مشتری ہوشیار باش: فون کے غلط آئی ایم ای آئی نمبر کی وجہ سے آپ قانونی اور عدالتی مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مشتری ہوشیار باش: فون کے غلط آئی ایم ای آئی نمبر کی وجہ سے آپ قانونی اور عدالتی مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مشتری ہوشیار باش: فون کے غلط آئی ایم ای آئی نمبر کی وجہ سے آپ قانونی اور عدالتی مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

جب پولیس اہل کاروں نے 9 نومبر 2020 کو رات گیارہ بجے محمد ذیشان کے گھر پر چھاپا مارا تو انہیں ایک خاص موبائل فون کی تلاش تھی جو ان کے مطابق محمد ذیشان نے ایک ڈکیتی کرتے ہوئے اس کے مالک محمد رمضان سے چھینا تھا۔ 

اکتیس سالہ محمد ذیشان لاہور کے علاقے باغبانپورہ کے رہائشی ہیں اور پاکستان پوسٹ نامی سرکاری ادارے میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے والد توقیر احمد چھاپے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم نے گھر میں موجود تمام فون چھاپا مار پارٹی کو دکھائے"۔

ان کا جائزہ لینے کے بعد پولیس والوں نے توقیر احمد کو بتایا کہ انہیں کِس خاص ماڈل کے فون کی تلاش ہے۔ اس پر انہیں یاد آیا کہ اس ماڈل کا ایک فون انہوں نے اپنی بیوی کو لے کر دیا تھا جو خراب ہونے کی وجہ سے گھر میں بند پڑا تھا۔ 

جیسے ہی وہ اس فون کو سامنے لے کر آئے تو پولیس کے ساتھ آئے ہوئے محمد رمضان نے کہا کہ یہی فون اس سے چھینا گیا تھا۔

توقیر احمد کے لئے یہ ایک نا قابلِ یقین بات تھی کیونکہ مذکورہ فون انہوں نے خود خریدا تھا اور اس کا سِیل بند ڈبہ بھی انہوں نے خود کھولا تھا۔ تاہم پولیس نے ان کے سامنے اس پر درج آئی ایم ای آئی نمبر (موبائل فون کا بین الاقوامی شناختی نمبر) ڈکیتی کے بارے میں درج کی گئی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ا یف آئی آر)  میں لکھے ہوئے شناختی نمبر سے ملایا تو دونوں ایک ہی نکلے۔ 

اس پر پولیس محمد ذیشان کو اپنے ساتھ لے کر چلی گئی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 27 جون 2020 کو شیخوپورہ ضلع کے مانانوالہ نامی قصبے میں محمد رمضان کے موٹر سائیکلوں کے شو روم پر ڈاکہ ڈالا تھا جس میں انہوں نے چار موبائل فون، 450،000 روپے مالیت کی رولیکس گھڑی اور 150،000 روپے نقد رقم لوٹی تھی۔ پولیس انہیں مانانوالہ لے گئی جہاں ان کے مطابق انہیں اقبال جرم کے لئے مجبور کیا جاتا رہا لیکن وہ یہی کہتے رہے کہ ان کا اس واردات سے کوئی تعلق نہیں۔

تاہم دورانِ حراست محمد ذیشان نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے ایک دفعہ متنازعہ فون کی مرمت بھی کرائی تھی لہٰذا ہو سکتا ہے اس مرمت کے دوران اس کا شناختی نمبر بدل گیا ہو۔ ان کے اس خدشے کی تردید یا تصدیق کرنے کے لئے پولیس والوں نے لاہور میں فون ٹھیک کرنے والے مکینک سے بھی بات کی لیکن کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
دوسری طرف محمد ذیشان کے اہلِ خانہ نے پولیس اور محمد رمضان دونوں سے رابطہ کر کے انہیں پیش کش کی کہ وہ محمد ذیشان کی رہائی کے لئے کوئی بھی شخصی ضمانت دینے کو تیار ہیں کیونکہ حراست میں ہونے کی وجہ سے وہ کام پر نہیں جا پا رہے جس سے ان کے نوکری ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن محمد رمضان کا مطالبہ تھا کہ ان کی رہائی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے اگر ان کے اہلِ خانہ ڈکیتی میں لوٹے گئے سامان کی مالیت، مبلغ دس لاکھ روپے، انہیں ادا کریں۔

محمد ذیشان کے چچا زاد بھائی محمد فیصل کہتے ہیں کہ پولیس اور محمد رمضان کی جانب سے عدم تعاون کے بعد انہوں نے مذکورہ فون سے کی جانے والی اور اس میں وصول ہونے والی تمام کالوں کی تفصیلات نکلوانے کا فیصلہ کیا۔ اس ریکارڈ سے وہ ثابت کر سکتے تھے کہ یہ فون ڈکیتی سے پہلے بھی ان کے گھر میں استعمال ہو رہا تھا۔ محمد فیصل کے بقول "ہم سب اہلِ خاندان کو اس بات پر حیرانگی تھی کہ ہم نے تو سِیل بند ڈبے میں محفوظ فون خریدا تھا تو پھر یہ کسی دوسری جگہ کیسے موجود ہو سکتا تھا؟" 

انہوں نے جب یہ تفصیلات پولیس کے تفتیشی افسر کے سامنے رکھیں تو  انہیں پہلی بار محمد ذیشان سے ملایا گیا۔ لیکن محمد رمضان نے ان تفصیلات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر پولیس نے ان سے چھینے گئے فون سے کی جانے والی کالوں کی تفصیلات بھی نکلوائیں جو محمد ذیشان کے گھر میں استعمال ہونے والے  فون کی تفصیلات سے مختلف نکلیں۔ یوں یہ ثابت ہو گیا کہ چھینا گیا فون کہیں اور تھا۔

اس انکشاف پر پولیس نے محمد ذیشان کے اہلِ خانہ کو کہا کہ  وہ اپنے فون کی تمام تفصیلات کی تصدیق شیخوپورہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر میں واقع ایک خصوصی ڈیٹا سیل سے کرائیں۔ اس تصدیق کے بعد ہی محمد ذیشان کی رہائی عمل میں آئی۔

لیکن 11 دن حراست میں گزارنے کی وجہ سے پاکستان پوسٹ نے ان کے نام نوٹس جاری کر دیا تھا جس میں انہیں اپنی غیر حاضری کی وضاحت کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں آئندہ کے لئے ایسا نہ کرنے کی تاکید پر مبنی ایک تحریری وارننگ بھی دی جا چکی تھی۔  

اس بارے میں بات کرتے ہوئے محمد فیصل کہتے ہیں کہ آخر  "ان کے خاندان کو پہنچنے والی اس تمام تکلیف کا ذمہ دار کون ہے؟ فون کمپنی جس نے دونوں فون فروخت کیے تھے مگر ان کے  شناختی نمبر خلط ملط کر دیے تھے یا پولیس جس نے ادھوری تفتیش کی بنیاد پر اور کوئی مقدمہ درج کیے بغیر محمد ذیشان کو کئی دن اپنی قید میں رکھا؟" 
لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ آخر دو فونوں پر ایک ہی شناختی نمبر کیسے لگ گیا؟  

لاہور میں عامر روڈ کے علاقے میں رہنے والے منظور خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غلطی زیادہ تر فون بنانے یا فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ہاں ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی کہ فون کو کسی ایسے ڈبے میں بند کر دیا جاتا ہے جس پر کسی اور فون کا شناختی نمبر درج ہوتا ہے۔ 

منظور خان نے لاہور کی ہال روڈ مارکیٹ سے یکم دسمبر 2020 کو ایک فون خریدا۔ کچھ دن بعد اپنے ایک دوست کے کہنے پر انہوں نے اس پر درج شناختی نمبر کا موازنہ اس کے ڈبے پر درج شناختی نمبر سے کیا تو انہیں پتہ چلا کہ دونوں نمبر مختلف ہیں۔ اس پر وہ شکایت لے کر اس دکان دار کے پاس چلے گئے جس نے انہیں فون بیچا تھا۔ لیکن اس نے کمپنی کو آگاہ کرنے کے بجائے خود ہی درست شناختی نمبر ڈبے پر چپکا دیا۔

آئی ایم ای آئی نمبر کیسے اور کیوں تبدیل ہوتے ہیں؟

لاہور کینٹ میں موبائل فون ٹھیک کرنے والے ایک مکینک کا کہنا ہے کہ سِیل بند ڈبوں میں موجود فونوں کے شناختی نمبروں میں گڑ بڑ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فون فروخت کرنے والی پاکستانی کمپنیاں بیرونِ ملک سے منگوائے گئے ہر فون کا ڈبہ کھول کر اس میں اپنا وارنٹی کارڈ رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل کے دوران ڈبوں کے گڈ مڈ ہو جانے کا  شدید خدشہ رہتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا کہ ہے پاکستان میں ایسے ہزاروں فون چل رہے ہیں جو یا تو غیر قانونی طور پر ملک کے اندر لائے جاتے ہیں اور یا پھر ڈکیتی اور چوری کے دوران ان کے اصل مالکان سے لے لیے جاتے ہیں۔ یہ فون بعد ازاں چوری چھپے بیچے اور خریدے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ان میں سے اکثر فون ایسے ہیں جن کے اصلی شناختی نمبر یا تو مکمل طور پر بدل دیے جاتے ہیں یا ان کی پہچان کو مشکل بنانے کے لئے ان میں معمولی رد و بدل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے لئے ایسے سافٹ وئیرز استعمال کیے جاتے ہیں جو فونوں کی خرید و فروخت اور مرمت کرنے والے کئی لوگوں نے خرید رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "مختلف کمپنیوں اور مختلف ماڈلز کے فونوں کے لئے مخلتف سافٹ وئیرز کا استعمال کیا جاتا ہے"۔ 

اس ضمن میں ایک اہم واقعہ ستمبر 2020 میں سامنے آیا جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شیخوپورہ میں فون فروخت کرنے والی ایک دکان پر چھاپا مارا۔ وہاں موجود عثمان نامی شخص مبینہ طور پر فونوں کے شناختی نمبروں میں رد و بدل کر رہا تھا لہٰذا اسے سرکاری حراست میں لے لیا گیا۔ 

اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لئے پی ٹی اے نے یکم دسمبر 2018 سے ایک خاص نظام بھی متعارف کرا رکھا ہے  جسے موبائل فون آئیڈنٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کہتے ہیں۔ اس کا مقصد غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے، چوری کیے گئے اور چھینے ہوئے فونوں کے استعمال کو روکنا ہے۔ اس نظام کے تحت کوئی بھی شخص جو کسی بھی وجہ سے اپنے فون سے محروم ہو جاتا ہے وہ اس کے شناختی نمبر کا حوالہ دے کر اسے عارضی طور پر یا ہمیشہ کے لئے بند کرا سکتا ہے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 11 مارچ 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 16 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔