بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات: ملزموں کو معاف کرنے کے لیے لواحقین پر کس قِسم کا دباؤ ہوتا ہے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات: ملزموں کو معاف کرنے کے لیے لواحقین پر کس قِسم کا دباؤ ہوتا ہے۔

ارحبا وسیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات: ملزموں کو معاف کرنے کے لیے لواحقین پر کس قِسم کا دباؤ ہوتا ہے۔

ارحبا وسیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

نو سالہ اشراق احمد عرف بوبی سکول سے گھر واپس آنے کے بعد کھیلنے کے لیے نکل گیا۔ لیکن جب وہ دن ڈھلنے کے بعد بھی واپس نہ آیا تو اس کی والدہ سلمیٰ بی بی اسے گلیوں میں دیوانہ وار ڈھونڈنے لگیں۔   
انہوں نے چند روز پہلے ایک بچی کو جنم دیا تھا اور شدید نقاہت محسوس کر رہی تھیں۔ اس کے باوجود وہ رات گئے تک بوبی کو ڈھونڈتی رہیں کیونکہ ان کے شوہر منور حسین فالج زدہ ہونے کی وجہ سے بھاگ دوڑ نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم بچے کی تلاش میں ناکام ہونے کے بعد اگلی صبح انہوں نے قریبی تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی۔ 

ایک دن بعد پولیس نے بوبی کی لاش اس کے گھر کے قریب گنے کے کھیت سے دریافت کر لی۔ اسے مارنے کے لیے اس کے گلے میں اسی کی قمیض کا پھندا ڈالا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسے مارنے سے پہلے اس سے جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ 

یہ واقعات 9 اور 10 جنوری 2018 کو ضلع قصور کی پتوکی نامی تحصیل میں واقع ڈھولن (چک نمبر 27) گاؤں میں پیش آئے۔ انہی دنوں اسی ضلعے کی رہنے والی زینب نامی بچی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی اور اس کا قتل شہ سرخیوں میں رپورٹ ہو رہے تھے جس کے باعث قصور کی پولیس پر شدید عوامی دباؤ تھا کہ وہ بچوں کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔

اس دباؤ کے نتیجے میں پولیس نے بوبی کے قاتلوں کی تلاش کے لیے ڈھولن کے کئی افراد کو گرفتار کر کے صدر تھانہ پتوکی میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ سلمیٰ بی بی کہتی ہیں کہ اس کارروائی کے بعد گاؤں کے وہی لوگ جو ابتدا میں ان کے ساتھ مل کر بوبی کے قاتلوں کو ڈھونڈ رہے تھے ان سے دور ہٹتے چلے گئے۔ انہیں شکایت تھی کہ پولیس سلمیٰ بی بی کے کہنے پر گرفتاریاں اور تشدد کر رہی ہے۔  

تاہم اسی تفتیشی عمل کے دوران پولیس نے کئی مقامی لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے بھی اکٹھے کیے جن کا بوبی کی لاش سے ملنے والے ڈی این اے کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اس کا قاتل اس کے گھر کے پاس ہی رہنے والا فرحان احمد ہے (جس کی عمر اس وقت تقریباً 20 سال تھی)۔

فرحان احمد کو 5 مئی 2019 کو گرفتار کر لیا گیا۔ دورانِ تفتیش اس نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے ہمسائے سلمان رفیق کے ساتھ مِل کر بوبی کو گنے کے کھیت میں لے گیا تھا جہاں دونوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا۔

فرحان احمد کی گرفتاری کے بعد قصور کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں اس پر اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور 2019 کے آخر میں اسے مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنادی گئی۔ وہ اس وقت لاہور کی ایک جیل میں قید ہے جبکہ اس کے خاندان نے اس کی سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔ 

دوسری طرف سلمیٰ بی بی اس انتظار میں ہیں کہ اس کے شریک مجرم کو کب گرفتار کیا جائے گا۔

مئی 2019 میں ایک پولیس اہل کار نے مقدمے کے تفتیشی افسر کو بتایا کہ اس نے سلمان رفیق کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ سلمیٰ بی بی کے مطابق اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ملزم نے اپنا نام بدل کر عرفان رفیق رکھ لیا تھا اور اسی نام سے شناختی کاغذات بنوا کر سعودی عرب چلا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے گھر والے اس کی تلاش میں آئے پولیس والوں کو یہ کہہ دیتے تھے کہ وہ کسی سلمان رفیق کو نہیں جانتے۔ تاہم عدالت میں حاضر نہ ہونے کے باعث اسے اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔

سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان واپس آیا تھا اور انہوں نے پولیس کو اس کی واپسی کی اطلاع بھی دی تھی لیکن ان کے بقول اس کے باوجود اسے گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ 

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں مقدمے کی پیروی سے روکنے کے لیے عرفان رفیق کے خاندان نے ان کے فالج زدہ شوہر کے خلاف مسلح ڈکیتی کا مقدمہ درج کرا دیا تھا لیکن اس کی حالت دیکھنے کے بعد پولیس نے خود ہی یہ مقدمہ خارج کر دیا۔ اس واقعے کے بعد عرفان رفیق کا خاندان ڈھولن چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ سلمیٰ بی بی کہتی ہیں کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو انہیں فرار ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔  
اسی دوران مقدمے پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ لہٰذا 2020 سے وہ ڈھولن سے تقریباً 50 کلومیٹر مشرق کی جانب ضلع قصور ہی کے علاقے کھڈیاں خاص میں کرائے کے مکان میں رہ رہی ہیں۔

لیکن وہ ابھی بھی باقاعدگی سے تھانہ صدر پتوکی کے تفتیشی افسر سے بات کرتی ہیں تاکہ وہ عرفان رفیق کی تلاش کو یقینی بنا سکیں۔ اس افسر کی طرف سے مناسب جواب نہ ملنے پر وہ کبھی کبھار خود بھی تھانے چلی جاتی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے ایسا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ایک تو کھڈیاں خاص منتقل ہونے کے بعد ان کے گھر اور تھانے میں فاصلہ بہت بڑھ گیا ہے اور دوسرا انہیں اپنے مفلوج شوہر اور تین چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہوتی ہے۔

ان کے مالی مسائل بھی انہیں روز بروز تھانے کا سفر کرنے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کا واحد ذریعہ ان کے بیٹے زین کی تنخواہ ہے جو ایک سرکاری سکول میں سولہ ہزار روپے ماہانہ پر مالی کا کام کرتا ہے۔ 

باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیا

بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سینکڑوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ 2021 کے پہلے چھ مہینوں (جنوری تا جولائی) میں ہی اس طرح کے ایک ہزار آٹھ سو 96 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔  

ساحل کے صوبائی کوآرڈینیٹر عنصر سجاد بھٹی کہتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر واقعات میں ملوث ملزموں کو سزا نہیں ملے گی کیونکہ جنسی زیادتی کے شکار اکثر بچوں کے والدین کے پاس سلمیٰ بی بی کی طرح مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ وہ متعدد ایسے واقعات کے بارے میں جانتے ہیں "جن میں بہت مضبوط شہادتوں کے باوجود جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزا نہیں مِل سکی کیونکہ متاثرہ بچے کے والدین مقدمے کا مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے"۔

اس طرح کا ایک واقعہ پچھلے سال جنوبی لاہور میں واقع آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا جہاں رہنے والا 16 سالہ ولید ایک روز کہیں جا رہا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو گیا۔ یہ دیکھ کر پاس ہی موجود شہباز نامی ایک 27-26 سالہ شخص نے اس کے لیے پٹرول کا بندوبست کیا جس کے بعد دونوں نے فون نمبروں کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے کے دوست بن گئے۔ 

لیکن3 مارچ 2020 کو شہباز نے اپنے ایک ساتھی کی مدد سے ولید کو اس کے گھر کے قریب سے بندوق کے زور پر اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب ولید کے والد ریاض اکبر کو اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے علاقے کے تھانے میں رپورٹ درج کرا دی جس کے نتیجے میں پولیس نے شہباز کو گرفتار کر لیا۔  

ریاض اکبر کا دعویٰ ہے کہ شہباز کا تعلق ایک بااثر خاندان سے ہے اس لیے اس نے گرفتار ہونے کے باوجود رشوت کا استعمال کر کے اپنے ڈی این اے کی تجزیاتی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آنے دی۔ اسی دوران اس نے انہیں دھمکیاں بھی دیں اور کہا کہ وہ مقدمے کی پیروی ترک کر کے اس سے صلح کر لیں۔

ریاض اکبر کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود وہ مقدمے کی پیروی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے تھے لیکن ان کی آڈٹ آفیسر کی نوکری سے انہیں اتنی آمدن نہیں ہوتی تھی کہ وہ پولیس، وکیل اور عدالت کے خرچے اٹھا سکتے اس لیے انہوں نے مقدمے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ نتیجتاً اگست 2020 میں شہباز کی ضمانت پر رہائی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'اگر کوئی بچہ جیل سے نکل کر کہتا ہے کہ اس پر جنسی تشدد نہیں کیا گیا تو وہ یقیناً جھوٹ بول رہا ہے'۔

جنوبی لاہور کے رہائشی علاقے خیابانِ امین میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے 10 سالہ حسنین کے والد غلام سرور نے بھی مقدمے کی پیروی کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کو معاف کر دیا۔

وہ سولہ ہزار روپے کی قلیل ماہانہ تنخواہ پر خیابانِ امین میں ایک سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس سے تین کلومیٹر دور واقع ہلوکی نامی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ حسنین روزانہ دوپہر کو گھر سے ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آتا تھا۔ 8 جون 2020 کو جب وہ کھانا لے کر آ رہا تھا تو خیابانِ امین میں سبزی بیچنے والے ایک شخص آفتاب حسن نے اسے اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن حسنین کی چیخ و پکار سن کر ایک راہگیر موقع پر پہنچ گیا اور اس نے آفتاب کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ 

اس واقعے کے چند روز بعد ملزم کی والدہ، خالہ اور دادی غلام سرور کے پاس آئیں اور ان کے پاؤں پر اپنے دوپٹے ڈال کر ان سے درخواست کی کہ وہ اسے معاف کر دیں۔ انہوں نے یہ درخواست مان لی جس کی وجہ سے جون 2020 میں آفتاب ضمانت پر رہا ہو گیا۔

لیکن اس کی رہائی کے دو ماہ بعد ہی حسنین غائب ہو گیا  اور ابھی تک گھر واپس نہیں آیا۔ اس کی والدہ فرزانہ بی بی کو شک ہے کہ آفتاب نے اسے اغوا کر لیا ہے لیکن غلام سرور اس بات سے متفق نہیں۔ اس لیے انہوں نے اس کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔

جنسی زیادتی کے ملزموں کو سزا کیوں نہیں ملتی؟

ساحل کے ساتھ کام کرنے والے عاطف خان جنسی استحصال کے کئی واقعات میں متاثرہ بچوں کے وکیل کے طور پر پیش ہو چکے ہیں۔ ان کہ کہنا ہے کہ اگرچہ 2006 میں بنائے گئے ایک قانون کی رو سے بچوں کے ساتھ کی جانے والی جنسی زیادتی کی سزا موت ہے اس کے باوجود اس طرح کے واقعات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی۔

ان کے ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کل تین ہزار آٹھ سو 32 واقعات قومی اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔ 2019 میں ان کی تعداد کچھ کم ہو کر دو ہزار آٹھ سو 46 رہ گئی تاہم 2020 میں ان میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا اور ان کی تعداد دو ہزار نو سو 60 تک پہنچ گئی۔ دوسرے لفظوں میں پچھلے تین سالوں میں ہر روز اوسطاً نو بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔ 

لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر واقعات میں ملوث ملزموں کو کبھی سزا نہیں ملتی۔ عاطف خان کہتے ہیں کہ "بیشتر واقعات میں متاثرین کے اہلِ خانہ اس لیے مجرموں کو معاف کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس یا تو مقدمہ لڑنے کے لیے درکار مالی وسائل نہیں ہوتے یا انہیں سماجی دباؤ اور انتقامی کارروائی کا سامنا ہوتا ہے"۔  

تاہم وہ کہتے ہیں قانونی طور پر ان اہلِ خانہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ جنسی زیادتی کا مقدمہ خود ہی واپس لے لیں۔ اس لیے وہ عدالت میں ایسے بیان دیتے ہیں جن سے جرم کی نوعیت تبدیل ہو کر کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اگرچہ، ان کے مطابق، "اس طرح کے بیان دینا بھی ایک جرم ہے اس کے باوجود پولیس اکثر اس کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی"۔ 

پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں ترجمان کے طور پر کام کرنے والے ندیم اقبال خاکوانی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتیں بھی اس صورتِ حال کی ذمہ دار ہیں کیونکہ "عدالتی نظام سائنسی ثبوتوں کے بجائے زبانی بیانات پر انحصار کرتا ہے"۔ ان کے مطابق اگر ان بیانات میں تبدیلی آ جائے تو طبی رپورٹوں اور ڈی این اے کے تجزیوں جیسے ٹھوس ثبوتوں کو بھی بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

تاریخ اشاعت 18 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔