شمالی وزیرستان میں لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج: 'زرِ تلافی نہیں علاقے میں امن چاہتے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

شمالی وزیرستان میں لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج: 'زرِ تلافی نہیں علاقے میں امن چاہتے ہیں'۔

کلیم اللہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

شمالی وزیرستان میں لڑکی کی ہلاکت پر احتجاج: 'زرِ تلافی نہیں علاقے میں امن چاہتے ہیں'۔

کلیم اللہ

loop

انگریزی میں پڑھیں

اتمان زئی قبیلے کے سینکڑوں لوگ ایک ہفتے سے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے ہے اور انہوں نے مقامی قصبے میر علی سے سات کلومیٹر مشرق میں بنوں جانے والی شاہراہ ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر رکھی ہے۔ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک 12 سالہ مقامی لڑکی، جان سادہ،  کی ہلاکت کی تحقیق کر کے اس میں ملوث لوگوں کو سزا دے اور ان کے علاقے میں پائیدار امن کی ضمانت دے تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

جان سادہ شمالی وزیرستان کے وسط میں واقع خیسور جنگل نامی علاقے کے گاؤں زیڑینی کی رہائشی تھیں۔ ان کے والد، 32 سالہ جمیل خان، دو ماہ پہلے ابوظہبی سے واپس آئے ہیں جہاں وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔

اپنے موبائل فون پر اپنی بیٹی کی تصویر دکھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 28 دسمبر 2021 کو صبح پانچ بجے ان کے گاؤں میں طالبان اور فوج کے درمیان بھاری فائرنگ شروع ہو گئی لہٰذا دوسرے مقامی باشندوں کی طرح انہوں نے اپنے گھر کے دروازے اچھی طرح بند کر دیے تا کہ متحارب فریقین میں سے کوئی ان کے گھر میں نہ گھس آئے۔ اس فائرنگ کے دوران جان سادہ خوف سے کانپتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: "بابا میرا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا ہے"۔ انہوں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ تقریباً سات بجے فائرنگ بند ہو گئی لیکن فوجی حکام نے گاؤں والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ سہ پہر تین بجے انہوں نے گاؤں کی مسجد سے اعلان کیا کہ سب مقامی مرد ایک گھر میں جمع ہو جائیں اور سب عورتیں اور بچے ایک مقامی مدرسے میں اکٹھے ہو جائیں۔

جمیل خان کہتے ہیں کہ ان کی بیوی اپنے بچوں کو لے کر مدرسے میں چلی گئیں جہاں کچھ دیر بعد نامعلوم سمت سے آنے والی ایک گولی ان کے پاس بیٹھی جان سادہ کو پیشانی پر آ لگی اور چند ہی لمحوں میں اس نے اپنی ماں کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ گولی ان فوجیوں میں سے کسی نے چلائی تھی جو مدرسے کے مختلف حصوں اور اس کی چھت پر تعینات تھے۔

جان سادہ کی ہلاکت کے بعد فوجی حکام نے اس کے والدین کو کہا کہ وہ اس کی لاش لے کر اپنے گھر جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ تبھی ایسا کریں گے جب گاؤں کے سب لوگوں کو گھر جانے دیا جائے گا۔ نتیجتاً جان سادہ کی ماں، اس کی چار بہنوں اور دو بھائیوں نے اس کی لاش کے ساتھ رات مدرسے میں ہی گزاری۔ 

احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے جمیل خان کا کہنا ہے کہ اگلے دن سہ پہر کے دو بجے گاؤں والوں کو گھروں کو لوٹنے کی اجازت دے دی گئی جس کے ایک گھنٹے بعد جان سادہ کا جنازہ پڑھا کر اس کی تدفین کر دی گئی۔

وہ اپنی بیٹی کی ہلاکت کی وجہ سے بہت آزردہ اور پریشان ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے کوئی زرِ تلافی نہیں چاہیے بلکہ وہ محض اپنے علاقے میں امن چاہتے ہیں تا کہ "میری طرح کسی دوسرے کی جان سادہ اپنی جان نہ کھو بیٹھے"۔

زبانی نہیں تحریری ضمانت

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)، کے سربراہ میجر جنرل افتخار بابر نے 5 جنوری 2022 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں بدامنی کے بارے میں خاص طور پر بات کی اور کہا کہ اس کے "مشکل ترین موسمی حالات اور دشوار گزار جغرافیائی خصوصیات" کی وجہ سے دہشت گردوں کو اس میں واقع پاک-افغان سرحد کے آر پار نقل و حرکت کی سہولت میسر تھی"۔ ان کے مطابق انہی عوامل کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے اس علاقے میں سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع نہیں ہو سکا تھا۔ 

لیکن ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں اس علاقے میں ایک اہم عسکری آپریشن، دوادوئی، کیا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاک-افغان سرحد پر مکمل ریاستی رِٹ بحال کر دی گئی بلکہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی مکمل کر لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے سال کے دوران شمالی وزیرستان سمیت پورے ملک میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھوٹی بڑی 60 ہزار فوجی کارروائیاں کی گئیں "جن میں  دہشت گردوں کا قلع قمع کر کے امن و امان بحال کیا گیا ہے"۔

اتمان زئی کے مظاہرین ان کے اس دعوے سے متفق نہیں۔ 

ان میں شامل میر کلام وزیر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جان سادہ کی ہلاکت جیسے واقعات متواتر ہوتے رہتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے بعد مقامی لوگ ہمیشہ احتجاجی مظاہرے کر کے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ "انہیں امن دیا جائے"۔ لیکن ان کی نظر میں ان کے علاقے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک فوج کے اہل کار "دہشت گردوں کو ڈھونڈنے کے نام پر لوگوں کے گھروں میں گھسنا بند نہیں کرتے اور جب تک لوگوں کو جبری طور پر غائب کر کے ان پر تشدد کا سلسلہ ختم نہیں کیا جاتا"۔

میر کلام وزیر 2018 میں شمالی وزیرستان سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اگرچہ انہوں نے آزاد حیثیت میں انتحاب لڑا تھا لیکن اُس وقت وہ پختون تحفظ موومنٹ نامی مقامی تنظیم سے بھی منسلک تھے۔ 5 جنوری 2022 کو وہ دھرنے کے دوران جان سادہ کی موت کی تحقیق کرنے اور اس کے ذمہ دار افراد کو سزا دینے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور اس معاملے کو صوبائی اسمبلی میں اٹھانے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں۔ 

دھرنے کی منتظمین میں شامل خیسور سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے مقامی امیر 31 سالہ شاکر اللہ بھی جان سادہ کی ہلاکت پر حکومت سے نالاں ہیں۔ ہزاروں مقامی باشندوں کی طرح انہوں نے شمالی وزیرستان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے پچھلے کچھ سال اپنے علاقے سے باہر گزارے ہیں اور کہتے ہیں کہ "ہم لوگوں کو یہ کہہ کر واپس بلایا گیا کہ امن قائم ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے امن کی عدم موجودگی عیاں ہو جاتی ہے"۔

لہٰذا وہ فوج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر شمالی وزیرستان میں دوبارہ ایک ایسا فوجی آپریشن کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے لوگوں کو پھر سے نقل مکانی کرنا پڑے تو مقامی لوگ ایسا بھی کر لیں گے بشرطیکہ اس کے بدلے میں علاقے میں مستقل امن قائم ہو جائے۔      

احتجاجی دھرنے کے مقاصد کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک حکومت جان سادہ کے والدین کو انصاف دینے اور علاقے میں امن قائم کرنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ لیکن ساتھ ہی وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ضمانت زبانی نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ "لکھی ہوئی ہو اور شمالی وزیرستان کے منتخب نمائندوں کی موجودگی میں فوج کے پشاور کے کور کمانڈر کی طرف سے اتمان زئی قبیلے کو دی جائے"۔

ان کے مطابق وہ لکھی ہوئی ضمانت پر اس لیے اصرار کر رہے ہیں تا کہ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں "اس پر پارلیمنٹ کے اندر بحث ہو سکے"۔

تاریخ اشاعت 8 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کلیم اللہ نسلی و علاقائی اقلیتوں کو درپیش مخصوص مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔