ای بائیکس اور سکوٹی نے طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کی زندگی آسان بنا دی ہے

postImg

حنا انور

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ای بائیکس اور سکوٹی نے طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کی زندگی آسان بنا دی ہے

حنا انور

loop

انگریزی میں پڑھیں

مریم النسا، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں وکالت کے دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔ ان کا تعلق خانقاہ شریف سے ہے۔ مریم بتاتی ہیں کہ یونیورسٹی ان کے گھر سے 16 کلو میٹر دور ہے۔

پہلے سال تو وہ رکشے پر یونیورسٹی آتی جاتی تھیں، ماہانہ 10 ہزار روپے رکشے والے کو دینا ہوتے تھے۔ تیسرے سمسٹر میں انہیں ایک لاء فرم میں انٹرن شپ مل گئی  تو مسئلہ ہو گیا۔

رکشے والا انہیں صبح گھر سے یونیورسٹی چھوڑتا، کلاسز ختم ہونے کے بعد انہیں دفتر لے جاتا اور شام کو پھر سے گھر چھوڑتا۔ اس سارے چکر میں وقت ضائع ہوتا اور رکشے والےنے کرایہ بھی ڈبل کر دیا تھا۔ ان کے دیگر پانچ بہن بھائیوں کے بھی تعلیمی اخراجات ہیں، اس اضافی خرچ سے گھر کا بجٹ بڑی حد تک متاثر ہو رہا تھا۔

مریم کے والد نے  کسی عزیز کے مشورے پر انہیں الیکٹرک سکوٹی لے دی جس سے مریم کی زندگی آسان ہو گئی۔

" اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا ہے، مجھے آنے جانے کے لیے کسی کا انتظار نہیں کرنا پڑتا دوسرا کرائے کی مد میں بہت بچت ہوئی۔ سکوٹی شور نہیں  کرتی اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا دھواں نکلتا ہے۔ جب اپنی سہیلیوں کو لفٹ دیتی ہوں تو مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اور میرے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے"۔

ادارہ شماریات پاکستان کی 23-2022ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریبا دو کروڑ 68 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں رجسٹر ہیں۔ سال 2023ء میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 331 روپے تک پہنچ گئی تھی، جس سےآمدورفت کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل ہورہے ہیں۔

علی روشن لاہور کے رہائشی ہیں وہ ایک سافٹ وئیر انجینئر ہیں۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے الیکٹرک بائیک استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا دفتر جوہر ٹاؤن لاہور میں ہے، انہیں دفتر جانے کے لیے تقریبا 20 کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ پہلے وہ دفتر آنے جانے کے لیے گاڑی استعمال کرتے تھے، لیکن پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے انہیں ماہانہ 25 ہزار روپے صرف پیٹرول پر خرچ کرنا پڑتے تھے۔

ان کے ایک کولیگ نے انہیں ای بائیک کے متعلق بتایا تو وہ ایک دن دفتر سے واپسی پر شوروم چلے گئے، ای بائیک کی ٹیسٹ ڈرائیو لی تو انہیں بہت اچھا لگا کیونکہ اسے چلانا بھی آسان تھا اور اس کا شور بھی نہیں تھا۔

’'میرا بجٹ دولاکھ روپے کا تھا تو میں نے ایم سکس ای بائیک خرید لی۔میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں پر سولر کی سہولت موجود ہے ۔میں اپنی بائیک کو دفتر سے چارج کر لیتا ہوں۔ یہ چار سے پانچ  گھنٹے میں چارج ہو جاتی ہے اور بجلی کا ڈیڑھ یونٹ لیتی ہے۔"

ای وی یعنی بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اور بائیکس سہولت تو ہیں لیکن بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ اور فاسٹ چارجنگ پوائنٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ ان پر منتقل ہونے سے گھبراتے ہیں۔

دعا مرزا ایک صحافی ہیں اور وہ گزشتہ پانچ سالوں سے موٹرسائیکل پر آفس آتی جا تی ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ وہ  کافی عرصے سے فیلڈ ورک اور دفتر آنے جانے کے لئے موٹر سائیکل استعمال کر رہی ہیں لیکن الیکٹرک بائیک کے حوالے سے انہیں کچھ تحفظات ہیں۔

ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ شہر میں چارجنگ پوائنٹس بڑھا دیے جائیں تو میرے جیسے کئی لوگ جو فیلڈ ورک کے لیے دفتر اور گھر سے زیادہ تر باہر رہتے ہیں وہ بھی انہیں خریدنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے"۔

ڈاکٹر آذر خان، میکنکل انجینئر ہیں۔تقریبا دو دہائیوں تک یورپ کی مختلف کمپنیوں کے ساتھ بطور ای وی ایکسپرٹ کام کرتے رہے ہیں، اس وقت لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ  ای بائیک میں چارجر بالکل ایسا ہی ہے جیسا موبائل فون یا لیپ ٹاپ کا ہوتا ہے جسے دفتر، گھر، دکان اور فیکٹری ہر جگہ چارج کیا جا سکتا ہے۔

"بائیکس میں فیول گیج کی طرح چارجنگ گیج لگا  ہوتا ہے۔ پیٹرول موٹر سائیکل کی طرح اس میں بھی ریزور لگتا ہے اور ریزور میں آنے کے بعد بھی بائیک 30 کلومیٹر تک چل سکتی ہے۔ لہٰذا جب بھی بیٹری ختم ہونے لگے اس دوبارہ چارج کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اضافی چارج شدہ بیٹری بھی ساتھ رکھی جا سکتی ہے"۔

ڈاکٹر آزر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ای بائکس میں لگنے والی بیٹریاں مہنگی ہوتی ہیں اس لیے ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ  لوگوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر پیٹرول سے چلنے والی بائیک 50 کلومیٹر ایوریج دیتی ہے تو اس کا ماہانہ خرچہ تقریباً چار ہزار  روپے آئے گا لیکن الیکٹرک بائیک کا خرچہ صرف 500 روپے آئے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کی مرمت ایک عام الیکٹریشن کر سکتا ہے۔ یہ ماحول دوست ہیں کیونکہ یہ کسی قسم کا دھواں پیدا نہیں کرتیں جبکہ پیٹرول کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیات کے مطابق 2030ء تک 90 فیصد موٹر سائیکلیں الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر منتقل ہو جائیں تو  2050ء تک کاربن کے اخراج میں 11 ارب ٹن کمی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سڑکوں پہ میرے شہر کی کب تک دھواں رہے: کیا برقی گاڑیاں چلا کر پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے نجات حاصل کر سکتا ہے؟

پاکستان میں 2019 میں الیکٹرک وہیکل پالیسی 25-2020 منظور کی گئی تھی۔ پالیسی کے تحت 2030ء تک 30 فیصد اور  2040ء تک 90 فیصد مسافر گاڑیوں اور ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

مگر زمینی حالات الیکٹرک وہیکل پالیسی سے بہت مختلف ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوارکے مطابق اس وقت پاکستان میں صرف چھ کمپنیاں الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار یا اسمبل کر رہی ہیں جبکہ 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

سمیرا حنا، بہاولپور کی رہائشی ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کی پہلی خاتون ڈیلر ہیں جو بہاولپور اور مظفرگڑھ میں الیکٹرک بائیکس فروخت کر رہی ہیں۔

وہ خواتین کسٹمرز کو خصوصی ڈسکائونٹ بھی دیتی ہیں۔ پچھلے چھ ماہ میں انہوں نے 15 ای بائیکس فروخت کی ہیں جن میں سے دو مردوں نے اور باقی 13 خواتین نے خریدی ہیں۔

" ان میں 90 فیصد خواتین ایسی ہیں جنہوں نے کبھی بائیک نہیں چلائی۔ دراصل ای بائیک کو چلانے کے لئے کک نہیں لگانی پڑتی بلکہ یہ ایک سوئچ دبانے سے سٹارٹ ہو جاتی ہے۔کسٹمرز بہت خوش بھی ہیں کیونکہ ان کی فیول کی مد میں ماہانہ 15 ہزار روپے تک کی بچت ہو رہی ہے"۔

سمیرا حنا نے لوک سجاگ کو بتایا کہ اس وقت ای بائیک کی قیمت 90 ہزار سے دو لاکھ 25 ہزار روپے تک ہے۔

وقار انور، ساحر الیکٹرک کے مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا ادارہ ریٹروفٹنگ کے آلات بناتا ہے جس سے پیٹرول پر چلنے والی بائیکس یا گاڑیوں کو باآسانی بجلی پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ وقار انور  نے لوک سجاگ کو بتایا کہ جو لوگ ای بائیک خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ اپنی پیٹرول پر چلنے والی بائیک کو ریٹروفٹنگ کے ذریعے ای بائیک میں بدل سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت 6 فروری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی حنا انور نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کر رکھا ہے۔ صنفی مساوات، ماحولیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔

منوڑہ میں چار سو سالہ پرانا مندر دیکھنے والوں کو اب بھی اپنی جانب کھینچتا ہے

thumb
سٹوری

چھ سالوں سے سیالکوٹ میں پبلک پارک کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعابد محمود بیگ
thumb
سٹوری

"خیراتی ہسپتال کے عملے نے شاپر میں بچے کا دھڑ تھما کر کہا فوراً مٹھی ہسپتال جائیں، مریضہ کی حالت نازک ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو
thumb
سٹوری

رحیم یار خان میں کپاس کی کاشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعرفان الحق
thumb
سٹوری

گرینائٹ کا لالچ ننگر پارکر میں سب کچھ کیسے تباہ کر دے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

پشاور: افغان خواجہ سراؤں کی ملک بدری پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

thumb
سٹوری

موسمیاتی تبدیلیاں بلوچستان میں کھجور کو کیسے متاثر کر رہی ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفیروز خان خلجی

کشمیر: چار روزہ سنو فیسٹیول

thumb
سٹوری

عام انتخابات 2024ء: پولنگ سٹیشن سے آر او آفس تک کا سفر، انتخابی نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

مخصوص نشستوں کی اگر مگر اور بنتے بگڑتے نمبر: کونسی پارٹی کہاں حکومت بنا پائے گی اور کیسے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی

نظام مصطفیٰ، ضیاالحق اور 1977 کے انتخابات کی کہانی

thumb
سٹوری

کوئٹہ شہر کچرے اور پلاسٹک کا ڈھیر کیوں بنتا جا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعطا کاکڑ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.