وفاقی بجٹ کی ترجیحات: تعلیم یا دفاعی اخراجات
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

وفاقی بجٹ کی ترجیحات: تعلیم یا دفاعی اخراجات

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

وفاقی بجٹ کی ترجیحات: تعلیم یا دفاعی اخراجات

رضا گیلانی

loop

انگریزی میں پڑھیں

 12 جون 2021 کو وزیراعظم عمران خان سالانہ بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے قومی اسمبلی کے ہال میں داخل ہونے کو تھے جب ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا: ''یہ بجٹ کس حد تک عوام دوست ہو گا؟'' وہ رپورٹر کی بات سن کر رک گئے، انہوں ںے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور ہال میں داخل ہونے سے پہلے کہا کہ ''اس بجٹ سے سبھی لوگ خوش ہوں گے''۔

لیکن اس اجلاس میں جو بجٹ پیش کیا گیا اسے حکومت کے حامیوں نے تو اچھا ہی کہا مگر حزب اختلاف اور غیر جانبدار معاشی ماہرین نے اس میں بہت سی چیزوں کو مبہم قرار دے دیا۔ اس کی ایک مثال انہوں نے یہ پیش کی کہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ آیا حکومت ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کر لے گی (کیونکہ ماضی قریب میں کوئی حکومت بھی یہ ہدف حاصل نہیں کر سکی)۔ ان ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بجٹ میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی جس امداد پر انحصار کیا جا رہا ہے اس کے حوالے سے خاصی غیریقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس امداد کا حصول آسان نہیں تھا یا کم از کم پوری مقدار میں اس کا حصول بہت مشکل تھا کیونکہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ان سخت شرائط کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھی جنہیں اس ادارے نے اپنے مالیاتی امدادی پیکیج کے ساتھ نتھی کر رکھا تھا۔

تاہم بجٹ میں جو چیزیں یقینی تھیں وہ درحقیقت ہم ہر سال دیکھتے ہیں یعنی پاکستان قومی دفاعی بجٹ پر گزشتہ سال کی نسبت اس سال بھی زیادہ رقم خرچ کرے گا۔ یکم جولائی 2021 سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے حکومت نے عسکری مقاصد کے لیے 1.37 ٹریلین روپے مختص کرنے کی تجویز دی تھی۔ یہ رقم جولائی 2020 سے تا جون 2021 تک کے سالانہ بجٹ میں اسی مقصد کے لیے مختص کی جانے والی رقم سے 6.2 فیصد زیادہ تھی۔

پاکستان میں فوج پر کیے جانے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں میں اضافہ کر کے یا قرض حاصل کر کے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ 18ویں صدی کے فرانسیسی فلسفی مونٹسکیو نے اس طرح کے اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''جب کسی بادشاہ کو اپنی حکومت کے خاتمے کا خدشہ ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ فوج تیار رکھتا ہے۔ ایسی صورتحال کا نتیجہ ٹیکسوں میں بے پناہ اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔''

اس ضمن میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ افراط زر کا سامنا کرنے والے عام لوگ مزید بھاری ٹیکس نہیں دینا چاہتے اس لیے دفاعی اخراجات میں اضافے کا نتیجہ غیر ملکی قرض میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن قرض میں مسلسل اضافہ بھی نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی یہ مسئلے کا کوئی عملی حل ہے۔

اس لیے بہت سے معاہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی معیشت کی نوعیت تبدیل کرنا ہو گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسے اپنے انسانی وسائل کو بہتر کرنا ہو گا۔ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک معیشت قابل بھروسہ طریقے سے تعلیم یافتہ، ہنرمند اور صحت مند افرادی قوت پیدا کر کے ہی مسلسل ترقی کر سکتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے دیگر شعبوں پر زیادہ مالی وسائل خرچ کر کے ہی مسلسل معاشی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ کیا پاکستان ایسا کر رہا ہے؟

دفاعی اخراجات: پاکستان دنیا میں کہاں کھڑا ہے

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) ایک خودمختار تحقیقی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ہونے والی جنگوں، اسلحے کی خریداری اور دفاعی اخراجات پر  خاص طور پر نظر رکھتا ہے۔ اس کی رپورٹوں اور اعدادوشمار میں دنیا کے تقریباً ہر ملک کے دفاعی اخراجات کی تفصیل ملتی ہے۔  

اس کی مہیا کردہ معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں دفاعی اخراجات کے اعتبار پاکستان تئیسویں نمبر پر ہے۔ اس نے 2020 میں اپنی فوج پر تقریباً 10.4 بلین ڈالر یا 1.7 ٹریلین روپے خرچ کیے تھے۔ یہ اخراجات بعض دیگر ممالک خصوصاً امریکہ، چین اور انڈیا (جنہوں ںے 2020 میں اپنی افواج پر بالترتیب 778، 252 اور 72 بلین ڈالر خرچ کیے) کے مقابلے میں خاصے کم دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر کچھ دیگر اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ فرق کافی 'گمراہ کن' ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم ان ممالک کی مجموعی معاشی پیداوار اور ان کے دفاعی اخراجات پر نظر ڈالیں تو پاکستان مذکورہ بالا تینوں ممالک سے آگے ہے۔ امریکہ اپنی فوج پر اپنی قومی پیداوار کا 3.7 فیصد، چین 1.7 فیصد اور انڈیا 2.9 فیصد خرچ کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں یہ شرح 4 فیصد ہے۔ دراصل دنیا میں صرف 14 ممالک ایسے ہیں جو اپنی مجموعی معاشی پیداوار کے تناسب سے پاکستان سے زیادہ دفاعی اخراجات کرتے ہیں۔

یہ بات خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ عام معاشی سمجھ بوجھ کے مطابق اگر کوئی ملک اعلیٰ درجے کی سماجی ترقی چاہتا ہے تو اس کے دفاعی اخراجات اس کی مجموعی معاشی پیداوار کے دو فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ بات اس حقیقت سے عیاں ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے پاکستان سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے زیادہ تر ممالک سماجی شعبے کی ترقی کے اعتبار سے اچھے مقام پر نہیں ہیں۔ ان میں سے صرف اسرائیل واحد ملک ہے جو اپنی فوج پر بھاری اخراجات کا متحمل ہو سکتا ہے کیونکہ اسے امریکہ کی جانب سے ہر سال اربوں ڈالر کی دفاعی اور غیر دفاعی امداد ملتی ہے۔

اس طرح اگر مجموعی حکومتی اخراجات میں دفاعی اخراجات کا حصہ دیکھا جائے تو اس میں بھی پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے کیونکہ اس کے تمام حکومتی اخراجات میں سے 17.4 فیصد دفاعی شعبے پر ہوتے ہیں۔ صرف بیلاروس، اومان اور سعودی عرب اس معاملے میں پاکستان سے آگے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ دونوں میں مجموعی حکومتی اخراجات میں سے دفاعی شعبے پر خرچ کیے جانے و الے مالی وسائل پاکستان کی نسبت آدھے ہیں۔
بعض دیگر حوالوں سے یہ اخراجات اور بھی واضح ہو کر سامنے آتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کے مطابق انسانی ترقی کے بین الاقوامی اشاریے (ایچ ڈی آئی) میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے۔ یہ اشاریہ اوسط عمر، تعلیم اور نومولود بچوں کی اموات جیسے اعدادوشمار کے حوالے سے کسی ملک کے اوسط حالات کا خلاصہ ہوتا ہے۔ تقریباً سبھی لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایچ آئی ڈی کے حوالے سے پاکستان کے مایوس کن ریکارڈ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سماجی شعبے کے لیے وسائل خرچ کرنا اس کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔

اس وقت حالات یہ ہیں کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات کے مقابلے میں سماجی شعبوں کے لیے رکھے گئے مالی وسائل بہت ہی کم ہیں۔ وفاقی حکومت نے 22-2021 کے وفاقی بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بالترتیب تقریباً 144 ارب اور 50 ارب روپے مختص کیے جبکہ کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہنگامی مالی پیکیج کے لیے مزید 100 ارب روپے رکھے گئے۔ اس طرح تعلیم اور صحت کے شعبے کو مجموعی وفاقی بجٹ میں جو حصہ ملا وہ بالترتیب 1.7 فیصد اور 0.6 فیصد تھا۔
تعلیم اور صحت سے ہٹ کر بھی ہر طرح کی دیگر ترقی کے لیے بجٹ میں مختص کیے جانے والے تمام مالی وسائل 900 ارب روپے تھے۔ اگرچہ اس رقم سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں ان وسائل میں 38.5 فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ اضافی رقم 437 ارب روپے بنتی ہے جو کہ دفاعی بجٹ میں کیے جانے والے اضافے سے کہیں کم ہے۔
کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم اور صحت صوبائی معاملات ہیں اس لیے چاروں صوبوں کی حکومتیں بھی ان شعبوں کے لیے علیحدہ مالی وسائل مختص کرتی ہیں۔ یہ بات درست ہے لیکن ان شعبہ جات میں وفاقی و صوبائی سطح پر کیے جانے والے مجموعی اخراجات بھی ضرورت سے بہت کم ہیں۔
2017 میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے نے کل ملا کر اس مالی سال میں تعلیم پر مجموعی قومی معاشی پیداوار کا صرف 2.9 فیصد خرچ کیا۔ 2018 میں جاری کی گئی ایسی ہی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال پاکستان نے طبی شعبے میں اپنے مجموعی بجٹ کا 3.2 فیصد خرچ کیا۔

'ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ'

تاہم یہاں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے احتیاط کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تمام فوجی اخراجات صرف حکومت کرتی ہے لیکن، جیسا کہ ورلڈ بینک نے واضح طور پر کہا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہونے والے اخراجات میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے علاوہ نجی سرمایہ کاروں اور کاروباری شعبے کا حصہ بھی شامل ہے جن کا ان دونوں شعبوں میں کردار دراصل بڑھتا جا رہا ہے۔

تاہم بعض ماہرین دفاعی شعبے پر بھاری اخراجات کو سماجی شعبہ جات کے لیے کم وسائل مختص کیے جانے کا سبب نہیں سمجھتے۔ اسلام آباد میں قائم سرکاری تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ندیم الحق ان میں نمایاں ہیں۔ وہ اس دلیل کو تسلیم نہیں کرتے کہ پاکستان میں دفاعی شعبے پر بھاری اخراجات سماجی شعبے میں قلیل سرمایہ کاری کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس کے بجائے وہ افسرشاہی کی جانب سے ملکی مالیاتی وسائل کو موثر طریقے سے استعمال نہ کیے جانے کو اس کا سبب گردانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''افسرشاہی میں انسانی ترقی کے لیے درکار سوچ اور دیانت کا فقدان ہے''۔

ندیم الحق کے مطابق ایسی صورتحال میں اگر تعلیمی بجٹ دس گنا بڑھ بھی جائے تو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسے تحقیق پر کبھی خرچ نہیں کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ''افسرشاہی معیار پر مقدار کو ترجیح دیتی ہے اور اساتذہ پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے عمارتیں بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے''۔

تاہم پاکستان کے دفاعی اخراجات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اگرچہ 22-2021 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے مختص کیے جانے والے 1.37 ٹریلین روپے بذات خود بہت بڑی رقم ہیں لیکن یہ اس مجموعی رقم سے کم ہیں جو اس مالی سال کے دوران دفاع پر خرچ ہو گی۔ گزشتہ مالی سال (21-2020) کے بجٹ کی بھی یہی صورتحال تھی جب فوج نے اپنے لیے مختص کردہ رقم سے 8.8 ارب روپے زیادہ خرچ کیے تھے۔

سٹاک ہوم میں قائم تحقیقی ادارے ایس آئی پی آر آئی کے مطابق بھی دفاعی شعبے میں پاکستان کے حقیقی اخراجات بجٹ میں ظاہر کردہ اخراجات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس مد میں 21-2020 میں 1.7 ٹریلین روپے خرچ کیے جو اس سال کے بجٹ میں مختص کی گئی رقم سے 24 فیصد زیادہ تھے۔

بجٹ کے اعدادوشمار اور مذکورہ بالا رقوم میں فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور ایس آئی پی آر آئی کے دفاعی اخراجات کا حساب لگانے کے اپنے اپنے طریقے ہیں۔ حکومت صرف اسی رقم کو دفاعی اخراجات میں شمار کرتی ہے جسے اس نے وفاقی بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے مختص کیا ہوتا ہے جبکہ ایس آئی پی آر آئی اس میں مسلح افواج کے علاوہ دفاع سے متعلقہ بہت سی دیگر سرگرمیوں اور منصوبوں پر کام کرنے والے سرکاری اداروں پر خرچ کیے جانے والے تمام مالی وسائل کو بھی اس میں شامل کرتا ہے۔ اسی لیے یہ ادارہ ایسے نیم فوجی اداروں کے لیے مختص کردہ بجٹ کو بھی دفاعی بجٹ کا حصہ سمجھتا ہے جنہیں فوجی مقاصد کے لیے تیار اور مسلح کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ایس آئی پی آر آئی فوجی ملازمین کی تنخواہوں، پینشن اور انہیں فراہم کی جانے والی دیگر سماجی خدمات کو بھی دفاعی اخراجات کا حصہ مانتا ہے جبکہ پاکستان کے وفاقی بجٹ میں فوجیوں کی پینشن کو غیر فوجی اخراجات میں شمار کیا جاتا ہے۔ فوج کے زیراہتمام چلائے جانے والے تعلیمی اداروں اور طبی مراکز پر ہونے والے اخراجات بھی بجٹ میں غیر فوجی اخراجات کے حصے میں رکھے جاتے ہیں اگرچہ ان سے فائدہ اٹھانے والے بیشتر لوگ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اور ان کے اہلخانہ ہی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات: 'غریب طبقے کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا معاشرتی مساوات کے لیے انتہائی ضروری ہے'۔

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت (1999 تا 2008) سے پہلے یہ اخراجات فوجی اخراجات میں ہی شمار کیے جاتے تھے لیکن ان کی حکومت میں انہیں غیر فوجی مد میں ڈال دیا گیا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان پر متواتر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کم کرے۔ مشرف حکومت نے اس ہدایت کو تسلیم کرنے کے بجائے اس رقم کو فوجی اخراجات سے نکال کر غیر فوجی اخراجات کے خانے میں رکھ دیا۔ باالفاظ دیگر کاغذوں پر دیکھا جائے تو فوجی بجٹ کم ہو گیا لیکن عملی طور پر اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر پاکستان نے 21-2020 میں صرف فوجیوں کی پینشن کی مد میں 359 ارب روپے خرچ کیے جبکہ 22-2021 میں یہ اخراجات 360 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ایس آئی پی آر آئی کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے اخراجات کو دفاعی بجٹ سے باہر رکھ کر اپنے حقیقی دفاعی اخراجات کو 40 فیصد کم کر کے دکھاتی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے معاشی و تعلیمی ماہر فہد علی بھی سمجھتے ہیں کہ وفاقی بجٹ میں دیے گئے بہت سے دیگر اخراجات بھی براہ راست یا بالواسطہ دفاعی خرچ کی ذیل میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی بجٹ میں فوج کے زیراہتمام چلائے جانے والے کاروباروں کے کرائے اور انہیں دی جانے والی مالیاتی امداد کو بھی شمار نہیں کیا جاتا۔ کیمیائی کھادوں کی صنعت فوجی فرٹیلائزر ایسے کاروبار کی نمایاں مثال ہے۔

فہد کے مطابق ان کاروباروں سے حاصل ہونے والا منافع بھی قومی خزانہ میں جانے کے بجائے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تو نیم فوجی اداروں نے بھی اپنے کاروبار شروع کر دیے ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جاتا کہ وہ ان کاروباروں سے کتنی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

تاہم ندیم الحق کی رائے میں یہ اعتراضات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات پر ہونے والی تنقید سادہ لوحی پر مبنی اور بچگانہ ہے جسے کرنے والے لوگوں کے بارے میں غالب امکان یہ ہے کہ ''وہ کسی غیرملکی ایجنڈے کا حصہ ہیں''۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنقید عام طور پر ان لوگوں کی جانب سے کی جاتی ہے جو امداد دینے والے بین الاقوامی اداروں کے زیراثر ہوتے ہیں۔ ''ایسے لوگ وہی کچھ لکھتے ہیں جس کا انہیں ان اداروں کی جانب سے معاوضہ ملتا ہے''۔

بہت سے خودمختار ماہرین معاشیات اور پاکستان کے دفاعی اخراجات کے ناقدین ندیم الحق کی باتوں سے اتفاق نہیں کریں گے، لیکن اس کے باوجود ان کا اصرار ہے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ دفاعی اخراجات کو کبھی کم نہ کریں کیونکہ ''ہمیں فوج کی ضرورت ہے''۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 25 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 9 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔