کورونا وبا سے فیکٹریوں کی بندش: لاہور کی سینکڑوں مزدور خواتین نوکریوں سے نکال دی گئیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کورونا وبا سے فیکٹریوں کی بندش: لاہور کی سینکڑوں مزدور خواتین نوکریوں سے نکال دی گئیں۔

ارحبا وسیم

postImg

کورونا وبا سے فیکٹریوں کی بندش: لاہور کی سینکڑوں مزدور خواتین نوکریوں سے نکال دی گئیں۔

ارحبا وسیم

صبیحہ اصغر مشرقی لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر واقع کپڑے کی ایک فیکٹری میں سات سال کام کرتی رہیں لیکن پچھلے سال کے وسط میں انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔  

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ چند چھٹیوں کے بعد کام پر واپس آئیں تو فیکٹری انتظامیہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے بہت زیادہ غیر حاضریاں کی ہیں جس کی وجہ سے انہیں ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے۔ فیکٹری میں ان کا کام کپڑے کے معیار کی جانچ کرنا تھا۔ 

صبیحہ جنوبی لاہور کے نادرآباد نامی محلے میں رہتی ہیں۔ دیگر مقامی مزدور خواتین کے برعکس وہ جینز اور قمیض پہنتی ہیں اور 49 برس کی ہونے کے باوجود نوجوان لڑکیوں کے انداز میں بات چیت کرتی ہیں۔ 

پچھلے سال تک وہ غیر شادی شدہ تھیں جس کی وجہ سے انہیں کوئی گھریلو ذمہ داریاں ادا نہیں کرنا ہوتی تھیں چنانچہ، ان کے بقول، وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے مرد مزدوروں کی نسبت کام کو زیادہ وقت دیا کرتی تھیں لہٰذا ان کی ماہانہ آمدن بھی ان مزدوروں کی نسبت زیادہ ہوتی تھی اس لئے وہ ان سے حسد کرتے تھے ۔ وہ کہتی ہیں کہ اپریل 2020 میں ان کی شادی ہونے کے بعد ان کے ساتھی مزدوروں کا ان کے ساتھ رویہ اور بھی بگڑ گیا۔ 

تاہم صبیحہ کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے بھی ان کا سپروائزر انہیں دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے مردوں کے ساتھ دوستی نہیں رکھیں گی تو وہ انہیں نوکری سے نکلوا دے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ "مجھے یہ مطالبہ قبول نہیں تھا کیونکہ میرے ساتھ کام کرنے والے مزدور کبھی طرح طرح کے مذاق کرتے، کبھی مجھ سے ادھار مانگتے اور اکثر نا مناسب باتیں کر کے اور فقرے کس کے مجھے ہراساں اور پریشان کرتے"۔ 

ان کے بقول انہیں نوکری سے نکالے جانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اس قسم کے رویے کو مزید برداشت کرنے سے انکار کر دیا تھا (لیکن ان کے سپروائزر کا اصرار ہے کہ انہیں نوکری سے اس لیے نکالا گیا کہ وہ بغیر بتائے ایک لمبا عرصہ کام سے غیر حاضر رہیں)۔ 

صبیحہ نے پنجاب لیبر کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے کہ انہیں نوٹس دیے بغیر نوکری سے نکالا گیا اور ان کے قانونی واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے جن کی مالیت دو لاکھ 12 ہزار آٹھ سو 53 روپے بنتی ہے۔ 

تاہم ان کی درخوست پر عدالت نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔

کورونا کے دوران مزدوروں کی حالتِ زار

کپڑے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کے حالاتِ کار کی بہتری کے لیے بنائی گئی ایک بین الاقوامی تنظیم ایشیا فلور ویج الائنس نے حال ہی میں ایک سروے کے نتائج شائع کیے ہیں جس میں چھ سو پانچ پاکستانی مزدوروں نے حصہ لیا۔ ان نتائج کے مطابق 2020 میں ان میں سے 86 فیصد مزدوروں کو ملازمت سے نکال دیا گیا جبکہ 14 فیصد کو کچھ عرصے کے لیے کام سے معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومتِ پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اقتصادی سروے میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پچھلے سال کورونا وبا کی وجہ سے لگائی گئی کاروباری اور صنعتی بندشوں کے باعث دو کروڑ 70 لاکھ پاکستانی مزدور بے روز گار ہوئے جن میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق کپڑے کی صنعت سے تھا۔

جنوبی لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں رہائش پذیر سیکڑوں خواتین کپڑے کی صنعت سے بے روزگار ہونے والے ان مزدوروں میں شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر اب دوسرے لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزارا کر رہی ہیں حالانکہ حکومت نے ان کی نوکریاں برقرار رکھنے کے لیے صنعتی اداروں کو کئی مالی مراعات بھی دیں۔ 

مثال کے طور پر کورونا وبا کی وجہ سے بند ہونے والی صنعتی سرگرمیوں کے منفی مالی اثرات کی روک تھام کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان نے 22 اپریل 2020 کو ایک سکیم کا اعلان کیا جس کے تحت صنعتی اداروں کو رعایتی شرحِ سود پر قرضے دیے گئے تا کہ وہ اپنے ملازمین کو نہ نکالیں۔ ان قرضوں کی واپسی کے لیے بھی انہیں معمول سے زیادہ مہلت دی گئی۔

اگرچہ اس سکیم سے سیکڑوں صنعتی اداروں نے فائدہ اٹھایا اور اربوں روپے کے رعایتی قرضے حاصل کیے۔ لیکن ایشیا فلور ویج الائنس کی رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود پاکستان میں 71 فیصد مرد مزدوروں اور 82 فیصد خواتین مزدوروں کو کورونا وبا کے دوران اجرت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی اقتصادی سروے کے مطابق صرف کپڑے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کو تقریباً آٹھ کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سے دیگر مزدوروں کو مستقل ملازمتوں سے نکال کر یومیہ اجرت پر دوبارہ رکھا گیا لیکن پھر انہیں اس کام سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ نازیہ حامد کو بھی اس ساری صورتِ حال سے گزرنا پڑا۔
وہ لاہور میں فیروزپور روڈ پر واقع ایک فیکٹری میں سات سال بطور سپروائزر کام کرتی رہی ہیں جہاں ان کی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار پانچ سو روپے تھی۔ لیکن گزشتہ برس مارچ میں اچانک انہیں چھٹی پر بھیج دیا گیا اور ان کی واجب الادا تنخواہ بھی روک لی گئی۔ 

نومبر 2020 میں انہیں یہ کہہ کر نوکری پر واپس بلایا گیا کہ اب وہ ماہانہ تنخواہ پر نہیں بلکہ 500 روپے روزانہ اجرت پر کام کریں گی۔  لیکن ایک ماہ بعد ان کے واجبات دیے بغیر انہیں دوبارہ نوکری سے نکال دیا گیا۔  تب سے ان کے مالی حالات اتنے خراب ہیں کہ وہ مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے دیے گئے عطیات پر گزر بسر کرتی ہیں۔

ملازمت کے معاہدوں کی خلاف ورزی

ایک نوجوان ڈیزائنر سِلے ہوئے کپڑوں کی تین مشہور کمپنیوں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر وہ کہتی ہیں کہ "کپڑے کے شعبے سے جڑے مزدوروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کے پاس اپنی ملازمت کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہوتا جس کے باعث فیکٹری مالکان ان کی تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتیاں کر سکتے ہیں، انہیں معمول سے زیادہ کام کی ادائیگی سے انکار کر سکتے ہیں اور انہیں طبی بنیادوں پر چھٹیاں کرنے سے منع کر سکتے ہیں"۔

لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ نوکری کے دستاویزی ثبوت بھی بعض اوقات کسی کام نہیں آتے۔ اس ضمن میں وہ اپنی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کی آخری نوکری شروع ہونے سے پہلے ان کے اصرار پر ان کو ملازمت دینے والی کمپنی نے ان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ  کیا جس میں یہ شرائط شامل کی گئیں کہ انہیں معمول سے زیادہ کام کرنے کے لیے تنخواہ سے علیحدہ ادائیگی کی جائے گی اور انہیں طبی بنیادوں پر چھٹیاں لینے کی سہولت بھی دی جائے گی۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود ان دونوں شرائط پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

ان کے مطابق جب کبھی وہ اپنے مطالبات فیکٹری مالکان کے سامنے رکھتیں تو انہیں بتایا جاتا کہ کس طرح دوسرے فیکٹری مالکان دھڑا دھڑ اپنے ملازمین کو نکال رہے ہیں لہٰذا انہیں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے کہ ان کے پاس ابھی تک نوکری موجود ہے۔ 

تاہم کچھ عرصے بعد ان کی نوکری بھی چلی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں کام سے فارغ کرتے وقت فیکٹری مالکان نے ان کے ڈیڑھ ماہ کے واجبات بھی ادا نہ کیے۔ لیکن جب ان کی وصولی کے لیے انہوں نے پنجاب لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا تو فیکٹری انتظامیہ کو خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں یہ معاملہ سوشل میڈیا تک نہ پہنچ جائے۔ لہٰذا انہیں نوکری سے نکالے جانے کے پانچ ماہ بعد مئی 2020 میں ان کے واجبات ادا کر دیے گئے۔

حقوق کے حصول کے قانونی راستے

حمیرا ندیم لاہور میں فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے جنوب میں واقع ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں۔ ان کا گھر بھی اسی علاقے میں ہے۔ مارچ 2020 میں جب حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے معاشی اور کاروباری سرگرمیوں پر پابندی لگائی تو فیکٹری انتظامیہ نے ان سمیت بہت سی خواتین مزدوروں کو نوکری سے نکال دیا۔ 

حمیرا کے شوہر ریڑھ کی ہڈی کے درد میں مبتلا ہیں اس لیے وہ آٹھ افراد پر مشتمل اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں۔  نوکری چلے جانے کے بعد انہوں نے اپنے گھر میں ایک ٹیوشن سنٹر قائم کرنے کی کوشش کی لیکن مقامی پولیس نے کورونا لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لیے اسے بند کر دیا۔ اب وہ لوگوں کے گھروں میں صفائی کا کام کر کے اور کپڑے سی کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔

حال ہی میں حمیرا نے مزدور اکٹھ نامی ایک رضاکار گروپ کی طرف سے منعقد کیے گئے ایک تربیتی پروگرام میں شرکت کی جس میں وکیلوں، استادوں اور مزدور رہنماؤں نے فیکٹریوں سے نکالے گئے مزدوروں کو بتایا کہ ان کے پاس اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کون سے قانونی راستے موجود ہیں۔ اس تربیت کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ قانونی طور پر وہ نہ صرف طبی بنیادوں پر کی گئی چھٹیوں کے پیسے وصول کر سکتی تھیں بلکہ وہ پنشن اور کچھ دوسری مالی مراعات کی بھی حق دار تھیں۔

حمیرا کہتی ہیں کہ "اگر ان باتوں کا مجھے پہلے علم ہوتا تو میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر کبھی خاموش نہ رہتی"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 16 اگست 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔