اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرریاں 'چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرریاں 'چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہیں'۔

مہرین برنی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرریاں 'چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہیں'۔

مہرین برنی

loop

انگریزی میں پڑھیں

جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج کے طور پر تقرری ایک تاریخ ساز عمل ہونے کے باوجود متنازعہ بن گئی ہے۔ ایک طرف اس کے مخالف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کی تقرری کا طریقہِ کار سراسر غلط ہے جبکہ دوسری طرف اس کے حمایتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے تقرر پر اعتراض دراصل خواتین کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کا راستہ روکنے کی کوشش ہے۔ 

ان دونوں نکتہ ہائے نظر کا ٹکراؤ پہلی بار ستمبر 2021 کو منظرِ عام پر آیا جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ میں تقرریاں کرنے والے ادارے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو تجویز پیش کی کہ لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے والی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جائے۔ یہ تجویز سامنے آتے ہی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے کہا کہ وکلا اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کریں گے۔ 

کمیشن کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف پیدا ہوا۔ اس کے ایک رکن، سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، اس وقت پاکستان سے باہر تھے جبکہ باقی آٹھ میں سے نصف نے اس کی حمایت کی اور نصف نے مخالفت۔ اس برابر تقسیم کے باعث جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری نہ ہو سکی۔  

اس کے مخالفین میں سپریم کورٹ کے دو جج، جسٹس مقبول باقر اور  جسٹس سردار طارق مسعود، سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، دوست محمد خان، اور وکالت کے شعبے کی نگرانی کرنے والے وفاقی ادارے، پاکستان بار کونسل، کے نمائندے اختر حسین شامل تھے۔ ان کا موقف تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں تین ایسے جج موجود ہیں جو جسٹس عائشہ اے ملک سے سینئر ہیں اور جنہیں تقرری کے عمل میں نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ 

دوسری طرف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ان کی تقرر کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تقرری سے خواتین ججوں اور خواتین وکلا کو حوصلہ ملے گا کہ وہ بھی اعلیٰ ترین عدالتی عہدوں تک پہنچ سکتی ہیں۔   

اس سال کے آغاز میں جسٹس گلزار احمد نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سامنے جسٹس عائشہ اے ملک کی تقرری کی تجویز دوبارہ رکھی۔ اس دفعہ کمیشن کے سارے ارکان حاضر تھے اگرچہ ریٹائرڈ جسٹس دوست محمد کی جگہ سپریم کورٹ کے ایک اور سابق جج، سرمد جلال عثمانی، نے لے لی تھی۔ یہ تبدیلی ان کی تقرری کے حق میں گئی اور کمیشن کے نو میں سے پانچ ارکان نے اس کی حمایت کر دی۔ ان میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان شامل تھے۔ 

دوسری طرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود اور پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نمائندے اختر حسین نے ان کے تقرر کی مخالفت کی۔

اگرچہ ججوں کے تقرر کی ذمہ دار پارلیمانی کمیٹی نے بھی 19 جنوری 2022 کو اس تجویز کی توثیق کر دی لیکن اس کے چیئرمین، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی ارکانِ کمیٹی ججوں کی تقرری کے لیے سنیارٹی کے اصول کو ہی مناسب سمجھتے ہیں۔  

تاہم لاہور میں کام کرنے والی ایک خاتون وکیل اور قانون کے شعبے میں خواتین کی شمولیت کے فروغ پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی بانی، ندا عثمان چوہدری، کا کہنا ہے کہ جسٹس عائشہ اے ملک کی تقرری کی مخالفت محض ایک عورت دشمن رویہ تھی کیونکہ، ان کے بقول، "ججوں کی تعیناتی کے لیے سنیارٹی کا خیال رکھنا ضروری نہیں"۔ ان کا کہنا ہے کہ "آئین میں صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرر کرتے وقت سنیارٹی کا خیال رکھنے کی بات کی گئی ہے"۔   

ان کی رائے کے برعکس لاہور ہائی کورٹ کے وکیل اور قانون کے استاد اسامہ خاور کا کہنا ہے کہ اگر اس اصول کی عدم موجودگی کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی یہ کہنا غلط ہو گا کہ وکلا جسٹس عائشہ اے ملک کی تقرری کی مخالفت ان کے عورت ہونے کی وجہ سے کر رہے تھے۔ ان کے مطابق "دراصل کسی اصول یا معیار کے بغیر کی جانے والی عدالتی تقرریوں کی مخالفت کئی سال سے جاری ہے اور اس کا تعلق اس بات سے نہیں کہ تقرری کے لیے نامزد کیا گیا جج مرد ہے یا عورت"۔ 

متنازعہ تقرریاں

پچھلے چند سالوں میں سنیارٹی کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے متعدد تنازعات سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر 2010 کے اوائل میں جب اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا تو انہوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا حالانکہ وہ دونوں جسٹس خواجہ محمد شریف سے جونیئر تھے۔ 

اسی طرح مئی 2018 میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سفارش پر جسٹس منیب اختر کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا حالانکہ اُس وقت سندھ ہائی کورٹ کے ججوں میں سنیارٹی کے اعتبار سے ان کا چوتھا نمبر تھا۔ ان کی تقرری پر وکلا نے شدید احتجاج کیا حتیٰ کہ سندھ بار کونسل کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی کھلے الفاظ میں مذمت کی اور اسے اعلیٰ عدلیہ کے اپنے ہی سابقہ فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ 

ایسی متنازعہ تقرریوں کا سلسلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں بھی جاری رہا۔ مثال کے طور پر انہوں نے اپریل 2019 میں جسٹس قاضی امین احمد کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی حالانکہ لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر سنیارٹی میں وہ چھبیسویں نمبر پر تھے اور ایک ماہ قبل ہائی کورٹ سے ریٹائر بھی ہو چکے تھے۔ اُسی سال اکتوبر میں جسٹس امین الدین احمد کو سپریم کورٹ کا جج متعین کیا گیا حالانکہ اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر پانچواں تھا۔

اسی طرح چیف جسٹس گلزار احمد کی سفارش پر مارچ 2020 میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا جبکہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھے۔ لیکن جب گزشتہ سال کے وسط میں جسٹس محمد علی مظہر کو سندھ ہائی کورٹ میں سنیارٹی کے حساب سے پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا جج لگایا گیا تو وکلا نے ایک بار پھر شدید احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے پیشِ نظر چیف جسٹس گلزار احمد نے بعدازاں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو بھی سپریم کورٹ کا عارضی جج مقرر کر دیا لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے ایسی تقرریوں کے خلاف جون 2020 میں سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے تین مرتبہ نظرانداز کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی ان کی درخواست کی سماعت شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ نومبر 2020 میں وہ کورونا کا شکار ہو کر فوت ہو گئے۔ 

انہی کی طرح ماضی میں دو خواتین ججوں کو بھی سپریم کورٹ میں تعینات نہیں کیا گیا تھا حالانکہ سنیارٹی کے حساب سے وہ اس کی حق دار تھیں۔ وہ ان پانچ خواتین میں شامل تھیں جنہیں 1994 میں اس وقت کی وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہائی کورٹ کی جج لگایا تھا۔ ان میں سے جسٹس فخر النسا کھوکھر، جسٹس طلعت یعقوب  اور جسٹس ناصرہ جاوید اقبال کو لاہور ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ جسٹس ماجدہ رضوی اور جسٹس خالدہ رشید خان بالترتیب سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں متعین ہوئی تھیں۔

لیکن 2003 میں جب جسٹس خالدہ رشید خان اس مقام پر پہنچیں کہ یا تو وہ پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بن جائیں یا پھر سپریم کورٹ کی جج لگ جائیں تو انہیں ان دونوں میں سے کوئی عہدہ نہ دیا گیا بلکہ اس کے بجائے جنگی جرائم کے بین الاقوامی ٹربیونل میں بھیج دیا گیا۔ اسی طرح جسٹس فخر النساء کھوکھر کو نظر انداز کر کے ان سے جونیئر ججوں کو ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کا جج لگادیا گیا۔ 

کیا سنیارٹی ججوں کی تقرری کا واحد اصول ہے؟

جب جسٹس عبدالرشید 1954 میں پاکستان کے پہلے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو اس وقت فیڈرل کورٹ کے سینئر ترین جج  اے ایس ایم اکرم تھے۔ ان کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ ڈھاکہ ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر بھی کام کر چکے تھے۔ لیکن گورنر جنرل غلام محمد انہیں چیف جسٹس بنانے کے مخالف تھے اس لیے انہوں نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کو فیڈرل کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

گوادر میں خواتین کا احتجاج: 'ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا'۔

جب 1956 میں پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوا تو، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی طرح، اس میں بھی سربراہِ مملکت، یعنی صدرِ پاکستان، کو اعلیٰ عدلیہ کی تقرریاں کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ اسی طرح جنرل ایوب خان کے زمانے میں بنائے گئے 1962 کے آئین میں بھی یہ اختیار برقرار رکھا گیا تھا۔ تاہم 1973 کے آئین میں اس میں کچھ تبدیلی کر دی گئی جس کے نتیجے میں صدرِ پاکستان کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کا اختیار تو حاصل رہا لیکن سپریم کورٹ کے باقی ججوں کی تقرری کے لیے انہیں چیف جسٹس سے مشاورت کا پابند کیا گیا۔ 

بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت (90-1988) کے دوران آئین کی اس شق پر ایک بڑا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے بطور وزیرِ اعظم کچھ ججوں کی تقرری کرنا چاہی لیکن اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اصرار کیا کہ یہ اختیار صرف انہی کو حاصل ہے۔ اسی تنازعے کے دوران لاہور کے ایک وکیل، ایم ڈی طاہر، نے اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ میں اک پٹیشن بھی دائر کی تاکہ اس حوالے سے پایا جانے والا ابہام دور کیا جا سکے۔
  
اس پٹیشن کا فیصلہ کرتے ہوئے 1989 میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری میں وزیرِ اعظم کا کوئی کردار نہیں۔ ابتدائی طور پر وفاقی حکومت نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا لیکن ممتاز ماہرِ قانون حامد خان کی کتاب، پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ، کے مطابق صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے ڈالے جانے والے دباؤ کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے اپنی پٹیشن واپس لے لی۔ 

چند سال بعد، 1994 میں، جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ ریٹائر ہوئے تو سنیارٹی کے اعتبار سے جسٹس سعد سعود جان پہلے نمبر پر تھے۔ لیکن اس وقت کی حکومت نے ان سمیت تین سینئر ججوں کو نظرانداز کر کے سید سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کر دیا۔ اس پر الجہاد ٹرسٹ نامی ایک تنظیم نے ایک پٹیشن کے ذریعے ان کی تقرری کو چیلنج کردیا۔

اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 1996 میں صدرِ پاکستان کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ سپریم کورٹ میں کی جانے والی کسی بھی تعیناتی پر چیف جسٹس آف پاکستان کے مشورے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ دو سال بعد ملک اسد علی بمقابلہ وفاقِ پاکستان نامی مقدمے میں عدالت نے یہ فیصلہ بھی دے دیا کہ سید سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تقرری غیر آئینی تھی کیونکہ اس میں سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

ان تمام تنازعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتیوں کا کوئی واضح معیار اور طور طریقہ وضع نہیں کیا جا سکا۔ اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش 2008 میں اٹھارویں ائینی ترمیم کا مسودہ تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے کی۔ اس کی تجاویز کی روشنی میں آئین میں تبدیلی کر کے دو  مرحلوں پر مبنی ایک نظام قائم کیا گیا جس کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے ججوں کے نام تجویز کرے اور ایک پارلیمانی کمیٹی کو اختیار دیا گیا کہ وہ تجویز کردہ ناموں میں سے جسے چاہے قبول کر لے اور جسے چاہے مسترد کر دے۔ 

لیکن جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مجبور کیا کہ وہ اس نظام میں ترمیم کرے۔ چنانچہ نہ صرف جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کر دی گئی بلکہ پارلیمانی کمیٹی کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا کہ وہ کسی تجویز کردہ نام کو صرف اسی صورت میں مسترد کر سکتی ہے جب اس کے پاس ایسی ٹھوس وجوہات موجود ہوں جنہیں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان درست تسلیم کر لے۔ دوسرے لفظوں میں کمیٹی کا اختیار اسے بھیجی گئی تجاویز کی توثیق کرنے تک محدود ہو گیا۔
 
اختیارات کی اس غیرمتوازن تقسیم کا عملی مظاہرہ 2012 میں دیکھنے میں آیا جب کمیشن نے جسٹس انور کاسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی تجویز پیش کی لیکن صدر مملکت نے یہ تجویز اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج نہیں تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس اعتراض کو نظرانداز کرتے ہوئے قرار دیا کہ ان کی تقرری سے کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

شفافیت کی ضرورت

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور کراچی کے قانون دان صلاح الدین احمد کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں میں تقرری کا موجودہ معیار دراصل ہر چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق "2017 کے بعد سپریم کورٹ میں کی گئی تقرریوں کو دیکھا جائے تو ان میں سے شاید ہی کوئی سنیارٹی کے اصول کے تحت کی گئی ہو جس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر یہ کس اصول کے تحت کی گئی ہیں"۔
 
ندا عثمان بھی ان سے متفق ہیں اور کہتی ہیں کہ "فی الوقت سپریم کورٹ میں تقرری کے عمل کا آغاز کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ وہ کوئی نام کس بنیاد پر تجویز کرتے ہیں"۔ اس لیے ان کی نظر میں "اس نظام میں شفافیت کی کمی دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے اہل ججوں کے نام تجویز کرنے کے لیے چیف جسٹس کے استحقاق سے بہتر معیار قائم کیا جائے"۔ 

اس بہتری کے لیے اس وقت متعدد تجاویز گردش کر رہی ہیں جن میں اعلیٰ عدلیہ میں خواتین اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ججوں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ ججوں کی قابلیت اور مہارت کی جانچ کے معروضی معیارات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن حکومتِ وقت اور اعلیٰ عدلیہ دونوں ان تجاویز پر توجہ نہیں دے رہے کیونکہ وہ موجودہ نظام کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔
  
اس صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے اسامہ خاور کہتے ہیں کہ جب تک کوئی نیا معروضی معیار تیار نہیں ہو جاتا اس وقت تک سپریم کورٹ میں تقرریاں صرف سنیارٹی کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں کیونکہ، ان کے مطابق، "اس طریقے سے ان تقرریوں میں جانبداری اور اقربا پروری کا تاثر ختم کیا جا سکتا ہے"۔

تاریخ اشاعت 1 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

مہرین برنی نے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ سیاسی و انتخابی موضوعات پر کام کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔