بی ٹی بیج اور کپاس کے مسائل
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بی ٹی بیج اور کپاس کے مسائل

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بی ٹی بیج اور کپاس کے مسائل

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

نواز اقبال کی کپاس کی فصل اتنی اچھی ہوتی تھی کہ کسان دور دور سے اسے دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ 2015 میں انہوں نے ایک ایکڑ زمین سے لگ بھگ 47 من (1880 کلو گرام) کپاس پیدا کی جو اس سال ان کے ضلع وہاڑی میں اوسط فی ایکڑ پیداوار سے 17 من (680 کلو گرام) زیادہ تھی۔ 

لیکن اس کے بعد ان کے کھیتوں کی پیداوار مسلسل گرتی چلی گئی حتیٰ کہ پچھلے سال انہوں نے ایک ایکڑ اراضی پر محض چھ من (240 کلو گرام) کپاس پیدا کی۔ 

وہاڑی شہر سے 20 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع 178 ای بی نامی گاؤں کے رہائشی نواز اقبال 2005 سے کپاس کا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بی ٹی بیج استعمال کررہے ہیں جو، ان کے مطابق، پہلے دس سال تو بہت اچھی پیداوار دیتا رہا لیکن پھر اس سے پیدا ہونے والی کپاس کی مقدار ہر سال کم ہونے لگی۔ وہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری بی ٹی بیجوں میں رکھی گئی کیڑوں مکوڑوں کو تلف کرنے کی اہلیت میں کمی پر ڈالتے ہیں۔

2014 میں انگلینڈ سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر کاشت کاری کرنے والے کامران ملک بھی کپاس کی کم ہوتی ہوئی پیداوار کا ذمہ دار بی ٹی بیجوں کو ٹھہراتے ہیں۔ وہ ضلع لودھراں کے گاؤں سوئی والا میں ہر سال 50 ایکڑ رقبے پر کپاس کی فصل لگاتے ہیں اور ایک امریکی ادارے کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکی سنڈی اور چتکبری سنڈی جیسے کپاس دشمن کیڑوں نے اس جینیاتی مواد کے خلاف لڑنے کی قوت پیدا کر لی ہے جو انہیں مارنے کے لئے بی ٹی بیجوں کے اندر ڈالا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لئے تحقیق کے مصنفین نے تجویز دی ہے کہ بی ٹی کاٹن کے ہر کھیت کے کم از کم 20 فیصد حصے پر روایتی کپاس بھی کاشت کی جائے۔ 

امریکہ میں بی ٹی بیجوں کی کاشت کی اجازت دینے والے سرکاری ادارے نے بھی امریکی کسانوں کو یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ ان بیجوں سے بہتر پیداوار لینے کے لیے ان کے ساتھ روایتی بیج بھی لگائیں۔ 

میاں نواز شریف ایگری کلچرل یونیورسٹی ملتان کے شعبہ ایگری کلچر اینڈ اینوائرمنٹل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر شفقت سعید اس تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بی ٹی کپاس پر حملہ آور ہونے والے طاقت ور کیڑوں کا روایتی فصل پر حملہ آور ہونے والے نسبتاً کمزور کیڑوں سے اختلاط ہو گا جس کے باعث ان کی اگلی نسل بی ٹی کپاس کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں جتنی طاقت ور نہیں رہےگی اور یوں بی ٹی بیج اس نسل پر بہتر طریقے سے قابو پا سکیں گے۔ ان کے مطابق "یہ عمل اگر دس سال تک لگاتار دہرایا جائے تو پھر صورتِ حال آج سے مختلف ہوسکتی ہے"۔ 

کامران ملک بھی اس طریقہِ کار پر عمل کرنا چاہتے ہیں لیکن مارکیٹ میں کوئی روایتی بیج موجود ہی نہیں اگرچہ ایگری کلچرل بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ اس سال حکومت نے کپاس کے جن 17 بیجوں کی منظوری دی ہے ان میں سے ایک، جی ایس علی سات، روایتی بیج ہی ہے۔ انہیں امید ہے کہ یہ بیج "کچھ دنوں میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگا"۔ 

ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق روایتی بیجوں کے نایاب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد سے 95 فیصد کپاس بی ٹی بیجوں سے پیدا کی جا رہی ہے لہٰذا بیج بیچنے والے تاجر اپنے پاس اب صرف یہی بیج رکھتے ہیں۔    

بی ٹی بیج کی پاکستانی تاریخ

بی ٹی (Bacillus Thuringiensis) ایک ایسا بیکٹیریا ہے جسے امریکہ کی بیج بنانے والے کمپنی مونسانٹو  (Monsanto)کے سائنسدانوں نے جی ایم او ٹیکنالوجی کی مدد سےgenetically
 modified organisms  یعنی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کی شکل دے کر کپاس کے بیج میں ڈالا ہے۔ یہ بیکٹریا کپاس کی فصل کو نقصان پہنچانے والی چتکبری سنڈی اور امریکن سنڈی کو پیدا ہوتے ہی مار دیتا ہے۔ 

اس ٹیکنالوجی پر کام تو 1981 میں شروع ہوا لیکن مونسانٹو نے آزمائش کے لئے اسے پہلی بار 1993 میں پیش کیا۔ دوسال بعد امریکہ نے بی ٹی بیج کو سرکاری طور پر منظور کر لیا اور یوں اس کی کاشت شروع ہو گئی۔ 1997 میں چین نے بھی بی ٹی بیج کاشت کرنے کی منظوری دے دی اور 2002 میں یہ بیج انڈیا میں بھی پہنچ گیا۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ بریڈنگ کے چیئرمین پروفیسر اقبال بندیشہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں بی ٹی بیج پہلی بار 2002 میں ہی پہنچا اگرچہ اسے یہاں لانے کا طریقہِ کار غیر قانونی تھا۔ ان کے مطابق ایک پاکستانی کمپنی نے اسے انڈیا سے درآمد کیا اور حکومت سے اجازت لئے بغیر ہی مقامی بیجوں کے ساتھ اس کا اختلاط کر کے اسے فروخت کرنا شروع کر دیا۔

مونسانٹو نے شروع میں اس فروخت پر کافی واویلا کیا لیکن پروفیسر اقبال بندیشہ کہتے ہیں کہ کمپنی اس کی کاشت کو نہ روک سکی کیونکہ اس نے اپنے بیج کو پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں کروایا تھا۔ ان کے بقول "اگر مونسانٹو نے بیج کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرا لیا ہوتا تو پاکستان سیڈ ایکٹ کے تحت 12 سال تک کوئی بھی فرد، کمپنی یا ادارہ اسے ایک خاص رقم دیے بغیر اس کا استعمال نہیں کر سکتا تھا"۔

2010 میں امریکہ میں ایک کانفرنس کے دوران پیش کیا جانے والا ایک تحقیقی مقالہ ان کے مؤقف کی تصدیق کرتا ہے۔ اس مقالے کے مطابق پاکستان میں کپاس کا بی ٹی بیج 2002 میں سرکاری اجازت کے بغیر لایا گیا لیکن 2005 تک ملک کے کئی علاقوں میں اس کی کاشت شروع ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ 2007 میں پاکستان میں کاشت کی جانے والی 60 فیصد کپاس کے لئے بی ٹی بیج ہی استعمال کیے گئے۔ 

مقالے میں یہ بھی کہا گیا کہ جنوری اور فروری 2009 میں صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور اور صوبہ سندھ کے ضلع میر پور خاص میں کاشت کاروں سے بی ٹی بیجوں کی کارکردگی کے بارے میں رائے لی گئی کیونکہ ان دونوں ضلعوں میں یہ بیج  بکثرت کاشت ہو رہے تھے۔ کاشت کاروں کا کہنا تھا کہ بی ٹی بیج کی کاشت پر زیادہ خرچہ آتا ہے کیونکہ ایک تو یہ روایتی بیجوں سے مہنگا ہے اور دوسرا روایتی بیجوں کے مقابلے میں اسے زیادہ پانی اور کھاد درکار ہوتے ہیں لیکن، ان کے مطابق، اس سے حاصل ہونے والی پیداوار روایتی بیجوں سے حاصل ہونے والی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے جس کے باعث انہیں کپاس کی کاشت میں بہت منافع ہو رہا ہے۔ 

لیکن دونوں اضلاع میں کسانوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بی ٹی بیج دوسرے بیجوں سے کیوں مختلف ہیں اور انہیں کس کمپنی نے کس مقصد کے لئے بنایا ہے۔انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس بیج کی کاشت کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ 

اس لاعلمی کے باوجود، پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل ( پی اے آرسی) کے مطابق، 2009 تک ملک بھر میں بی ٹی کپاس کی 40 اقسام کاشت ہو رہی تھیں کیونکہ بہت سی پاکستانی کمپنیاں اصل بی ٹی بیج سے بیکٹیریا کے جینز نکال کر انہیں مقامی بیجوں میں منتقل کر رہی تھیں اور اس طرح بیج کی نِت نئی اقسام وجود میں آ رہی تھیں۔ 

اسی سال حکومت نے بی ٹی بیجوں کو قانونی دائرہِ کار میں لانے کی پہلی کو شش کی۔ نومبر 2009 میں انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتِ تحفظ ماحولیات کی ایک کمیٹی نے بی ٹی کپاس کی دو اقسام سی ای ایم بی ون اور سی ای ایم بی ٹو (جو پنجاب یونیورسٹی کے سینڑ آف ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیالوجی نے بنائی تھیں) کو دو سالہ تجزیے کے بعد منظور کرنے کی تجویز دی۔ 

لیکن اسی دوران انڈیا سے بی ٹی کپاس کے ناکام ہونے کی اطلاعات آنے لگیں جن کے مطابق فصل خراب ہونے کی وجہ سے کسانوں میں خود کُشی کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا اور مقامی بھیڑوں کی صحت پر بھی بی ٹی کپاس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ چنانچہ پاکستانی کسانوں میں بی ٹی بیجوں کے بارے میں خدشات پیدا ہونے لگے اور کچھ کسان تنظیموں نے ان کی منظوری اور کاشت کے خلاف احتجاج بھی شروع کر دیا۔

ڈاکٹر شوکت علی کہتے ہیں کہ جی ایم او کی مدد سے بیج تیار کرنے والی کمپنیاں، خاص طور پر بائر اور کورٹیوا ، کسانوں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ ان کے تیار کردہ بیج اگلی فصل اگانے کے لیے محفوظ نہیں کریں گے بلکہ ہر فصل کے لئے نیا بیج ہی استعمال کریں گے۔ اس پابندی کا اطلاق پلانٹ بریڈرز رائٹس اور پلانٹ ورائٹی پروٹیکشن کے نام پر کی جانے والی قانون سازی کی مدد سے کیا جا رہا ہے۔ "یہ کمپنیاں اپنے بیجوں میں ایسی ٹیکنالوجی بھی استعمال کرتی ہیں کہ اگر کسان انہیں دوبارہ کاشت بھی کر لیں تو ان سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوگی"۔ 

ڈاکٹر شوکت علی چاہتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی کسان ان استحصالی ہتھکنڈوں سے بچیں اور بی ٹی بیجوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے روایتی بیجوں کی طرف رجوع کریں۔ ان کے مطابق 1992 میں پاکستان نے روایتی بیج استعمال کر کے ہی کپاس کی ایک کروڑ 22 لاکھ گانٹھیں پیدا کی تھیں جو کہ ایک ریکارڈ پیداوار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر ہمارے سائنس دان روایتی بیچوں میں سخت موسم سے لڑنے کی قوت پیدا کر سکیں اور حکومت زرعی ادویات کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کا نظام بہتر کر لے تو کپاس کی پیداوار بی ٹی بیجوں کے استعمال کے بغیر بھی بہتر ہوسکتی ہے"۔ 

معروف زرعی سائنسدان اور فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی کے استاد  ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک ان خیالات کی تائید نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں: "اگر  ہم کھانے کے لیے جی ایم او بیج سے پیدا کی گئی سویا بین باہر سے منگوا سکتے ہیں تو کپڑے بنانے والی صنعت کو ترقی دینے کے لیے کپاس کا بی ٹی بیج کیوں نہیں منگوا سکتے؟" 

read

postImg

افغانستان میں طالبان کے آنے سے طورخم بارڈر کے آر پار لوگوں اور تجارتی سامان کی آمدورفت شدید مشکلات کا شکار۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی کمپنی کو اچھی ٹیکنالوجی والا بیج پاکستان میں لانے کی اجازت دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمارے تحقیق کے ادارے اچھے بیج بنانے کی کوشش کرنا چھوڑ دیں۔ "اگر وہ غیر ملکی کمپنیوں سے بہتر بیج بنا لیں گے تو کسان یقیناً ان کا بنایا ہوا بیج خریدنا شروع کر دیں گے"۔ 

ڈاکٹر شفقت سعید بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مونسانٹو نے اب ایسے بیج بنا لئے ہیں جو گلابی سنڈی اور رس چوسنے والے کیڑوں کا بآسانی تدارک کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق "ان بیجوں کی درآمد  سے پاکستان میں کپاس کی پیداوار بہتر ہو جائے گی کیونکہ گلابی سنڈی اور سفید مکھی سمیت رس چوسنے والے کیڑے ہی مقامی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کپاس کا بی ٹی بیج قانونی طور پر ملک میں لانے کے لئے حکومتِ پاکستان کئی بار مونسانٹو سے معاہدے کے قریب پہنچی ہے لیکن یہ معاہدہ نہ ہونے کی سب سے اہم وجہ کمپنی کا غیر لچک دار مؤقف ہے۔ ان کے مطابق مونسانٹو چاہتی ہے کہ وہ پاکستان میں بی ٹی کپاس کی اگلی نسل لے کر آئے تو اس کی فروخت کے اختیارات صرف اس کے پاس ہی ہوں۔ وہ مزید کہتے ہیں: "کمپنی بیج کی فروخت کا معاہدہ ایک محدود مدت کے لیے کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے بھی ایک بھاری قیمت مانگ رہی ہے جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ  وہ کمپنی سے ٹیکنالوجی خرید کر خود بی ٹی بیج تیار اور فروخت کر سکے"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 30 اپریل 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 28 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔