوا سائنس سنٹر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ گاڑیوں کے ٹائروں سے انتہائی چھوٹے ذرات جھڑتے رہتے ہیں جو آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک کار کے ٹائروں سے سالانہ تین سے ساڑھے پانچ کلو گرام تک مائیکروپلاسٹک ذرات پیدا ہوتے ہیں۔

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ لیاقت بتاتی ہیں کہ گاڑی گیسولین ایندھن والی ہو یا الیکٹرک جب یہ سڑک پر دوڑتی ہے تو ہر چکر کے ساتھ ٹائر سے انتہائی چھوٹے ذرات الگ ہوتے ہیں جو فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اس آلودگی کے علاوہ، ٹائر بنانے میں ایک خاص قسم کا کیمیکل 'پی پی ڈی 6' استعمال ہوتا ہے جو ربڑ کو ٹوٹنے یا پھٹنے سے روکتا ہے۔ یہ مادہ سڑکوں سے بارش کے ذریعے بہہ کر دریاؤں اور سمندروں میں جاتا ہے، جو آبی حیات کے لیے سخت نقصان ہے۔

ڈاکٹر عائشہ لیاقت کا کہنا تھا کہ کہ الیکٹرک گاڑیوں میں بھاری بیٹریوں کے استعمال کی وجہ سے ان کا وزن عام گاڑیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جس کے لیے انہیں زیادہ مضبوط ٹائروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ای گاڑیاں دھواں تو پیدا نہیں کریں گی لیکن ان کے ٹائروں کی آلودگی برقرار رہے گی۔

وہ تجویز کرتی ہیں کہ اس مسئلے  پر قابو پانے کے لیے دنیا میں ہونے والی نئی پیشرفت اور پالیسیوں پر نظر رکھنا ہو گی۔

تاریخ اشاعت 12 اپریل 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

آصف محمودکا تعلق لاہور سے ہے۔ گزشتہ 20 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ غیرمسلم اقلیتوں، ٹرانس جینڈرکمیونٹی، موسمیاتی تبدیلیوں، جنگلات، جنگلی حیات اور آثار قدیمہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.