درگئی پاور پلانٹ ہر سال جرمانہ کیوں ادا کر رہا ہے؟

postImg

تیمور خان

postImg

درگئی پاور پلانٹ ہر سال جرمانہ کیوں ادا کر رہا ہے؟

تیمور خان

ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر یکم نومبر2008 ء کو مالاکنڈ تھری ہائیڈرو پاور کمپلیکس کی پیداواری صلاحیت 20 میگا واٹ سے بڑھا کر 81 میگاواٹ کر کے اسے درگئی گرِڈ سٹیشن کی 132 کلو واٹ ٹرانسمِشن لائن کے ذریعے نیشنل گرِڈ سے منسلک کر دیا گیا۔ مگر 14 سال بعد آج یہ منصوبہ طے شدہ اہداف سے سالانہ 153 میگاواٹ کم بجلی پیدا کر رہا ہے جس کے باعث اسے ہر سال نہ صرف 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی دینا پڑتا ہے۔

بجلی پیدا کرنے کا یہ پلانٹ پشاور سے 87 کلومیٹر شمال کی جانب ضلع مالاکنڈ کے شہر درگئی میں واقع ہے۔ خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی نے اس منصوبے سے حاصل ہونے والی بجلی نیشنل ٹرانسمِشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو 25 سال کے لئے فروخت کر دی۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے طے کردہ نرخ کے مطابق پہلے 10 سال تک اس کے ایک یونٹ کی قیمت 4.55 روپے مقرر کی گئی۔ اس کے بعد اگلے 15 سال تک اس کی قیمت 2.64 روپے فی یونٹ طے ہوئی۔ اس طرح 25 سال کے لئے مجموعی طور پر فی یونٹ اوسط قیمت 3.91 روپے بنتی ہے۔

پانچ ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس مںصوبے سے مالی سال 09-2008 اور 22-2021 کے درمیانی عرصہ میں ساڑھے 31 ارب روپے آمدنی ہوئی۔ اس طرح 14 سال میں اس منصوبے نے سالانہ اوسطاً دو ارب 25 کروڑ روپے کمائے۔

اس کی پیداواری صلاحیت میں ہونے والی توسیع کے بعد بجلی کی خرید و فروخت سے متعلق وفاقی ادارے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے 2019ء میں اس منصوبے کا ڈیمانسٹریٹِڈ کمپلیکس انرجی ٹیسٹ (ڈی سی ای ٹی) کیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ منصوبہ 81 میگا واٹ کے بجائے 74.88 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ چنانچہ اسے آٹھ کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا گیا۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے 21 دسمبر 2021 کو بجلی کی پیداوار میں لیکوڈیٹیڈ ڈیمیجز کی مد میں خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی سے 12 کروڑ 39 لاکھ روپے اور دوسری مرتبہ 29 نومبر 2022 کو 20 کروڑ 91 لاکھ روپے کی کٹوتی کی۔ اگر 2019 سے نومبر 2022 تک کا جائزہ لیا جائے تو پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کومجموعی طور پر تقریباً 40 کروڑ روپے سے زیادہ جرمانہ دینا پڑا۔

سنہ 2019ء میں عائد کئے جانے والے جرمانے کے بارے میں خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کے چیف انجنیئر محمد امین خلیل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''بجلی کی کم پیداوار پر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کو قصور وار ٹھہرانا مناسب نہیں یہ جرمانہ آپریشن اور مینٹینینس کمپنی (الفجر انٹرنیشنل نورینکو—جے وی) کو ہونا چاہیے تھا۔''

اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار کے علاوہ 25 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جانا تھا جو 14 سال بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا<br>اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار کے علاوہ 25 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جانا تھا جو 14 سال بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امین خلیل واپڈا کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جن کی خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی میں دوبارہ تقرری کو بھی خلافِ قانون قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی تعیناتی 7 فروری 2018ء کو ہوئی جب انہیں چار لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی میں آپریشن اینڈ مینجمنٹ ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔

مئی 2021ء میں انہیں چیف انجینئر کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا جبکہ قواعد کے مطابق باہر سے کسی کو اس عہدے پر مقرر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور اس عہدے پر اس سے نچلے درجے کے افسر کو ہی ترقی دی جانی چاہیے۔
فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار کے علاوہ 25 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جانا تھا جو 14 سال بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا۔ خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق اس مقصد کے لئے صوبائی محکمہ آبپاشی نے 'بائے زئی' نامی منصوبہ شروع کر رکھا ہے لیکن اس منصوبے کی تکمیل کی مدت کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔

مسئلہ کہاں ہے؟

امین خلیل ڈیم کی صفائی نہ ہونے کو اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار میں کمی کا بنیادی سبب بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''ڈیم کے ڈیزائن میں خودکار صفائی کا نظام موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی عام طریقے سے صفائی کرنا پڑتی ہے جس کے لئے پورے سسٹم کو 36 گھنٹے کے لئے بند رکھنا پڑتا ہے۔ ڈیم کی صفائی کے لئے ٹریش ریک کلیننگ مشین درکار ہے جو ابھی تک خریدی نہیں گئی۔''

سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس مشین کی خریداری کے لئے پہلی بار یکم دسمبر 2020ء کو ٹینڈر دیا گیا۔ جس کو بعد میں نامعلوم وجوہات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ دوسری بار 11 جنوری 2021ء کو ٹینڈر ہوا جس میں صرف ایک بِڈر (بولی دینے والے) نے شرکت کی جس کی وجہ سے اسے بھی منسوخ کرنا پڑا۔ تیسری مرتبہ 24 مئی 2021ء کو ٹینڈر ہوا لیکن اس بار بھی صرف ہی ایک بِڈر، الفجر انٹرنیشنل نے شرکت کی جس کے وجہ سے یہ ٹینڈر بھی منسوخ ہو گیا۔

چوتھا ٹینڈر 21 جنوری 2022ء کو جاری ہوا جس میں دو کمپنیوں نے حصہ لیا۔ کیم ٹیک انجینئرنگ سروسز پرائیوٹ لمیٹڈ۔جے وی نے 95 کروڑ اور الفجر انٹرنیشنل نے ایک ارب 29 کروڑ روپے کی بولی لگائی۔ تاہم بولی میں کم از کم دو بِڈرز کی شرط پوری ہونے کے باوجود یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی نے بظاہر قواعد و ضوابط کے صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے فنانشل اور بعد میں ٹیکنیکل (تکنیکی درجہ بندی) بِڈ کو کھولا اور اس طرح کیم ٹیک انجینئرنگ کی کم بولی کو مسترد کر دیا گیا۔ یوں یہ معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔

کم بولی دینے والی کمپنی 27 جولائی 2022ء کو اپنا کیس خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس لے گئی جس نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس نے 31 اگست 2022ء کو جاری ہونے والے اپنے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ مشین کی خریداری کے لئے وضع کردہ سٹینڈرڈ بِڈنگ ڈاکومنٹ خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس فیصلے میں کیم ٹیک انجینئرنگ کو مشین کی خریداری کا اہل قرار دیتے ہوئے خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کو ہدایت کی کہ وہ وضع کردہ قواعد و ضوابط کے تحت یہ خریداری ممکن بنائے۔ تاہم ابھی تک یہ مشین خریدی نہیں جا سکی۔

خیبر پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ کمپنی کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ٹریش ریک کلینگ مشین کی تنصیب سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے جس کے بعد پلانٹ جرمانوں سے بھی بچ جائے گا ’’لیکن اس منصوبے کے کرتا دھرتا لوگ نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔''

تاریخ اشاعت 17 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تیمور خان کا تعلق پشاور سے ہے وہ گزشتہ 9 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں وہ گورننس، صحت اور سیاست پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.